اسلامیات

اعتکاف کرنے والوں کے لئے بڑی خوشخبری ہے

افادات :عارف باللہ حضرت مولانا محمد عرفان صاحب مظاہری دامت برکاتہم گڈا جھارکھنڈ
سلسلہ نمبر (15)

رمضان کے اخیر عشرہ میں یعنی بیسویں رمضان سے مرد کے لئے مسجد میں اعتکاف کرنا اور عورت کے لئے گھر کے کسی ایک کمرہ میں یا گھر کے کسی ایک کونہ میں اعتکاف کرنا بہت زیادہ ثواب کا باعث ہے، اس اعتکاف کی اتنی زیادہ فضیلت ہے کہ ایک ایمان والے بندے اور ایک ایمان والی بندی کو ضرور بالضرور اعتکاف کرنا چاہئے، ہم یہاں پر صرف چند احادیث پیش کر رہے ہیں

*عن ابن عباس ان النبی صلی اللہ علیہ و سلم قال من اعتکف یوما ابتغاء وجہ اللہ تعالی، جعل اللہ بینہ و بین النار ثلاث خنادق، کل خندق ابعد مما بین الخافقین (المعجم الاوسط للطبرانی)* "جس نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ایک دن کا اعتکاف کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے اور جہنم کے درمیان دوری پیدا کرنے کے لئے تین خندق. بنا دیتے ہیں، اور ہر خندق زمین و آسمان کی مسافت سے بھی زیادہ لمبی ہوتی ہے. ” یہ تو ایک دن کے اعتکاف کا ثواب ہوا جو دس دن کا اعتکاف کرے تو جہنم اس سے کتنا دور ہو جاءے گا، اندازہ نہیں کیا جا سکتا.

*من اعتکف عشرا فی رمضان کان کمن حجتین و عمرتین (بیھقی فی شعب الایمان)* جس نے رمضان میں آخری عشرہ کا اعتکاف کیا گویا اس نے دو حج اور دو عمرہ کیا

*من اعتکف ایمانا و احتسابا غفر لہ ما تقدم من ذنبہ (کنز العمال)* جس نے ایمان و یقین کے ساتھ اور ثواب سمجھتے ہوئے اعتکاف کیا اس کے پچھلے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں

اس کے علاوہ اور بھی بہت سے فضائل اعتکاف کے بارے میں آءے ہوءے ہیں، یہ سارے ثواب تو اعتکاف کرنے والوں کو ملیں گے ہی، لیکن اس اعتکاف کی وجہ سے اگر وہ دوسرے نیک کام نہ کر سکا جو وہ کر سکتا تھا ، مثلاً جنازے میں شرکت نہیں کر سکا تو اس کا بھی ثواب اس اعتکاف کرنے والے کو ملے گا. *عن ابن عباس ان رسول اللہ صلی علیہ و سلم قال فی المعتکف ھو یعکف الذنوب و یجری لہ من الحسنات کعامل الحسنات کلھا (سنن ابن ماجہ)* اعتکاف کرنے والا گناہوں سے محفوظ رہتا ہے اور اس کے لئے دوسری نیکیاں کرنے والوں کی طرح نیکیاں لکھی جاتی ہیں.

اس سے معلوم ہوا کہ اعتکاف کرنے کی وجہ سے آدمی بہت سارے گناہوں سے محفوظ رہتا ہے اور اس کے لئے اتنے سارے اجر لکھے جاتے ہیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ شب قدر کو پانے کا زیادہ امکان ہوتا ہے کیونکہ حدیث کے مطابق اخیر عشرہ کی طاق راتوں میں شب قدر کے ہونے کا زیادہ امکان رہتا ہے. یہی وجہ ہے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم ہمیشہ اخیر عشرہ کا اعتکاف فرماتے تھے، *عن عائشۃ زوج النبی صلی اللہ علیہ و سلم ان النبی صلی اللہ علیہ و سلم کان یعتکف العشر الاواخر من رمضان حتی توفاہ اللہ ثم اعتکف ازواجہ من بعدہ (بخاری)* حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا بیان فرماتی ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم رمضان کے اخیر عشرہ کا برابر اعتکاف فرماتے تھے یہاں تک کہ آپ انتقال کر گئے پھر آپ ص کے بعد آپ کی بیویاں اعتکاف فرماتی تھیں.

لہذا ایمان والے بندوں اور ایمان والی بندیوں کو چاہیے کہ اب تک یہ رمضان جیسا بھی گزرا تہیہ کریں کہ اخیر عشرہ کا اعتکاف کرنا ہے تاکہ رمضان کی سعادتوں سے مالا مال ہو سکیں.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: