اہم خبریں

الفلاح پلک اسکول میں تعلیمی بیداری پروگرام کا انعقاد ۔

جس میں علماء ودانشوران کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔
اس پروگرام کی خصوصیت یہ رہی کہ تمام مقررین نے پہلے سے طے شدہ مخصوص عنوان پر گفتگو کی ۔
پروگرام کے صدر عارف باللہ پیر طریقت حضرت مولانا شاہ احمد نصربنارسی صاحب نے کہاکہ فکری ارتداد یہ دور حاضر کاسب سے بڑا فتنہ ہے اس سیلاب بلاخیز کے خلاف ہمیں منصوبہ بند طریقہ سے جد جہدکرنے کی ضرورت ہے ۔
دربھنگہ سے تشریف لائے مفتی توقیر بدر صاحب نے اپنے موضوع ٫٫ اردو زبان کی مذہبی و تہذیبی حیثیت پر ،، اپنے پرمغز خطاب میں فرمایا کہ اردو اگر ہم اردو کو بچائیں گے ہماری تہذیب بھی بچے گی اور مذہب سے بھی ہمارا رشتہ مضبوط رہیگا ۔نوادہ سے تشریف لائےالکتاب فاونڈیشن کے چیرمین حضرت مولانا نوشاد زبیر ملک صاحب نے کہا کہ آج ہمیں دینی وعصری دونوں تعلیم کی ضرورت ہے الفلاح پبلک اسکول نے جویہ مستحسن قدم اٹھایا ہے اہل علاقہ کو ان کا ساتھ دینا چاہیے ۔
‌ مولانا تنویر ندوی علیگ نے اکیڈمک پلان کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فرمایا تعلیم کی منصوبہ بندی ماں کے گود سے شروع ہوجاتی ہے ، نیز انہوں نے یہ بھی کہاکہ ہمارا منصوبہ یہ بھی ہونا چاہیے کہ ہم جوبھی پڑھیں وہ رب کی اسپرٹ کے ساتھ پڑھیں تب ہی ہم کامیاب ہوسکتے ہیں ۔
علاقہ کے معروف عالم دین اور پروگرام کے سرپرست مولانا عرفان قاسمی صاحب نے اپنے کلیدی خطاب میں حالات حاضرہ پر تفصیلی روشنی ڈالی ۔
علاقہ کے ابھرتے ہوئے فاضل ومقررمفتی نظام الدین قاسمی نے اسلام میں تعلیم کا وسیع مفہوم اور عصر حاضر کے عنوان پر اپنےمختصر خطاب میں کہاکہ اسلام کسی بھی قسم کی تعلیم سے منع نہیں کرتا بلکہ اسلام کی شناخت ہی تعیلم ہے جیساکہ پہلی وحی اقرا سے واضح ہے ۔
نوجوان فاضل مفتی سرفراز قاسمی صاحب نے نئی نسل میں بڑھتی ہوئی فکری ارتداد کے عنوان پر انتہائی جامع اور مختصر تقریر میں دور حاضر میں شوشل میڈیا کے ذریعہ پھیلی ہوئی فکری گمراہی اور فحاشی و عریانیت کوواضح کیا اور نئی نسل کو اس سے بچنے کی تلقین کی ۔ واضح رہے کہ
پروگرام کی شروعات الفلاح اسلامک مشن اسکول کے ایک طالب علم کی تلاوت سے ہوئی اس کے بعد الفلاح ہی کے ایک ہونہار طالب علم عبدالحلیم نے بارگاہ رسالت میں میں نظرانہ عقیدت ومحبت کا گلدستہ پیش کیا ۔اس کے بعد ناظم جلسہ مولا یاسین رحمانی نے کہا کہ الفلاح کےڈائریکٹر مولانا الیاس ثمر صاحب قابل مبارکباد ہیں کہ انہوں نے آج کا یہ علمی وفکری پروگرام منعقد کیا اور حالات حاضرہ کی مناسبت سے ہر مقرر کےلیے الگ الگ اچھوتے موضوعات کا انتخاب کیا یہ ان کی بلندی فکری اور اعلی ذوق و قابلیت کی نشانی ہے ۔ اس کے بعد ہندوستان کے معروف شاعر جناب جمشید جوہر نے اپنی مسحور کن آواز حاضرین کی سماعتوں کو محظوظ کیا اور خوب پذیرائی حاصل کی ۔
نیز الفلاح اسلامک مشن اسکول کے طلبہ وطالبات پروگرام بھی دلچسپ رہا اور سامعین نے خوب پسند کیا ۔
واضح رہے کہ اس پروگرام میں دو اہم مقرر آن لائن بھی مدعو تھے لیکن تکنیکی پرابلم کی وجہ سے وہ شریک نہیں ہوسکے ۔
آخر میں مدرسہ اصلاح المسلمین کے استاذ حدیث حضرت مولانا مفتی خلیل صاحب کی رقت آمیز دعا پر پروگرام کا اختتام ہوا

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: