مضامین

امارت شرعیہ کےپلیٹ فارم سے حضرت مولاناسجادؒکی خدمات

مفتی اخترامام عادل قاسمی مہتمم جامعہ ربانی منورواشریف ،سمستی پور

امارت شرعیہ کےپلیٹ فارم سے حضرت مولاناسجادؒکی خدمات
٭حضرت امیرشریعت اول کے عہد میں دفتری نظام مرتب اورمضبوط ہوگیاتھا، اوربعض شعبہ جات بھی قائم ہوگئےتھے(جیساکہ اوپرذکرآیا) حضرت امیرشریعت ثانی کے زمانے میں مزید شعبہ جات قائم ہوئے،اورہرشعبہ کےلئے الگ الگ رجال کارمقرر ہوئے، اس طرح حضرت مولاناسجادؒ کی حیات مبارکہ میں امارت شرعیہ کےبنیادی طورپر کل آٹھ (۸) مستقل شعبے قائم ہوئے،جن کےذریعہ پورے بہارمیں دینی ،علمی اورملی سرگرمیاں انجام دی گئیں ،ان کےآئنیےمیں امارت شرعیہ کے پلیٹ فارم سے حضرت مولانامحمد سجادؒ کی خدمات کااندازہ لگایاجاسکتاہے ،اس لئےکہ امارت شرعیہ میں درحقیقت آپ ہی مرکزاعصاب تھے،اورآپ میں منصوبےبنانےاوران کوعملی قالب میں ڈھالنےکی جوبےنظیر صلاحیت موجودتھی ،حضرت امیرشریعت ثانیؒ اس سے پوری طرح باخبرتھے،جس کا اعتراف انہوں نےاپنےان ارشادات عالیہ میں فرمایاہےجوحضرت مولاناسجادؒ کی وفات پرقلمبندکئے تھے:
"مفیدتحریکات پیداکرناپھران کوعمل میں لانےکی جوصلاحیت یہ
رکھتےتھے،اس صلاحیت کادوسراآدمی نظرنہیں آتا”
ان شعبہ جات کاتفصیلی تعارف حضرت مولانا عبدالصمدرحمانی ؒ کی کتاب "تاریخ امارت "میں موجودہے،یہاں بطورشہ سرخیاں ان کااجمالی تذکرہ پیش کیاجاتاہے:
دارالقضاء
٭اس کے پہلے قاضی مولانانورالحسن صاحب پھلوارویؒ مقرر ہوئے، یہ دارالقضاء پہلے انجمن علماء بہارکےماتحت قائم ہواتھا،بعدمیں اس کوامارت شرعیہ کے تحت کردیاگیا۔پھر اس نظام میں مزیدتوسیعات ہوئیں،اورامارت شرعیہ نےاس میدان میں بڑی شہرت و نیک نامی حاصل کی،موجودہ ہندوستان میں اس سےبہتراوربڑانظام کہیں موجودنہیں ہے ،بلکہ اس کودنیاکےبڑے عدالتی نظاموں میں شمارکیاجاسکتاہے،اب تک امارت شرعیہ کے دارالقضا سےسات سوتیس(۷۳۰)ہزارسےزائدمقدمات کےفیصلےہوچکےہیں۔
حضرت مولانامحمدسجادؒکےزمانےمیں قاضی شریعت کےبعض فیصلوں کےخلاف امیرشریعت کی خدمت میں جواپیلیں دائرکی جاتی تھیں ،ان کاجائزہ بحیثیت نائب امیرشریعت حضرت مولاناسجادؒلیتے تھے،اورپھراپنافیصلہ جاری فرماتے تھے،ان میں سے بعض فیصلے”قضایا سجاد”کےنام سے امارت شرعیہ سےشائع ہوچکےہیں۔
امارت شرعیہ کے قاضیوں میں حضرت مولاناقاضی نورالحسن پھلواروی ؒ کے بعد حضرت مولاناقاضی مجاہدالاسلام قاسمیؒ قاضی القضاۃ نےنظام قضاکوبڑی وسعت دی اور نقطۂ عروج تک پہونچایا۔
دارالافتاء
٭دارالافتاء بھی قیام امارت کے ساتھ ہی شروع ہوگیاتھا،جس میں خود حضرت مولاناسجادؒہی فتویٰ کاکام بھی کرتے تھے ،حضرت مولاناکے فتاوی کامجموعہ "محاسن الفتاویٰ ” فتاویٰ امارت شرعیہ جلداول کےنام سے امارت شرعیہ سے شائع ہوچکاہے،لیکن بعدمیں آپ کی مصروفیات کی بناپریہ شعبہ مولانامحمد عثمان غنی صاحبؒ کے حوالے کردیاگیا،اورآپ اس کے پہلےباضابطہ مفتی قرارپائے،بعدکےادوارمیں اس شعبہ سے بڑے اہم علماء وابستہ ہوئےمثلاً: مولاناعبدالصمد رحمانیؒ،مفتی عباس ؒ،مفتی یحییٰ قاسمیؒ ،اورمفتی صدرعالم قاسمیؒ وغیرہ۔
شعبۂ دعوت وتبلیغ
٭ اس شعبہ نے بدعات ومنکرات کےخاتمہ ،ارتداد وانحراف کے فتنوں سے تحفظ اوردین حق کی توسیع واشاعت میں عظیم الشان خدمات انجام دیں ،خود حضرت مولاناسجادنے شدھی تحریک اورچمپارن کے علاقےمیں گدیوں کےدرمیان پھیلے ہوئے ارتدادکامقابلہ کیا
٭فتنۂ راجپال کےانسدادکےلئےحضرت مولاناسجادؒنےصوبہ کےمختلف مقامات پرجلسے کرائے ۔
اس سلسلےکی مزیدتفصیل اسی کتاب میں آگے”حضرت مولاناکی دعوتی واصلاحی خدمات” کےتحت آئےگی ان شاء اللہ۔

شعبۂ تنظیم
٭اس شعبہ کامقصدریاست کےایک ایک فردکوامارت شرعیہ سےوابستہ کرنااور ہربالغ کمانے والےشخص سے سالانہ محصول وصول کرناہے،اس کےلئےبعض علاقوں میں خود حضرت مولاناسجادصاحب ؒنے بھی دورے فرمائے ۔
چمپارن کےمسلمان حضرت مولاناسے بہت مانوس تھے،تقریباً ہرسال اواخرشعبان میں آپ وہاں کادورہ فرماتے تھے،اوررمضان کابڑاحصہ وہیں گذارتےتھے،۔۔۔۱۹۳۴؁ء کے زلزلہ کےموقعہ پربھی جب آپ کےاکلوتے صاحبزادہ کی وفات ہوئی توآپ چمپارن ہی میں تھے۔۔ اسی طرح جس ملیریا بخارمیں آپ کی وفات ہوئی آپ کےبعض تذکرہ نگاروں کے مطابق اس کا آغازبھی چمپارن ہی سے ہواتھا ۔
٭چمپارن کے علاوہ سارن ، پورنیہ اوردربھنگہ وغیرہ کےاسفاربھی آپ نےبکثرت فرمائے،پورنیہ کاسفرنامہ توبعنوان”ضلع پورنیہ کادورہ –مسلمانوں کاجوش وخروش –خوش آئند توقعات”خودآپ کےقلم سےموجودہے،جس میں مسلمانان پورنیہ کی دینی،اخلاقی اورمعاشی صورت حال کاآئینہ بھی آگیاہے ۔
٭اسی شعبہ کےتحت ہرچھوٹی بڑی آبادی میں مذہبی سربراہ مقررکئے گئےجن کا اصطلاحی نام نقیب تھا،نقیب امیرشریعت اورعوام کےدرمیان واسطہ ہوتاہے۔
شعبۂ تعلیم
٭اس شعبہ کامقصدریاست کےمسلمانوں میں تعلیمی شعورپیداکرناتھا،اس شعبہ
کے تحت مختلف علاقوں میں مدارس ومکاتب اوراسکول قائم کئے،غریب طلبہ کے لئے وظائف کاانتظام کیاگیا۔
٭چمپارن کےدیہاتوں میں خودمولاناسجادؒنےاپنی نگرانی میں مکاتب قائم کئے ، خاص گدی قوم کےلئے بھی دومکاتب قائم کئے گئے،جن کےاخراجات کی مکمل کفالت کی ذمہ داری امارت شرعیہ نے لی۔
٭ ۱۹۲۶؁ء میں جب قاضی احمدحسین صاحب کونسل کے ممبرتھے،توان کی کوششوں سے ایک مسلمان معلم کوگورنمنٹ کی طرف سے بحال کرایاگیا ۔
شعبۂ تحفظ مسلمین
٭اس شعبہ کامقصد مسلمانوں کی جان ومال ،دین وایمان اورعزت وآبروکےتحفظ
کے لئےمنظم کوششیں کرناتھا۔
اس شعبہ کےتحت فسادات یاحادثات کےموقعہ پرمسلمانوں کی امدادکاخصوصی اہتمام کیاگیا،حضرت مولاناسجادؒکےزمانہ میں ۲/اگست ۱۹۳۷؁ء(۲۴/جمادی الاولیٰ ۱۳۵۶؁ھ) کوبتیامیں انتہائی بھیانک فساد ہوا ،بارہ(۱۲) مسلمان شہیداورسینکڑوں زخمی ہوئے،بےشمار مکانات نذرآتش کئے گئے،مولاناؒ اس موقعہ پربنفس نفیس وہاں تشریف لے گئے،اورانتہائی مشکل اورپرخطرراستوں کاسفرطےکرکےمتعلقہ مقامات تک پہونچے،اورمسلسل چھ سات ماہ بتیامیں قیام فرمایا،بڑے بڑے قانون دانوں کی خدمات حاصل کیں اور مظلوموں کوانصاف دلا کراورظالموں کوان کےکیفرکردار تک پہونچاکردم لیا،تفصیل صدرالنقیب حافظ محمدثانی اور
حاجی شیخ عدالت حسین صاحب وغیرہ کےمضامین میں موجودہے ۔
٭اسمبلی اورکونسل میں جب بھی کوئی ایسامسودۂ قانون آیاجس کاکوئی اثرکسی اسلامی معاملہ پرپڑتاہوتوسب سے پہلےحضرت مولانامحمدسجادؒاس کی مخالفت فرماتے تھے۔
مولاناعثمان غنی صاحب ؒ کابیان ہے کہ :
"راقم الحروف کوخاص تاکیدتھی کہ جب کوئی مسودہ ٔقانون یاکسی عدالت کا
فیصلہ ایساہوجس کی زدکسی اسلامی قانون پرپڑتی ہوتوفوراًاس کی مخالفت میں
مضامین لکھواورجمعیۃ علماء ہندکوخط کےذریعہ اطلاع دو”
شعبۂ نشرواشاعت
٭اس کامقصد ادارہ کاتعارف ،ادارہ کےپیغامات کی ترسیل ،دینی علوم کی اشاعت
اورباہم افرادوعمال کےدرمیان رابطوں کومضبوط کرناتھا،اسی شعبہ سے اولاًجریدۂ امارت جاری کیاگیاجس کی ادارت حضرت مولاناعثمان غنی صاحب ؒکے حوالے کی گئی،دفتر کے ناظم بھی مولاناعثمان غنی ہی تھے ۔
بیت المال
٭اس کامقصد امارت کے مالی نظام کومستحکم کرنااور اس میں شفافیت پیداکرناتھا، حضرت مولاناشاہ قمرالدین پھلوارویؒ(جوبعدمیں امیر شریعت ثالث بھی ہوئے)پہلےناظم بیت المال مقرر ہوئے۔۔۔بعد میں جب قاضی احمدحسین صاحب مستقل دفترامارت شرعیہ میں رہنے لگےتو انہوں نےنظام بیت المال کوکافی ترقی دی ،قاضی صاحب چاہتے تھےکہ امارت شرعیہ کابیت المال اس معیارکاہوجس معیارکاسرکاری محکمۂخزانہ ہوتاہے،اس مقصدکےلئے وہ گیاکےرئیس شاہ مصطفےٰ احمدصاحب ؒ کوجوریاست بھوپال میں اکاؤنٹنٹ جنرل (مہتمم دفتر حضور)تھے،اورلندن سے کامرس کی ڈگری حاصل کی تھی،پھلواری شریف لائےشاہ صاحبؒ نے منشی عیسیٰ صاحب ؒ کوٹریننگ دی ۔
شعبۂ تربیت سپہ گری
امارت شرعیہ کاایک اہم ترین شعبہ جس کاعموماً تذکرہ نہیں کیاجاتا شعبۂتربیت سپہ گری وفنون حرب تھا،حضرت شاہ ابوطاہرفردوسی ؒنےاس کاذکرکیاہے:
"اور امارت کے ذریعہ سے مسلمانوں کو سپاہیانہ فنون کے سکھلانے کا نظم
کیا گیا تھا”
امیرشریعت کی عدم موجودگی میں بحیثیت امیرشریعت
٭حضرت امیرشریعت ثانی کوانتخاب کے بعد ہی سفر حج پیش آگیا،شوریٰ نے طے کیاکہ امیرشریعت کی عدم موجودگی میں نائب امیرشریعت حضرت مولاناابوالمحاسن محمدسجادؒ امیرشریعت کی حیثیت سے کام کریں گے چنانچہ اس دوران حضرت مولاناسجادؒ امیرشریعت کی حیثیت سےفرائض انجام دئیے ۔

حضرت مولاناسجادؒکی صدارت میں مجلس شوری کاایک یادگاراجلاس
امیرشریعت کی حیثیت کی تحریری وضاحت
اس دورکاایک بہت قابل ذکرواقعہ مجلس شوریٰ کاوہ اجلاس ہےجو۱۹/ربیع الاول ۱۳۵۳؁ھ(مطابق ۲/جولائی ۱۹۳۴؁ء)کوحضرت مولاناسجادؒ کی صدارت میں منعقد ہواتھا،یہ جلسہ اس لحاظ سےبہت اہم ہےکہ اس میں امیرشریعت کی حیثیت کی باقاعدہ تحریری طورپروضاحت کی گئی تھی،اس کی تفصیل شاہ محمدعثمانیؒ کی کتاب حسن حیات سےپیش ہے:
"امارت شرعیہ مسلمانوں کاایک مذہبی نظام ہےجو مسلمانوں کےبعض
مذہبی امورکوانجام دینےکےلئے قائم ہے،اورجس کااصول یہ ہےکہ
جمعیۃ علماء کےانتظام سے ایک شخص کاانتخاب ہوتاہےاور اس صوبہ کے
مسلمانوں کامذہبی سردارہوتاہے،اوراپنی حیات تک مسلمانوں کامذہبی
پیشواسمجھاجاتاہے،اس کےماتحت ایک مجلس شوریٰ بھی ہوتی ہےجس
سےوہ اپنے کاموں میں مشورہ لیتاہے،لیکن وہ مختارمطلق کی حیثیت رکھتا
ہے،اس کےماتحت ایک مالی صیغہ بھی ہےجسے بیت المال کہتے ہیں ،اس
کاسیکریٹری تمام مالیات کےآمدوخرچ کےلئے امیراوراس کی مجلس شوریٰ
کےسامنے جوابدہ ہے،اورانہی کی ہدایت کےمطابق تمام کاموں کوانجام
دیتاہے،موجودہ امیرمولاناشاہ محی الدین سجادہ نشیں پھلواری شریف ہیں
،اس بیان میں یہ بات واضح کردی گئی ہےکہ :
(۱)امیرشریعت مختارمطلق ہےیعنی وہ جمعیۃ علماء یامجلس شوریٰ یااورکسی
ادارہ کاپابندنہیں ہے۔
(۲)امیرشریعت کاانتخاب جمعیۃ علماء کے انتظام سے ہوتاہے،چنانچہ امیر
شریعت رابع کےانتخاب تک یہ دستوررہاکہ جمعیۃ علماء نے ہی امیرشریعت
کےانتخاب کےجلسہ کوبلایاجس میں ارکان جمعیۃ کے علاوہ صوبہ کےدیگر
علماء وزعماء کومدعوکیاگیا،اوراس میں امیرکاانتخاب عمل میں آیا۔
(۳)امیرشریعت تازندگی امیرشریعت رہےگا۔
جب جمعیۃ علماء نےاپنےمقاصدسےمحاکم شرعیہ کےقیام کی دفعہ نکال دی
،تویہ سوال اٹھتارہاہے،کہ اب امارت شرعیہ کاہی کوئی انتخابی محکمہ بنادیا
جائے، جونقباء اوردیگرکارکنان امارت کی مددسے امیرکاانتخاب کرادیا
کرے۔۔۔۔
قاضی احمدحسین نےمجھ سےبیان کیاتھاکہ انہوں نے یہ تجویزمولانا
ابوالمحاسن محمدسجادؒ کےرجحان کومدنظررکھ کر مرتب کی تھی ، مولانا
عبدالوہاب صاحب دربھنگہ نے اس سےاختلاف کیاتھاکہ امیرتازندگی
امیررہےلیکن شوریٰ نے ان کی رائے کوقبول نہیں کیامولاناابوالمحاسن
محمدسجادؒنے فرمایا ، کہ ایسی کوئی نظیرقولی یافعلی موجودنہیں ہے،کہ
مسلمانوں کاامیرچندعرصہ کےلئے بنایاجاتارہاہومولاناعبدالوہاب اس
کا جواب دیتے تھےکہ ابوبکروعمررضی اللہ عنہماجیساآدمی دوتواس کو
ساری زندگی امیرمان لیاجائےلیکن تم ابوبکر وعمررضی اللہ عنہماتودوگے
نہیں اور کہوگےکہ اس کوساری زندگی امیرمانو”
بہرحال مولاناعبدالوہابؒ نے رائے شماری میں اپنااختلاف درج نہیں
کرایا”
امارت شرعیہ میں مالی بحران ،اسباب اورحکمت عملی
حضرت مولانامحمدسجادؒکےآخری دورحیات میں ایک بارامارت شرعیہ سخت مالی بحران سے دوچارہوئی،یہاں تک کہ ملازمین کی تنخواہیں بھی مشکل میں پڑگئیں،اس بحران کی وجہ ملک میں مسلم لیگ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت تھی،امارت شرعیہ مسلم لیگ کی پالیسی کوپسند نہیں کرتی تھی ،اورمذہبی امورمیں بھی مسلم لیگ امیرشریعت کی رائے کواہمیت دینےکوتیارنہ تھی ،اس سیاسی اختلاف کااثرامارت شرعیہ کی آمدنی پرپڑا، اور سخت مالی بحران پیداہوگیا، جس کی وجہ سے امارت کےاخراجات میں تخفیف کرنی پڑی،بعض ملازمین کی تنخواہیں عارضی طور پربنداور بعض کی کم کردی گئیں ،حالات ایسے سخت تھےکہ امارت شرعیہ کی بقاپربھی سوالیہ نشان لگنے لگے ،اس موقعہ کےکئی نایاب خطوط حضرت مولاناسجادؒکےتحریرکردہ مولانا شاہ محمدعثمانی ؒ نےاپنی کتاب "حسن حیات”میں محفوظ کردئیے ہیں،ان میں سےایک خط بطور نمونہ پیش ہے جومولاناعثمان غنی صاحبؒ کےنام ہے،اورجن سے اس وقت کےمشکل حالات کابخوبی اندازہ ہوتاہے:
"۲۶/ربیع الثانی ۱۳۵۹؁ھ
مکرمی ومحترمی زادلطفکم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
چونکہ اس سال مالی دقت تمام سالوں کے مقابلہ میں بہت
زیادہ ہورہی ہے،جوتمام کارکنوں کو معلوم ہے،وظائف کی ادائیگی نا
ممکن سی ہورہی ہے،تقاضابھی شدیدہوتاہے،کوئی صورت امیدافزا
بھی نہیں ہے، اس لئے ان حالات پرآج غورکیاگیا،اخراجات کوکم
کرنے کی کوشش کی گئی،اورحضورامیرشریعت مدظلہ میں تمام صورت
حال کانوٹ اورتخفیف کاخاکہ پیش کیاگیا،حضورامیرشریعت نےبھی
آج ہی اس پرمنظوری دےدی ہے، اس لئے آج ہی آپ کواس کی
اطلاع دےدینابھی ضروری ہواکیونکہ یکم جمادی الاول سےاس پرعمل
درآمدہوگا۔
اس میں جوتجویزمنظورہوئی ہےیہ بھی ہےکہ آپ کااورمولاناقاضی
سیدنورالحسن صاحب کاعہدہ اعزازی باقی رکھتے ہوئے کل وظیفہ ساقط
کردیاگیا،اورچندمبلغین کاوظیفہ موقوف کرکے ان کویہ حق دیاگیا،کہ
سفارت کی خدمت باکمیشن انجام دے سکتے ہیں،اوردفترمیں اکثربقیہ
لوگوں کےوظیفہ میں تخفیف کی گئی ہے۔
اس کےباوجودبھی نہیں کہاجاسکتاکہ اخراجات کےمطابق آمدنی ہوگی
یانہیں ، دعا فرمائیے کہ امارت شرعیہ کانظام اورکام جاری وباقی رہے،
اوراللہ تعالیٰ ایسےحالات پیداکردے جن سے مشکلات پرقابوپاناسہل
ہوجائے،آپ توخودپورے حالات سے واقف ہیں۔ والسلام
دستخط مولاناابوالمحاسن محمدسجاد
اکابرنےپیٹ پرپتھرباندھ کرامارت شرعیہ کی حفاظت کی
یہ وہ مشکل ترین حالات تھے جن میں امارت شرعیہ کےاکابرپیٹ پرپتھرباندھ کر ملت اسلامیہ کی خدمات انجام دے رہےتھے،لیکن دوسری طرف معاندین کے خیمہ میں مسرت کی لہر جاری تھی اوران کےبعض قائدین امارت شرعیہ کےخاتمہ تک کی پیش قیاسی کرنے لگے تھے۔۔۔۔ اورشمس ہاشمی صاحب کوان کے دفاع میں لکھناپڑاتھاکہ:
"مسلمانان ہندابھی مدت مدیدتک اس امرپرغورکرتےرہیں گے
کہ امارت شرعیہ کاتصورصحیح ہےیاغلط؟لیکن فیصلہ”امارت شرعیہ
کےنظام”کومحوومنسوخ کرنےکااگرقوم کبھی بھی دےگی تووہ دن
اس کی مذہبی زندگی کاآخری دن ہوگا ، جوتاریخ اسلام میں ایک
"نیاکربلا”پیداکردےگا،آخرحضرت امام حسینؓ بھی توخلاف جمہور
ہی آمادۂ پیکارنظرآئے۔۔۔ووٹ کےاعتبارسےتومیدان کربلامیں
ان کےصرف بہتر(۷۲)ووٹ تھےاگرآپ کوشبہ ہوتوعلامہ اقباؔل
کی سندحاضرہے ؎
دشمناں چوریگ صحرالاتعد
دوستان اوبہ یزداں ہم عدد
امارت شرعیہ کی سیاسی مخالفت
امارت شرعیہ کےقیام سے قبل جوشبہات واعتراضات تھے وہ اپنی جگہ تھے(جن میں بعض اہم اعتراضات کاذکرپہلےآچکاہے)لیکن امارت شرعیہ کےقیام کےبعداس کی زیادہ ترمخالفت سیاسی بنیادوں پرکی گئی ،جن میں بعض بظاہراعتدال پسندحضرات بھی شامل ہوگئے تھے،حضرت مولانامحمدسجادؒکےتلمیذرشیدمولانا اصغرحسین بہاری ؒ کابیان ہےکہ:
"بعض اعتدال پسنددوستوں نے مولاناؒکوان تمام خوبیوں کاحامل
تسلیم کرتے ہوئےبتایاکہ ان سےایک بڑی غلطی ہوئی،کہ امارت
شرعیہ کوپارٹی الیکشن میں استعمال کرکےامارت کوصدمہ پہونچایا،
کیونکہ امارت ایک ہمہ گیرادارہ ہے،اس کی شان مسلمانوں کی پارٹی
بندیوں کی لعنت دورکرناتھی،نہ کہ خودایک فریق کی حیثیت اختیارکرنا
،۔۔۔۔اس میں شک نہیں کہ ظاہرنظرمیں یہ اعتراض وقیع معلوم ہوتا
ہے،لیکن حقیقت میں یہ ایک بڑامغالطہ ہے،جس کے ہمارے دوست
شکارہوگئے،۔۔بےشک پارٹی بندیوں اورتفرقہ اندازیوں کوختم کرنے
یاکم سےکم سب پارٹیوں میں ہم آہنگی پیداکرکےوحدت قائم کرناامارت
کانصب العین ہے،لیکن ساتھ ہی اسلامی قوانین وشعائر کےاحترام کوباقی
رکھنابھی امارت کااولین فریضہ ہے ، اورآئین شرع کواغراض پرستوں
کےہاتھ کھلوناہونےسےبچاناعین مقصدامارت ہے،اب دیکھئےکہ موجودہ
حکومت نےنمائندگان عوام کوملکی قوانین بنانےکااختیاردےرکھاہے،
مگربدقسمتی سےمسلمانوں کانمائندہ کونسلوں میں جاکر اسلامی آئین اور
مذہبی قوانین بلوں پرمہرتصدیق ثبت کرکے توہین اسلام کامظاہرہ پیش
کرتاہےاورجب علماء مذہب کی جمعیۃ تنبیہ کرتی ہے،تولبیک کہنےکے
بجائےاس کوٹھکرادیتاہے،تو کیا آئین اسلام کے استحفاظ کے لئے
کونسلوں میں ایسےممبران بھیجناضروری نہیں جواسلامیات کےمتعلق
علماء دین کےفیصلہ کوشاہراہ عمل قراردیں اورایسےافرادکوممبرہونے
سے روکنافرض نہیں جوکونسلوں میں پہونچ کر بل کےپاس کرنےمیں
شریعت کاپاس نہ رکھیں ،اب اگراس سلسلہ میں پارٹی بندی لازم آتی
ہے،توامارت اس کی ذمہ دارنہیں ہےبلکہ وہ مطلق العنان امیدوارہے
،اس واسطے پارٹی بندیوں کے الزام و جرم سے امارت کادامن بالکل
پاک ہے” ۔
لیکن اللہ پاک نےحضرت مولاناسجادؒاورآپ کےرفقاء کی اولوالعزمی کی برکت سے امارت شرعیہ کی حفاظت فرمائی اورحالات رفتہ رفتہ درست ہوگئےاورآج سو(۱۰۰)سال ہونےجارہےہیں ،امارت شرعیہ کی عظمت کاآفتاب اب بھی نصف النہارپر ہے۔
نعرۂ تکبیر سے جس کے کہستاں ہل گئے
نغمۂ شیریں سےجس کےکفروایماں مل گئے
علامہ سیدسلیمان ندوی ؒ نےانہی حالات کےپیش نظرلکھاتھا:
"بہارمیں امارت شرعیہ کاقیام ان(مولاناسجادؒ) کی سب سےبڑی کرامت
ہے،زمین شورمیں سنبل پیداکرنااوربنجڑعلاقہ میں لہلہاتی کھیتی کھڑی کر
لیناہرایک کاکام نہیں ۔
کوئی طاقت اس کوہ عزم واستقلال کومتزلزل نہ کرسکی
امیرشریعت ثانی حضرت مولاناشاہ محی الدین پھلواروی ؒ نےحضرت مولاناسجادؒکی روح کوخراج عقیدت پیش کرتے ہوئے تحریرفرمایاجس میں اعتراف حقیقت بھی ہےاوراس دور کی مشکلات کی جھلک بھی:
"اس وقت کہ ہندوستان کےبہترین دماغ انقلاب کی نیم خفیہ تدبیریں
سوچ رہےتھے،مولانانےوقت کی صحیح شرعی ضرورت کوسمجھاکراور
شرعی تنظیم کےاصول علماء کویاددلائے،اوراس طرح امارت شرعیہ
کےقیام کی تحریک تمام ہندوستان میں پھیلائی، اس کےلئےعلماء وزعماء
ہند کےپاس متعددسفرکئے، جہاں تک مجھ کویادہے،سال دوسال تک
پیہم مخصوص طورپراس کےلئےجدو جہدکرتے رہے،بالآخر علماء صوبہ
بہارکے ذریعہ زعماء اور علماء کی ایک بڑی جماعت کوجمع کرکےاس کی
بنیادڈالی،اورصوبہ بہارمیں امارت شرعیہ قائم کی،بعدکواس میں اختلافات
بھی پیداکئے گئےلیکن دنیاکی کوئی طاقت اس کوہ عزم واستقلال کواپنی جگہ
سے متزلزل نہ کرسکی،اوربحمداللہ امارت شرعیہ اپناکام حسب استعداد
برابر کرتی رہی اور کررہی ہے اور ان شاء اللہ تعالیٰ کرتی رہے گی ”
کل ہندامارت کاخواب پورانہ ہوسکا
البتہ حضرت مولاناسجادؒیہ غم اپنے ساتھ لےکردنیاسےگئے کہ امارت شرعیہ بہار کےقیام کےبعدمولاناقریب انیس (۱۹)سال باحیات رہےلیکن کل ہندامارت کاخواب ان کا پورانہ ہوسکا،جس کے لئے وہ جمعیۃ علماء ہندکی طرح پرامیدتھے۔
ایسانہیں تھاکہ امارت شرعیہ بہارکے قیام کےبعد مولاناؒ کل ہندامارت کےمعاملے میں مایوس ہوکربیٹھ گئےہوں،بلکہ آپ کی مسلسل کوششیں اس کے بعدبھی جاری رہیں،مثلاً:
٭جمعیۃ علماء ہندکااجلاس سوم(۱۸/نومبر ۱۹۲۱؁ءمطابق ۱۷/ربیع الاول ۱۳۴۰؁ھ ) کوبہ مقام بریڈلاہال لاہورزیرصدارت حضرت مولانا ابو الکلام آزادؒ قیام امارت شرعیہ بہار کے چار(۴)ماہ بعدہوا،آپ کی کوششوں سے اس اجلاس میں بھی امیر الہندکی تجویزپیش کی گئی،جو باہمی اختلافات کی نذرہوگئی(تفصیل پیچھےگذرچکی ہے)۔
٭اس سےقبل ۱۸/ستمبر۱۹۲۱؁ء (۱۵/محرم الحرام ۱۳۴۰؁ھ)کوجمعیۃ علماءکی مجلس
منتظمہ میں بھی یہ تجویزرکھی گئی تھی ۔
٭جمعیۃ علماء ہندکاچوتھااجلاس ربیع الثانی۱۳۴۱؁ھ مطابق دسمبر ۱۹۲۲؁ء کوخودحضرت مولاناسجادؒکی نگرانی میں ان کےاپنےشہر”گیا”میں منعقدہوا،اس میں بھی قیام امارت اور انتخاب امیرکی شرعی ضرورت کااعلان کیاگیا،صدراجلاس حضرت مولاناحبیب الرحمن عثمانی ؒ سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند نےاپنےخطبۂ صدارت میں فرمایا:
"ایسی حالت میں کہ مسلمان ایک غیرمسلم طاقت کےزیرحکو مت
ہیں،اور ان کو اپنے معاملات میں مذ ہبی آ زادی حاصل نہیں ہے
۔ضروری ہےکہ مسلما ن اپنے لئے”والی”اور امیر مقر ر کر یں۔
دارالقضاءقائم کرکےقضاۃ اورمفتین کاتقررکر یں۔جمعیۃ علما ء میں
یہ تجویز منظورہو چکی ہے،اور جمعیۃعلماء کےاجلاس لاہور میں یہ
طےہواتھاکہ ایک سب کمیٹی کااجلاس بدایوں میں منعقدکیاجائے
جس میں امیر شریعت کے شرائط و فرائض و اختیارات وغیرہ
مسائل طے کر لئے جائیں اور اس کے بعد انتخاب امیر کا مسئلہ
پیش کیا جائے۔
اس قراردادکےموافق ۸/ربیع الثانی ۱۳۴۰؁ھ کو سب کمیٹی کااجلاس
ہوااورمختلف مسودے پیش ہوئےمگرابھی تک ان کانتیجہ مرتب ہو
کرمجلس منتظمہ میں پیش نہیں ہوا ، امید ہےکہ جلد ازجلداس کے
قواعد مرتب ہوکرانتخاب امیرکاوقت آجائےگایہ بھی طے ہوچکاہے
کہ ہندوستان کےامیرشریعت کےتحت میں صوبہ وارامیرمقررہوں
گے۔۔۔۔
میرےنزدیک مناسب یہ ہےکہ اول صوبہ جات کے امراء کا
انتخاب کیاجائےاور جب ہم کو صوبہ جات کی حالت سےاطمینان
ہوجائےاس وقت امیرعام کاانتخاب ہوناچاہئے۔
علماء ومشائخ اورکبراء صوبہ بہار کا مسلمانوں پربھاری احسان ہےکہ
انہوں نےاپنےصوبہ میں امیرشریعت قائم کرکے مسلمانوں کےلئے
ایک سڑک تیارکردی ہے۔۔۔۔۔امیدکرتے ہیں کہ دوسرے صوبہ
کےعلماء بھی جلدازجلدصوبہ بہارکی تقلیدکریں گے” ۔
٭جمعیۃ علماء بہارکاچھٹااجلاس(۱۹۲۵؁ء/۱۳۴۳؁ھ) مرادآبادمیں ہواجس کےصدر عالی قدر خودحضرت مولاناسجادؒتھے،آپ نےاپنے خطبۂ صدارت میں امارت ہند کی ضرورت واہمیت پرمفصل گفتگوفرمائی اورآخرمیں فرمایا:
"آپ کافرض ہےکہ آج علمائےکرام وزعمائےملت جب کہ ایک جگہ
ہندوستان کےمسائل پرغورکرنےکےلئےجمع ہوئےہیں،تومیراخیال
ہےکہ سب سےپہلےاس چیزکوسامنےلاناچاہئے،اورغورکرناچاہئے،اگر
آپ نےمرادآبادمیں جمع ہوکراورکچھ نہیں کیابلکہ صرف اسی امرکے
متعلق عمل کرنےکی کوئی شکل پیداکرلی تویقین فرمائیےکہ آپ نےسب
کچھ کرلیا،کیونکہ تمام چیزیں اس کی نسبت فرع ہیں اوروہ اصل ہے”
٭اس کےبعدجمعیۃ علماء ہندکےاجلاس کلکتہ(۱۹۲۶؁ء/۱۳۴۴؁ھ زیرصدارت علامہ
سید سلیمان ندویؒ)میں،نیزاجلاس پشاور(۱۹۲۷؁ء /۱۳۴۵؁ھ زیرصدارت علامہ محمدانورشاہ کشمیریؒ )میں بھی امارت شرعیہ کے مسئلہ کاذکرآیا،اورہرباراسٹیج سے اس کے قیام کی دعوت دی گئی ۔
٭حضرت مولاناسجادؒ کی حیات میں آخری باریہ تجویزجمعیۃ علماء ہندکےبارہویں اجلاس جونپور(۱۳۵۹؁ھ مطابق ۱۹۴۰؁ء زیرصدارت حضرت شیخ الاسلام مولاناسیدحسین احمد مدنیؒ)میں منظورکی گئی ،تجویزکےالفاظ تھے:
"تجویزنمبر۵انتخاب امیر
جمعیۃ علماء ہندکایہ اجلاس ہندوستان میں مسلمانوں کی مذہبی ترقی اوراقتصادی
اصلاح اورہرنوع کی فوزوفلاح کےلئےضروری سمجھتاہےکہ وہ اسلامی تعلیم
کےماتحت اپناامیرمنتخب کرکےاس کےہاتھ پرسمع وطاعت کی بیعت کریں،
یہ ایک اہم فریضہ ہےجس کی طرف جمعیۃ علماء ہند۱۹۲۱؁ء سےمسلمانوں کو
توجہ دلارہی ہے،بہرحال مسلمانوں پراس فریضہ کی ادائیگی لازم ہے،اور
اس کےایک مخصوص اجلاس منعقدہ بدایوں میں تشکیل امارت شرعیہ کا
ایک ابتدائی خاکہ بھی مرتب کرکےشائع کیاگیاتھا،بہرحال مسلمانوں پراس
فریضہ کی ادائیگی لازم ہے،البتہ شرعی امیرکاانتخاب ایسےشرعی اصول پرہو
جوزیادہ سے زیادہ ارباب حل وعقدکےنزدیک مقبول ومسلم ہو،امیرایسا
شخص ہوجوعلوم دینیہ کاماہر،قومی ضرورتوں سےواقف اورسیاست حاضرہ کا
اچھاجاننےوالاہو،اس کے اعمال واخلاق پسندیدہ اورقابل اعتمادہوں،وہ
مستعداورجری ہواوراس کی عملی زندگی ممتازدرجہ رکھتی ہو،جمعیۃ علماء ہند
ضروری سمجھتی ہے،کہ اول مسلمانوں کواس فریضہ کی ضرورت اوراہمیت
سےروشناس کرایاجائے،پھر مناسب وقت پر انتخاب امیرکےلئےایسی
مخصوص مؤتمرطلب کی جائےجس میں زیادہ سےزیادہ ارباب حل وعقد کو
دعوت دی گئی ہو،اوراس میں "امیرالہند”کاانتخاب کیاجائے،اوراسی کے
ہاتھ پربیعت کی جائے،اوراسی روز”بیت المال”قائم کیاجائے”
لیکن کوئی عملی قدم نتیجہ خیزثابت نہ ہوسکا،یہاں تک کہ حضرت مولاناسجادؒ کاوقت
موعودآپہونچااور۱۷/شوال المکرم ۱۳۵۹؁ھ مطابق ۱۸/نومبر ۱۹۴۰؁ء کو وہ یہ غم اپنےسینے میں دبائےچلےگئے۔
جان ہی دےدی جگرؔنےآج پائےیارپر
عمر بھر کی بے قراری کو قرار آہی گیا
حضرت مولاناسجادؒکےبعد
حضرت ابوالمحاسن مولانامحمدسجادؒ کےوصال کےبعدبعض ریاستوں(مثلاًیوپی) میں امارت شرعیہ کےلئےکچھ کوششیں کی گئیں،لیکن وہ بھی بےنتیجہ رہیں،اس المیہ کوحضرت مولاناؒکے شریک کاراورمحرم اسرارشاہ محمدعثمانی ؒنےاس طرح بیان کیاہے:
"یوپی میں امارت شرعیہ کےقیام کی کوششیں آزادی سے پہلے ہوئیں ،
لیکن علماء دین کےاختلاف باہمی کامرکزیوپی کی ریاست رہی ،اس لئے
مذہبی تنظیم کی اسکیم کامیاب نہ ہوسکی ،آزادی کےبعدجمعیۃ اس قابل
ہوگئی تھی کہ وہ امارت شرعیہ قائم کرے،مسلمان جمعیۃ کےگردجمع ہو
رہےتھےلیکن سردارپٹیل اورآرایس ایس والے یہ پروپیگنڈہ کررہے
تھےکہ مسلمان انقلاب کی تیاریاں کررہےہیں،وہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو
بلکہ انہونی باتوں کومہیب شکل میں پیش کرتے تھے،اوران کا ہوّا کھڑا
کردیتے تھے،مولاناحفظ الرحمنؒ وغیرہ خائف ہوئےکہ امیرشریعت فی
الہندکاانتخاب ہواتواس کامطلب بھی یہی لیاجائےگا،اس لئے امارت
کاقیام توکیاعمل میں آتاجمعیۃ نےسیاست سے علٰحدگی کااعلان کردیا،اور
جمعیۃ کےمقاصد سےمحاکم شرعیہ کےقیام کی دفعہ نکال دی گئی” ۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: