اسلامیات

اللہ کے ذکر سے اپنے روزوں کو مزین کیجئے

افادات : عارف باللہ حضرت مولانا محمد عرفان صاحب مظاہری دامت برکاتہم گڈا جھارکھنڈ
سلسلہ نمبر (7)

یوں تو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے رہنا عام دنوں میں بھی بہت سارے فضائل رکھتا ہے لیکن اگر رمضان میں روزہ رکھتے ہوئے ذکر کا اہتمام کیا جاءے تو ذکر کا ثواب بھی عام دنوں کے مقابلے کئی گنا زیادہ ملے گا اور اس سے روزہ بھی عمدہ، بہتر اور اعلی درجہ کا ہو گا. کیونکہ بندہ روزہ کی فضیلت بھی حاصل کر رہا ہے اور ذکر کی فضیلت کا بھی مستحق بن رہا ہے اور ذکر میں مشغولیت کی وجہ سے لایعنی کاموں سے بھی بچ رہا ہے.

رمضان میں کون سا ذکر زیادہ کرنا ہے، اس کے بارے میں حضور پاک صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا، اس مہینے میں چار چیزوں کو کثرت کے ساتھ کرو. ان میں سے دو تو وہ ہیں جن سے تم اپنے رب کو راضی کرو اور دو چیزیں وہ ہیں جن کی تمھیں سخت ضرورت ہے، بہر حال دو چیزیں جن سے اپنے رب کو راضی کرنا ہے وہ لا ا لہ الا اللہ کی گواہی دینا اور استغفار کرنا ہے. *واستکثروا فیہ من اربع خصال….. اما الخصلتان اللتان ترضون بھما ربکم فشھادۃ ان لا الہ اللہ و تستغفرونہ (رواہ ابن خزیمہ فی صحیحہ و البیہقی فی شعب الایمان)*

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رمضان میں کلمہ لا الہ الا اللہ کا ورد کثرت کے ساتھ کرنا چاہیے، بظاہر یہ ذکر معمولی لگتا ہے لیکن حقیقت میں اس کا بہت بڑا درجہ ہے، ایک حدیث میں ہے کہ اگر ساتوں زمین اور ساتوں آسمان اور ان کے مکینوں کو ایک پلڑے میں رکھ دیا جاءے اور اس کلمہ کو ایک پلڑے میں رکھ دیا جاءے تو کلمہ والا پلڑہ بھاری ہو جاءے گا. (نسائی شریف) کلمہ کے بارے میں بہت ساری احادیث کو سامنے رکھتے ہوءے علماء کرام نے لکھا ہے کہ جس نے ستر ہزار مرتبہ اس کلمہ کا ورد کیا تو اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید ہے کہ اس کی بخشائش ہو گی، اور اگر کسی مردے کو اس کا ثواب پہنچایا جاءے تو اس کی بھی بخشائش کی امید ہے. بزرگان دین اس کلمہ کو سوا لاکھ پڑھنے کی تلقین کرتے ہیں، اگر کوئی یہ ارادہ کرلے کہ پورے رمضان میں سوا لاکھ کلمہ کا ورد کرنا ہے تو کوئی مشکل نہیں، آرام سے کر سکتا ہے.

اس کے علاوہ آسان شکل یہ ہے کہ تسبیح فاطمی ہر فرض نماز کے بعد پڑھے یعنی تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمد للہ اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر کہے، اس تسبیح فاطمی کی بھی بڑی فضیلت ہے، اسی طرح بزرگان دین صبح و شام تین تسبیح کو سو سو مرتبہ پڑھنے کی تلقین کرتے ہیں یعنی تیسرا کلمہ سو مرتبہ، استغفار سو مرتبہ اور درود شریف سو مرتبہ. ان سب کے بھی بہت سارے فضائل اور ثواب حدیث میں بیان کئے گئے ہیں، یہاں تفصیل کا موقع نہیں. بعض بزرگان دین اسی کو چھ تسبیح کہتے ہیں وہ اس طرح کہ سبحان اللہ سو مرتبہ، الحمد للہ سو مرتبہ، لا الہ الا اللہ سو مرتبہ، اللہ اکبر سو مرتبہ، استغفار سو مرتبہ اور درود شریف سو مرتبہ. یہ کل چھ سو ہو گئے، یہ چھ سو صبح پڑھنا ہے اور چھ سو شام میں پڑھنا ہے، کوشش ہو کہ روزانہ اتنی تعداد پوری ہو. اگر کوئی اتنا نہ پڑھ سکا تب بھی ثواب سے خالی نہیں، درود شریف کے لئے درود ابراہیمی بھی پڑھ سکتے ہیں اور کوئی مختصر درود ہو اس کو بھی پڑھ سکتے ہیں. ان کے علاوہ بھی بہت سے اذکار ہیں اور ان کے بڑے ثواب ہیں. ذکر کی خصوصیت یہ ہے کہ اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے اور اپنا کام کرتے ہوئے بھی یہ سب اذکار کئے جا سکتے ہیں، ثواب میں کوئی کمی نہیں ہوگی. گنتی کے ساتھ یا بغیر گنتی کے جس طرح بھی ہو، کثرت کے ساتھ ان اذکار کا اہتمام کرنا چاہیے.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: