مضامین

اقلیت واکثریت کے مسئلہ کاحل سیرۃ نبویؑ کی روشنی میں

قسط(2)

مدینہ سے آپﷺنےاپنی اکثریتی زندگی کا آغاز کیاہجرت کےبعدسب سے پہلے مہاجرین اورانصارکےدرمیان مواخاۃ(بھائی بھائی )کارشتہ قائم فرمایاجوکہ ایک دوسرے کےلئے نئے تھے دیھکنے میں مہاجرین و انصار کارشتہ تھالیکن حقیقت میں رہتی دنیاتک کے انسانیت کے لیے ایک پیغام اورمیسج پنہاں تھاجس کااثرفوری طور پریہ ہواکہ اس محبت بھرےرشتےنے غیروں کوبھی اسلام قبول کرنےپرمجبور کردیا-
مکہ کےبرعکس مدینے میں مسلمانوں کی تعدادزیادہ تھی اگروہ چاہتے تو طاقت و زور سے اپنا دین قبول کرنے پرمجبورکرسکتے تھے لیکن آپﷺنے ایسانہیں کیااورناہی اپنے اصحاب کو کرنے دیاگیابلکہ اقلیتی طبقہ سے معاہدہ فرما کر نہ صرف شہرمدینہ اور اسکے اطراف کےباشندوں کےلئے ترقی کی راہیں ہموارکیں بلکہ کفارومشرکین کوبھی سیاسی ومعاشرتی تحفظ فراہم کرکے
حاکم کےلئے ایک رہنما خطوط کا مثالی نمونہ پیش فرمایا با الفاظ دیگر
دوسراسب سےبڑاکام یہ کیاکہ بلا تخصیص مذہب و ملت اہل مدینہ کی ایک میٹنگ بلائی گئی
جس میں مسلمان اورکفارمشرکین اوریہودکومدعو کیاگیااس میٹنگ میں سب سے پوائنٹ کی بات یہ طے پائی کہ اہل مدینہ کی جان مال کی عزت آبرو کی حفاظت کی ذمہ داری
ہم سب مل کرکریں گے اسطرح آپ ﷺنے کفارمدینہ اوریہودکو سیاست و تجارت میں بھی حصہ داری کا مواقع فراہم کیا
صلح حدیبیہ کےموقع پر جس اعلی ظرفی کامظاہرہ آپ ﷺنے فرمایااورشرافت سادگی کا مثالی نمونہ پیش کیا ہےجو تاریخ کے صفحات میں درج ہے
اس موقع پرباوجودیکہ مسلمانون کی اکثریت تھی آپ چاہتے تو اپنے شرائط پر صلح کرتے لیکن ایسانہیں کیا بلکہ یکطرفہ شرائط پر صلح فرمائی
جبکہ معاہدے کی تمام شقیں کفار مکہ کے حق میں تھی لیکن امن وامان کی خاطرانھیں قبول فرمایا
*فتح مکہ*چند سال قبل اسی شہر مکہ سے خاموشی کےساتھ
رات کی تاریکی میں ہجرت کےلئے نکلےتھےاورآج ۲۰رمضان المبارک ۸ھ اکثریت کےساتھ فاتحانہ شان وشوکت،طاقت واختیارکےساتھ تشریف لا رہے ہیں دشمنان اسلام بےبس و مجبور آپﷺکےسامنےکھڑے ہے
اگرآپﷺچاہتے توایک ایک ظلم کا بدلہ لےسکتے تھے لیکن قرباجاؤں آپؑ پر کہ پیشانی پر شکن بھی نہیں آئی اورنہ ہی بیتے دنوں کی یاد آئی بلکہ آپﷺنےاعلان فرما دیا لاتثریب علیکم الیوم اذھبوا وانتم الطلقا
یادرہے کفارمکہ کو امن وامان بلاقیمت ملانہ کسی کو اسلام لانے کےلئے مجبورکیاگیااورنہ ہی
مسلمان مہاجرین کی املاک اورگھرو ں کی واپسی کامطالبہ کیاگیا
ایک دن وہ تاریخی موقع بھی آیا جب آپﷺنےہرطرح کی غیر انسانی حرکتوں پرپابندی عائد فرمادی اورایک ایسا نظام قائم فرمایا جس نےاقلیت واکثرت کا نشان ہی مٹادیاکہ اب نہ کوئی عربی رہااورنہ کوئی عجمی نہ کوئی گورانہ کوئی کالابلکہ سب انسانیت کے دھاگے میں بندگیے
ان باتوں سے یہ اندازہ لگاناکوئی مشکل نہیں کہ نبی کریمﷺکی مکی ومدنی زندگی بہر صورت
رہتی دنیاکے انسانوں کے لیے آئڈیل و نمونہ ہیں اورخلاصہ کلام یہ ہےکہ چاہےہم اقلیت میں رہیں چاہے اکثریت میں سیرت نبویہ سے سبق لینے کی ضرورت ہے یعنی اقلیت میں رہےتوصبروتحمل سے کام لیں،افرادسازی کرتے رہیں اورموقع محل کےاعتبارسے خودکوثابت کریں اوراگراکثریت میں رہیں توامیرغریب،محتاج غیرمحتاج اورطاقتورکمزورکےساتھ عدل وانصاف اورایماداری ودیانت داری کامظاہرہ کریں

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: