مضامین

افغان شہریت کا تعین اور تبدیلی پچھلے دہے میں

پاکستان اور بنگلہ دیش کے دستور کی طرح افغانستان کے دستور کا آغاز بھی اللہ کے نام سے شروع ہوتا ہے اور پیغمبر آخرالزماں ﷺ کی دعائیں اُن کے ماننے والوں کے لیے ہوتی ہیں

فیضان مصطفی (وائس چانسلر لاء یونیورسٹی حیدرآباد)
ترجمہ و تلخیص: ایڈوکیٹ محمد بہاء الدین، ناندیڑ(مہاراشٹرا)
Cell:9890245367
ہندوستان کا شہری ترمیمی ایکٹ (CAA)2019نے اس بات کو آسان بنادیا ہے کہ غیر مسلم رفیوجی کو ہندوستانی شہریت مل سکے۔ قبل اس کے بنگلہ دیش اور پاکستان کے دستو رپر بنظرغائر جائزہ لیا گیا تھا اب تیسرا ملک افغانستان ہے۔
دستوری تاریخ
مختلف تنازعہ اور کئی حملہ آوروں کی تاریخ کے بعد کوئی بھی سلطنت یا قوم افغانستان پر زیادہ دنوں پر حکمرانی نہ کرسکی۔ حتیٰ کہ برٹش بھی۔ باوجود اس کے 1839ء سے تین جنگیں ہوئیں۔ پھربھی وہ اپنے قبضہ وتسلط میں افغانستان کو نہ رکھ سکے اور تیسرے مرحلہ میں یعنی 1919ء کی جنگ میں وہ شکست کھا گئے۔ ”افغانستان کبھی بھی برٹش، انڈیا کا حصہ نہیں رہا اور نہ ہی وہ ہندوستان سے تقسیم ہوکر علیحدہ ہوا۔“جبکہ یہ بات CAA کی نافذ کرنے کی وجوہات میں بتائی جاتی ہے۔ جبکہ راولپنڈی کے معاہدہ کے تحت افغانستان کو 1919ء میں آزادی ملی۔ دوسری طرف افغانستان کا معاہدہ ئ دوستی پر دستخط رشیا کے مابین تھی۔ بادشاہ امان اللہ نے 1921ء میں دستور بنایا۔ پھر دوبارہ 1923ء میں، لیکن انہیں 1929ء میں تاجکس نے نکال پھینکا۔ ایک نیا دستور 1931ء میں ترتیب دیا گیا جس میں دائیں گروپ کے لوگ 1952ء میں اقتدار پر آگئے اور جنرل داؤد خاں کو انہوں نے 1954ء میں پرائم منسٹر بنادیا۔
ایک نیا دستور 1964ء میں وہاں کی عظیم اسمبلی میں لویا جگرا نے بنایا۔ جس پر کنگ ظاہر شاہ کی دستخط ہے۔ اس دستور کی وجہ سے یہاں دو ایوانوں والی شہنشاہیت مہیا کی گئی ہے جبکہ مطلق العنانیت عوام کی ہوگی، نہ کہ اللہ کی۔ دستور کے آرٹیکل نمبر 2 اسلام کو ریاستی مذہب کی حیثیت سے ڈکلیئر کرتا ہے۔ جیسا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش۔ یہاں اس بات کا بھی ذکر ملتا ہے کہ ریاست میں مذہبی احکامات سنّی، حنفی مسلک کے ہوں گے۔ اس طرح مسلمانوں کے دوسرے مسالک والے ایک طریقہ سے اقلیت قرار دیئے جائیں گے۔ لیکن اسی آرٹیکل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ غیرمسلموں کو اپنے مذہبی عقائد پر چلنے کی پوری پوری آزادی حاصل ہوگی بشرطیکہ وہ عوامی شائستگی اور قانون کے دائرے میں ہوں۔ دستور میں حقوق و فرائض کے عنوان سے ”جیسا کہ ہندوستان میں بنیادی ذمہ داریوں کاChapter 1976ء میں داخل کیا گیا۔
افغانستان کے دستور کے پہلے آرٹیکل میں اس بات کی وضاحت ہے کہ وہاں بلالحاظ مذہب و ملت تمام شہریوں کے مساویانہ حقوق اور قانونی ذمہ داریاں بھی رہیں گی۔ آرٹیکل 26 آزادی سے متعلق ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ اس کی کوئی تحدید نہ ہوگی۔تاں آنکہ اس آزادی کی وجہ سے عوامی مفادات متاثر نہ ہوں۔ اس میں اس بات کی بھی وضاحت ہے کہ آزادی اور ہر بنی نوع انسان کی عزت و احترام ہوگا۔ اس دستو رمیں اس بات کا اظہار نہیں ہے کہ آزادی صرف مذہبی مسلمانوں کو یا دیگر کو رہے گی۔
سویت کا قبضہ
1978ء میں کمیونسٹ پارٹی کی ایک کامیاب چال کے ذریعہ سے وہ اقتدار میں آگئے تھے اور اس طرح بنیادی اصلاحات کا آغاز بھی کیا تھا۔ لیکن یونائٹیڈ نیشن نے اس قبضہ کی مذمت کی اور امریکہ نے اس خصوص میں افغان باغیوں کی مدد کی۔ اور اس طرح ایک دہے سے زائد طویل جنگ یو اے ایس ایس آر (USSR) کیساتھ جاری رہی۔ جبکہ ہندوستان سویت یونین کے اس قبضہ کی تائید میں تھا۔ لیکن اس سویت یونین کی فوجیں 1990ء میں ہٹالی گئی اور سویت یونین کی مدد سے چلنے والی حکومت کا 1992ء میں خاتمہ ہوا۔ اس طرح 1992ء تک کمیونسٹ پارٹی کا اقتدار تھا۔ لیکن اقلیتوں کے خلاف کوئی ایزارسانی نہیں تھی۔ بعد ازاں اسلامک تعلیمات 1995ء میں اقتدار میں آئے اور انہوں نے ساری پابندیوں کا آغاز کیا جس میں عورتوں کی تعلیم اور اسلامی قانون و تعزیرات کو عائد کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے 2001ء میں بدھوں کے اسٹیچیو بانیان کو تباہ کیا۔ اس طرح ان کے چھ سالہ دور اقتدار میں مسلمانوں کی بھی ایزا رسانی ہوئی پھر 22 دسمبر 2001ء کو حامد کرزئی درمیانی حکومت کے مقتدر اعلیٰ بنے۔ موجودہ دستور جسے افغانستان نے اختیار کیا اور جس کی توثیق و تصدیق 2004ء میں ہوئی۔
مذہب اور اقلیتی حقوق
بنگلہ دیش اور پاکستان کے دستور کی طرح افغانستان کے دستور کا آغاز بھی اللہ کی تعریف سے شروع ہوتا ہے اور حضورﷺ کی دعائیں اُن کے ماننے والوں کے لیے ہوتی ہیں۔ دستور کی تمہید میں وضاحت سے اس بات کا ذکر ہے افغانستان تمام قبائلیوں اور لوگوں کا ملک ہوگا۔ ہندوستان کے دستور کی طرح اس میں اس بات کی بھی ضمانت ہے کہ وہ یونائٹیڈ نیشن کے چارٹر اور عالمی حقوق انسانی کے دائرہ میں رہتے ہوئے غیر مسلموں کے حقوق بلا کسی بھید بھاؤ کیے جائیں گے۔
جب مذہب اسلام کو ریاستی مذہب آرٹیکل 2 کے ذریعہ کہا گیا ہے پھر بھی دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے لیے اس بات کی آزادی ہوگی کہ وہ بغیر کسی پابندی کے اپنے مذہب وعقیدے کو مانیں، عمل کریں اور اس کے مطابق پیروی کریں۔ لیکن آرٹیکل 3 سے مشکل یہ پیدا ہوتی ہے کہ کوئی بھی قانون اسلام کے عقیدے کے خلاف ورزی میں نہ ہوگا۔ جیساکہ پاکستان میں۔ مطلق العنانیت یہاں جو آرٹیکل 4 کے ذریعہ عوام کو دی گئی ہے خدا کو نہیں، آرٹیکل 35 کے ذریعہ مذہب اور عقیدے کی بناء پر کوئی جماعت کو نہیں بنایا جاسکتا جو وہاں کی قبائلی، علاقائی عصبیت اور زبان وغیرہ سے متعلق ہو۔ آرٹیکل 80 کے ذریعہ اس بات کی پابندی لگائی گئی ہے کہ وزراء بلحاظ عہدہ اُس کا استعمال مذہبی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کریں گے۔ خواہ وہ کسی دورے کے لیے ہی کیوں نہ ہو۔ آرٹیکل 149 کے ذریعہ سے اس بات کی ترمیم کی گئی ہے کہ اسلامی اُصولوں میں اور اسلامی جمہوریہ میں کسی قسم کی ترمیم نہیں کی جاسکے گی۔ افغانستان کا دستور یہ کہتا ہے کہ بنیادی حقوق میں ترمیم حقوق کے اضافہ کے لیے کی جائے گی تاکہ حقوق ضمانت میں اضافہ ہو نہ کہ اسے کم کرنا یا پابندیاں لگانا۔
پہلا بنیادی حق آرٹیکل 22 سے شہریوں کے درمیان امتیاز برتنے و بھید بھاؤ کرنے پر پابندی لگاتا ہے۔ اور آرٹیکل کے ذریعہ سے کہا گیا ہے کہ تمام شہریوں کو مساویانہ حقوق و ذمہ داریاں رہیں گی۔ ہندوستان نے مساویانہ حقوق نہ صرف شہریوں کو بلکہ غیر شہریت والے باشندوں کو بھی دی ہے۔ آرٹیکل 57 میں افغانستان کا دستور کہتا ہے غیر ملکیوں کو بھی حقوق اور آزادی قانون کے مطابق ہوگی۔ ہندوستان اور پاکستان کی طرح بنگلہ دیش بھی آرٹیکل 29 کے ذریعہ کسی بھی شہری پر ایذارسانی پر پابندی لگاتا ہے۔ اور یہ پابندی کسی بنی نوع آدم کو نہ ہوگی۔ اس طرح افغانستان نے مذہبی ایذارسانی کا دستور کے تحت کوئی موقع ہی نہیں، جس پر عمل آوری ہو۔ سوائے اس کے کہ مختصر وقفہ جو طالبان کا تھا۔ اور اب اس ایذا رسانی کا کوئی بھی معاملہ نہیں پایا گیا۔ جبکہ ہندوستان میں ”صرف ایس سی/ ایس ٹی اور او بی سی کمیشن کو دستوری درجہ دیا گیا ہے“جبکہ آرٹیکل 58 آزادانہ طور پر انسانی حقوق کمیشن کو دستوری درجہ دیاگیا ہے۔ صرف مسلم جو افغانستان کے والدین سے پیدا ہوا ہو وہی صدر بن سکتا ہے۔ (جبکہ ہندوستان میں حقوق قومیت حاصل کرنے والا شہری بھی صدر بن سکتا ہے) لیکن افغانستان کے چیف ججس اور منسٹرز حقوق قومیت حاصل کرنے والے شہری بھی بن سکتے ہیں۔
شہریت
1992ء کا افغانستان کا شہریت کا قانون ہاتھ سے لکھا ہوا ہے۔ 1923ء کے دستور کے آرٹیکل 8 تمام باشندوں کو بلا کسی مذہبی امتیاز کے شہریت دیتا ہے۔ اس کا اصل مقصد شہریت دینا ہی نہیں بلکہ تذکرے کی اجرائی بھی ہے۔ یعنی نیشنل ایڈینٹی کارڈس۔ انڈیا میں نیشنل رجسٹر آف سٹیزن کا تصور بھی 2003ء کے رولس کے ذریعے آیا ہے۔ افغانستان کے دستور کے آرٹیکل 8 مرد شہریوں کو دینے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ خونی رشتے کے مطابق ہوتا ہے۔ لیکن 7 نومبر 1936ء کو ایک نیا شہریت والا قانون بنایا گیاجو 1930ء کے کنویشن آف نیشنلٹی کی بنیاد پر تھا۔ جس میں پیدائشی مقام کو پیمانہ بنایا گیا تھا۔ جس کی وجہ سے افغانستان کے دستور کا آرٹیکل 2 یہ کہتا ہے کہ تمام بچے جو افغانی ماں باپ کے ذریعہ اندرون افغانستان پیدا ہوئے ہوں یا بیرون افغانستان وہ افغان شہری ہی ہوں گے۔
ہندوستان کا دستور اور بنیادی سٹیزن شپ ایکٹ کی بھی اسی طرز پر ہے یعنی یہاں پیدا ہونے والی شرط۔ لیکن 1986ء اور 2003ء کی ترمیمات کی وجہ سے قانونی رشتہ کو اپنایا گیا ہے۔ یعنی وہ بچے جو دسمبر 31، 2003ء کے بعد پیدا ہوئے ہوں اور ان کے والدین ہندوستانی شہری ہوں۔ کوئی بھی غیر ملکی جو پانچ سال تک افغانستان میں رہاوہ افغانستان کی شہریت حاصل کرسکتا ہے۔ بشرطیکہ وہ اُصولوں کے مطابق ہو۔ کوئی عورت جو کسی بھی غیر ملکی سے شادی کرتی ہے وہ افغان شہری باقی نہ رہے گی۔ لیکن اُس کی شہریت اُسے واپس بھی مل سکتی ہے تاوقتیکہ اُس کی طلاق نہ ہوجائے۔ کوئی بھی افغان عورت جو کسی افغان مرد سے شادی کرتی ہے اُسے شہریت دی جائے گی۔
کمیونسٹوں کے دورِ اقتدار میں چند تبدیلیاں ہوئی ہیں۔ یعنی 5/مئی 1986ء کو سٹیزن شپ کی تعریف کا تعین اس طرح کیا گیا کہ وہ قانونی اور سیاسی تعلقات ہیں جو کسی شہری اور ڈیموکریٹک ریپبلک آف افغانستان کے درمیان ہوتی ہے۔ ہندوستان کے دستور میں شہریت کی تعریف کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔ پہلی مرتبہ افغانستان میں دوہری شہریت کا خاتمہ کیا گیا۔ جس کے لیے آزادانہ اُصول کو اپناتے ہوئے کسی بھی خاتون کی شادی کو پیمانہ بنایا گیا۔
1979ء میں اُن کی شہریت واپس لی گئی جو غیر ملکی بیرونی طاقتوں کو مدد کرتے تھے۔ لیکن اس کی بازیابی نئی حکومت نے 1992ء میں کر ڈالی۔ عوامی جمہوریہ افغانستان ایک نئی قانون سازی کے ذریعہ کی جس کا نفاذ مارچ 1992ء کو ہوا۔ جس میں کوئی زیادہ تبدیلیاں نہیں کی گئیں بجز اس کے شہریت سے دستبرداری والا معاملہ تھا۔ جس کے لیے اب پارلیمنٹ کی منظوری اور صدر کی مرضی شامل ہے۔ اس قانون کو جون 11، 2000ء میں اسلامک امارت افغانستان نے تبدیل کیا۔ جس میں کوئی زیادہ تبدیلیاں نہیں ہوئی ہیں۔ دستور کے آرٹیکل 28 کے تحت اب کوئی افغان عورت غیر ملکی سے شادی کرنے کے باوجود افغانی شہری رہے گی۔ آرٹیکل 9(2) کے ذریعے کوئی بھی بچہ افغانستان یا افغانستان کے باہر افغان شہری سے پیدا ہوتا ہے تو یہاں کا شہری ہوگا۔ حتیٰ کہ کوئی بھی لڑکا افغانستان میں پیدا ہوتا ہے جس کے والدین غیرملکی ہوں تب بھی اُسے 18 سال کی عمر ہونے کے بعد یہاں کی شہریت مل سکتی ہے۔ اگر وہ طے کرتا ہے تو باہر رہے گا۔ اس لیے اسے چھ مہینوں کے اندر اگر وہ اس بات کے لیے درخواست دیتاہے کہ اُسے اس کے والدین کے مطابق شہریت چاہیے۔ اور 2001ء میں پھر سے دوہری قومیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ آرٹیکل 12 کے ذریعے اگر کوئی لڑکا افغانستان میں پیدا ہوتا ہے اور اس کے والدین شہادت کے طور پر پیش کرنے کے دستاویزات اگر ان کے پاس موجو د نہ ہوں تب بھی وہ لڑکا افغانی قرار دیاجائے گا۔ اگر یہ اُصول ہندوستان نے اپنالیا ہوتا تو دو لاکھ بچے جن کا شمار آسام کی این آر سی لسٹ میں شامل کیا گیا ہوتا۔ اقوام متحدہ کے کنونشن 1954ء کے مطابق جو اُن لوگوں کے لیے ہے جن کی کوئی ریاست نہیں ہوتی۔ تمام لوگ جو بغیر کسی ریاست کے ہیں وہ افغان شہری کہلائیں گے۔ حقوق قومیت کے ذریعے سے جو کوئی بھی پانچ سال تک وہاں رہے گا اُسے شہریت دی جائے گی۔
سویت یونین کے قبضہ اور مابعد تنازعات افغانستان سے بھی ہزاروں لوگ ہجرت کرگئے۔ 2017ء میں 1773 درخواستیں شہریت سے دستبردار ہونے کے لیے بشمول سکھ اور ہندو موصول ہوئی ہیں۔ یہ دستبرداری کی درخواستیں کسی مذہبی اذیت رسانی کی وجہ سے نہیں یا کسی خوف و ڈر کی وجہ سے، دستور کے آرٹیکل 4 اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ افغانستان کاملک اُن افراد پر مشتمل ہے جو افغان شہری ہیں اور لفظ افغان اُن تمام شہریوں کے لیے استعمال ہوگا۔ یہ بہت واضح اور کھلے طور پر وضاحت کے ساتھ اعلان ہے کہ کوئی بھی فرد شہریت سے محروم نہیں رہے گا۔ آرٹیکل 28 کے مطابق بنیادی حقوق سے کوئی بھی افغان شہری شہریت سے محروم نہیں رہے گا اور نہ ہی اسے کسی مقامی یا غیر ملکی جیل میں بھیجا جائے گا۔ جیساکہ پاکستان اور بنگلہ دیش میں ہوتا ہے۔ افغانستان مذہب کی بنیاد پرنہ شہریت دیتاہے اور نہ شہریت سے انکار کرتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close