مضامین

اس دنیا میں کونسی طاقت ہے جو اقلیت کو فنا کرسکتی ہے: مولانا ابوالکلام آزاد رحمۃاللہ علیہ

جمعیت علمائے ہند کے دسویں اجلاس منعقدہ 31 مارچ 1931 میں امام الہند کا خطاب

سب سے پہلے مجھے جو بات عرض کرنی ہے وہ یہ ہے کہ جمعیت علمائے ہند کی کارگزاریوں میں اور تجاویز کی ترتیب و تدوین میں جس قدر حصہ مجھے لینا چاہیے تھا، وہ نہ لے سکااور کانگریس کی گوناگوں مصروفیتوں کے باعث آ ج اس جمعیت علمائے ہند کی مجلس مضامین (سبجیکٹ کمیٹی) میں بھی حاضر نہ ہوسکا۔ اپنی کوتاہیوں کا اعتراف ہے اور میں کہوں گا کہ باوجود اس علم کہ میں اپنے فرائض کا پورے طور پر انجام نہ دے سکوں گا، آپ نے مجھے صدر بنادیا،تو اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ نے مجھے معہ میری تمام کوتاہیوں کے قبول فرمایا ہے۔
مسلمانوں سے اپیل
اس مختصر وقت میں کچھ ضروری چند باتیں گذارش کرنی ہیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ دنیا آج کس دور سے گذر رہی ہے۔ خود ہندستان کی حالت آپ حضرات کے سامنے ہے۔ ضرورت ہے کہ مسلمان بھی ہندستان میں ان پیدا شدہ حالات کا ساتھ دیں، کیوں کہ اگر انھوں نے اپنی آخری جدوجہد کا کوئی فیصلہ نہ کیا تو پھر ان کی بربادی ایک یقینی چیز ہوجائے گی۔ جمعیت علمائے ہند نے اب تک جتنی بھی کوششیں کی ہیں، وہ اس کے شاندار کارناموں میں شمار ہوجائیں گی، لیکن پھر بھی بہت سے ایسے گوشے موجود ہیں، جن کی طرف سے ابھی تک کوئی اعتنا نہیں کیا گیا۔
حکومت کو شکست
آپ کو معلوم ہے کہ اس تحریک کے آغاز میں لوگوں نے کیا کچھ کہا۔ کیا لوگوں نے یہ نہیں کہا کہ اس تحریک کے شروع ہونے کا ابھی وقت نہیں آیا ہے؟ بعض لوگوں نے کہا کہ چند لاکھ من نمک بنالینے سے ملک کس طرح آزاد ہوسکتا ہے؟ البتہ بہت سے قدم ایسے تھے جنھوں نے منزل مقصود کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرلیا تھا کہ قدم آگے بڑھانا چاہیے۔ چنانچہ اس قدم کو اٹھاتے ہوئے صرف تین ماہ کا عرصہ گذرا تھا کہ صلح کی گفت و شنید شروع ہوگئی۔ تحریک کے بانیوں کا خیال تھا کہ قدم جس قدر بھی تیز بڑھایا جائے گا، اسی قدر منزل مقصود قریب تر ہوتی جائے گی۔ آخروہ وقت آٰیا کہ حکومت کو اپنے سخت غرور سے نیچے اترنا پڑا اور دوسروں کی وساطت سے سیاسی قیدیوں کو چھوڑنے پر آمادہ ہوگئی۔ مرکزی حکومت کو چوں کہ اپنی طاقت پر غرور تھا، اس لیے اس نے صرف اتنا کیا کہ صوبوں کی حکومتوں کو سیاسی قیدیوں کی فہرست تیار کرنے کا حکم دے دیا اور ان سے کہا کہ اس معاملہ پر غور کیا جائے گا؛ لیکن تین ماہ بعد کیا ہوا؟ وہ آپ کے سامنے ہے، یعنی کہا گیا کہ تحریک کے علم بردار جلد از جلد ہتھیار نہ رکھنے والے ہیں، حالاں کہ ملک جنگ میں اپنی پوری وقت کے ساتھ مشغول تھا۔ اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے وہ کونسا طریقہ تھا جو حکومت نے اختیار نہیں کیا۔ اس کے بعد لندن میں گول میز کانفرنس کا انعقاد ہوا، جس کے بعد حکومت کا سر غرور پھر جھکا اور اس کا سارانشہ کافور ہوگیا۔ جن ہاتھوں سے قومی لیڈروں کو جیلوں میں بند کرکے ان پر قفل چڑھائے گئے تھے، انھیں ہاتھوں نے آگے بڑھ کر جیل کے قفلوں کو کھولا اور قومی رہنماوں کے سامنے عارضی صلح کی دستاویز رکھی۔
مسلمانوں کی پوزیشن
آپ غور کیجیے کہ آزادی کی جنگ کے شروع ہونے کے بعد حالات نے یکے بعد دیگرے کتنے پلٹے کھائے اور کس قدر انقلابات رونما ہوئے، جن کو دیکھ کر کسی کو بھی یقین نہیں تھا کہ جنگ کا اختتام کامیابی پر ہوگا؛ مگر جن لوگوں نے واقعات کا صحیح اندازہ لگایا تھا ان کو کامل یقین تھا کہ ہندستان کی آزادی ایک طے شدہ امر ہے۔ اگر اس وقت مسلمانوں کے قدموں میں کوئی جنبش نہ ہوتی اور جمعیت علمائے ہند ان کی بروقت رہنمائی نہ کرتی، تو خبر نہیں کہ آج وہ کہاں ہوتے۔ آج جو فتح حاصل ہوئی ہے، وہ متحدہ ہندستان کی فتح ہے۔ میں آپ کو آئندہ پیش آنے والے حالات سے خبردار کردینا چاہتا ہوں۔ واقعات ایک لمحہ کے لیے بھی آپ کا انتظار نہیں کریں گے۔ واقعات کو آپ کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ وہ اس طرح منظر عام پر آتے رہیں گے، جس طرح ہر روز آفتاب مشرق سے طلوع ہوکر مغرب کے نقاب میں روپوش ہوجاتا ہے۔
مسلمانوں کا تذبذب اور پریشانی
جب تک آپ کے دلوں میں تذبذب اور پریشانی باقی رہے گی، جس کو آپ دانائے مصلحت اندیشی اور تدبر کے ناموں سے یاد کرتے ہیں، اس وقت تک آپ اپنے مقصد میں ہرگز کامیاب نہیں ہوسکتے۔ اس بے کار فرزانگی اور مآل کاری کو ترک کردو اور میدان آزادی میں کود پڑو۔
سات کروڑ اور اقلیت
یہ کس قدر شرم کی بات ہے کہ آپ سات کروڑ ہوتے ہوئے بھی اپنے آپ کو اقلیت میں سمجھتے ہیں۔ کیا دنیا کے کسی حصہ میں سات کروڑ نفوس کی آبادی کو اقلیت کے درجہ میں رکھا جاسکتا ہے؟ اور کیا یہ خیال کیا جاسکتا ہے کہ چوں کہ مسلمان اقلیت میں ہیں، اس لیے آئندہ دستوری نظام میں اکثریت ان کو برباد کردے گی۔ اکثریت اور اقلیت کا فیصلہ بغیر دلوں کی کشادگی اور دماغوں کی وسعت کے نہیں ہوسکتا۔ اور نہ آپس کی نکتہ چینی ان مشکلات کا حل کرسکتی ہے۔
حکومت کے مقابلہ میں اقلیت کی جنگ
آپ کو معلوم ہے کہ اس گیارہ ماہ کی جنگ میں جو لوگ شریک ہوئے، وہ کتنے قلیل تھے؟ اس میدان میں آنے والے دس لاکھ، پچاس لاکھ اور زیادہ سے زیادہ ایک کروڑ ہوں گے؛ مگر دوسری طرف حکومت تھی جو اپنی اکثریت کے غرور پر نازاں تھی۔ حکومت کی طاقت، حکومت کی فوج، حکومت کے اسلحہ اور حکومت کے کروڑوں انسان ایک طرف تھے اور دوسری طرف ایک قلیل جماعت تھی، جس نے اپنے سامنے ایک مقصد رکھ کر حکومت کی اکثریت کو جھکا دیا۔
اس دنیا میں کونسی طاقت ہے جو اقلیت کو فنا کرسکتی ہے۔ ہم تو سات کروڑ ہیں پھر بھی ہم کو خطرہ ہے؟ یہ ایک زبردست دھوکہ اور فریب ہے، جس نے ہمارے دماغوں کو مفلوج بنادیا ہے۔ حقیقت میں اب وقت آگیا ہے کہ ہم کھڑے ہوں؛ کیوں کہ اس وقت ہر قوم کی زندگی اور موت کا سوال درپیش ہے، جو مسلمان آزادی کی قدرو قیمت نہیں جانتا، اس کا شمار انسانوں میں کسی طرح نہیں ہوسکتا۔
جمعیت علمائے ہند کے احکام کی تعمیل
آپ حضرات کا فرض ہے کہ آپ جمعیت علمائے ہند کے احکام کی تعمیل کریں اور جو حضرات اس اجتماع میں شریک ہیں، ان کا بھی فرض ہے کہ وہ ان احکام کو دوسروں تک پہنچادیں اور خود ان پر عمل کریں۔
آخر میں مجھے صوبہ سرحد کے افغان رضاکاروں کا شکریہ ادا کرنا ہے۔ میں اپنے سرحدی افغان بھائیوں سے گذارش کروں گا کہ کانگریس نے سود پر جو قیود عائد کی ہیں، ان کی رعایت کریں اور غریب مزدوروں سے سود ی کاروبار میں نرمی کا برتاو کریں۔ میں جمعیت علمائے ہند کے رضاکاروں کا،نیز مولانا محمد صادق صاحب صدر مجلس استقبالیہ و مولانا حکیم فتح محمد صاحب ناظم مجلس استقبالیہ اور دیگر حضرات کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ (دسواں اجلاس عام جمعیت علمائے ہند منعقدہ 31 مارچ ویکم اپریل 1931. الجمعیۃ 19اپریل 1931)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: