مضامین

اسکول کی سخت کھٹکھٹاہٹ

اسکول کے بچوں کے خلاف تحقیقات اُن کے اساتذہ اور اولیاء کے خلاف بغاوت کا مقدمہ اور اس کا استعمال قانون کا ایک نیا گراہوا میعار ہے

ہندوستان میں جونیئر مدارس کے طلبہ پر قانون بغاوت کا استعمال ہمیں انگریزوں کے زمانے کی یاد دلاتا ہے۔ حالانکہ اس قانون کی دفعات کو قانونی کتابوں سے بہت پہلے ہی نکال دینا چاہیے تھا۔ کرناٹک کی پولیس نے شاہین اسکول بیدر کے طلبہ کے خلاف دفعہ 124(A) اور 504IPC مقدمہ دائر کیا ہے۔ کیونکہ اُنہوں نے ایک ڈرامہ چوتھی جماعت کے طلبہ کے ذریعہ سٹیزن شپ امینڈمنٹ ایکٹ کی بنیاد پر بنایا تھا۔ حالانکہ حکومت سے بے رُخی اور عمداً قصداً بے عزتی کرنا یا امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنا، اُسے مشتعل کرنا اس کے اور کئی دفعات ہیں۔ لیکن جو سماجی جہدکار جس نے شکایت کی جس کی وجہ سے یہ مقدمہ درج کیا گیا۔ جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اس ڈرامہ کی وجہ سے امن کو خوف و خطرہ پیدا ہوا۔ حالانکہ طلبہ جن کی عمریں اوسطاً نو برس کی ہیں لیکن اب ان طلبہ کے خاندان والوں، اُن کے اساتذہ کے خلاف پولیس تحقیقات کررہی ہے یعنی اس طریقہ سے ان کی زندگیوں کو پریشان کیا جارہاہے۔
اُس سماجی جہدکار نے اپنی درخواست میں الزام لگایا ہے کہ ڈرامے میں پرائم منسٹر مودی کو اچھی لائٹ میں نہیں بتایا گیا۔ حالانکہ اس ڈرامہ کی ویڈیو ریکارڈنگ جس کی بنیاد پر اُس نے ایک درخواست داخل کی اُس ڈرامے میں یہ بتایا گیا ہے کہ موجودہ حالات کی وہ ڈرامہ عکاسی کرتاہے۔ جو احتجاج سارے ملک میں این آر سی اور سی اے اے کے خلاف اُٹھ کھڑا ہوا ہے، اُن کا مقصد اس ڈرامہ میں حکومت کو اچھی لائٹ میں بتانا نہیں تھا بلکہ اُس کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرنا تھا۔ اور اپوزیشن کو روزمرہ کے زبانی طور پر احتجاج بھی کررہی ہے۔ اس لیے حکمران پارٹی کو اس سلسلہ میں اتنا حساس ہونے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ دراصل تھیٹر سماج کا آئینہ ہوتے ہیں۔ اگر سماج ہی خوبصورت نہ ہو تو تصویر اُس کی کیا خوبصورت آئے گی۔ اس میں آئینہ کا کیا قصور ہے؟ درحقیقت یہ قانون پچھلے ایک مہینے سے کچھ اس طریقہ سے استعمال کیا جارہا ہے۔ پچھلے مہینے میں شری رام اسکول جو کرناٹک میں ہی ہے اور اس کے صدر آر ایس ایس کے لیڈر ہیں جنہوں نے بابری مسجد کا ڈرامہ اسٹیج کیا تھا۔ وہ کس طریقہ سے ڈھائی گئی۔ وہ ڈرامہ بھی جو حقیقت تھی اُس کی عکاسی کیا۔
قانون سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ برے ہاتھوں سے آئی ہوئی درخواست لے تو لے، لیکن زیادہ اہم بات یہ ہے کہ وہ کس طرح ملک کے جمہوری نظام میں اس درخواست کو فٹ کرسکتے ہیں۔ بغاوت کا قانون نوآبادی کاری نظام کے تحت تھا۔ جو وہاں کے شہنشاہ اس کا استعمال اپنے عوام پر پابندی لانے کے لیے کیا کرتے تھے۔ اس قانون کا آزاد ہندوستان میں اب کوئی تعلق باقی نہیں رہا۔ یہاں عوام ہی مطلق العنان ہیں اور جہاں حق تقریر اور حق سوال وغیرہ کی انہیں آزادی ہے۔ حتیٰ کہ وہ کسے اچھی لائٹ میں بتائے یا کم لائٹ میں۔ اب یہ قانون مکمل طور پر غیر متعلق ہے کہ وہ بچوں پر اس کا استعمال کرے۔ جنہوں نے حالیہ واقعات کی عکاسی کی۔ اس طریقہ سے وہ کچھ حد تک سیاسی تعلیم اپنے طریقہ تعلیم کے طور پر حاصل کی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: