مضامین

امارت شرعیہ ہندوستان میں وحدت اسلامی اورملی اجتماعیت کا عظیم مرکز حضرت مولاناابوالمحاسن محمدسجادؒکی خدمات جلیلہ کاایک شاہکارباب

مفتی اخترامام عادل قاسمی مہتمم جامعہ ربانی منورواشریف ،سمستی پور

فصل اول
امارت شرعیہ –تصور،تحریک اورپس منظر
مفکراسلام ابوالمحاسن حضرت مولانامحمدسجادؒکی حیات طیبہ کاسب سےروشن عنوان اورآپ کاعظیم ترین ملی وقومی کارنامہ”امارت شرعیہ "کاقیام ہے،غیراسلامی اقتدار میں یہ آپ کےملی اورسیاسی سفرکانقطۂ عروج اورآپ کی تمام تردینی وملی جدوجہدکالب لباب ہے،غیراسلامی ہندوستان لئےیہ آپ کی پہلی منزل اورثانوی نصب العین تھا،اصل منصوبہ توخلافت اسلامیہ کااحیاء،مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی واپسی اورملت اسلامیہ کومرکزاسلامی سےمربوط کرنا تھا،لیکن اس ملک میں اس وقت اس سے زیادہ کاحصول ممکن نہیں تھا، ہندوستان سےمسلمانوں کےاجتماعی نظام کاخاتمہ ہوچکاتھا،صدیوں سے جاری اقداروروایات ایک ایک کرکےختم کی جارہی تھیں اورخودمسلمانوں کے فکروتمدن کی کایاپلٹ چکی تھی۔
انقلابات دوراں
بقول حضرت مولاناابوالمحاسن محمد سجادؒ:
"کل جو تخت نشیں تھےآج خاک نشیں ہیں، کل جوآزادحکمراں تھے،آج
وہ غلام اوربدترین غلام ہیں ،کل تک جوہزاروں غرباءو فقراء کےدامنوں
کوسیم وزر سے بھر دیا کرتے تھے،آج وہ خود فقیربےنواہیں،کل جن کی
عبادت گاہیں آبادوپررونق تھیں ،آج وہ سنسان اورویران ہیں،کل جن کی
مسجدوں میں نہایت لائق اوردیندارامام ومؤذن مقررتھے،آج اکثرجگہوں
میں روٹی کےچندٹکڑوں کےلئے محض بے علم اور نالائق لوگ امامت
ومؤذنی کےلئےلڑرہےہیں،کل تک جوقومیں مسلمانوں سے آنکھیں بھی
برابرنہیں کرسکتی تھیں،آج وہ ان کےگھروں کولوٹتی ہیں ، قربانی گاؤکو
بندکرتی ہیں،قبرستان پرقبضہ کرکےہل چلانےکی فکرکررہی ہیں،کل جن
کی عدالتوں میں غیراقوام اپنےقضیوں اورجھگڑوں کی داد رسی کےلئے
حاضرہوتے تھے،آج وہ خودغیروں کی نمائشی ورسمی عدالتوں میں نہایت
بےغیرتی کےساتھ طوعاًوکرہاًحاضرہوتےہیں،کل تک جو غیراسلامی
قوانین کی تنفیذیاتعمیل کوظلم وفسق یاکفرتصورکرتے تھے،آج بےجھجھک
ان پرعمل پیراہورہے ہیں”
علماء امت کی فکرمندی ودردمندی –آزمائشیں اورقربانیاں
علماء امت برسوں سے ان زوال پذیرحالات سےفکرمندتھے،مسلمانوں کی انفرادی زندگی کوجوحالات درپیش تھےوہ توتھےہی،مسئلہ خود ملت اسلامیہ کی بقااورمسلمانوں کی اجتماعی زندگی کےتحفظ کاتھا،جوقوم برسوں پراگندہ اورمنتشررہتی ہےوہ فکری اوراخلاقی زوال میں مبتلاہوجاتی ہے،اقتدارسے محرومی کےبعدفوری تدبیرنہ کی جائےتوذہنی دیوالیہ پن بھی پیدا ہوجاتاہے،اوربہت سےسامنےکےمسائل بھی انسان کونظرنہیں آتے،اس لئے بقول حضرت مولانا سجادؒ :
"ہندوستان میں انگریزوں کےتسلط کےبعدہی چاہئےتویہ تھاکہ مسلمان خود
اپناکوئی امیرمنتخب کرکےجماعتی واجتماعی نظام قائم کرلیتے،تاکہ پراگندگی اور
انتشار کی لعنت سے محفوظ رہتے،اوران خرابیوں سےبھی بچتے جولوازم
انتشارہیں ،چنانچہ بعض اکابرعلماء ہندنےاس اہم فریضہ کی طرف توجہ بھی
کی اوراس کی بابت فتاویٰ بھی لکھے،مثلاً:
ہندوستان پر انگریزی تسلط کے بعدہی ۱۲۳۹؁ھ مطابق ۱۸۲۳؁ء میں حضرت
شاہ صاحبؒ نے ہندوستان کے دارالحرب ہونے کافتویٰ جاری کردیاتھا ،
اور اپنے فتاویٰ میں اس بات پر زور دیاکہ مسلمان خود اپناامیر منتخب کریں
،جس کی ماتحتی میں وہ تمام ملی اور اجتماعی کام انجام دئیے جائیں جوامیرو
قاضی کے بغیرروبہ عمل نہیں آسکتے ہیں ۔
جب کہ ابھی ملک پرانگریزوں کاپوری طرح تسلط نہیں ہوپایاتھا،پچھلی
بعض چیزیں اب بھی باقی تھیں ( لیکن شاہ صاحب نے خطرہ کی گھنٹی
محسوس فرمالی تھی کہ یہ سلسلہ کبھی بھی موقوف ہوسکتا ہے چنانچہ
ایساہی ہوا،آپ کے فتویٰ کےتقریباً چالیس (۴۰)سال کے بعد۱۸۶۲؁ء
میں انگریزوں نے پہلےاسلامی تعزیرات منسوخ کرکے تعزیرات ہند کا
نفاذ کیا،پھر ۱۸۶۴؁ء میں اسلامی قاضیوں کی تقرری موقوف کردی ،اور
۱۸۷۲؁ء میں اسلامی قانون شہادت بھی منسوخ کردی گئی ،۔۔۔۔۔)
مگرحکومت اسلامیہ کےزوال اورانگریزوں کےتسلط کےبعدفطرتاً
جووہن اورکمزوری ان میں پیداہوگئی تھی ،اس نےتمام بڑےبڑے
ذی ہوش مسلمانوں کوبھی شہ نشیں بنادیا،اوراس کےبعدپھر۱۸۵۷؁ء
کےمظالم نے توبڑے بڑے بہادرمسلمانوں کوبھی پست ہمت کردیا،
۔۔۔ پھرکیاتھاجوبعض اسلامی ادارےمسلمانوں کےلئے خصوصیت
سےباقی رکھےگئے تھے،وہ سب بھی ایک ایک کرکےاٹھادئیے گئے،
نہ محکمۂ قضارہا ،نہ محکمۂ صدرالصدور،نہ اوقاف کانظام باقی رکھاگیا،نہ
ججوں کےساتھ "مفتی اسلام” کا عہدہ ،الغرض یہ چنداسلامی چیزیں جو
حسب معاہدہ یاحسب وعدہ انگریزوں نےباقی رکھی تھیں ، سب کی
سب بیک جنبش قلم ختم کردی گئیں ، اسی کے ساتھ جاگیروں اور
زمینداریوں کی ضبطی کےبعد جو کچھ دولت بچی کھچی تھی،وہ بھی ختم
ہوگئی ”
متعددعلماءاورقائدین نےامت کی اس ڈوبتی ہوئی کشتی کوسہارادینےکی بڑی کوششیں کیں ،جن میں سےبعض کاذکرحضرت مولانامحمدسجادؒ کی مرتب کردہ کتاب "تذکرہ جمعیۃ علماء ہند”میں بھی کیاگیاہےجو۱۹۴۰؁ء میں بطوراعلامیہ ٔامت کےشائع ہواتھااوراس پرحضرت ابوالمحاسن مولانامحمدسجادؒ کےعلاوہ ،حضرت شیخ الاسلام مولاناحسین احمدمدنیؒ،مفتی اعظم حضرت مولانامفتی کفایت اللہ صاحبؒ،سحبان الہندحضرت مولانااحمدسعید دہلویؒ، اور حضرت مولاناعبدالحلیم صدیقیؒ نےبھی اپنےدستخط ثبت فرمائےتھے،اس کایہ اقتباس بہت اہم ہے:
"اس موقع پرہم اس حقیقت کااظہارکرناضروری سمجھتےہیں،کہ ہندوستان
میں قیام امارت اورنظام شرعی کی ضرورت واہمیت اس موقع پر محسوس
ہونےلگی تھی،جب کہ اسلامی حکومت کا چراغ گل ہورہاتھا،حضرت
مولاناشاہ عبدالعزیزؒنے اپنے وقت میں قیام امارت کےوجوب کافتویٰ دیا
تھا،چنانچہ اس فتویٰ پرسب سےپہلےاس وقت عمل کیاگیا،جب کہ حضرت
سیداحمد بریلوی شہیدؒ کو امام و امیرمنتخب کیاگیا،لیکن اس انقلاب عظیم کے
بعد حالات ناسازگارہوگئے،زبان و قلم پر جبروتی مہریں لگادی گئیں ،مگر
ہمارےاکابر کےدل ودماغ اس تخیل سےکبھی غافل نہیں رہے،اورمقصد
عظیم کی مبادیات میں مشغول رہ کراس وقت کاانتظارکرتےرہے،جب کہ
حالات سازگار ہوں،اوراسلامی نظام جماعتی وشرعی اصول وضوابط سے
قائم کرنا ممکن ہوجائے”(چندسطروں کےبعد) اور جب یہ حالت پیدا
ہوچکی ہےتوضرورت ہےکہ مرکزی نظام شرعی اورقیام امارت فی الہند
کی تجویزکوعملی شکل دی جائے”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"مسلمانوں کویقین کرلیناچاہئےکہ ہندوستانی سیاست اور حکومت خواہ
کوئی شکل وصورت اختیارکرےاس کےاندر اسلامی سیاست کی رعایت
کوملحوظ رکھنا،پھراسلامی اجتماعی اصول واحکام کوبروئےکارلانابغیراس کے
ناممکن ہے،کہ ایک طرف مسلمانان ہندجمعیۃ علماء ہنداوراس کی شاخوں کو
مضبوط بنائیں،اوراس کی ہرآوازپرلبیک کہیں،اوراس کےدفتراورکاموں
کےلئے بقدروسعت وہمت مال وزرسےاعانت کرتے رہیں۔
دوسری طرف وہ جمعیۃ کی امارت کی اسکیم شرعی اورنظام سیاسی کودل وجان
سے زیادہ عزیزرکھیں،اورتمام ہندوستان میں اس نظام کوقائم کرنےمیں
جمعیۃ علماء ہندکاہاتھ بٹائیں”
لیکن اپنوں کی نادانیوں اوردشمن کی عیاریوں کی بناپراکثر کوششیں بظاہربےنتیجہ ثابت ہوئیں،جن کی تفصیلات ہماری تحریکی تاریخ کی کتابوں میں موجود ہیں ۔
آئینی دورکاامام اورعصرحاضرکامجدد
بالآخر یہ قرعۂ فال مفکراسلام حضرت ابوالمحاسن مولانامحمدسجادؒکےنام نکلا،اورآپ نےاس امت کی دینی اجتماعیت کوایک نیارخ دےکراس پرامارت شرعیہ کی تاسیس فرمائی ،حالانکہ جس دورمیں آپ نےاپنی آنکھیں کھولی تھیں،وہ اپنی ابتری کی آخری حدودبھی پار کرچکاتھا،اورپانی سرسےبہت اوپرجاچکاتھا،لیکن آپ کی تجدیدی فکراورجہدمسلسل نے رکاوٹوں کےپہاڑکاٹ ڈالےاورسنگینیوں کی نوک پرچلتےہوئےبالآخر۱۹/شوال المکرم ۱۳۳۹؁ھ مطابق ۲۶/ جون ۱۹۲۱؁ءکوغیرمسلم ہندوستان کےصوبۂ بہارمیں آپ نےاپنی نوعیت کی پہلی امارت شرعیہ کی بنیادرکھ دی لیکن حضرت مولاناسجادؒ کویہ رنجیدہ احساس تھاکہ یہ امارت ہندوستان میں ڈیڑھ سو(۱۵۰) برس قبل قائم ہونی چاہئےتھا،اسی طرح ان کواس کابھی تازندگی افسوس رہاکہ یہ چیزملک گیرسطح کےبجائے صرف ایک صوبہ کی سطح پرقائم ہوسکی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: