مضامین

اللہ سے عاجزی اور گڑگڑا کر مانگو، اللہ ضرور تمہاری دعا قبول کرے گا!

مولانا فیاض احمد صدیقی رحیمی ؛* صدر مدرس :مدرسہ عربیہ ھدایت الاسلام انعام وہار سبھاپور دھلی این سی آر

اللہ تبارک وتعالی سارے جہاں کا مالک و خالق ہے ، آسمان و زمین میں اس کی حکومت قائم ہے ، اس کے مرضی کے بنا ایک معمولی سا پتا بھی حرکت نہیں کرتا ، اللہ وہی ہے جو مصیبت میں فریاد کرنے والے کی فریاد کوسنتا ہے ، اللہ قرآن میں خود فرماتا ہے ” *{امن یجیب المضطر و یکشف السوء.}* [پ۲۰”] کہ کون ہے جو پریشان حال کی پکار کو سنتا ہے اور پریشانیوں کو دور کرتا ہے ، بلا شبہ وہ اللہ کی ذات ہے ، بارگاہ الہی میں کوئی دعا رد نہیں کی جاتی اگر آداب دعا کی رعایت کر کے دربار خداوندی میں فریاد لگائی جائے ، اللہ نے خود فرما دیا ” *{اجیب دعوة الداع اذا دعان.}* [البقرہ.] ” یعنی میں دعا کرنے والوں کی دعا کو قبول کرتا ہوں جب مجھے پکارتا ہے ، اس آیت کی تفسیر میں علامہ نسفی رحمہ اللہ نے فرمایا ، دعا کو قبول ہونا تو یقینی ہے ، البتہ قبولیت دعا کی چار صورت ہے ، کبھی کبھی بعینہ اسی چیز کو اللہ دیتا ہے جو مانگا گیا ہے ، کبھی کبھی اس وقت تو اللہ نہیں لیکن کچھ مدت کے بعد اس چیز کو عطا کرتا ہے ، اور کبھی جس چیز کو اللہ سے مانگا جاتا ہے اسے نہ دے کر جو چیز اس کے حق میں بہتر ہوتی ہے اس چیز سے نوازتا ، چوتھی صورت یہ ہے کہ دنیا میں اللہ اس چیز کو نہیں دیتا بلکہ آخرت میں دیتا ہے ، قبولیت دعا کی یہ چار صورتیں ہیں ، اللہ کے دربار میں کوئی دعا رد نہیں ہوتی ، البتہ غافل دل سے دعا نہ ہو ، غافل دل کی دعا اللہ قبول نہیں کرتا ، دعا کے آداب میں سے ہے مکمل یقین کے ساتھ گڑگڑا کر دعا کرے ، اللہ کے رسول نے ایسے الفاظ سے کہ اگر اللہ چاہے تو میری دعا قبول کرے ، ایسے الفاظ سے دعا کرنے سے منع کیا ہے ، بلکہ یقین کے ساتھ مانگنے کی تلقین کی ہے ، قرآن میں اللہ فرماتا ہے ” *{ادعوا ربکم تضرعا و خفیة}* ” یعنی اپنے رب سے گڑگڑا کر اور پوشیدہ طور پر مانگو ، اللہ کے دربار میں عاجزی اختیار کرنے کا حکم ہے ، عاجزی اختیار کرتے ہوئے اپنی فریاد کو دربار الہی میں کرو ، اللہ ضرور قبول کرے گا ، وہ اللہ توبہت نوازنے والا ہے ، لیکن افسوس کہ ہمیں اس اللہ سے مانگنا ہی نہیں آتا ، جب ہم نے اللہ پر ایمان لایا تو ہماری چھوٹی بڑی مصیبت میں اس کے دربار میں اپنی ضرورت کو پیش کریں ، اللہ ایسا نوازنے والا ، عطا کرنے والا ہے ، اللہ سے مانگا جائے اللہ اس بات کو بہت پسند کرتا ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اللہ سے اس کے فضل میں سے مانگو” اس لئے اللہ کو یہ بات پسند ہے کہ اس سے مانگا جائے ، جبکہ ان لوگوں سے جو اللہ سے سوال نہیں کرتے اللہ ان پر غصہ ہوتا ہے ، کیونکہ اللہ کے دربار میں فریاد نہ کرنا اللہ سے سوال نہ کرنا تکبر کی علامت ہے ، اس لئے اللہ تبارک وتعالی ایسے بندہ سے ناراض ہوتے ہیں….اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو اپنے دربار میں سر تسلیم خم کرنے کی توفیق عطا فرمائے :

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: