مضامین

اعتدال کی راہ

زین العابدین ندوی دارالعلوم امام ربانی ، نیرل ۔ مہاراشٹر

جب بھی کوئی معاملہ در پیش ہوتا ہے تو اکثر دو باتیں سننے میں آیا کرتی ہیں ، ایک تو یہ کہ افراط وتفریط سے بچتے ہوئے اعتدال کی راہ اپنانا چاہئے ، دوسرے یہ کہ مصلحت کا تقاضوں کو سمجھنا اصل ہوشمندی اور دانشمندی ہے ، کیا ان ناصحانہ کلمات سے کسی بھی معاملہ کا حل ممکن ہے ؟ جب کہ ہم یہ جانتے بھی نہ ہوں کہ اعتدال کیا چیز ہے اور مصلحت کس کو کہتے ہیں ؟ جو الفاظ اور اصطلاحات مظلومیت کا شکار ہوئے انہیں میں ان دو لفظوں کا اضافہ شاید کوئی زیادتی نہ ہوگی ، اعتدال کا مطلب عام طور پر یہ سمجھا اور سمجھایا جاتا ہے کہ اس قدر نرمی برتی جائے کہ سامنے والا شخص سینے پر سوار ہوجائے اور جو چاہے کہے اور کرے اس پر کوئی ری ایکشن نہ لیا جائے ، گویا اعتدال کے معانی بے بس ولاچار ہوجانے کےہیں ، ہمارا مسلم معاشرہ جس کی تصویر پیش کرتا ہے ۔

اعتدال کا اصل مادہ عدل ہے جس کے معانی ہی انصاف وبرابری کے ہیں ، جس کا واضح مطلب یہ ہوا کہ حق اور انصاف کا ساتھ دینا ہی اصل اعتدال ہے ، سختی کی جگہوں میں سختی اور نرمی کی جگہوں میں نرمی کا رویہ اپنانا ہی اصل اعتدال ہے ، اس کے خلاف عمل درآمدی اعتدال کا خون کرنا سمجھا جائے گا ، لیکن صورتحا ل یہ ہے کہ بھیگی بلی بنے رہنا ، ظالموں کے دنڈے کھاتے رہنا ، احمقوں اور نادانوں کی ڈانت ڈپٹ سنتے رہنا اعتدال سمجھا جاتا ہے ، ایسا سمجھنے اور سمجھانے کی وجہ سے ہی ہماری آج یہ حالت بن چکی ہے کہ ہم حق بات کہنے اور حق کا ساتھ دینے کو اعتدال کے خلاف سمجھتے ہیں، اور افراط وتفریط سے بچنے کی تلقین کرنے والوں کا ذاتی حال یہ ہے کہ وہ اعتدال کے سلسلہ میں ہی افراط وتفریط کے شکار ہیں ، جس امت کو امت وسط کہا گیا ہے اس کا کام صرف بھلائی کی دعوت دینا ہی نہیں ہے بلکہ برائی سے روکنابھی اس کی ذمہ داری ہے ، کیونکہ کوئی بھی نظام اس کے بغیر احسن طریقہ پر چل ہی نہیں سکتا ، بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا مطلب صرف زبان کا حرکت دینا نہیں ہے بلکہ حتی الامکان کوشش کے ذریعہ اس فریضہ کو انجام دینا اس امت کی ذمہ داری ہے ، جس کی طرف خاص توجہ کی ضرورت ہے ۔

ماحول اور حالات کے مد نظر اعتدال کے معانی میں تبدیلی آیا کرتی ہے ، اس لئے بھارت میں چل رہے حالات میں اعتدا ل کا تقاضہ اس کے سو ا کچھ نہیں کہ اگر کوئی آپ کے ساتھ زیادتی کی کوشش کرے تو آپ جم کر اس کا مقابلہ کیجئے ، اور بالکل پیچھے مت ہٹئے ، ہاں اس بات کا خاص خیال رہے کہ اپنی طرف سے اقدام اور زیادتی نہ ہونے پائے ، یہی اس وقت کی مصلحت بھی ہے ، مصلحت کے نام پر کمزور کرنا اور بزدل بنانا خود ہی مصلحت کے خلاف ہے ، بعض سمجھدارحضرات کا تو معاملہ ہی عجیب ہے ان کے یہاں نہ ج انے کتنی مصلحتیں ہوتی ہیں جس کی پرت ختم ہی نہیں ہوتی ، اس لئے حالات کا تقاضہ یہ ہے کہ کسی کو اولا چھیڑا نہ جائے اور چھیڑنے والوں کا چھوڑا نہ جائے ، اس وقت یہی اعتدال ومصلحت کا تقاضہ ہے ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: