مضامین

افراط وتفریط

شمع فروزاں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

اس وقت ملک بھر میں سی اے اے، این پی آر اور این آر سی کے سلسلہ میں جو احتجاج ہو رہا ہے، وہ انصاف اور حق کی جنگ ہے، سی اے اے ایک نامنصفانہ، دستور کی روح کے مغائر اور امتیاز پر مبنی قانون ہے، جس کی آخری منزل این آر سی ہے، جو این پی آر کے راستہ سے گذر کر اپنی منزل تک پہنچتا ہے؛ اس لئے بلا امتیاز ِمذہب و فرقہ ملک کے تمام عوام کا فریضہ ہے کہ وہ پُر امن طور پر قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اس احتجاج کو تقویت پہنچائے، اور جب تک یہ ظالمانہ قانون واپس نہیں لے لیا جائے احتجاج جاری رکھیں، جو لوگ اور بالخصوص جو بہنیں اس احتجاج میں شامل ہیں، وہ مبارک باد کے مستحق ہیں اور ظلم کو روکنے کے لئے جہاد کر رہے ہیں۔
یہ بہت خوشی کی بات ہے کہ انصاف کی اس لڑائی میں تمام مذاہب کے ماننے والے شانہ بہ شانہ اور قدم بہ قدم کھڑے ہیں، آزادی کی لڑائی میں بھارت کے تمام لوگوں کا جو اتحاد دیکھا گیا تھا، وہی خوشگوار منظر آج پورے ملک میں شہر شہر اور قصبہ قصبہ دیکھا جا سکتا ہے، اللہ تعالیٰ اس رواداری اور بھائی چارے کو ہمیشہ قائم رکھے اور پیار ومحبت کا یہ جذبہ نفرت کی اُس آگ کو بجھا کر رکھ دے جسے فرقہ پرستوں نے گزشتہ ستر سال میں سلگایا اور بھڑکایا ہے۔
مختلف مذاہب کے ماننے والوں کی باہمی یگانگت کا ایک منظر یہ بھی سامنے آیا کہ حکومت کے اس ظالمانہ رویہ کے ناکام ونامراد ہونے کے لئے ان سب نے اپنے اپنے طریقہ پر دعاء و پَرارتھنا کی اور عبادت اور پوجا کے عمل کو انجام دیا، ایک ہی شامیانہ میں ہر طبقہ نے اپنے اپنے ڈھنگ سے خدا کے حضور التجا کی، اس میں کوئی حرج نہیں ہے؛ مگر ایک بے اعتدالی یہ سامنے آئی کہ بعض مسلمان غیر مسلم بھائیوں کے ساتھ ان کے ہَوَن اور کیرتن میں شامل ہوگئے اور ایک مذہبی پہچان کے طور پر پیشانی پر جو قشقے لگائے جاتے ہیں، وہ بھی لگائے، یہ اتحاد نہیں ہے، انضمام ہے، اتحاد کے معنیٰ یہ ہیں کہ آپ اپنے وجود اور اپنی شناخت کو باقی رکھتے ہوئے دوسرے کے وجود کو تسلیم کریں، ان کا احترام کریں، ان کے مذہبی افعال کی بے احترامی اور مذہبی مقدسات کی اہانت سے بچیں، یہ باہمی رواداری ایک ایسے سماج میں اتحاد کی بنیاد ہے، جس میں مختلف مذہب اور فکر کے ماننے والے لوگ رہتے ہیں اور خود اللہ تعالیٰ نے ملے جُلے سماج کے لئے اس کی رہنمائی فرمائی ہے: لکم دینکم ولي دین (کافرون:۴)۔
انضمام یہ ہے کہ آپ اپنے وجود کو گُم کر کے اور اپنی پہچان کو ختم کر کے دوسروں کے ساتھ ضم ہو جائیں، ایسا کرنا ایک طرح کا تضاد اور نفاق ہے کہ ہم عقیدہئ توحید کا اقرار بھی کریں اور شعائر کفر کو بھی قبول کر لیں، اور مشرکانہ افعال کو خوشی خوشی انجام دیں، یہ ایک دکھاوا تو ہو سکتا ہے، سچائی اور حقیقت پسندی نہیں ہو سکتی؛ اس لئے نہ عقل ہمیں اس کی اجازت دیتی ہے، نہ اسلام اس کو گوارا کرتا ہے، اور نہ اتحاد کے لئے اس طرز عمل کی ضرورت ہے، اسلام کا نقطہئ نظر بالکل واضح ہے کہ ہمیں دوسرے مذاہب کی بے احترامی سے تو منع کیا گیا ہے(الانعام: ۸۰۱) لیکن اس بات سے بھی منع کیا گیا ہے کہ ہم اپنی پہچان کو مٹا کر ان کی پہچان اختیار کر لیں؛ اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر مسلموں کی شناخت کو اپنانے سے منع فرمایا، جس کو حدیث میں ”تشبہ“ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو دوسری قوم کی شناخت اختیار کر لے، وہ ہم میں سے نہیں ہے: لیس منا من تشبہ بغیرنا (سنن الترمذی: ۵/۶۵) یہی مضمون الفاظ کے فرق کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی ایک روایت میں آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من تشبہ بقوم فھو منھم (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر: ۱۳۰۴)
یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ اسلام کا یہ حکم شدت پسندی پر مبنی ہے، نہیں؛ بلکہ یہ حقیقت پسندی پر مبنی ہے، جیسے اسلام نے مسلمانوں کو اس بات سے منع کیا ہے کہ وہ کسی مشرکانہ فعل میں شامل ہو جائیں، اسی طرح اسلام نے ان لوگوں کو جو اسلام پر یقین ہی نہیں رکھتے ہوں، اس بات کا حکم نہیں دیا ہے کہ وہ اسلامی عبادات کو انجام دیں، جب تک کوئی شخص ایمان نہ لے آئے، نہ اس پر نماز فرض ہے، نہ روزہ، نہ حج وزکوٰۃ، ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ عبادتیں ان کے لئے فرض نہ ہوں؛ مگر مستحب ہوں؛ بلکہ اگر وہ نماز میں شامل ہو جائیں اور جذبہئ عقیدت یا مسلمانوں سے رواداری کے اظہار کے تحت افعالِ نماز کو انجام دیں، تب بھی اس کا کوئی اعتبار نہیں؛ اس لئے مسلمانوں کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ غیر مسلم بھائیوں سے مطالبہ کریں کہ وہ ان کے ساتھ نماز میں شریک ہو جائیں، بعض دفعہ مسلمان غیر مسلم قائدین کو ٹوپی پہناتے اور رومال اوڑھاتے ہیں، یہ ایک احمقانہ فعل ہے، نہ مسلمانوں کو اس کا کوئی فائدہ پہنچے گا، نہ اس غیر مسلم بھائی کو؛ بلکہ اس کا نقصان یہ ہوگا کہ جب آپ کا کوئی لیڈر اُن کے درمیان جائے گا تو وہ اس کو قشقہ لگائیں گے، مورتیوں کے سامنے ان سے ہاتھ جوڑوائیں گے، اس وقت آپ کو اعتراض ہوگا؛ اس لئے نہ خود مداہنت کا راستہ اختیار کرنا چاہئے اور نہ دوسروں کو اس کی دعوت دینی چاہئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعض رفقاء کو اسلام کی دعوت پیش کرنے کے لئے یمن بھیجا اور ان کو ہدایت دی کہ ان کو ایمان کی دعوت دینا، اگر وہ ایمان لے آئیں تب ان کو نماز کی دعوت دینا (بخاری، حدیث نمبر: ۶۹۴۱) گویا ایک اصول واضح کر دیا گیا کہ جو لوگ ابھی ایمان کے دائرے میں نہیں ہیں، ان کو احکام شریعت کی دعوت دینے کی ضرورت نہیں ہے۔
یہ تو اِس احتجاج کا ایک پہلو ہے، دوسرا پہلو یہ ہے کہ اطلاعات کے مطابق بعض مردوں اور عورتوں نے ”لا الٰہ الا اللہ“ کا نعرہ لگانا شروع کر دیا، اور خلافت قائم کرنے کی باتیں کرنے لگے، یہ بھی نہایت نادانی اور ناسمجھی کی بات ہے، بظاہر یہ سی اے اے کے حامیوں کی طرف سے کی جانے والی سازش ہے، جس کا مقصد ہندو مسلم اتحاد کے جذبہ کو پارہ پارہ کرنا اور احتجاج کو مسلمان بمقابلہ ہندو بنانا ہو سکتا ہے، کسی بات کے درست ہونے کے لئے یہ بات کافی نہیں ہے کہ وہ بات درست اور جائز ہو؛ بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ درست موقع پر کہی گئی ہو، بعض دفعہ اچھی بات غلط موقع پر کہی جاتی ہے تو اس کا نقصان غلط بات کہنے سے بھی بڑھ جاتا ہے، جب خلیفہئ راشد حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور اہل شام کے درمیان جنگ ہوئی اوریہ فیصلہ کن مرحلہ میں پہنچ گئی اور اہل شام شکست سے دو چار ہو نے لگے تو ایک گروہ اپنے نیزوں پر قرآن مجید اُٹھا لیا۔
اہل سنت والجماعت کا اتفاق ہے کہ اس جنگ میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ حق پر تھے،اگر یہ جنگ جاری رہتی اور اہل شام ہتھیار ڈال دیتے تو شاید یہ لڑائی ختم ہو جاتی، اس معاملہ کے طول پکڑنے کی وجہ سے مسلمانوں کا جو جانی ومالی نقصان ہوا، وہ تو ہوا ہی، فکرو اعتقاد کے اعتبارسے بھی اس جنگ نے امت مسلمہ کو بڑا نقصان پہنچایا اور بعض گمراہ فرقے وجود میں آگئے، غور کیجئے کہ قرآن مجید سے مقدس اور کیا کتاب ہوگی، اور قرآن مجید کو اُٹھانا بظاہر ایک نیک جذبہ ہی کا مظہر ہے؛ لیکن اس وقت یہ عمل ایک چال اور سازش کے طور پر کیا گیا، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سمجھایا کہ یہ ایک چال ہے، اس سے گمراہ نہ ہوں؛ لیکن لوگوں نے مان کر نہیں دیا، پس ایک ایسے وقت میں جب کہ ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی، بودھ اور کمیونسٹ سب مل کر انصاف کی لڑائی لڑ رہے ہیں، کسی گروہ کا اپنے مذہبی نعرہ پر اصرار کرنا در اصل اس احتجاج کو سبوتاز کرنا ہے؛ اس لئے اس سے مکمل اجتناب ضروری ہے۔
قرآن مجید کا تصور یہ ہے کہ جب آپ غیر مسلموں کے ساتھ مل کر کوئی تحریک چلائیں تو ایسی بات کو اس کی بنیاد بنائیں جو ہمارے اور اُن کے درمیان مشترک ہو: تعالوا إلیٰ کلمۃ سواء بیننا وبینکم (آل عمران: ۶۴) اور اس وقت وہ بنیاد ہے: ملک کے دستور کو بچانا اور عوام کے حقوق کی حفاظت کرنا، ملک کا دستور نہ صرف ہمیں جان ومال کا تحفظ دیتا ہے؛ بلکہ دین اور مذہبی حقوق کا بھی تحفظ کرتا ہے، عبادات سے لے کر معاملات اور معاشرت تک ہم اس ملک میں جن شرعی احکام پر عمل کرتے ہیں، اپنے عقیدہ پر قائم ہیں، اور ہم وطن بھائیوں تک اسلام کی دعوت پہنچاتے ہیں، نیز برادران وطن کی ایک تعداد اپنی مرضی سے ایمان سے بہرہ ور وہوتی ہے، ملک کے چپے چپے میں ہماری دینی درسگاہیں قائم ہیں، گذشتہ دو دہوں میں عصری تعلیم گاہوں کے ایسے سینکڑوں ادارے قائم ہوئے ہیں، جن میں گورنمنٹ کے مقررہ نصاب کے علاوہ دینی تعلیم بھی دی جاتی ہے، اور اسلامی ماحول بھی فراہم کیا جاتا ہے، یہ سب کچھ دستور ہی کی وجہ سے ممکن ہو سکا؛ اس لئے اس تحریک میں ہمیں حب الوطنی کے نعرے لگنے چاہئیں، اسی جذبہ کا مظہر نغمے گانے چاہئیں، اور ایسی بات کرنی چاہئے کہ اتحاد واتفاق کو فروغ ہو۔
بھارت جیسے کثیر مذہبی سماج میں خلافت ِاسلامی کا نعرہ لگانا ایک بے موقع اور بے عملی بات ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ سال مکہ مکرمہ میں رہے، جو ملا جلا معاشرہ تھا؛ لیکن کبھی آپ نے خلافت اسلامی کا نعرہ نہیں دیا، مدینہ تشریف لے جانے کے بعد بھی آپ نے یہودیوں کے ساتھ بہتر تعلقات قائم رکھنے کے لئے مشترک ایجنڈہ مقرر فرمایا، جس کو قرآن نے ”کلمۃ سواء“ سے تعبیر کیا ہے، اور اسی اصول پر میثاق مدینہ (مدینہ پیکٹ) طئے ہوا۔
غرض کہ یہ افراط وتفریط ہے، نہ یہ درست ہے کہ رواداری اور محبت کے جذبہ میں اپنے وجود کو گم کر دیا جائے، اور نہ یہ صحیح ہے کہ ایک مشترک تحریک کو اپنے انفرادی نعروں کے ذریعہ کمزور کر دیا جائے، پہلی صورت شریعت کے خلاف ہے اور دوسری صورت اُس حکمت کے خلاف ہے، جس کی قرآن وحدیث میں تعلیم دی گئی ہے، اور جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوہ رہا ہے۔
٭ ٭ ٭

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: