مضامین

اصل ہیرو تو یہ لوگ ہیں

محمد یاسین جہازی 9891737350

ایک چھوٹے سے قبیلے: قائی قبیلے سے تعلق رکھنے والا ارطغرل، اور شاہی عیش و عشرت کو چھوڑ کر دربدر کی زندگی کو ترجیح دینے والی حلیمہ سلطان؛ کروڑوں لوگوں کے دلوں کی دھڑکن اس لیے بن گئے کہ ارطغرل نے قبیلہ کی نگہ بانی کو خلافت اسلامیہ عثمانیہ کے تاج تک پہنچا دیا۔ اورحلیمہ نے محبت کو امر کرنے کے لیے زندگی کے مصائب و حالات کی کوئی پرواہ نہ کی؛ اس لیے تاریخ میں یہ دونوں ہمیشہ کے لیے ”ہیرو“ بن گئے۔
مسلمانوں کے سماج نے شادی کو ایک تجارت اور بھیگ مانگنے کا ذریعہ بنالیا ہے؛ اتنے گندے ماحول اور تعفن زدہ سماج میں، زر طلبی کی ہوس و حرص کوٹھوکر مارتے ہوئے شریعت کی سادگی کے ساتھ نکاح کرکے، ایک مردہ سنت کو زندہ کرنا؛ بالیقین بڑی بہادری اور ہیرو گیری کا کام ہے۔اور جن لوگوں نے ایسا کیا ہے؛ وہ اس کے حق دار ہیں کہ انھیں ہمیشہ کے لیے تاریخ کے صفحات میں زندہ جاوید کردیا جائے۔ چنانچہ اسی مقصد کے پیش نظر آئیے ہم آپ کو متعارف کراتے ہیں، ایسے ہی چند عظیم ہیرو سے، جنھوں نے انتہائی سادگی کے ساتھ نکاح کرکے یہ پیغام دیا کہ زندگی کا اصل لطف محبت میں ہے؛ شادی کی تجارت میں نہیں۔
ہیرو نمبر۶: مفتی محمد سفیان ظفر صاحب قاسمی جہازی
میری جان کاری کے مطابق گڈا و اطراف کے علاقہ میں نئی نسلوں میں مفتی صاحب وہ پہلی شخصیت ہیں، جنھوں نے تمام رسوم و رواج اور لین دین پر لعنت بھیجتے ہوئے، مدرسہ اشرف المدارس رحمان ڈی کے جلسہ میں بہت ہی سادگی کے ساتھ …… 2020میں الحاج مولانا یونس صاحب کیتھپورہ کی صاحب زادی سے نکاح کیا۔ ان کا نکاح مولانا تشریف صاحب پلواڑہ غازی آباد نے پڑھایا۔
ہیرو نمبر ۵: مولانا عبد القیوم صاحب قاسمی جہازی
مولانا کا نکاح، علاقہ کا ایک بڑا دینی ادارہ مدرسہ اسلامیہ سین پور کے مہتمم مولانا محمد نعمان صاحب کی صاحبزادی سے 15مئی 2013میں ہوا۔ اگرچہ مہتمم صاحب نے اپنے لڑکے کی شادی میں جتنی مذموم حرکتیں ہوسکتی تھیں، ان کو کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی؛ لیکن اس سے پہلے، جب مولانا عبد القیوم صاحب نے ان کی صاحبزادی سے نکاح کیا، تو چند لوگوں کے ہمراہ جاکر نکاح پڑھ آئے اور ساتھ ہی دلہن کو بھی رخصت کرالیا۔ انھوں نے اپنے بیٹے کی شادی میں جو کیا اور اس کا جو بھی انجام ہوا، اس کو دھرانے کا یہ موقع نہیں ہے؛ لیکن مولانا عبد القیوم کی فیملی لائف آج بھی خوش و خرم ہے۔
ہیرو نمبر۴: مفتی محمد نظام الدین قاسمی جہازی مہتمم مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ
مفتی محمد نظام الدین صاحب کے سامنے کئی بڑے بڑے آفرز آئے؛ لیکن انھوں نے اپنی شادی کے متعلق ناچیز سے مشورہ کیا اور خود ہی ایک یتیم لڑکی کی طرف اشارہ کیا۔چنانچہ میں نے اپنے نظریے کے مطابق یتیمی رشتہ کا مشورہ دیا؛ چنانچہ مفتی صاحب نے سماج کی لعنتوں کو ٹھوکر مارتے ہوئے حافظ سخاوت صاحب مرحوم بسنت رائے کی صاحبزادی سے سادگی کے ساتھ جمعہ کی محفل میں نکاح کیا۔ آپ کا نکاح مشہور صوفی شخصیت مولانا احمد نصر بنارسی صاحب نے پڑھایا۔ یہ بابرکت نکاح 15اگست 2013میں ہوا۔
ہیرو نمبر۳: مفتی محمد زاہد امان قاسمی مہتمم جامعہ خدیجۃ الکبریٰ بسنت رائے
”چٹ منگنی، پٹ بیاہ“ کا پھکڑا آپ نے بہت سنا ہوگا؛ لیکن میں نے اسے دیکھا ہے۔ مفتی زاہد صاحب کے نکاح کے تعلق سے 8فروری 2014کو صبح نو بجے بات شروع ہوئی۔ گیارہ بجتے بجتے نکاح طے ہوگیا۔ تین بجے نکاح کی تاریخ متعین کردی گئی۔ اور اسی دن شام کو پانچ ساڑھے پانچ بجے پرسہ کے اجتماع میں بعد العصر نکاح ہوگیا۔ نکاح کے بعد لڑکی والوں کی طرف سے یہ پیغام ملا کہ شام کو پندرہ بیس لوگوں کی زبردست دعوت ہے۔ دولہے اور ناچیز میں آپسی صلاح و مشورہ کے بعد یہ طے ہوا کہ جب لڑکی والوں کے یہاں کھانا ہی نہیں ہے، تو پھر سادگی کے باوجود یہ کھانا کیوں؛ چنانچہ ہم دونوں اجتماع کی اختتامی دعا سے پہلے ہی بھاگ آئے اور موبائل سوچ آف کرکے گمنام جگہ پر رات گذاری۔ اگرچہ بے صبری سے دعوت اڑانے والوں نے برا بھلا کہا؛ لیکن رسم کی ادائیگی کو بالکل بھی برداشت نہیں کیا گیا۔ آپ کا نکاح ڈاکٹر سلیم الدین صاحب سانچپور سانکھی کی صاحب زادی سے ہوا۔
ہیرو نمبر۲: مولانا محمد تحسین قاسمی جہازی
علاقے میں ہم لوگوں نے سادی شادی اور جہیز کے خلاف جو تحریک چھیڑ رکھی تھی، اس میں میرے چھوٹے بھائی عزیزم تحسین سلمہ نے نہ صرف دل سے قبول کیا؛ بلکہ اس کے محرک اور عملی مثال پیش کرنے والے بھی بنے۔ سلمہ کے کئی بڑے چھوٹے رشتے آئے؛ لیکن نگاہ طلب اچانک آنے والے اس رشتہ پر ٹھہر گئی، جو نہ صرف خود سادگی کے حامی تھے؛ بلکہ کئی صاحبزادیوں کے ابو جان ہونے کی وجہ سے سماج سے بہت زیادہ دکھی تھے۔ چنانچہ ایک دو دن کی گفتگو کے بعد نکاح طے ہوگیا اور نہایت سادگی کے ساتھ، ایک مسجد میں 30جون 2020کو حیدرآباد میں مقیم مولانا عبد الحمید صاحب سرسی کی صاحبزادی سے ہوگیا۔
ہیرو نمبر ون: جناب جمال صاحب جہازی
یہ میرے نزدیک ہیرو نمبر ون ہیں۔ اوپر جتنے لوگوں کا تذکرہ ہوا، وہ یا تو مولوی ہیں یا مفتی ہیں؛ لیکن یہ نام نہ تو عالم اور نہ ہی مفتی؛ اس کے باوجود انھوں نے سادگی اور سنت کو حرز جان بنایا؛ اس کے لیے انھیں اپنے گھر والوں کی مخالفت بھی سہنی پڑی اور گھر نکالا بھی دیا گیا، اس کے باوجود اپنے فیصلے پر اٹل رہے اور سادگی کے ساتھ اور وہ بھی ایک طلاق یافتہ سے شادی کرکے مثال قائم کردی۔ واقعہ یہ ہوا کہ ڈلیوری کیس میں ان کی پہلی اہلیہ کا انتقال ہوگیا۔ اس کے کچھ مہینے کے بعد شادی کا معاملہ سامنے آیا۔ راقم ”اگوا“ بنا۔ اور تین کنواری لڑکیاں اور ایک طلاق یافتہ لڑکی کے رشتہ کی پیشکش کی گئی۔ اس کے علاوہ خود ان کے ایک رشتہ دار کی طرف سے پانچ لاکھ نقد کیش کا آفر بھی ملا۔ ان تمام چیزوں کے باوجود مجھ سے مشورہ طلب کیا۔ ناچیز نے نبی اکرم ﷺ کی ایک حدیث سنائی اور کہا کہ اس مردہ سنت کو زندہ کرنے کی وجہ سے سو شہیدوں کا درجہ ملے گا۔اور سماج کے خلاف سنتی شادی کرنے کا ثواب الگ ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر ہمارے آقا کا یہ فرمان ہے، تو پھر چھوڑیے کنواریوں کو اور پیچھے دھکیل دییجیے پانچ لاکھ کے آفرکو؛ میں تو سو شہیدوں کا ثواب حاصل کرنے کے لیے مطلقہ سے شادی کرنے کو رواج دوں گا۔ اس عزم کو دیکھتے ہوئے، گھر اور سماج کی مخالفت کا خدشہ بتایا گیا۔ انھوں نے تمام مخالفتوں کا سامنے کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے اسی رشتہ کو ترجیح دی۔ چنانچہ شادی کی تاریخ طے کردی گئی اور وقت آنے کا انتظار کیا جانے لگا۔
۲ / ستمبر2017عید الاضحی کے دن، نماز عید کے بعد عیدگاہ کے محراب کے پاس نکاح کی محفل سجی۔ سیکڑوں لوگوں اور درجنوں علمائے کرام کی موجودگی میں خطبہ نکاح پڑھا گیا۔ ا ن کے بڑے بھائی مسلسل اختلاف کرتے رہے، حتیٰ کہ مائک کو چھین کر پھینک دیا، اس کے باوجودنکاح خواں حضرت مولانا قاری عبدالجبار صاحب قاسمی صدر شعبہ خطاطی دارالعلوم دیوبند نے یہ کہا کہ……کیا آپ نے قبول کیا،تو دولہا میاں نے اپنے عزم کا اعلان کرتے ہوئے بآواز بلند کہا کہ ”ہاں میں نے قبول کیا“۔ اس آواز پر اہل دل نے خوشی کے تالی بجائے اور جہیز کے بھوکے بھیڑیوں کے سینوں پر سانپ لوٹنے لگا۔
شادی کے بعد عید گاہ سے گھر لوٹے، تو امی نے برے بھلے الفاظ سے دھتکارتے ہوئے گھر سے نکال دیا۔ اور اس پروگرام میں شامل شریک لوگوں کو بھی صلواتیں سنائیں۔ بہرکیف ان تمام مزاحمتوں کے باوجود وہ اپنے فیصلہ پر قائم رہے اور آج بھی خوش و خرم پاکیزہ زندگی گذار رہے ہیں۔ اور ہزاروں ایسے نوجوانوں کے لیے ہیرو بنے ہوئے ہیں، جو اپنی شادی کو پرمسرت اور سادہ بنانا چاہتے ہیں۔اگر یہ کام کوئی عالم کرتا، تو تعریفی عمل ہونے کے باوجود اتنا تعریفی کام نہیں ہوتا؛ جتنا کہ ایک غیر عالم شخص نے محض نبی اکرم ﷺ کی ایک متروک العمل حدیث سن کراس پر عمل کرنے کا تہیہ کیا اور ہمیشہ کے لیے مثال بن گئے۔ معاشرے کو ایسے نوجوانوں کو سلام کرنا چاہیے۔
معلومات کے لیے عرض کردوں جس مطلقہ سے جمال صاحب نے شادی کی، وہ دو دن کے لیے ایک ایسے عالم کی بیوی بنی تھی، جو اپنے نام کے آگے مظاہری کا لاحقہ لگاتے ہوئے مولانا امتیاز گھٹیانی کہلاتے ہیں۔ اور ایک اور مزے کی بات یہ ہے کہ مولانا کے والد ماشاء اللہ حاجی بھی ہیں؛ یعنی حاجی سمیر پہلوان گھٹیانی صاحب۔ شادی کے دوسرے ہی دن اس بات پر جھگڑا شروع ہوگیا کہ موٹر سائیکل اور گھر کے سارے سازو سامان تو مل گئے؛ لیکن مزید ایک لاکھ روپے دینا ہوگا۔ لڑکی کے والد اپنی بچی کی زندگی کو دیکھتے ہوئے دینے کے لیے تیار بھی ہوگئے؛ لیکن حاجی صاحب مصر تھے کہ پیسہ حاجی کے ہاتھ میں دیا جائے؛ جب کہ مولانا شہاب الدین صاحب کھیتپورہ کا کہنا تھا کہ پیسہ میں اپنی بچی کے اکاونٹ میں دوں گا۔ بس اسی بات پر بات بڑھی اور مظاہری صاحب نے دوسرے دن ہی ایک سانس میں تینوں طلاق دے ڈالی۔ …… اور بھیک کی ساری امید پر خود ہی پانی پھیر دیا۔
مجھے اپنے بارے میں بتاتے ہوئے افسوس ہورہا ہے کہ میں ”ہیرو“ کی اس ترتیب میں سے کسی نمبر پر نہیں آسکا۔ اس کی وجہ یہ ہوئی کہ میری شادی 27جون 2012میں پھوپھا کی صاحبزادی سے ہوئی۔ میرا ارادہ سادگی والا نکاح کا تھا؛ لیکن گارجین اور معاشرے نے ایسا کرنے نہیں دیا۔ میں نے مخالفت کی۔ لیکن گھر والوں نے کہاکہ میری بات نہیں مانو گے، تو گھر سے نکل جاو۔ میں گھر سے نکل گیا، تو پھر گھر والے ہی ڈھونڈھ کر لائے اور مختصر سہی؛ لیکن برات لے کر چلے گئے اور جزوی رسموں کی کراہت کے ساتھ نکاح کرادیا۔ …… میری اس طرح کی شادی پر مجھے آج بھی افسوس ہے۔ کاش میرے ساتھ بھی میرا کوئی ساتھی یا رشتہ دار کھڑا ہوتا، اور سادگی کے ساتھ شادی کرنے کے لیے دیتا، تو اپنے بارے میں فخر کے ساتھ کہتا کہ ’ہاں میں بھی ہیرو ہوں‘۔ اس فہرست میں نام نہ آنے پر میں خود کے ساتھ گارجین کو بھی مورد الزام ٹھہراوں گا، جنھوں نے مجھے ایساکرنے نہیں دیا۔
بہرکیف! درج بالا حضرات بالیقین سماج اور بالخصوص نوجوانوں کے لیے آئیڈیل اور قابل تقلید ہیرو ہیں، جنھوں نے سماج کی لعنتوں کو دھتکارتے ہوئے اسوہ نبی ﷺ کو زندہ کیا اور ہمیشہ کے لیے تاریخ کے ہیرو بن گئے۔ راقم ان تمام حضرات کو اس مقام کے لیے تہہ دل سے مبارک باد پیش کرتا ہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: