مضامین

اصلاح معاشرہ کی حقیقت بس تقریر و تحریر تک!!

( آئینہ سچائی کا)

تحریر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاوید اختر بھارتی
لمبے لمبے مضامین، تقاریر، بیانات اور آپس میں بات چیت ہوتی ہے اس دوران کہا جاتا ہے کہ جہیز ناسور ہے، جہیز ایک بھیک ہے, جہیز لعنت ہے، جہیز کا مطالبہ کرنا بڑی بے شرمی اور بے غیرتی کا اظہار ہے لیکن معاملہ بڑھتا ہی جارہا ہے ایک طرف بحث کی جاتی ہے کہ شادیوں میں بارات کے ساتھ جانا ہی اصل شادی کی تقریب معلوم ہوتی ہے اور بغیر بارات کی شادی بھی کوئی شادی ہے،، دوسری طرف یہ بھی بحث ہوتی ہے کہ بارات میں سہرا پڑھنا ناجائز ہے تو دوسرا فریق کہتا ہے کہ جائز ہے،، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پہلے انڈا ہے یا مرغی،، یہ فیصلہ کیسے ہوگا اجتماعی طور پر فیصلہ کرنا انتہائی مشکل نظر آرہا ہے مگر انفرادی طور پر کچھ حد تک فیصلہ ہوسکتا ہے کہ ایک شخص خود مرغی خرید کر لائے اور جب اسے انڈا حاصل ہوتو کہے کہ میرے پاس تو پہلے مرغی آئی اور بعد میں انڈا آیا، کم از کم ایک شخص کا تو مسلہ حل ہوا مگر یہاں تو باغ کا باغ ہی کھٹا ہے کبھی کوئی یہ نہیں کہتا ہے کہ ارے سہرا تو بعد میں ہے پہلے یہ فیصلہ کرو کہ بارات جائز ہے کہ ناجائز ہے،، جب بے حیائی پر آمادہ ہوکر جلوس کی شکل میں بارات جائے گی یعنی ایک ناجائز رسم ڈنکے کی چوٹ پر ادا کی جائے گی تو اس میں مزید خرافات اور برائیوں کا شامل ہونا تو لازمی ہے مگر افسوس صد افسوس نہ جمعہ کے خطبے میں بارات کے خاتمے کی بات ہوتی ہے اور نہ رات رات بھر کے جلسے میں بارات کے خاتمے کی بات ہوتی ہے نتیجہ یہ ہوا کہ ایک کلمہ گو کی شادی میں آتش بازی بھی ہونے لگی، ناچ گانا بھی ہونے لگا اور ڈی جے بھی بجنے لگا اور ان ساری خرافات کو انجام دینے کے لئے کئی کئی دن پہلے سے تیاری بھی ہوتی ہے مسلمانوں کے اندر مکتب فکر کی بنیاد پر جو اختلافات ہیں اس پر تو خوب رنگ چڑھایا جاتا ہے اور خود بلا تفریق مسلک و مکتب فکر کے اندر جو بدرنگ کی بھرمار ہے اس پر زبان ہی نہیں کھلتی اور نہیں تو رہنمائے مسلم خود بھی اس میں شامل ہوکر غیر شرعی امور کی ناجائز شوبھا بڑھاتے ہیں جس طرح ایک شخص نے ایک مرغی لاکر اپنا مسلہ حل کرلیا اسی طرح خطبہ جمعہ میں اور دینی جلسوں میں بارات کے خلاف کھل کر بولا جائے اور پرزور مخالفت کی جائے تو ہوسکتا ہے کہ پورے مجمع سے دو چار لوگ یہ عہد کرلیں کہ آج سے ہم نہ بارات جائیں گے اور نہ لے جائیں گے مگر افسوس صد افسوس کہ راقم الحروف نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ ایک عالم دین نے کہا کہ جو بارات لے کر آئے گا تو میں اس کا نکاح نہیں پڑھاؤں گا اور خود بھی کسی کی بارات نہیں جاؤں گا تو عوام کی طرف سے تو بعد میں رد عمل ہوا اس سے پہلے دوسرا ایک عالم ڈائیری اور رجسٹر لے کر کھڑا ہوگیا کہ میں نکاح پڑھاؤں گا اور اس کا نکاح پڑھانے کا دھندہ عروج پر ہوگیا ایسے حالات میں تو یہی کہا جائے گا کہ پورا معاشرہ ہی رنگینیوں اور رونقوں اور دنیاوی اغراض و مقاصد اور مفاد پرستی میں مبتلا ہے اور پورا باغ کا باغ کھٹا ہے،، اسی لئے متنبہ کیا گیا ہے کہ برائی جیسے شروع ہو اسے فوراً روکو نہیں تو پھر اس کی رفتار بڑھتی جائے گی اور ایک دن ایسا آئے گا کہ اس برائی کو روکنے سے فتنہ پیدا ہوگا اور ہنگامہ برپا ہوگا اور آج مسلم معاشرے کا وہی حال ہے آئے دن دیواروں پر اشتہارات چسپاں نظر آتے ہیں جس پر لکھا ہوتا ہے کہ اصلاح معاشرہ کانفرنس، اصلاح معاشرہ مہم اور خود وہ اشتہارات ایسے ہوتے ہیں کہ خود اس کی پہلے اصلاح ہونی چاہئے اور اسٹیج ایسا چکاچوند روشنی میں چمکایا جاتا ہے کہ اس کی بھی اصلاح ہونی چاہئے مگر نہیں یہاں تو سارا نظام و انتظام اور معاملہ ہی نام و نمود و نمائش اور شہرت میں غرق ہوتا ہے-
کل تک تصویر اور ویڈیو کی مخالفت ہوتی تھی مگر آج تو اکثر مقررین خود اپنا یوٹیوب چینل بنائے ہوئے ہیں آئیے بات آگے بڑھاتے ہوئے جہیز کا ذکر کرتے ہیں یاد رکھیں لفظ جہیز اور رسم جہیز جہاز سے نہیں بنا ہے بلکہ لفظ جہیز اصل میں لفظ تجہیز سے بنا ہے اور تجہیز کہتے ہیں میت کے ساتھ قبرستان تک لے جانے والے سامان کو تو گویا لڑکے والے تجہیز کا سامان لڑکی والوں کے گھر سے آج مانگ رہے ہیں،، بارات اور جہیز دونوں کی اصل حقیقت یہ ہے کہ بہت پہلے جب گاڑی وغیرہ کا وجود نہیں تھا تو شادیاں ہوتی تھیں تو راستے میں اکثر ڈاکوؤں کا قافلہ حملہ کرتا تھا تو دلہن کو میکے سے سسرال تک لانے کے لئے گروہ کی شکل میں کچھ افراد جاتے تھے تاکہ راستے میں کسی طرح کا خطرہ نہ ہو مگر وقت بدلتا گیا گاڑی گھوڑے کا انتظام ہوتا گیا اور مال و دولت کی فراوانی ہوتی گئی تو سوچ بھی بدلتی گئی اور ماڈرن دور میں اسی گروہ کو بارات کا نام دیدیا گیا اور دلہن کے ساتھ آنے والے سامان کو جہیز کا نام دیدیا گیا نام بدلنے کا وہ اثر ہوا کہ اب دلہن کے ساتھ نہیں بلکہ دلہن کے سسرال پہنچنے سے کئی دن پہلے جہیز کا سامان لڑکے والوں کے آنگن میں پہنچنے لگا حتیٰ کہ اب تو نکاح سے بھی پہلے جہیز کا سامان دیا جانے لگا اور لیا جانے لگا،، پھر کیسے مانا جائے کہ جہیز لعنت ہے اور جہیز دھوکہ ہے اور ناسور ہے؟ واقعی میں اگر جہیز معاشرے کے لئے ناسور ہے اور لعنت ہے تو پھر ایسی لعنت کو جمع کرنے کا اور مطالبہ کرنے کا سلسلہ کب تک چلے گا؟ اور ٹرکوں پر اس ناسور کو کب تک لادا جاتا رہے گا؟
آج تو بے شمار مسائل ہیں ہندوستان کے مختلف علاقوں میں لڑکے والوں کو نقد رقم نہ دی جائے، سونا چاندی مطالبے کے مطابق نہ دیا جائے تو لڑکی کی شادی ہوہی نہیں سکتی،، 2011 سے 2016 تک راقم الحروف کا سعودی عربیہ میں کچھ ایسے لوگوں سے ملاقات کا اتفاق ہوا جو دس دس بارہ بارہ سال سے گھر نہیں گئے اور ان کی کئی کئی لڑکیوں کی شادیاں ہوئیں وہ بیچارے شریک نہیں ہوئے تاکہ کسی طرح قرض کی ادائیگی ہو جائےاور ان میں زیادہ تر لوگ ہندوستان کے صوبہ بہار کے تھے جبکہ ہندوستان کے ہر دینی مدارس میں اکثریت میں بہار ہی کے طلباء بھی نظر آتے ہیں اور انہیں سند و فراغت سے نوازا جاتا ہے اور ان کے سروں کو دستار سے سجایا جاتا ہے اس کے باوجود بھی معاشرے سے لعنت، برائی، خرافات اور بے حیائی و مکاری کا خاتمہ نہیں ہورہا ہے اس کا مطلب کہ جو لوگ بظاہر مہذب بنتے ہیں اور مذہبی رہنما بنتے ہیں وہ بھی اس میں شامل ہیں اور اپنا فریضہ انجام نہیں دینا چاہتے جس طرح ایک بھکاری جیسا دیس ویسا بھیس اختیار کرتا ہے تو وہی راستہ یہ لوگ بھی اختیار کئے ہوئے ہیں-
خدارا آنکھیں کھولو قرآن و حدیث کا علم حاصل کرنے کے بعد بھی معاشرے میں پھیلتی ہوئی برائیوں پر خاموشی اور اس میں آپ کی شرکت ایک دن سند بن جائے گی،، آپ کی شرکت کو لوگ سرٹیفکیٹ تسلیم کرنے لگیں گے اور کل میدان محشر میں یہی قوم مسلم تمہارا گریبان پکڑکر بارگاہ خداوندی میں کھڑا کردے گی اور رب تبارک وتعالیٰ تم سے پوچھے گا کہ تم خود کو انبیاء کا وارث کہتے تھے اور تمہاری آنکھوں کے سامنے میرے دین کی میرے احکام کی دھجیاں اڑائی جارہی تھی تو تم خاموش تماشائی بنے تھے اور نہیں تو اس میں شریک بھی ہوتے تھے،، تو بتاؤ تمہارے پاس کیا جواب ہوگا؟ آج دنیا میں تو کہیں نہ کہیں سے روایت اور تک بندی فٹ کرکے اپنا کام نکال لیتے ہو، تقریر کے نام پر موٹی موٹی رقم مانگتے ہو، نعت پڑھنے کے نام پر دھن اگاہی کرتے ہو سوچو ضرور سوچو کہ وہاں کیا ہوگا کیونکہ وہاں تو چاہے پیر ہو، مرید ہو،فقیر ہو، ولی ہو، امام ہو، محدث ہو، مفکر ہو، مقرر ہو، مناظر ہو، طلباء ہو، مدرس ہو، امیر ہو، غریب ہو سب کو حساب وکتاب کا سامنا کرنا ہوگا-
javedbharti508@gmail.com
+++++++++++++++++++++++++
جاوید اختر بھارتی ( سابق سکریٹری یو پی بنکر یونین)محمدآباد گوہنہ ضلع مئو یو پی

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: