مضامین

امارت شرعیہ ہندکےقیام سےحضرت مولاناسجادؒکا منصوبہ

مفتی اخترامام عادل قاسمی مہتمم جامعہ ربانی منورواشریف ،سمستی پور

امارت شرعیہ ہندکےقیام سےحضرت مولاناسجادؒکا منصوبہ
دراصل حضرت مولاناسجادصاحب ؒامارت شرعیہ کےذریعہ آنے والےہندوستان میں مسلمانوں کادینی ، ملی اورسیاسی مستقبل محفوظ کرناچاہتے تھے،ان کامنصوبہ تھاکہ ایک منظم چیزتیارہوجائے تو اس کوباقاعدہ حکومت کےذریعہ قانونی حیثیت سےبھی منظورکرانےکی جدو جہدکی جائے،اور مسلمان ایک قانونی اجتماعیت کےزیرسایہ اپنی زندگی گذاریں ،جس کے فیصلوں کوعدالتوں میں چیلنج نہ کیاجاسکے،اورجوحکومت کی مداخلت اوردستبردسےمحفوظ ہو، سحبان الہندمولانااحمد سعیددہلویؒ مولاناؒ کی اس فکرپرروشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں :
"حضرت مولانامحمدسجادمرحوم کایہ خیال تھاکہ جب تک ہندومسلمانوں
کی جدوجہدکامیاب ہواورہندوستان میں نیشنل گورنمنٹ قائم ہو،اس
وقت تک مسلمانوں کااندرونی نظام اوران کی شرعی تنظیم مکمل ہوجائے
تاکہ نیشنل گورنمنٹ کےزمانےمیں مسلمانوں کی معاشرت ،ان کاکلچر
،ان کی سوشل تہذیب،ان کےاوقاف،ان کانکاح اورطلاق وغیرہ ،ان
کی زکوٰۃ ،اوران کاعشریہ تمام باتیں ایک شرعی امیرکےماتحت ہوں،اور
ان تمام امورمیں یہ ایک امیرکےماتحت ہوں،اور اس شرعی تنظیم کو
آئندہ ہندوستان کےدستوراساسی میں مسلمانوں کےایک شرعی حق کی
حیثیت سے تسلیم کرالیاجائے،تاکہ مسلمانوں کے اندرونی اوراصلاحی
معاملات حکومت کی مداخلت سےمحفوظ ہوجائیں ، یہ ان کی اسکیم کا
مختصرخلاصہ ہےجومیں نےعرض کیا،کاش اس مفید اور خالص مذہبی
تحریک کومسلمان سمجھتے ۔
جدیداصطلاحات کے بجائے اسلامی اصطلاحات والاادارہ
درست ہے کہ یہ اجتماعیت اورتنظیمی مقاصدجمعیۃ علماء ہنداوردیگرمسلم تنظیموں سے بھی حاصل ہوسکتے تھے،لیکن حضرت مولاناؒطرزکہن کےداعی ومبلغ تھے،موجودہ زمانہ کی تمام تنظیموں کی ساخت میں عصرجدیداورزیادہ درست لفظ میں مغرب کارنگ غالب تھا،صدر،نائب صدر، سیکریٹری،جنرل سیکریٹری ، خازن ،ارکان تاسیسی وممبران وغیرہ اصطلاحات سے ہماری قدیم اسلامی تاریخ اجتماعیت ناآشناہے،یہ سب عہد جدیدکی پیداوارہیں،جب کہ اسلام میں مسلمانوں کی تنظیم واجتماع کے لئے خلافت اسلامی ،حکومت الٰہیہ ،اورامارت شرعیہ جیسے اداروں کا تصورموجودہے ،جہاں امیرشریعت ،والی ،عامل ،قاضی شریعت،ناظم بیت المال ،اور نقیب وغیرہ جیسی جامع اورروحانیت ومقصدیت سے بھرپوراصطلاحات موجودہیں پھراپنی چیزیں چھوڑکرعہدجدیدکی تقلیدکرناغیرت ایمانی کے خلاف ہے ،مولاناؒچاہتے تھے کہ چھوٹی سطح پرہویابڑی سطح پرمسلمانوں کاہراجتماعی کام قرآن وحدیث ،اوراسلامی فقہ وتاریخ کے آئینے میں منظم کیاجائے ، یہاں تک کہ اسماء واصطلاحات اورہیئت ترکیبی بھی وہی اختیارکی جائے جو خیرالقرون میں ملتی ہیں،اسی سےاسلامی تہذیب واقدارکاتحفظ وابستہ ہےاوراسی میں مسلمانوں کے لئے خیرہے،اورجب ہی اس ملک میں مسلمان اپنےملی وتاریخی تشخصات کےساتھ محفوظ رہ سکتا ہے،دیکھئے خطبۂ صدارت کے یہ الفاظ :
"میرے نزدیک تنظیم اسلامی کےمصداق کی تحقیق کی وہی شکل ہےجس کو
آپ عہدرسالت میں پاتے ہیں،ازاں بعدعہدصحابہ کرام میں بھی آپ بہتر
صورت میں اس کودیکھتے ہیں تنظیم کی اس تشکیل اورتصورکوچھوڑکرجوصورت
بھی آپ اختیارکریں خواہ بظاہروہ کتنی ہی مرغوب ہوسنت سنیہ وطریقۂ حسنہ کا
ترک ہوگا،اورچاہے آپ ان جملہ امور کی انجام دہی کےلئےکوئی دوسری
صورت اختراع کرلیں،اورآپ کی نظروں میں بہ اعتبارترتب آثاروحصول
مقاصد کوئی دقت بھی محسوس ہولیکن آپ اس تاثیر واثر کوجوتشکیل وتنظیم
شرعی میں مضمر ہےنہیں پاسکتے،اورسب سے بڑھ کریہ کہ آپ اس وجوب
سے سبکدوش نہیں ہوسکتےجوآپ پرواجب ہے۔۔۔۔پس اگرتنظیم کے یہی
معنیٰ ہیں کہ مسلمانوں اوراسلام کانظام قائم کرناتوآپ حضرات یقین فرمائیں
کہ اس کی شکل یہی ہےجس کومیں پیش کررہاہوں”
مولاناابوالکلام آزاداوردیگرعلماءسےتبادلۂ خیال
حضرت مولانامحمدسجادؒنےاس موضوع پربہت سےعلماء سے گفتگوکی اورتبادلۂ خیال
کیااوراکثرعلماء نےآپ کی رائے کی قوت و صداقت کوتسلیم کیامولاناابوالکلام آزادؒبھی مسلمانوں کی تنظیم کے لئے مسلسل فکرمندتھے،اوراس کے لئےوہ”حزب اللہ”قائم کرنےکا ارادہ رکھتے تھے،حضرت مولاناسجادصاحب ؒ کویہ بات معلوم ہوئی توآپ نےفرمایاکہ شریعت میں تنظیم اسلامی کی بنیاد”امارت”ہےاس بنیاد پرنظم کرنابہترہوگا،اس بات کاتذکرہ جناب شاہ محمدقاسم عثمانی صاحبؒ نےرانچی میں مولاناآزادؔ سے کیاجوان دنوں وہاں نظربندتھے،تو مولاناآزادؔیہ سنتےہی نفس مسئلہ تک پہونچ گئے،وہ مولاناسجادؒ کامقصد سمجھ گئے، انہوں نے مشتاقانہ مولاناسجاد صاحب ؒ سے ملنےکی خواہش ظاہرکی،چنانچہ حضرت مولاناسجاد صاحبؒ قاضی احمدحسین اورشاہ محمدقاسم عثمانی صاحبان کی معیت میں رانچی تشریف لےگئے ، اور حضرت مولاناآزادؒسے ملاقات کی ،یہ ملاقات بالکل تخلیہ میں ہوئی تھی،مولاناسجادؒ نے مولانا آزادؒکےمزیداطمینان وانشراح کےلئے متعددنصوص اورفقہی عبارتوں کےحوالے دکھلائے اوربالآخرمولاناآزادؔ نےحزب اللہ کاارادہ ترک کرکےامارت شرعیہ کی تحریک میں شامل ہونےکافیصلہ فرمایا ۔
مولاناسجادؒکےسب سےاخص الخاص شاگرداورآپ کےافکارواعمال کےنقیب مولانا عبدالحکیم صاحب اوگانویؒ تحریرفرماتےہیں کہ:
"جوچیززیادہ تڑپارہی تھی،اورسوہان روح بنی ہوئی تھی،وہ مسلمانوں
کی غیر اسلامی اورغیرشرعی زندگی تھی،آخربہت غوروخوض کے
بعدامارت شرعیہ کی اسکیم آپ کےذہن میں آئی،اس سلسلےمیں
مولانامرحوم نےرانچی میں حضرت مولاناابوالکلام صاحب سےجو
اس وقت وہاں نظربندتھے،ملاقات کی،اوراس مسئلہ پرباہمی مشورہ
اورتبادلۂ خیال ہوا،مولاناعبدالباری فرنگی محلیؒ اوردیگرسربرآوردہ
علماء سےبھی ملےاوررائےعامہ کوتیارکیا” ۔
خودحضرت مولاناآزادؒنے بھی اپنےخطبۂ صدارت لاہورمیں حضرت مولاناسجادؒ سے اپنی ملاقات کااجمالی تذکرہ کیاہےاوراس سبقت بالخیرکےلئےعلماء بہارکومبارکباددی ہے، لکھتے ہیں:
"اسی زمانہ میں میرے عزیزورفیق مولاناابوالمحاسن محمدسجادصاحب ؒرانچی میں
مجھ سے ملےتھےاوراسی وقت سعی و تدبیرمیں مشغول ہوگئے تھے۔۔ میں
نہیں جانتا کہ کن لفظوں میں حضرات علمائے بہار کو مبارکباددوں کہ
انہوں نےسبقت بالخیرات کامقام اعلیٰ حاصل کیا اور جمعیۃ علماء بہارکے
جلسہ میں تین سوکےمجمع علماء نےبالاتفاق اپنا امیر شریعت منتخب کرلیا”
مولاناآزادنےنہ صرف تحریک امارت شرعیہ کی حمایت کی بلکہ اسےاپنی بارہ(۱۲) سالہ جدوجہدکانتیجہ اورتمام اصلاحی اعمال وتحریکات کےلئے اصل الاصول اوراساس قراردیا، جمعیۃ علماء ہندکے تیسرے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے (جب کہ بہارمیں امارت شرعیہ
کےقیام کوچندماہ ہوئےتھے)اپنے خطبۂ صدارت میں برملااعلان کیا:
"حضرات!اب آپ مجھے اجازت دیں کہ میں مختصراًاس مسئلہ کی
نسبت بھی کچھ عرض کردوں جس کومیں علیٰ وجہ البصیرۃ آج تمام
اعمال اصلاحیہ کےلئےبمنزلہ اصل واساس کےیقین کرتاہوں،اور
کامل بارہ(۱۲)سال کےمتصل غوروفکرکےبعداس نتیجہ تک پہونچا
ہوں کہ بغیراس کےکبھی عقدۂ کارحل نہیں ہوسکتا،میرااشارہ مسئلہ
نظام جماعت اورقیام امارت شرعیہ کی جانب ہے”
حضرت مولاناسجادؒکواحساس تھاکہ ان کےاس طرزکہن کی پابندی کولوگ قدامت پرستی قرار دیں گےاورطرح طرح کےحیلے بہانے اورشبہات واعتراضات پیدا کریں گے، چنانچہ اپنے خطبۂ صدارت مرادآبادمیں ارشادفرمایا:
"حضرات!مجھے معلوم ہےکہ اس دورمیں اس قدیم اصول نظام پرکیا
کیا اعتراضات اورشبہات ہیں اسی کےساتھ میں یہ بھی جانتاہوں کہ بہت
سےشبہات توصرف علائق خارجہ کےجذب وکشش سےپیداہوگئے ہیں
اوربہت سےترددات ماحول کےواقعات اور اخوان زماں کی کیفیات نفسیہ
سےحادث ہوئے ہیں ،ان مترددین اورمشککین میں بہت سے ایسے حضرات
ہیں کہ ان کےدل ودماغ پرخارجی اثرات نے اتناگہرااثرجمادیاہے،کہ اب
شایدان کےدل ودماغ میں حقیقی نظام اسلام کے تجسس کےلئےبھی کوئی
جگہ باقی نہیں ہے،اوربہت سے حضرات ایسے ہیں کہ گرچہ وہ بھی کسی حد
تک خارجی اثرات سے متأثرہیں،لیکن مجھےیقین کامل ہےکہ وہ اصل نظام
کی مکمل صورت کے متجسس ہیں ،اوراگریقین ہوجائے کہ شرعی اصول سے
نظام اسلام کی یہی واحد شکل ہےتویقیناًاس کےآگے جبین نیازرکھنے کوتیار
ہیں ۔
لیکن مولاناآزادؒنےان کی بھرپورحمایت کی اوراپنےخطبۂ صدارت لاہورمیں فرمایا
"ہم دیکھتےہیں کہ کوئی قومی واجتماعی کام انجام نہیں پاسکتاجب تک اس
میں نظم و انضباط نہ ہو،اوریہ ہونہیں سکتاجب تک اس کاکوئی رئیس
وقائدمقررنہ کیاجائے،پس ہم تیارہوجاتے ہیں کہ جلسوں کےلئےصدر
تلاش کریں ،لیکن اگریہی حقیقت شریعت کی ایک اصطلاح امامت کے
لفظ میں ہمارےسامنےآتی ہےتوہمیں تعجب وحیرانی ہوتی ہےاوراس کے
لئے ہم تیارنہیں ہوتے۔۔۔۔
ہماراطریق عمل یہ ہوناچاہئے کہ ہم ہر طرف سے آنکھیں بندکرکے
حکمت اجتماعیہ نبویہ کواپنادستورالعمل بنالیں ،شریعت کےکھوئےہوئے
نظام کوازسرنوقائم واستوار کردیں اور اس طرح اسلام کی مٹی ہوئی
سنتیں زندہ ہوجائیں۔۔ ۔۔۔۔طریق شرعی اوراس کےنظام وقوام کے
الفاظ سن کریکایک متوحش و مضطرب الحال ہوجاتے ہیں ،۔۔۔یہ کیا
مصیبت ہےکہ اگرلیڈرکالفظ کہاجاتاہےتوآپ اس کااستقبال کریں اور
امیرو امام کالفظ آجائےتونفرت واستکراہ سےبھرجائیں”
دارالکفرمیں امارت شرعیہ تنظیم اسلامی کی واحدعبوری صورت
غرض امارت شرعیہ مولاناکی آخری منزل نہیں تھی بلکہ ایک عبوری منزل تھی، غیراسلامی اقتدارمیں اس سے بہترممکنہ تنظیمی واجتماعی صورت اورکوئی موجودنہیں تھی،ان کے نزدیک امارت شرعیہ کی ترجیح بمقابلۂ انتشاروپراگندگی وغیرشرعی اجتماعیت تھی نہ بمقابلۂ خلافت اسلامی۔۔اوراس کی سب سےبڑی دلیل حضرت مولاناسجادؒکی کتاب "حکومت الٰہی ” ہے،جواسلام کےنظام اجتماع اورفلسفۂ اجتماع پراردوزبان میں اس عہدکی پہلی کتاب تھی،اس کی پہلی اشاعت کی سعادت(۱۹۴۱؁ءمیں) حضرت امیرشریعت رابع مولاناسیدمنت اللہ رحمانی ؒ کو حاصل ہوئی ،اس کتاب کےعرض ناشر میں مولانامنت اللہ رحمانی صاحب ؒ تحریرفرماتے ہیں:
"مولاناؒکی پوری زندگی بےپناہ جہدوعمل کانمونہ تھی،جس کامقصدوحید
حکومت الٰہیہ کاقیام تھا،مولاناؒنےاپنی زندگی میں جوعملی قدم بھی اٹھایا
وہ صرف اس لئےکہ اس کےذریعہ مقصدوحیدکی راہ کھلتی تھی،جن
لوگوں کومولانا کے ساتھ کام کرنےکاموقعہ ملاہےیاانہوں نےمولانا
کی زندگی کامطالعہ کیاہے،وہ اس حقیقت کااعتراف کرنےپرمجبورہیں،
کہ ان کی زندگی کامشن "حکومت الٰہیہ "کےسوااورکچھ نہ تھا،۔۔۔۔
مولانا نےاپنی مخصوص بصیرت کےساتھ جواللہ نےان کوعطاکی تھی،
اورجوانہیں کاحصہ تھی، اپنی زندگی کاکافی حصہ اسلام کےاجتماعی نظام
اورحکومت الٰہی اوراس کی تفصیلات پرغورکرنےمیں صرف کیا،اور
جن لوگوں کواس موضوع پرمولاناؒسےگفتگوکاموقع ملاہےوہ اس امر
کی شہادت دےسکتےہیں کہ "حکومت الٰہیہ”یاخلافت اسلامیہ”کاکس
قدرمرتب اورمفصل خاکہ مولاناکےذہن میں موجودتھااورہندوستان
میں صرف مولاناہی کویہ فخرحاصل ہےکہ انہوں نےاسلامی تعلیمات
کی صحیح روشنی میں ہندوستانی مسلمانوں کی تنظیم اور ہندوستان میں اس
کی اسلامی زندگی کابہترین خاکہ تیار کیا، اور اسے پوری طرح مرتب
کرکےعملی صورت میں امارت شرعیہ کےنام سےصوبہ بہارمیں جاری
کیاکہ اگرآج مکمل اقتدارحاصل ہوجائے تو تھوڑے اضافہ کےبعد
"امارت شرعیہ”خلافت اسلامیہ کی شکل اختیارکرسکتی ہے،بلکہ اس کی
ہیئت ترکیبی ہی ایسی ہےکہ قوت کےحصول کےبعدوہ "خلافت اسلامیہ
"کےسوااورکوئی چیزبن ہی نہیں سکتی”
اوریہی بات مولاناسیدمنت اللہ رحمانیؒ نےاپنےایک دوسرےمضمون میں بھی تحریر کی ہے:
"مولاناعلیہ الرحمۃ کاخیال تھاکہ مسلمانوں کااصل مقصد توہندوستان
میں اسلامی حکومت کاقیام ہے،اس لئے کہ موجودہ تمام طریقہائے
حکومت میں اسلامی حکومت ہی کانظام مکمل ہےلیکن چونکہ بہ حالات
موجودہ براہ راست اسلامی حکومت کےقیام کی راہ میں مشکلات ہیں ،
اس لئے سردست کم ازکم ایک ایسی مشترکہ حکومت کےقیام کی
کوشش کی جائےجہاں مسلمانوں کے لئےمخصوص نظام ہو
اس امرکی شہادت مولاناکے دیگرقریب ترین لوگوں نےبھی دی ہےمثلاً:
مولانامسعودعالم ندویؒ فرماتےہیں:
"لیکن اس سے یہ غلط فہمی نہ ہوکہ مولانا سجاد مرحوم یا دوسرے
داعیان امارت کا یہ آخری نصب العین ہے،حاشاوکلا،اس مخلص
مجاہد کےدامن پراس سےزیادہ بدنمادھبہ اورکوئی نہیں لگایاجاسکتا
،مولانامحمدسجادبھی اسلامی حکومت کی تاسیس کےداعی تھے،اوریہی
ان کانصب العین تھا، مسلم نیشنلزم اورکمال اتاترک جیسی اسلامی
حکومت نہیں بلکہ وہ خالص” الٰہی حکومت”(منہاج خلافت راشدہ
پر)کےقیام کےداعی تھے”
مولاناحفظ الرحمن سیوہارویؒ لکھتے ہیں :
"مولانامحمدسجادہندوستان کے ان چند متبحرین میں سے تھے،جوہندوستان کی
سیاست میں حصہ داربننے کےباوجودحکومت الٰہیہ کےاس نصب العین کوکبھی
فراموش نہیں کرتے تھے،جوان کی جدوجہدکاحقیقی مرکزومحورتھا”
مولاناعثمان غنی صاحبؒ تحریرفرماتےہیں:
"حضرت مولاناکامقصد وحیداعلائےکلمۃ اللہ کےلئےشریعت اسلامیہ کی
حکومت کاقیام تھا،اورامارت شرعیہ اس کاایک زینہ ہےجس کے ذریعہ
مسلمانوں کی تنظیم اوران میں وحدت ملی اورعادت سمع وطاعت پیداکی
جاسکے،غلاموں اورمحکوموں کےلئےاعلائےکلمۃ اللہ دشوارہی نہیں بلکہ
ناممکن ہے”
قاضی سیداحمدحسین صاحب رقمطرازہیں:
"مولاناؒکی وفات سےتقریباًایک سال پہلےمیں نےایک دفعہ برسبیل
تذکرہ مولاناؒسےکہاکہ اس صوبہ میں امارت شرعیہ قائم کرکےآپ
نےاپناوقت زندوں کے بجائے مردوں میں ضائع کیا،کاش کہ آپ
صوبۂ سرحد جاکر ایک چھوٹی سی نمونہ کی اسلامی حکومت قائم کئے
ہوتےتاکہ دنیادیکھتی کہ اسلامی حکومت انسانیت کےلئےکیسی رحمت
ہے؟تومولانانےفرمایاکہ”صوبہ سرحدسےکچھ لوگ مجھے لینے کوآئے
تھےاورمیں بھی جانے کوتیارتھالیکن امیرشریعت اول حضرت مولانا
شاہ بدرالدین صاحبؒ نے جانےنہ دیا ۔
مولاناامین احسن اصلاحی(اعظم گڑھ)بھی مولاناؒسےبہت قریب رہےہیں،وہ رقمطرازہیں:
"مولاناجس انقلاب کےداعی تھےاس کاپروگرام بالکل شرعی اور
مذہبی تھا،ان کو پورااعتمادتھا،کہ اگرمسلمانوں کی تنظیم جمعیۃ علماء
کی قیادت میں قائم ہوجائے،تومسلمان ہندوستان کےاندرایک
ایسانظام قائم کرنےمیں کامیاب ہوجائیں گے،جوہندوستانی قومیت
میں شامل ہونے کے باوجود ان کی حفاظت کرسکےگا،وہ اس کو
مسلمانوں کےلئےآئیڈیل نہیں سمجھتےتھے،مگراس سےزیادہ کے
لئےحالات سازگارنہیں پاتے تھے” ۔
موجودہ ہندوستان میں امارت ہی مسلمانوں کےمسائل کاحل ہے
حضرت مولاناسجادصاحب ؒغیرمسلم ہندوستان میں امارت شرعیہ کوبہت سے ملی اور
اجتماعی مسائل کاحل تصورفرماتے تھے،اور تمام دینی تحریکات کی اصل قراردیتے تھے،آپ نے مرادآبادکے مجمع کوجس میں علماء امت اورزعمائے ملت کی بڑی تعداد موجود تھی ،مخاطب کرکے ارشادفرمایا(واضح رہےکہ اس وقت تک بہارمیں امارت شرعیہ قائم ہوچکی تھی لیکن مولاناکی کوشش تھی کہ ہندگیرسطح پر بھی امارت قائم ہوجائے)
"ساداتی الکرام و زعمائے ملت ! اگرآپ نےہندوستان میں تنظیم اہل
اسلام کی اہمیت کومحسوس فرمالیا ہےاور ضرورت بھی محض ضرورت
عادیہ کی حیثیت سے نہیں بلکہ دینی حیثیت سے توآپ سے میں گذارش
کروں گاکہ چونکہ تنظیم کی اصلی صورت وہی ہےجس کوجمعیۃ علماء ہندنے
۱۹۲۱؁ء میں منظورکرلیاہے،اس لئےآپ کافرض ہےکہ آج علماء کرام و
زعمائے ملت جبکہ ایک جگہ ہندوستان کے مسائل پرغورکرنے کے لئے
جمع ہوئے ہیں تومیراخیال ہےکہ سب سے پہلے اس چیزکوسامنے لاناچاہئے
اورغورکرنا چاہیئے،اگر آپ نے مرادآبادمیں جمع ہوکراورکچھ نہیں کیابلکہ
صرف اسی امرکے متعلق عمل کرنے کی کوئی شکل پیداکرلی،تویقین فرمائیے
کہ آپ نے سب کچھ کرلیاکیونکہ تمام چیزیں اس کی نسبت فرع ہیں اوروہ
اصل ہے” ۔
امت کی تنظیم اطاعت سے وابستہ ہے
حضرت مولانااحمدسعیددہلویؒ کوسفروحضرمیں حضرت مولاناسجادؒکےساتھ رہنے
کے کافی مواقع ملےتھے،انہوں نےاپنےمضمون میں اس موضوع پرحضرت مولاناکے مجلسی
اورعوامی خطابات کےکئی اہم اقتباسات نقل فرمائے ہیں،مثلاً:
"وہ (حضرت مولاناسجادؒ)ہندوستان کےمسلمانوں کی زندگی کوبغیرامیر
کےغیرشرعی زندگی سمجھتے تھے،کسی اسلامی ملک پرکفارکےتسلط کووہ
نہایت خطرے کی نظر سے دیکھتے تھے،اوراس غیرشرعی زندگی پروہ
قرآن وحدیث سے استدلال کرتے تھے،اور بعض دفعہ اس زندگی کی
خرابیاں ذکرکرتےکرتےرونےلگتے تھےاوراس قدر روتے تھےکہ ان
کی ہچکی بندھ جاتی تھی،اورفرمایاکرتے تھے کہ قیامت کےدن جوسوال
ہم لوگوں سے ہوگااس کا جواب سمجھ میں نہیں آتا،ہم خداکے سامنے
کس طرح عہدہ برآہونگے ،ان کاخیال یہ تھاکہ کفرکےاس بے پناہ غلبہ
اورسطوت کوجس قدرکم کیاجا سکےکم کرناچاہئے،اس راستے میں جس قدر
قربانیاں پیش کرنے کی ضرورت ہواس سے دریغ نہ کیاجائے،۔۔۔وہ
فرمایاکرتے تھےکہ اسلام ایک تنظیمی مذہب ہے ،اس مذہب کی روح
ڈسپلن اورنظم چاہتاہے،اگرمسلمان منتشررہیں ،اورکسی ایک شخص کی
اطاعت نہ کریں،اوراپناکوئی امیرمنتخب نہ کریں،تو یہ زندگی غیرشرعی
زندگی ہوگی،ہرایک پیغمبر جودنیامیں آیاہےاس نے اپنی ابتدائی تقریر
میں دوباتیں لازمی طورپر کہی ہیں،فاتقواللہ واطیعونِ۔یعنی اللہ سے ڈرو
اور میری اطاعت کرو،اوریہی اطاعت وہ چیزہےجس پر قوموں نے
مخالفت کی ہے،عام طورسےقومیں خداکی قوت وطاقت تسلیم کرنے کو
آمادہ ہوجاتی تھیں ،لیکن پیغمبرکی اطاعت پررضامندنہ ہوتی تھیں ،پیغمبر
کی اطاعت کو وہ اپنی عزت،برتری،اوراپنی سرداری کےمنافی سمجھتی
تھیں اس وجہ سےکہتےتھے:
ماھذاالابشرمثلکم یریدان یتفضل علیکم
یعنی یہ پیغمبربھی ہم تم جیساآدمی ہے،یہ اپنی بڑائی منواناچاہتاہےاورہم
پرحکومت کرناچاہتاہےیہی وہ چیزہےجومکہ کےسرداروں کوکھٹکی اوریہی
وہ امرہےجس نےاہل کتاب کونبی آخرالزماں ﷺپرایمان لانے سے
بازرکھا،اسی نقطہ پرقوموں سے مخالفت ہوئی، لیکن پیغمبراس حق سے
دستبردارہونے پرآمادہ نہ ہوئے،اورانہوں نےصاف کہہ دیاکہ خدائی
مذہب کی یہ بنیادی چیزہے،جب تک پیغمبر کی اطاعت پرتیارنہ ہوخدائی
مذہب کی تکمیل نہیں ہوسکتی،اورتنظیمی زندگی بھی میسرنہیں آسکتی،اس
نظریہ کے پیش نظرانہوں نےامارت شرعیہ کی بنیادڈالی تھی۔۔۔۔وہ
اس مسئلے پرفقہاء حنفیہ کی تصریحات پیش کرتے تھے،اس پر انہوں نے
ایک مفصل فتویٰ بھی مرتب کیاتھااورجمعیۃ علماء نےجوتجویزامارت شرعیہ
کے سلسلےمیں پاس کی تھی،وہ بھی انہی کی سعی کانتیجہ تھی ،وہ چاہتے تھے
کہ زکوۃ اورعشرکاصحیح انتظام ہوسکےاورمسلمانوں کےصدقات وخیرات
شرعی طریقہ پرصحیح مصارف پرخرچ ہوسکیں۔
یہ حقیقت ہےکہ حضرت مولانامحمدسجادصاحبؒ کی یہ خواہش ایک شرعی
خواہش تھی۔اور ۵۷؁ء کےاس انقلاب کےبعد جو ہندوستان میں ظہور
پذیر ہوااورجس کےنتیجےمیں مسلمانوں کی دولت ان کی عزت اوران کی
شرعی زندگی اوران کاسیاسی اقتدارملیامیٹ اور تباہ و بربادہوگیا،اس کے
علاوہ کوئی چارۂ کارنہ تھاکہ مسلمان مسجدوں کی امامت کےساتھ ساتھ
ہندوستان میں ایک امیربھی منتخب کرتے۔
حضرت مولاناابوالمحاسن محمدسجادؒ علماء کی جماعت میں وہ پہلے عالم تھے،
جنہوں نےوقت کی مناسبت کالحاظ رکھتے ہوئےاس کام کوشروع کیا،اس
کی حمایت میں آوازبلندکی ،اوراگرتمام ہندوستان میں نہیں توکم ازکم ایک
صوبہ میں اس کی تشکیل کی اورہندوستان کےمسلمانوں کوبتایاکہ کفرکے
تسلط اورغلبہ کے بعدمسلمانوں کی مذہبی زندگی کایہی طریقہ ہے” ۔
تحریک امارت میں مخالفتوں کاسامنا
لیکن افسوس کہ حضرت مولاناسجادؒنےجس قوت واہمیت کےساتھ اس نظریہ کو
پیش فرمایااوراس کےدلائل فراہم کئے،اتنی ہی زیادہ شدت کےساتھ ان کی مخالفت کی گئی ،
ظاہرہےکہ مولاناسجادؒشبہات واعتراضات کےجوابات دےسکتےتھے،مخالفتوں کاجواب دینا
ان کےبس کی بات نہیں تھی،حضرت مولاناؒنے علماء کرام سے اپناغم بیان کیاہے:
"علماء کرام داعیان ملت! مسلمانوں کی حیات اوراجتماعی زندگی بلکہ
محض باعزت زندگی کےلئے اگرکوئی چیزہندوستان میں ضروری اور
لازم ہےتووہ مسلمانوں کاشرعی اصولوں کےساتھ باضابطہ منظم ہونا
ہے،مگرافسوس کہ یہ چیز جتنی ضروری اقدم واہم ہے ، اسی قدراس
کےساتھ بے اعتنائی اورلاپروائی برتی گئی ہےاورآج تک باوجودادراک
واحساس کے وہی غفلت اوروہی جمودہے ۔
مولاناحفظ الرحمن سیوہارویؒ اس دورکی مخالفتوں کاتذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
"ہندوستان کےعلماء اورغیر علماء تمام مسلمانوں میں یہ شرف صرف
مولانامحمدسجادصاحب ؒ کو حاصل ہے کہ انہوں نے یہ احساس کرتے
ہوئےکہ "اس غیر اسلامی ملک میں مسلمانوں کی انفرادی و اجتماعی
زندگی میں اسلامی ماحول اوراسلامی تأثرات پیداکرنےکےلئے”امارت
شرعیہ”کےقیام کےبغیرچارۂ کارنہیں ،بہارکےصوبہ میں اس کی داغ
بیل ڈال دی۔۔۔۔۔۔۔۔اگرچہ وہاں کےبعض صوفیاء ،بعض علماء اور
انگریزی داں طبقے نے اپنی ذاتی مصالح کی بناپر اس کی کافی مخالفت کی۔
۔۔۔اور صوبہ کےان مسلمانوں نے جو پلیٹ فارم پراسلامی تحریک
،اسلامی حکومت کانام رٹتے رہتے ہیں،اگرچہ پیہم اورمسلسل مخالفتوں
سےاس کوبڑی حدتک نقصان پہونچایا،اوراس مقدس تحریک میں مناع
للخیربنے رہے” ۔
مولانااحمدسعیددہلوی ؒنےاس قصۂ غم کواوربھی تھوڑی تفصیل سےبیان کیاہے:
"مولانامحمدسجادؒکی اس خالص مذہبی اورشرعی تحریک کی پوری قوت
کےساتھ اپنوں اورپرایوں نےمخالفت کی،ایک طرف حکومت متسلطہ
نے اوردوسری طرف اس ملک کی بدقسمت اکثریت نےاس کو
خطرے کی نگاہ سے دیکھا ،سب سے زیادہ تعجب یہ ہےکہ ملک کے
اس تعلیم یافتہ طبقے نے جس کو آج کل سب سے زیادہ مسلمانوں کی
نمائندگی کاشوق ہے،اورجومسلمانوں کی تہذیب اورکلچرکی حفاظت کا
مدعی ہے،اس نے بھی اس مذہبی تحریک کواپنےاقتداراوراپنی مزعومہ
لیڈری کےخلاف سمجھا،جوحضرات غیرشرعی قوانین کےماتحت زندگی
بسرکرنےکےعادی ہوچکےتھے،اورصرف نام کےمسلمان بن کراسلامی
قومیت کےحقوق کابٹواراکراناجن کامقصدزندگی ہوچکاتھا،اورجواسلامی
احکام کی پابندی کواپنی آزادئ ضمیر کےمخالف سمجھے ہوئے تھے،انہوں
نےاس تحریک کو دقیانوسی اورتیرہ سوسالہ پرانی تحریک کہناشروع کیا،
اورمولاناسجادؒکی یہ کہہ کر مخالفت شروع کی کہ یہ ہم کوروشنی اورآزاد
خیالی سے ہٹاکرپھرمُلّااِزم پھیلاناچاہتے ہیں ،اورہم کومولویوں کےاقتدار
کے ماتحت کرنا چاہتے ہیں،ان سب مخالفتوں سےزیادہ حیرت انگیزان
علماء کی مخالفت تھی، جن کایہ فریضہ تھااورقیام امارت جن کا شرعی اور
قانونی فرض تھاان تمام مخالف قوتوں اورطاقتوں کی موجودگی میں مولانا
محمدسجادؒنےخداکےبھروسہ پراس کام کوشروع کیا۔
حضرت مولاناابوالمحاسن محمدسجادمیں جہاں بےشمارخدادادقابلیتیں موجود
تھیں،ان تمام خوبیوں اورقابلیتوں میں ان کی پختہ کامی ،عزم بالجزم ،
مستقل مزاجی،اورہمت اورارادے کی طاقت ضرب المثل ہےوہ بڑی
سےبڑی مشکل کاان تمام قوتوں کےساتھ مقابلہ کرتے تھے ، وہ کام
کرنےسے تھکتے نہ تھے،یہی وجہ ہےکہ ان تمام طاغوتی قوتوں کا مقابلہ
کرنےکےبعدان کوکامیابی نصیب ہوئی ،۔۔۔اگرعلماء میں مداہنت اور
منافست نہ ہوتی ،اورصوفیاء میں ارباباًمن دون اللہ بننے کاشوق نہ ہوتا
توآج تمام ہندوستان ایک امیرکےماتحت شرعی زندگی بسر کررہاہوتا
اوراسلام کی حقیقی برکات سے متمتع ہوتا ۔
مولاناسیدحسن آرزونےاس وقت کاآنکھوں دیکھاحال بیان کیاہے کہ:
"مجھے مولاناسجادکی معیت میں اس خدمت کو انجام دینے کابھی
شرف حاصل ہے،مجھے خوب یادہے،کہ مولانامرحوم کواس وقت
کن کن دشواریوں کاسامناکرناپڑاتھا،مگرہمت وعمل کی اس مشین
نے ساری دشواریوں سےمقابلہ کرتےہوئےآگےچلو!آگےبڑھو!
کانعرہ لگایااورہماری ہمتوں کوبلنداورکامیابی کوسامنےلاکھڑاکردیا۔۔
اورمولاناکےسرکامیابی کاسہرابندھ ہی گیا” ۔
حضرت ابوالمحاسن ؒکےذہن میں امارت شرعیہ کاتصور
یہ تھے وہ مشکل حالات جن میں حضرت مولاناسجادؒنے تحریک امارت شرعیہ کااپنا سفر پورا کیا،مولاناؒ کوتوایک عرصہ سےامارت شرعیہ کاخیال تھا،انہوں نے امارت شرعیہ کے قیام سےقبل ہی بعض خاص لوگوں سےبیعت جہادبھی لی تھی ، لیکن یہی وہ تلخ حالات تھےجن کی بناپریہ حرف آرزوزبان پرنہیں آسکتاتھا،جناب قاضی احمد حسین صاحبؒ بیان کرتے ہیں:
” امارت شرعیہ کے قیام کا خیال تو مولانا مرحوم کوبہت پہلے سے تھا ،لیکن
حالات کی نا سازگاری نہ حرف مطلب کو زبان تک لانے کی اجازت دیتی
تھی ،نہ ماحول عمل کا متحمل تھا ، پھر بھی مجاہدانہ جذبہ مولاناؒ کو بے قرار رکھتا
تھا ،چنانچہ جہاد کی بیعت بعض خاص لوگوں سے مولانا ؒنے قیام امارت سے
پہلے لی تھی ۔
قیام امارت سےقبل بیعت جہاد
یہ خاص لوگ جن کوقیام امارت شرعیہ سےقبل حضرت کےہاتھ پربیعت جہادکی سعادت حاصل ہوئی ان میں سرفہرست حضرت شاہ ابوطاہرفردوسیؒ اوران کےرفقاء واحباب تھے،اس بیعت جہادکی تفصیل خودشاہ ابوطاہرصاحب ؒہی کی زبانی ملاحظہ کریں:
"ایک واقعہ جو غالباً میرے ساتھ مختص ہے یعنی میرے سوا کوئی نہیں جانتا
ہے اور غالباً قاضی احمد حسین صاحب بھی اس سے واقف نہیں ہیں ، حالانکہ
صرف ان ہی کی ایک ذات ہے جو مولانا کی ہر تحریک میں ان کی قوت بازو
رہی ۔ گیا میں جب مولانا کا قیام رہا سملہ ہر عرس میں تشریف لایا کئے ،ایک
موقع پر جب کہ آپ کو یہ معلوم ہوا کہ یہاں ارکان اسلام کے ساتھ جہاد
پر بھی بیعت ہوتی ہے تو آپ نے مجھ سے فرمایا کہ بیعت کے ساتھ اہتمام
جہاد بھی کرنا چاہیئے ،میں نے عرض کیا تو آپ ہی امیر بنیں ،میں امیر تسلیم
کرتا ہوں ،اس گفتگو کے چند دن بعد میں چند احباب کے ساتھ گیا مدرسہ
میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں نے تو امیر تسلیم ہی کر لیا ہے ،ہمارےیہ
مخلص احباب بیعت جہاد کے لئے حاضر ہوئے ہیں ،چنانچہ آپ نےان لوگوں
سے بیعت جہاد لیا، ان میں سے جن لفظوں میں آپ نے بیعت لی ان کے
ماثورہ الفاظ یہ ہیں :
بایعنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی السمع و
الطاعۃ فی العسر و الیسر والمنشط والمکرہ و ان لا
انازع الامراہلہ وان نقول بالحق حیث کناولانخاف
لومۃ لائم۔
اس وقعہ کے کچھ ہی دنوں کے بعد امارت کی تحریک شروع ہوئی اور اللہ نے
آپ کو نائب امیر شریعت بنایا ۔
جمعیۃ علماء ہندکےاجلاس دوم میں امارت فی الہندکی تجویز
آپ کی تحریک امارت کامحورپوراہندوستان تھا اورآپ اس نظام شرعی کوپورے ملک میں نافذکرنا چاہتے تھے۔چنانچہ سب سےپہلےجمعیۃ علماء ہندکےدوسرےاجلاس(منعقدہ ۷تا۹/ربیع الاول ۱۳۳۹؁ھ مطابق ۱۹تا۲۱نومبر ۱۹۲۰؁ء دہلی،زیر صدارت حضرت شیخ الہند مولانامحمود حسن دیوبندیؒ جس میں تقریباًپانچ سو۵۰۰ علماء شریک تھے)میں آپ نے امارت شرعیہ فی الہند کی تجویزپیش فرمائی جس کی تائیدحضرت شیخ الہندؒ نے بھی کی ۔حضرت شیخ الہندؒ کی وجہ سےحضرت مولاناسجادؒبہت پرامیدتھے،کہ اس اجلاس میں امیرالہندکامسئلہ حل ہوجائے گا،بعض روایات سے اندازہ ہوتاہے کہ حضرت مولانا سجادؒ نے باقاعدہ اس کے لئے دیوبند کاسفرکیااورحضرت شیخ الہندؒ کی خدمت میں حاضرہوکر اس موضوع پر تبادلۂ خیال فرمایا،اورحضرت شیخ الہندؒ اس کےلئےراضی ہوگئےتھے
اورواقعۃًیہ مسئلہ حل ہوسکتاتھااگرحضرت شیخ الہندؒکی حیات مبارکہ میں یہ تحریک
پیش کردی جاتی،حضرت شیخ الہندؒ کی بھی رائے یہی تھی کہ :
"اس نمائندہ اجتماع میں جب کہ تمام اسلامی ہند کےذمہ داراورارباب حل
وعقدجمع ہیں، امیرالہندکاانتخاب کرلیا جائے ،اور میری چارپائی کواٹھاکر
جلسہ گاہ میں لےجایا جائے، پہلاشخص میں ہوں گاجواس امیرکے ہاتھ پر
بیعت کرےگا”
امیرالہندؒکےانتخاب میں دشواریاں
مگردشواری یہ تھی کہ ایک تو حضرت شیخ الہندؒبے حدعلیل تھے،نقل وحرکت سے بھی معذورتھے ،اجلاس میں خودشریک بھی نہ ہوسکے،بلکہ دوران اجلاس ڈاکٹرشوکت انصاری صاحب کی کوٹھی پرتشریف فرمارہے۔
دوسری طرف بعض قرائن وآثارسےمعلوم ہوتاہےکہ منصب امارت کےلئے اندراندر کئی شخصیتوں کےنام گردش کررہےتھے:
حضرت شیخ الہندمولانامحمودحسن دیوبندیؒ
ظاہرہےکہ ان میں سب سے اہم ترین شخصیت حضرت شیخ الہندؒکی تھی،بلکہ آپ کی شخصیت اس معاملہ میں نقطۂ اتفاق بن سکتی تھی،اگرآپ کی امارت کااعلان ہوجاتاتوشاید کسی کو اختلاف نہ ہوتا، خطبات آزادسے معلوم ہوتاہے کہ "امام الہند”کے منصب کے لئے مولانا ابوالکلام آزادؒ نےبھی حضرت شیخ الہندؒکوراضی کرلیاتھا،گوکہ یہ ان کے اس پروگرام کا حصہ تھاجب مولاناآزاد” حکومت الٰہیہ” کےقیام کی جدوجہدکررہےتھےاوراس کے لئے انہوں نے حزب اللہ کی تشکیل کی تھی، یہ ۱۹۱۴؁ء کی بات ہے،جب کہ ملک میں نہ جمعیۃ علماء ہند کی تحریک شروع ہوئی تھی اورنہ امارت شرعیہ کی ،اس موقعہ پرمولاناآزادؒنے بہت کوشش کی کہ حضرت شیخ الہندؒ ہجرت میں جلدی نہ کریں اوربحیثیت "امام الہند”ہندوستان میں رہ کر حکومت اسلامیہ کے احیاء کی سربراہی فرمائیں:مولاناآزادؒفرماتےہیں:
"۱۹۱۴؁ء کے لیل ونہار قریب الاختتام تھے،جب اللہ تعالیٰ نےاپنے فضل و
کرم سے یہ حقیقت اس عاجزپرمنکشف کی اورمجھے یقین ہوگیاکہ جب تک یہ
عقدہ حل نہ ہوگاہماری کوئی سعی وجستجوبھی کامیاب نہ ہوگی،چنانچہ اسی وقت سے
میں سرگرم سعی و تدبیرہوگیا،حضرت مولانامحمودالحسن ؒسے میری ملاقات بھی
دراصل اسی طلب وسعی کانتیجہ تھی،انہوں نےپہلی ہی صحبت میں کامل اتفاق
ظاہرفرمایاتھااوریہ معاملہ بالکل صاف ہوگیاتھاکہ وہ اس منصب کوقبول کرلیں
گےاورہندوستان میں نظم جماعت کےقیام کااعلان کردیاجائےگامگرافسوس
ہےکہ بعض زودرائے اشخاص کےمشورہ سےمولاناؒنے اچانک سفرحجازکاارادہ
کرلیا،اورمیری کوئی منت وسماجت بھی انہیں سفرسے بازنہ رکھ سکی ،اس کے
بعد میں نظربندکردیاگیا”
اس لئے قوی امیدتھی کہ حضرت شیخ الہندؒ کااسم گرامی سامنےآنےپرکوئی اختلاف نہیں ہوتا۔
مولاناابوالکلام آزادؒ
ایک بڑانام مولاناابوالکلام آزادؒ کابھی تھا،بلکہ کہناچاہئے کہ حضرت شیخ الہندؒکے بعد
ملک میں سب سےطاقتورنام مولاناآزادہی کاتھا،ان کواس مسئلہ پرشرح صدربھی تھااوران پر
اتفاق رائے کابھی امکان تھاحضرت مولاناسجادؒکےمحرم رازقاضی احمد حسین صاحبؒ کی
روایت یہ ہےکہ:
"مولانامرحوم (مولاناابوالمحاسن محمدسجادؒ)نےحضرت شیخ الہندمولانا
محمودحسن صاحب ؒ کواس امرپرراضی کرلیاتھاکہ مولاناابوالکلام آزادؔ
امیرالہندہوں ، میں اس وقت جیل میں تھامگرجہاں تک یادآتاہے
جمعیۃ علماء ہندکےدوسرےاجلاس میں مولاناسجادصاحب ؒ نےاس تجویز
کوپیش کیا،مگرشیخ الہندؒکی علالت کی وجہ سے جب کہ وہ خطرناک حالت
سےگذررہےتھے،دوسرےاجلاس کےلئے اس کوملتوی کردیاگیا ۔
اس کی تائیدمولاناعبدارزاق ملیح آبادیؒ کی کتاب "ذکرآزاد”سےبھی ہوتی ہےجس میں انہوں نے خودحضرت شیخ الہندؒسےاس موضوع پراپنی گفتگوکی روداد نقل کی ہے۔
مولاناعبدالرزاق ملیح آبادی مولاناآزادؒکےمقرب ترین لوگوں میں تھے،مولاناؒ کےہاتھ پر بیعت کی تھی اورصوبہ یوپی میں مولاناکی طرف سے بیعت امامت کےمجازاورخلیفہ تھے ،وہ لکھتے ہیں:
"اس زمانےمیں شیخ الہندمولانامحمودحسن صاحب مرحوم ومغفورمالٹے کی
نظربندی سے چُھٹ کرپہلی دفعہ لکھنؤ تشریف لائے اورفرنگی محل میں
ٹھہرےخبرملی کہ فرنگی محل والےاس کوشش میں ہیں کہ مولاناعبدالباری
صاحب کی امامت پرانہیں راضی کرلیں،یہ بھی معلوم ہواکہ خودشیخ الہند
کے بعض رفیق شیخؒ کےلئےیہ منصب چاہتےہیں،مجھےتشویش ہوئی ،شیخ
الہندؒکےلئےمیں انجان نہ تھا،منیٰ میں اورمکہ میں ملاقاتیں ہوچکی تھیں،
اور بڑی شفقت سےپیش آئے تھے،لیکن اب جومسئلہ درپیش تھانازک
بھی تھااور اہم بھی،خودشیخ کی ذات سےبھی تعلق رکھتاتھا،اوربڑےسلیقہ
کاطالب تھا،میں نےشیخ الہندؒسے تنہائی میں ملاقات کی ،رسمی باتوں کےبعد
ہندوستان میں مسلمانوں کی امامت کاتذکرہ چھیڑا،شیخ ؒنےفرمایاامامت کی
ضرورت مسلم ہے ،عرض کیا،حضرت سےزیادہ کون اس حقیقت کوجانتا
ہےکہ اس منصب کےلئےوہی شخص موزوں ہوسکتاہےجوزیادہ سےزیادہ
ہوشمند،مدبراورڈپلومیٹ ہو،مسلمانوں کاامام ایساشخص ہوناچاہئے،جس کی
استقامت کونہ کوئی تشویش متزلزل کرسکے،نہ کوئی ترہیب،مثال کےطور
پرمیں نےپاپائےروم کا تذکرہ کیاجوڈپلومیسی میں فرداورسیاسیات کاشاطر
ہوتاہے۔
شیخ الہندؒنےاتفاق ظاہرکیاتوعرض کیاآپ کی رائےمیں اس وقت امامت
کااہل کون ہے؟یہ بھی اشارۃًکہدیاکہ بعض لوگ اس منصب کےلئےخود
آپ کانام لےرہےہیں،اورآپ بحمداللہ اہل بھی ہیں،شیخ بڑی معصومیت
سے مسکرائےاورفرمایاکہ میں ایک لمحہ کےلئےبھی تصورنہیں کرسکتاکہ
مسلمانوں کاامام بنوں،عرض کیا،کچھ لوگ مولاناعبدالباری صاحبؒ کانام
لےرہےہیں ،موصوف کاتقویٰ واستقامت مسلم ہے،مگرمزاج کی کیفیت
سے آپ بھی واقف ہیں ، شیخؒ نے سادگی سے جواب دیاکہ مولانا
عبدالباری کےبہترین آدمی ہونےمیں شبہ نہیں مگرمنصب کی ذمہ داریاں
کچھ اورہی ہیں،عرض کیااورمولاناابوالکلام آزادکےبارےمیں آپ کی کیا
رائے ہے ؟ شیخ نے متانت سے فرمایا:میراانتخاب بھی یہی ہے،اس وقت
مولاناآزاد کےسواکوئی شخص امام الہندنہیں ہوسکتاان میں وہ سب اوصاف
جمع ہیں جواس زمانےمیں ہندوستان کےامام میں ہوناضروری ہیں۔میں اپنے
مشن میں کامیاب ہوچکاتھا،شیخ ؒسے عرض کیا،اس گفتگوکوپبلک میں لاسکتا
ہوں؟انہوں نےاجازت دےدی”
مالٹاکی قیدسے واپسی کےبعدحضرت شیخ الہندؒچونکہ بے حدکمزوراور بیمارہوگئےتھے اس لئےحضرت کااپنےبجائے کسی سنجیدہ ،متین اورصاحب استقامت عالم دین کوبحیثیت امیر الہندپسندکرنامستبعدنہیں۔
حضرت مولاناعبدالباری فرنگی محلیؒ
امامت کی اس دوڑمیں تیسرابڑانام حضرت مولاناعبدالباری فرنگی محلیؒ کاتھا، اور ایک بڑاحلقہ بحیثیت امیرالہندان کوپسندکرتاتھا،لیکن اختلافات کودیکھتےہوئےوہ خوداس سے دستبردارہوگئےتھے،اورلوگوں کےاطمینان کےلئےایک تحریربھی لکھ دی تھی، تاکہ ان کا نام لےکرکوئی فتنہ کھڑانہ کیاجاسکے،یہ قصہ بھی مولاناعبدالرزاق ملیح آبادی ہی کی زبانی ملاحظہ فرمائیے:
"مولانا(عبدالباری صاحب)سےمیرےگہرےتعلقات تھے ،اوراندیشہ
تھا،کہ میری اس مہم کاحال معلوم ہوگاتومجھےنہ جانے کتنا برا سمجھیں گے،
مگرجب بات چیت ہوئی،توخندہ پیشانی سےکہنےلگے،مولاناآزادؒکےسواکسی
اورکانام امامت کےلئےلیناقوم سےغداری ہے،مجھےخوشی ہےکہ آپ نے
شیخ الہندؒسےمعاملہ صاف کرلیااورمیں پہلاآدمی ہوں جومولاناآزادکےہاتھ
پربیعت کرےگا۔
پھرانہوں نےایک تحریربھی مرحمت فرمائی :

حامداًومصلیاًومسلماً۔ مکرمی دام مجدہ السلام علیکم
مسئلۂ امامت یاشیخ الاسلامی کےمتعلق مجھےجمہورکی موافقت کےسوائے
کوئی چارۂ کارنہیں ہے،جواندیشہ ہےوہ بارہااہل الرائےسے ظاہرکرچکا
ہوں ،باوجوداس کےپھربھی مسلمانوں کی تجویزکوبسروچشم قبول کرنے
کےلئےتیارہوں،خودمجھ سےبارہااس منصب کےقبول کرنےکی بعض
اہل الرائےنےخواہش کی مگرمیں نے اپنی عدم اہلیت کےباعث اس
امانت کاباراٹھانامنظورنہیں کیا،نہ آئندہ قبول کرنےکاارادہ ہے،مولانا
محمود حسن صاحب سےدریافت کیاتووہ بھی اس بارکےمتحمل نظرنہیں
آتے،مولاناابوالکلام صاحب اسبق و آمادہ ہیں ،ان کی امامت سے
بھی مجھے استنکاف نہیں ہے،بسروچشم قبول کرنےکےلئےآمادہ ہوں
،بشرطیکہ تفریق جماعت کااندیشہ نہ ہو ، مولاناتواہل ہیں اگرکسی نااہل
کوتمام یااکثراہل اسلام قبول کرلیں گے تومجھےوہ لوگ سب سے زیادہ
اطاعت گذاروفرمانبردارپائیں گے،اصل یہ ہےکہ یہ تحریک دیانتاًمیں
اپنی سمت سے جاری کرنانہیں چاہتا،نہ کسی کومنتخب کرکےاس کےاعمال
کااپنےاوپربارلیناچاہتاہوں،مسلمانوں کی جماعت کاتابع ہوں اس سے
زائدمجھےاس تحریک سےتعرض نہیں ہے۔ والسلام
بندہ فقیرمحمدعبدالباری
(یہ تحریر۲۰/ستمبر۱۹۲۰؁ء (۶/محرم الحرام ۱۳۳۹؁ھ)سے قبل کی ہے،اس لئے کہ مولاناآزادکےمکتوب (مرقومہ۲۰/ستمبر۱۹۲۰؁ء)میں اس خط کاذکرہے)
اس تفصیل سے ظاہرہوتاہے کہ دہلی میں جمعیۃ علماء ہندکےاجلاس دوم(۱۹تا۲۱/ نومبر۱۹۲۰؁ء بمقام نورگنج، زیرصدارت حضرت شیخ الہندؒ) سے قبل ہی بعض حلقوں میں امیر الہندکےانتخاب کی بازگشت سنائی دینےلگی تھی،اوربہت سےلوگ ذہنی طورپر اس کے لئے تیارہوکربھی آئےتھے،اوراس منصب کےلئےمتوقع قدآورشخصیات کےدرمیان باہم ذہنی اتحادبھی موجودتھا،اس لئےحضرت مولاناسجادؒ بجاطورپرپرامیدتھےکہ اجلاس دوم میں انتخاب امیرکامسئلہ حل ہوجائےگا،اورحضرت شیخ الہندؒ بھی اس قصہ کواپنی زندگی ہی میں تمام کرنا چاہتے تھے، لیکن جیساکہ گذراکہ حضرت شیخ الہندؒکی علالت کےعذربناپرانتخاب امیر کی تجویز ہی اجلاس عام میں پیش نہ کی جاسکی ،اورتقریباًایک ہفتہ کےبعدحضرت شیخ الہندؒ کاانتقال ہوگیا۔
حضرت مولانامعین الدین اجمیریؒ کااختلاف
البتہ بعض شواہدسے اندازہ ہوتاہےکہ حضرت شیخ الہندؒکےوصال کےبعد اورجمعیۃ علماء ہندکےاجلاس سوم لاہورسےقبل جمعیۃعلماء ہند کاایک ہنگامی اجلاس جامع مسجددہلی میں منعقد ہواتھا،اوراس کامقصد گوکہ اصلاًانتخاب امیرنہیں تھالیکن یہ تجویز اس موقعہ پر اچانک مجمع عام میں زیربحث آگئی ،اوراس کی حمایت ومخالفت میں تقریریں ہونے لگیں،بعض روایات سےمعلوم ہوتاہےکہ جب یہ تحریک اجلاس عام میں پیش کی گئی ،تونفس امارت شرعیہ کی تجویز میں توکوئی دشواری پیش نہیں آئی ،لیکن امیرالہند کے انتخاب کے مسئلہ پراختلاف ہوگیا،بعض حضرات نےکہاکہ اچانک بیعت امارت امت کےلئے مفید نہیں ہوگی ،پروفیسرمولانامنتخب الحق قادری ؒ(سابق ڈین آف فیکلٹی آف تھیالوجی کراچی یونیورسٹی)نے اپنےاستاذ مولانامعین الدین اجمیریؒ(جواس اجلاس میں شریک تھے) کےحوالےسےنقل کیا ہے:
"مولانا(معین الدین اجمیری ؒ)نےبغیرتاریخ اورسن کےذکرکےتذکرہ
فرمایا کہ کسی کوامام الہندماننےکی تجویززیرغورتھی،اس کےلیےپہلے
سے خط و کتابت بھی چل رہی تھی بعدازاں جامع مسجددہلی میں ایک
جلسہ ہوا جس میں تمام علماء ہندجمع ہوئے،اوراس موضوع پرنہایت
زوردارتقریریں ہوئیں اورسب نےاس تجویز سےاتفاق کیا،آخر
میں مولاناآزادؒ کی تقریر گویا حرف آ خر کا درجہ رکھتی تھی،جس
سےتمام حاضرین مسحورسےہوگئےاوریہ آوازیں بلندہوئیں کہ ہاتھ
بڑھایئے کی ہم آپ کےہاتھ پر بیعت کرتےہیں۔اس پرمیں نے
صدرجلسہ سےصرف پانچ منٹ کچھ کہنےکےلئےمانگےجوبہت مشکل
سےاس شرط کےساتھ ملےکہ چھٹا منٹ کسی صورت نہ ہونے
پائے۔میں نےکھڑےہوکرعرض کیا کہ علماء کےاس مؤقراجتماع
میں تفصیل میں جانےکی ضرورت نہیں ہےاورصرف اشارہ کافی
ہےمیں جملہ علماء کی توجہّ حضرت عمررضی اللہ عنہ کی اس تقریر
کی طرف مبذ ول کرانا چاہتا ہوں جو آ پ نےحج سےواپسی پر
اس قسم کاچرچاسن کر کی تھی کہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ اگر
حضرت عمر ؓ کا انتقال ہوگیا تو ہم فورًااوردفعۃً فلاں شخص کے ہاتھ
پربیعت کرلیں گے،حضرت عمر ؓنےحضرت عبدالرحمانؓ بن عوف
کوحکم دیا کہ لوگوں کو جمع کریں اور پھرفرمایاکہ”فلتۃ بیعۃ”امت
کےحق میں کبھی مفیدنہیں ہوگی،اگر لوگ حضرت ابوبکر ؓکی بیعت
سےاستدلال کریں گےتوبہت بڑی غلطی کا ارتکاب کریں گےاس
لئےکہ حضرت ابوبکرؓواحدشخصیت ہیں جن کےلئےاس قسم کی بیعت
خالی ازمضرت تھی۔انؓ کےعلاوہ کوئی دوسرا شخص ایساموجودنہیں
ہے ۔
میرےاس توجہ دلانے پر جلسے کا رنگ ایک دم تبدیل ہوگیا
میری تائیدمیں مولانا انورشاہ صاحب نے ایک نہایت غامض اور
دقیق تقریرفرمائی اورمولوی شبیر احمدعثمانی نےبھی میری تائید کی
اگر چہ اس سےپہلےوہ اصل تجویزکی تائیدمیں تقریرکرچکےتھے”
ڈاکٹراسراراحمدصاحب نےحضرت مولاناعبدالباری فرنگی محلی صاحبؒ کےنام حضرت مولانا معین الدین اجمیری ؒ کاایک نایاب خط نقل کیاہے،اس میں غالباًاسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے،اوراگلےلائحۂ عمل کے بارے میں مناسب مشورہ طلب کیاگیاہے:
ازدارالخیراجمیر
۲/ستمبر ۱۹۲۱؁ء
مرجع انام حضرت مولاناصاحب دامت برکاتہم
السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
والانامہ نےعزت بخشی،سابق والانامہ چونکہ جواب طلب نہ تھااس
وجہ سے تاریخ مقررۂ آں مخدوم کوذہن میں رکھ کرعریضہ حاضر
کرنے کی ضرورت نہ سمجھی کہ ۵ /محرم الحرام کے بعد حا ضر
خدمت ہو کر آں مخد وم کی ہمر کابی میں پنجاب روانہ ہوجاؤنگا۔ یہی
ارادہ اب بھی ہے،اطلا عاعر ض کیا گیا۔۔لیکن دہلی کے جلسہ جمعیۃ
علماء ہند کی شرکت نےاس سفر میں ایک جد ید مانع پیش کر دیا
کیونکہ اس کی تجویز کےمطابق ۱۷،۱۸/ ستمبر کو جلسہ منتظمہ قرار
پایاہے۔
اس میں ضبطئ فتوی ومسئلہ امامت پیش ہوگاجس کی طرف جناب
مولوی ابوالکلام صاحب کوبیحدرجحا ن ہے۔ چونکہ ان کواس مسئلہ
سےزیادہ دلچسپی ہےاس وجہ سے خالی الذہن علماء ان کی تقریر
سے متا ثر ہوئے۔
اگرمن جانب فقیراس کےالتواءکےمتعلق مختصروجامع تقریرنہ ہوتی
تو کچھ عجب نہ تھا کہ حا ضر ین علما ء اسی وقت اس مسئلہ کو طے کر
دیتے۔اس وجہ سےعلماء دہلی کا یہ خیال ہے کہ فقیر خصوصیت کے
ساتھ اس جلسہ میں شریک ہوادھرجناب مولوی شوکت علی صاحب
نزاع رنگون کےمتعلق زوردے رہے ہیں کہ فقیرجلدوہاں پہونچ کر
ان نزاعات کاتصفیہ کرائےجن کی وجہ سےوہاں کی کمیٹی خلافت کاوجود
خطر ہ میں ہے۔
اب میں حیران ہوں کہ کہاں جاؤں اورسفرکون ساپہلےاختیارکروں۔
اس کےمتعلق امروزوفردامیں آنمخدوم کی خدمت میں عر یضہ حاضر
کرنےوالاتھاکہ دفعۃً والانامہ نےشرف بخشا ، مناسب معلوم ہواکہ
اس کےجواب میں عرض حال کردیاجائےجوآنمخدوم کی رائےہوگی
اس پرعمل پیراہونےکےلیےبالکل تیارہوں فقط۔
فقیرمعین الدین کان اللہ لہ
اس خط سےمعلوم ہوتاہےکہ غالباًتیسرے اجلاس لاہورسےقبل اس مسئلہ پرغور کرنےکےلئے۱۷، ۱۸/ ستمبر۱۹۲۱؁ء کوجمعیۃ علماء ہندکی مجلس منتظمہ کاخصوصی اجلاس بھی منعقد کیاگیاتھا۔۔۔۔اس اجلاس میں کیاہوااس کی تفصیل معلوم نہیں ہے۔
جمعیۃ علماء ہندکےاجلاس سوم میں امیرالہندکامسئلہ
بہرحال حضرت شیخ الہندؒ کےانتقال کےبعد یہ مسئلہ مزیدپیچیدہ ہوگیاتھا،اور اختلافات کی خلیج تیزی کےساتھ بڑھنےلگی تھی،اگلے سال حضرت مولانا سجادؒ نے جمعیۃ علماء ہند کے اجلاس سوم (۱۸ /نومبر ۱۹۲۱؁ء (مطابق ۱۷/ربیع الاول ۱۳۴۰؁ھ بہ مقام بریڈلاہال لاہور، زیرصدارت حضرت مولانا ابو الکلام آزادؒ )میں دوبارہ یہ تحریک پیش فرمائی اوراس مسئلہ کو جلدازجلدحل کرنے پرزوردیا،ان کا خیال تھاکہ جتنی دیر ہوگی بڑی شخصیات اٹھتی جائیں گی اوریہ مسئلہ مزیدمشکل ہوتاچلا جائے گا،لیکن وہی ہواجس کااندیشہ تھا،اس اجلاس میں بھی امارت شرعیہ کے قیام کی تجویز سےتو اتفاق کیاگیا لیکن امیرالہندکےانتخاب کےمسئلہ میں اختلاف رونماہوگیا۔
بقول مشہورصحافی ملک نصراللہ عزیز(جومولاناآزادؒ کے قریب ترین لوگوں میں سمجھے جاتے تھے):
” ۱۹۲۱؁ء میں جمعیۃعلماء ہند کا جو اجلاس بریڈ لا ہال لاہور میں ہوا
تھااس موقع پر یہ خبر گرم تھی کہ مولانا ابوالکلام آزاد کو امام الہند
مان کر بیعت کی جائے گی۔لیکن بعد میں کچھ نہ ہوا۔اورمعلوم ہوا
کہ اندرون خانہ دیوبندی علماء میں سے مولاناشبیراحمد عثمانی اورغیر
دیوبندی علماءمیں سےمولانا معین الدین اجمیری نے شدت کےساتھ
اس کی مخالفت کی تھی
بالآخراختلاف کی بناپریہ طے کیاگیاکہ انتخاب امیرکےلئے ایک خاص اجلاس طلب کیاجائے،مگریہ خصوصی اجلاس بھی چنددرچندرکاوٹوں کاشکارہوگیا، اوربہت کم لوگ اس میں شریک ہوسکے ،جس کی بناپراس مسئلہ کوپھر کسی مناسب وقت کے لئے ملتوی کردیاگیا،اس کی پوری روداد خودحضرت مولاناسجادؒکی زبانی ملاحظہ فرمائیے:
” انہوں نےاجلاس جمعیۃ ۱۹۲۱؁ء میں امارت شرعیہ فی الہندکی تجویز
منظورکی،جوزیرصدارت حضرت علامہ ابوالکلام صاحب آزادمنعقدہواتھا
،اوراسی اجلاس میں امیرشریعت کےاصول کومنضبط کرنے اوربعض امورکی
تشریحات کےلئے ایک مجلس بنائی گئی ،اوراسی اجلاس میں یہ بھی طے پایاکہ
ایک ماہ بعدفوراًایک دوسراخصوصی اجلاس اس مسودہ کی منظوری اورانتخاب
امیرالہندکے لئے منعقد کیا جائے،مگرجس ہفتہ اجلاس خصوصی تھا،وہی
وقت حکومت کے جبرواستبداد کے کامل مظاہرہ اورقوم کےدلیرانہ مقابلہ
کاتھا،اورمولاناابوالکلام آزاد صاحب اور دوسرے علماء وغیرہ بھی گرفتار
ہوئےاورشایددشمنان اسلام کی طرف سے جابجا مختلف عنوانوں سے یہ
مشہورکیاگیاکہ اجلاس ملتوی ہوگیابات بھی لگتی ہوئی تھی،کیونکہ خاص خاص
مراکزمیں گرفتاریاں عام تھیں ، جن اراکین کے کانوں تک التواکی غلط آواز
پہونچی ،انہوں نےقرائن پر قیاس کرکےصحیح سمجھا،جس کانتیجہ یہ ہواکہ اتنے
ارکان نہ پہونچ سکے،جن کی موجودگی میں اجلاس منعقد ہوسکتا ہے، مگرپھر
بھی بعض حضرات علمائے اکابروبعض ارکان زعمائے ہند پہونچ گئے تھے،
مثلاً مسیح الملک حکیم اجمل خاں صاحب ، مولوی احمدصاحب سیکریٹری
آل انڈیا مسلم لیگ وغیرہ ،آخران حضرات کاباہمی مشورہ ہوااوراس مجلس
نے جوترتیب مشورہ کے لئے مرتب ہوئی تھی مسودہ مرتب ہوا۔۔۔ لیکن
افسوس کہ حالات نے مساعدت نہ کی اورعملی شکل اس نے اختیارنہیں کی ۔

امارت ہندکامکمل خاکہ تیار
حضرت مولاناسجادؒنےاپنےرفقاء کےساتھ مل کرامارت ہندکاایک جامع خاکہ بھی تیارکرلیا تھا،جس کوجمعیۃ علماء ہندنے”مسودہ فرائض واختیارات امیرالشریعۃ فی الہند” مع ” مفصل نظام نامہ امیرالشریعۃ”کےنام سے کتابی صورت میں شائع کیا،یہ سولہ (۱۶)صفحات کا رسالہ ہے جس میں امیرشریعت کے معیار،اہلیت ،اصول عزل ونصب اوردیگرقواعدوضوابط کو بڑی جامعیت کےساتھ مرتب کیاگیاہے،اصطلاحی القاب کی تشریحات بھی کی گئی ہیں،یہ مسودہ ربیع الثانی ۱۳۴۰؁ مطابق دسمبر۱۹۲۱؁ء میں تیارکیاگیاتھا اور ۱۳۴۱؁ھ مطابق ۱۹۲۳؁ء میں حمیدیہ پریس دہلی سے شائع ہوا۔
کل ہندامارت شرعیہ کےقیام میں رکاوٹیں
غرض حضرت مولاناسجادؒکی ہرممکن کوشش کے باوجودکل ہندامارت شرعیہ کا منصوبہ پورانہ ہوسکا،مولاناؒنےاس کےبعض اسباب اوررکاوٹوں پربھی روشنی ڈالی ہے:
٭اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ علماء کےدرمیان فروعی اختلافات کی خلیج تھی ، حضرت مولاناسجادؒکےایک مکتوب میں اس کی طرف اشارہ ہے:
"وہی فروعی اختلافات کاپہاڑجوہمیشہ اس راہ میں حائل تھا”
٭اورانہی اختلافات نےامیرشریعت کےبارےمیں یہ غلط تصورپیداکیاکہ امیرکی اطاعت مسلکی معاملات میں بھی کرنی پڑےگی،اورعلمی مسائل میں بھی اس سے اختلاف کی گنجائش نہ ہوگی،اپنےاسی مکتوب میں تحریرفرماتے ہیں:
"جو چیز ہمارے محترم علماء و مشائخ کواس امرکی طرف اقدام کرنے
سےروکتی ہےاورباوجوداقراروجوب وتحقق ضرورت اس امرکےانجام
دینےمیں سخت مترددومتفکربنادیتی ہےاورمشکلات کاپہاڑان کےسامنے
کھڑا کردیتی ہے،وہ صرف ایک غلط تخیل ہے کہ امیر شریعت کے
اختیارات غیرمحدودہوں گے،اتباع و اطاعت کی کوئی حدنہ ہوگی،امیر
مطلق العنان ہوگا،اوراس لئےامیرجس خیال ومشرب کاہوگا،اسی کے
مطابق احکامات نافذکرےگاجس کی اتباع تمام لوگوں پر شرعاًواجب
ہوگی،ورنہ بصورت عدم اتباع نقض بیعت ہوگی ، جو بدترین معصیت
ہےاوراگراپنی تحقیق کےخلاف اس صورت میں اتباع کی جائے توتدین
کےخلاف ،یہی خطرات ہیں جواس بارے میں اکثرحضرات کےدلوں
میں گذرتے ہیں۔
بیشک اگرامیرایسامطلق العنان ہوتوہرایک ذی علم اورمتدین شخص کے
یہ شبہات اپنےمقام پربہت صحیح ہیں ، مگر واقعہ یہ ہےکہ امیرکے
اختیارات محدودہونگے وہ نہایت مدبرمصالح شریعت سے واقف ہوگا،
یعنی وہ مسائل متفقہ منصوصہ کونافذکرے گا،۔۔۔
فروعی اورمختلف فیہ مسائل کے اجراء و تنفیذ کو اس سےکوئی تعلق نہ
ہوگا،کہ جن کی اجتماعی زندگی میں کوئی احتیاج نہیں ہے۔
مختلف فیہ مسائل کی بحث وتحقیق کو نہیں روکے گا،لیکن جنگ وجدال
اورفسادکورفع کرنےکی ہمیشہ کوشش کرے گا۔
اس کاہرعمل اورہرخیال تمام فرق اسلامیہ کےلئےواجب الاتباع نہیں
ہوگا،جس عالم کی تحقیق امیرکی تحقیق کےخلاف ہو اور اس بناپراس
مسئلۂ خاص میں امیرکی اتباع نہ کرے،توکوئی حرج نہیں ،وہ عالم ہرگز
مستحق طعن نہیں اورنہ اس کی بیعت ٹوٹ سکتی ہے،۔۔کیاآپ کومعلوم
نہیں کہ کتنے مسائل ہیں جن میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ ، حضرت عمرؓ
کےخلاف تھے،کتنی جزئیات ہیں جن میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ،
حضرت عثمان ؓ کےموافق نہ تھے،توکیاآج تک کسی نے اس کو نقض
بیعت سمجھا،یاان پرطعن کیاگیااورکیااس فروعی مخالفت کی وجہ سےان
حضرات نےدوسرے اجتماعی احکامات میں امیرکی اتباع وانقیادسےرو
گردانی کی؟ہرگزنہیں” ۔
٭حضرت مولاناسجادؒنےاپنے خطبۂ صدارت میں کچھ اورموانع کابھی ذکرکیاہے مثلاًتحریر فرماتے ہیں:
"شاید اس تعویق اور تاخیرمیں یہ مصلحت ہوکہ اس وقت ہندوستان
کےبہت سےارباب حل و عقد ، علماء وغیرہ قیدخانوں میں محبوس تھے
،اس لئے امارت کےقیام واستحکام کےلئے ان اصحاب کےباہرآجانےکی
ضرورت تھی ، تاکہ تمام یا اکثر ارباب حل وعقدعلماء وغیرعلماء غورو
فکر کےبعد ایک مضبوط بنیادپراس کوقائم کریں،کیونکہ اس کی بنیادتو
انسانی قلوب کی زمین پرہوتی ہےنہ کہ مٹی کےڈھیریاپہاڑوں کی چوٹیوں
پر،اوراس کاحصارواسلحہ خانہ تو صرف حقیقی ایمان ہےنہ کہ توپ وتفنگ
،اس لئے کہ قلوب کے انشراح کی ضرورت ہےاورانشراح کامل شایدکچھ
سکون ہی کی حالت میں ہوسکتاہےبشرطیکہ تدبروتفکرسےکام لیاجائے
صوبہ وارامارتیں قائم کرنے کی تجویزمنظور
بعدکے حالات کاذکرکرتے ہوئےرقمطرازہیں:
"بعدہ کچھ ایسے واقعات وحوادث پیش آئےکہ اس مسودہ پرمجلس منتظمہ
کوغورکرنے کاموقع نہیں ملا،اس بناپرجمعیۃ علمائے ہندکےاجلاس اجمیرمیں
یہ غورکیاگیاکہ امارت شرعیہ ہند کے قیام میں چونکہ بہ ہمہ وجوہ متعددہ
تعویق ہےاس لئےجب تک صوبہ وار جمعیتوں کو مخاطب کرتے ہوئے
ایک تجویزکےذریعہ ان کوہدایت دی کہ جلدازجلد صوبہ وارامارت شرعیہ
قائم کریں مگراکثرصوبوں کے ناظمین اس دورمیں اپنےصوبہ کے کاموں
کے ذمہ دارتھے،اس لئے غالباًاس تجویزپرعمل نہ کرسکے” ۔
امارت شرعیہ بہارکی بنیاد
اس تجویزکےمطابق ہندوستان کےکسی صوبہ میں توکوئی پیش رفت نہ ہوسکی ،البتہ اس تجویزنےحضرت مولاناسجادؒکے لئےکم ازکم صوبہ بہارمیں امارت شرعیہ کےقیام کی راہ آسان کردی،اوراس طرح بہارکووہ اولیت حاصل ہوئی جوکسی صوبہ کےحصہ میں نہیں آئی ، مولاناسیدمحمدمجتبیٰ صاحب ایم اے بی ایل آرگنائزرمحکمۂ دیہات سدھاربہار لکھتےہیں کہ:
"آئندہ مؤرخ کاقلم برسوں ان موشگافیوں میں مبتلارہےگاکہ امارت
شرعیہ کامحرک اصلی کون تھا؟اورہندوستان میں امارت شرعیہ کامستقل
قیام کیوں وجودپذیرنہ ہوسکا،اورشیخ الہندمولانامحمودالحسن مرحوم کی
عظیم شخصیت کے باوجودبھی امارت شرعیہ ہندیہ کانظام نامہ مستقل
لائحۂ عمل اختیار نہ کرسکا،نیزیہ کہ امام الاحرارحضرت مولاناؒکی تحریک
قیام امارت شرعیہ صوبۂ بہارمیں کیونکربارآورہوئی،اورخودامام الاحرار
بنگال میں جوان کا آج تک مستقرہے،صوبۂ متحدہ میں جہاں لکھنؤکے
فرنگی محل سےسراج منیر کی جھلک آرہی تھی،اوردہلی میں جہاں ان کا
وطن تھا،اورپنجاب میں جہاں کے مسلمان آج بھی دعوائے قیادت
اسلام رکھتے ہیں ،امارت شرعیہ کانظام قائم نہ ہوسکا،اورپھریہ سبب بھی
لائق تفتیش ہوگاکہ بہار ایسےصوبے میں جو اسلامستان ہندمیں پست
ترین صوبہ سمجھاجاتاہے کن کمزورہاتھوں نےامارت شرعیہ کانظام قائم
کردیا،جوآج بھی تمام خامیوں کےباوجودحیرت نگاہ بناہواہے،اورجس
نے مسلمانان ہند کے سامنے ہمیشہ مذہبی ،سیاسی نقطۂ نگاہ وپیرایۂ عمل
کوباربارتجربہ کرکےلائق تقلیدبنادیا” ۔
بہرحال حضرت مولاناسجادؒکےمنصوبہ سازذہن نےیہ پروگرام بنایاکہ جس طرح جمعیۃعلماء ہند کےقیام میں برسوں علماءاورقائدین پس وپیش میں مبتلارہے،لیکن جب ان کے عزم وہمت سےبہارمیں جمعیۃ علماءقائم ہوگئی تواس نمونے نے پورے ملک میں مہمیزکاکام کیا اوراس کی روشنی میں چندبرسوں کےاندرجمعیۃ علماء ہندبھی قائم ہوگئی،مولاناؒنے امارت شرعیہ کےلئےبھی یہی خطوط متعین فرمائے،اوربہارمیں امارت شرعیہ کےقیام کاعزم فرمالیا۔اس کا اظہارخودانہوں نےاپنےاس مکتوب میں کیاہےجوآپ نےقیام امارت کےدعوت نامہ کے طور پرعلماء ومشائخ بہارکےنام لکھاتھا:
"غالباًآپ کومعلوم ہوگاکہ جس زمانہ میں جمعیۃ علماء بہار جن اغراض
ومقاصدکولےکرقائم ہوئی وہ سرزمین ہندمیں اس جہت سےپہلی جمعیت
تھی،اس وقت علماء کرام اقدام سے گھبراتے تھے،حتیٰ کہ خودہمارے
صوبہ کےبہتیرے علماء پس وپیش میں مبتلاتھے،مگرآپ نے دیکھاکہ آپ
کےاقدام وجرأت کاکیانتیجہ برآمدہواکہ آخرمیں اس تین سال میں انہی
مقاصد کولےکرتقریباًتمام صوبوں میں جمعیۃ علماء قائم ہوگئی،اوروہی فروعی
اختلافات کاپہاڑ جوہمیشہ اس راہ میں حائل تھاکس طرح کافورہوگیا،پس
اسی طرح بہت ممکن ہےکہ بلکہ ظن غالب ہےکہ صوبۂ بہارمیں اسی کام
کے انجام پانےکےبعدان شاء اللہ تعالیٰ تمام صوبوں میں امیروں کاانتخاب
جلدازجلدعمل میں آئے گا،اورجس طرح جمعیۃ علماء ہند بعد میں قائم
ہوئی،اسی طرح امیرالہندبھی آخرمیں نہایت آسانی کے ساتھ منتخب ہو
جائے گا”
جمعیۃعلماءبہارکےاجلاس دربھنگہ میں قیام امارت کافیصلہ
حضرت مولاناسجادؒ نےپٹنہ پہونچ کرپہلےانفرادی طورپرمتعددعلماءومشائخ سےگفتگو کی اور پھر رجب المرجب ۱۳۳۹؁ھ مطابق مارچ ۱۹۲۱؁ء میں جمعیۃ علماء بہارکی مجلس منتظمہ کی میٹنگ پھلواری شریف میں طلب کی ،اس میٹنگ میں امارت شرعیہ کےعملی اقدامات کےلئے کئی اہم تجاویزمنظورکی گئیں،جن کاحاصل یہ تھا:
"۱۳۳۹؁ھ (جمعیۃ علماء بہارکا)اجلاس سوم بمقام دربھنگہ منعقد ہواوراس
اجلاس کی صدارت کے لئے مولانا ابوالکلام صاحب آزادکوتکلیف دی
جائےاورمولاناعبدالحمیدصاحب دربھنگہ(ناظم مدرسہ حمیدیہ)کی دعوت
قبول کی جائے،کہ جمعیۃ علماءبہارکاتیسرا اجلاس عام دربھنگہ میں ہو”
چنانچہ دربھنگہ میں جمعیۃ علماء بہارکااجلاس عام بتاریخ ۲۳ ،۲۴ /شعبان المعظم ۱۳۳۹؁ھ مطابق ۲، ۳/مئی ۱۹۲۱؁ء پورے شان وشکوہ کےساتھ منعقدہوا،داعی اجلاس مولانا عبدالحمید صاحب اورصدراستقبالیہ مولانامقبول احمدصاحب کی مخلصانہ اورپرجوش تگ ودوکی بدولت جلسہ بہت کامیاب رہا،البتہ مولاناابوالکلام آزادؒناگہانی علالت کےسبب تشریف نہ لاسکے،اس لئے باتفاق رائےجلسہ کی صدارت حضرت مولاناسیدشاہ محی الدین قادری ؒ(جوبعد میں امیرشریعت ثانی ہوئے)نےکی ،اس اجلاس میں باتفاق رائے درج ذیل تجویز منظورکی گئی کہ:
"جمعیۃ تجویزکرتی ہےکہ صوبہ بہارواڑیسہ کےمحکمۂ شرعیہ کےلئے
ایک عالم اورمقتدرشخص کاامیرہوناانتخاب کیاجائے،جس کےہاتھ
میں تمام محاکم شرعیہ کی باگ ہو اوراس کاہرحکم مطابق شریعت ہر
مسلمان کےلئےواجب العمل ہو،نیزتمام علماء ومشائخ اس کےہاتھ پر
خدمت وحفاظت اسلام کے لئے بیعت کریں،یہ بیعت سمع وطاعت
ہوگی،جوبیعت سلسلۂطریقت کےعلاوہ ایک ضروری اوراہم چیزہے،
یہ جمعیۃ متفقہ طور پر تجویز کرتی ہے کہ انتخاب امیرمحکمۂ شرعیہ کے
لئے ایک خاص اجلاس علماء بہارکابہ مقام پٹنہ وسط شوال میں منعقدکیا
جائے” ۔
اجلاس تاسیس امارت کےلئےدعوت نامہ(مکتوب)جاری
اس تجویزکےمطابق انتخاب امیرکےلئے بانکی پورپٹنہ میں جمعیۃ علماء بہارکےایک اجلاس خاص کی تاریخ ۱۸ ،۱۹/شوال المکرم ۱۳۳۹؁ھ روزشنبہ ویکشنبہ مطابق ۲۵ ،۲۶/جون ۱۹۲۱؁ء مقررکی گئی،ایک مضبوط مجلس استقبالیہ کاقیام عمل میں آیا،حضرت مولاناسید شاہ حبیب الحق صاحب سجادہ نشیں خانقاہ عمادیہ منگل تالاب پٹنہ صدرمجلس استقبالیہ ، جناب حکیم عبدالحی صاحب پروفیسرطبیہ کالج پٹنہ ناظم،اورمولانااعتمادحسین صاحب امام مسجد لون پٹنہ خازن منتخب ہوئے،اوراجلاس خصوصی کی صدارت کےلئےحضرت مولاناابوالکلام آزادؒ کااسم گرامی منظور ہوا ،اورمفکراسلام حضرت مولاناسجادؒنےبحیثیت ناظم جمعیۃ علماء بہاردفترجمعیۃ علماء بہار مدرسہ انوارالعلوم گیابہارسےعلماء ومشائخ بہارکےنام دعوت نامہ جاری فرمایا،جس میں قیام امارت کی شرعی ذمہ داری اورامیرشریعت کی اہلیت ومعیاراور قیام امارت کے سلسلے میں بعض شبہات اورموانع پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی گئی ،اس پر۶/ شوال المکرم ۱۳۳۹؁ھ (مطابق ۱۳/ جون ۱۹۲۱؁ء)کی تاریخ درج ہے،یہ آٹھ(۸)صفحات کاتفصیلی مکتوب ہےجو "العدل پریس” بانکی پورمرادپور پٹنہ سے شائع ہوا،حضرت مولاناعبدالصمدرحمانی ؒ کی "تاریخ امارت” میں بھی یہ مکمل مکتوب موجودہے،بعدمیں جب امارت شرعیہ پٹنہ سے”مکاتیب سجاد”شائع ہوئی تو اس میں اس مکتوب کوبھی شامل کیا گیا،البتہ مکاتیب سجادمیں مکتوب کی تاریخ اورمقام کاذکرنہیں ہے،اسی طرح مکتوب میں اجلاس جمعیۃ علماء بہاردربھنگہ کی تجویزکاحوالہ دیاگیاتھا،وہ بھی مذکور نہیں ہے،نیزحضرت مولاناؒکےنام کےساتھ "ناظم جمعیۃ علماء بہار” کا لاحقہ بھی موجودنہیں ہے ،مکاتیب سجادمیں یہ مکتوب آٹھ(۸) کے بجائے دس(۱۰) صفحات میں ہےاورترتیب کے لحاظ سےپہلا مکتوب یہی ہے۔
حضرت مولاناسجادؒکاتاریخی مکتوب
اس مکتوب کاآغازدعوت نامہ کےمضمون سےہواہے،پھرامارت شرعیہ کی شرعی حیثیت اورعہدحاضرمیں اس کی ضرورت واہمیت کی طرف قلم کارخ پھرگیاہے،اس کےبعد تاریخی پس منظرکےحوالےسےہم پرکیاذمہ داریاں عائدہوتی ہیں،ان پرعلمی بحث کی گئی ہے ، اس راہ کی دشواریوں کابھی ذکرہے،شبہات کاازالہ بھی کیاگیاہے،امیرشریعت کےمعیارو اہلیت اورطریق انتخاب پربھی روشنی ڈالی گئی ہے،غرض یہ پورا مکتوب امارت شرعیہ کے مباحث میں علمی شاہ کلید کی حیثیت رکھتاہے،اورحضرت مولاناسجادؒکےفکرعمیق اورسوزدروں کاعکاس ہے، یہ پوراخط دل کی آنکھوں سےپڑھنے اورآب زریں سےلکھنےکےلائق ہے،اس لئےباوجودطویل ہونےکے اس کومکمل نقل کرنامناسب معلوم ہوتا ہے:

حضرت مولاناسجادؒ کامکتوب دعوت جوتاسیس امارت شرعیہ کےلئےدفترجمعیۃ علماء بہارسے جاری کیاگیا ۔
(صفحۂ اول )بشکریہ حضرت مولاناشاہ ہلال احمدقادری خانقاہ مجیبیہ پھلواری شریف۔

دعوت نامہ کاآخری صفحہ
دفترجمعیۃ علماء بہار
مقام گیا
محررہ ۶/شوال المکرم
محترمی ! زادمجدکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جناب کوجمعیۃ علمائے بہارکےغیرمعمولی اجلاس کی شرکت کی دعوت نہایت
خلوص کےساتھ دےرہاہوں اورجس اہم مقصدکی غرض سےخاص اجلاس
قرار پایاہے میں نہایت مناسب سمجھتاہوں،کہ اس کےمتعلق مختصراًشرعی
حیثیت سےاپنےخیالات ظاہرکردوں تاکہ کسی قسم کی غلط فہمی باقی نہ رہے،
اوراس مسئلہ کےمتعلق جس قدرشکوک واوہام ہیں زائل ہوجائیں۔
جناب اس مسئلہ کی ضرورت واہمیت سےیقیناًباخبرہونگےکہ جب مسلمانوں
کےبلادپرکفارکااستیلاءوغلبہ ہوجائےتومسلمانوں پرواجب ہےکہ اپنےنظام
شرعی کےقیام وبقاکےلئےمسلم والی(امیرمحکمہ شرعیہ)منتخب کریں۔تقریباً
ڈیڑھ سوبرس کازمانہ گذراکہ مسلمانان ہندپریہ فرض عائد ہوگیاہےیعنی جب
سے حکومت اسلامیہ کازوال سرزمین ہندسے ہوا،لیکن غفلت وتساہل ،باہمی
تحالف یاعدم مساعدت اسباب کی وجہ سےمسلمانان ہندنےاس اہم فریضہ کی
ادائیگی کی طرف توجہ نہیں کی جس کالازمی نتیجہ وہی ہواجوہوناتھا۔۔۔کیاآج
مسلمانان ہند کی زندگی باہمہ زہدوتقویٰ حقیقتاًایک غیرشرعی اورجاہلیت کی
زندگی نہیں ہے؟
ہم نےشخصی اوراجتماعی زندگی ونیزان کےاحکام کی طرف کبھی توجہ نہیں کی،
ان سب کی اہمیت کوکبھی مدنظرنہیں رکھا،ہم نےصرف اداکاریٔ فرائض
شخصی کوبغیرتنظیم شرعی سعادت عظمیٰ سمجھااورباعث نجات ،جوایک طرح
پررہبانیت ہے اورمعبر بجاہلیۃ۔
اس اہم فریضہ کی ادائیگی میں ہم سے آج تک جوکوتاہی ہوئی ہےاس سےبری
الذمہ ہونےکےلئےعنداللہ کوئی عذرمعقول نہیں ہے،آپس کی جنگ وجدل
،فروعی اختلافات کاہونا،اورحضرت امام ابوحنیفہ ؒ،امام بخاریؒ،یاحضرت عمربن
الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم کےامثال ونظائرکا فقدان عذرغیرمقبول ہے،اور
مسقط وجوب نہیں،کمالایخفیٰ۔۔کیونکہ اول الذکرشےء اختیاری اورخودساختہ
ہے اور ثانی الذکر کےغیرمعتبر ہونےکےلئےنظیرسلف موجودکہ امامت
عظمیٰ کی شرائط میں بھی حسب ضرورت تنزل اختیارکیاگیا،مگریہ صورت اختیار
نہیں کی گئی کہ بصورت فقدان جامع الشرائط اصلی وجوب انعقاد وامامت ساقط
ہے،پس جب کہ آج ہم لوگوں کوتنبہ ہوگیاہےاورتوفیق اللہ جل شانہ نےبھی
مساعدت کی ہےتواب فریضہ کی ادائیگی میں ادنیٰ تساہل بھی بدترین جرم ہے،
اور بالخصوص بہ نظرحالات موجودہ اورحوادث لاحقہ جوغالباًبہت جلدظہور
پذیر ہوں ،اب اس کاموقع بھی باقی نہیں ہے کہ کچھ اورتاخیرکی جائے،بلکہ ہم
پرواجب ہےکہ اس اہم امر کوفوراًانجام دیتے ہوئےاس تیزی سے قدم اٹھائیں
کہ برسوں کی مسافت مہینوں اورمہینوں کی دنوں اوردنوں کی لمحوں میں طے
پاجائےورنہ یادرکھئے کہ اگرخدانخواستہ آج بھی ہماری جماعت کےتنافس و تفاخر
کاپہاڑ،فروعی اختلافات کی خلیج اس راہ میں حائل ہوئی توسرزمین ہندمیں جوآج
ہماری حالت ہورہی ہے،اس سےبھی بدترہوجائے گی،اورہمارےعلماء ومشائخ
کی یہ محترم جماعت اپنےطرزعمل سےتمام دنیاپرثابت کردےگی کہ ان میں کام
کرنےکی صلاحیت نہیں ہے،اورپھراس جماعت کےلئےاس کےسوااورکوئی چارہ
نہیں ہےکہ اصلاح امت ووراثت ابنیاء کےدعوؤں سےہمیشہ کےلئےدستبردار
ہوجائے ،اور جرأت کرکےنہایت صفائی کےساتھ اعلان عام کردےکہ ہم
میں امت کی رہبری کی صلاحیت نہیں ،اپنارہنماکسی اورکوتلاش کرے۔
محترما!جناب کومعلوم ہےکہ امت کی ہدایت اوراس کی فلاح وبہبودکاخیال،نظام
شرعی کا قیام وبقا وغیرہ کی ساری ذمہ داریاں عنداللہ کس جماعت پرعائدہوتی
ہے؟ علماء کرام وذی علم مشائخ صوفیائے عظام اورصرف انہیں پر،کہ یہی
حضرات قدرتاً اور من اللہ تعالیٰ مسلمانوں کےقائد ہیں رہنمائی کی تمام ترذمہ
داری انہی حضرات کےسرہے۔یہی حضرات شرعاًارباب حل وعقد ہیں ،اس
لئے اس اہم امرکابحسن وخوبی انجام دینابھی صرف انہی کاکام ہے،اوراس کے
لئےجس قدربھی ایثاروقربانی کی ضرورت ہواورمشکلات کاسامناپڑے،نہایت
دلیری کےساتھ برداشت کرنی چاہئےاورمیرے نزدیک تویہ مسئلہ نہایت سہل
الحصول ہے،صرف اپنےذاتی اغراض اورشخصیت کوقربان کرنا ظنون فاسدہ و
اوہام کاسدہ کا دورکرناکافی ہے،پھرخدااوراپنےدین اسلام کےلئےایک متحدہ
مقصد میں متفق الخیال والعمل ہوناچاہئے۔۔جو چیزہمارے محترم علماء ومشائخ کو
اس امر کی طرف اقدام کرنےسے روکتی ہےاورجوباوجوداقراروجوب وتحقیق
ضرورت اس امرکےانجام دینےمیں سخت متردد ومتفکربنادیتی ہےاورمشکلات
کا پہاڑ ان کے سامنے کھڑا کردیتی ہے وہ صرف ایک غلط تخیل ہےکہ امیر
شریعت کےاختیارات غیرمحدودہونگے،اتباع واطاعت کی کوئی حد نہ ہوگی ،امیر
مطلق العنان ہوگا،اوراس لئےامیرجس خیال ومشرب کاہوگااسی کےمطابق
احکامات نافذ کرے گا، جس کی اتباع تمام لوگوں پرشرعاًواجب ہوگی ،ورنہ
بصورت عدم اتباع نقض بیعت ہوگی،جوبدترین معصیت ہےاوراگراپنی تحقیق
کےخلاف اس صورت میں اتباع کی جائےتوتدین کےخلاف،یہی خطرات ہیں،
جواس بارے میں اکثرحضرات کےدلوں میں گذرتے ہیں۔بےشک اگرامیر
ایسامطلق العنان ہوتوہرایک ذی علم اورمتدین شخص کےیہ شبہات اپنےمقام
پربہت صحیح ہیں،مگرواقعہ یہ ہےکہ:
۱-امیرکےاختیارات محدود ہونگے،وہ نہایت مدبر،مصالح شریعت سے واقف
ہوگایعنی مسائل متفقہ منصوصہ کونافذ کرےگا۔
۲-مقاصد ومسائل اعلاء کلمۃ اللہ پر ہمیشہ نگاہ رکھے گا، اور ان کے متعلق
خصوصیت کےساتھ احکامات نافذکرتارہےگا۔
۳-وہ ایسے احکامات نافذ کرے گاجس سے بلاامتیازفرق تمام امت مسلمہ کی
فلاح وبہبودمتصورہو۔
۴-فروعی ومختلف فیہ مسائل کےاجراء اورتنفیذ کواس سے کوئی تعلق نہ ہوگاکہ
جن کی اجتماعی زندگی میں کوئی احتیاج نہیں ہے۔
۵-مختلف فیہ مسائل کےبحث وتمحیص کونہیں روکےگا،لیکن جنگ وجدال اور
فسادکودفع کرنےکی ہمیشہ کوشش کرے گا۔
۶-اس کاہرعمل اورہرخیال تمام فرق اسلامیہ کےلئےواجب الاتباع نہیں ہوگا
، جس عالم کی تحقیق امیرکی تحقیق کےخلاف ہواوراس بناپراس مسئلۂ خاص میں
امیرکی اتباع نہ کرےتوکوئی حرج نہیں وہ عالم ہرگزمستحق طعن نہیں ،اورنہ
اس کی بیعت ٹوٹ سکتی ہے،کیاآپ کومعلوم نہیں کہ کتنے مسائل ہیں جن میں
حضرت عبداللہ بن عمرؓحضرت عمرؓ کےخلاف تھے،کتنی جزئیات ہیں جن میں
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ حضرت عثمان ؓ کےموافق نہ تھے،توکیاآج تک کسی نے
اس کونقض بیعت سمجھایاان پرطعن کیاگیا،اورکیااس فروعی مخالفت کی وجہ سے
ان حضرات نےدوسرےاجتماعی احکامات میں امیرکی اتباع وانقیادسے روگردانی
کی؟ہرگزنہیں۔پس آج کس قدرہماری بدنصیبی ہےکہ ہم ان مسائل کوجانتے
ہیں لیکن محض ظنون واوہام کی بناپرایک اہم الواجبات کی ادائیگی میں پس وپیش
کرتےہیں۔
محترما!اگرہماراایمان ہے ان صلوٰتی ونسکی ومحیای ومماتی للہ
رب العالمین اورہم اصلاح وحیات امت کی ذمہ داری اپنےسرسمجھتے ہیں،
توپھرہمیں اس فریضہ کی ادائیگی میں ہرگزپس وپیش نہ کرناچاہئےاوراپنی ذات
وایمان پراعتمادرکھتےہوئے توکلاًعلی اللہ فوراًاس کام کوانجام دیناچاہئے۔
چنانچہ بعد غور وخوض بحمداللہ جمعیۃ علماء بہاراس کی طرف سب سےپہلےمتوجہ
ہوئی ، اوربتاریخ ۲۴/شعبان ۱۳۳۹؁ھ بمقام دربھنگہ جمعیۃ کےتیسرےسالانہ
اجلاس میں اس مسئلہ کےمتعلق مندرجہ ذیل تجویزیں بالاتفاق منظورہوئیں۔
(اس کے بعد وہی تجویز نقل کی گئی ہےجواوپراجلاس دربھنگہ کےضمن میں
آچکی ہے)
اور اسی لئے بتاریخ ۸ ،۹/شوال المکرم ۱۳۳۹؁ھ روزشنبہ ویکشنبہ مطابق ۲۵ ،
۲۶ /جون ۱۹۲۱؁ء بمقام بانکی پور حسب مشورہ ارکان جمعیۃعلماءبہارکاایک غیر
معمولی اجلاس ہوناقرارپایاہے،جناب سےنہایت خصوصیت کےساتھ گذارش
ہے کہ وقت کی نزاکت اورضرورت کی اہمیت کاخیال فرماکرضروربالضروراس
اجلاس میں شرکت کی تکلیف گوارافرمائیں۔
محترما!اس مسئلہ کےمتعلق فطرتاًدوسوال پیداہوتے ہیں جن کاجواب دیدینابھی
ضروری سمجھتاہوں۔
اول یہ کہ ہندوستان کےتمام صوبوں میں صوبۂ بہارہی سب سےپہلےاس طرف
کیوں قدم اٹھاتاہےاورامیرالہندکامسئلہ اولاًکیوں نہیں طےہوتاہے؟
دوم یہ کہ موجودہ وقت میں اس صوبہ کےامیرکےلئے کیاکیاشرائط ہونا چاہئے،
انتخاب کن اصولوں پرہوگا؟امیرکاطریق کارکیاہوگا؟
اول کاجواب یہ ہےکہ انسب تویہی تھا کہ سب سےپہلےامیرالہندکاانتخاب ہوتا
بعدہ امیرصوبہ کاتعین وتقرر،لیکن مسلمانان ہندکی بدقسمتی کوکیاکیجئےکہ وہ ابھی
اصل مرکز کے بنانے کوتیارنہیں ،ایسی صورت میں سوائے اس کےچارۂ کار
نہیں کہ صوبہ وارامیروں کاانتخاب کرلیاجائےکیونکہ ہندوستان کاتساہل ہمارے
لئےعذرنہیں ہوسکتا،ہندوستان کی معصیت ہمارےعصیاں پرقائم رہنےکی
حجت نہیں ہوسکتی،کیاجناب کومعلوم نہیں یہ حکم مستقلاًہربلدپرعائدہےاوراس
مسئلہ کو فقہاء کرام نےصرف ملک ہی تک محدودنہیں رکھاہے،غالباًآپ کو
معلوم ہوگاکہ جس زمانہ میں جمعیۃ علماء بہارجن اغراض ومقاصدکولےکرقائم
ہوئی،وہ سرزمین ہندمیں اس جہت سےپہلی جمعیۃ تھی،اس وقت علماء کرام اقدام
سے گھبراتے تھے،حتیٰ کہ خودہمارے صوبہ کےبہتیرےعلماء پس وپیش میں مبتلا
تھے ، مگر آپ نےدیکھاکہ آپ کےاقدام وجرأتکاکیانتیجہ برآمدہوا،کہ آخر
اس تین سال میں انہی مقاصد کو لے کرتقریباًتمام صوبوں میں جمعیۃ علماء قائم
ہوگئی، اوروہی فروعی اختلافات کاپہاڑجوہمیشہ اس راہ میں حائل تھا،کس طرح
کافور ہوگیا ،پس اس طرح بہت ممکن ہےبلکہ ظن غالب ہےکہ صوبہ بہارمیں
اس کام کے انجام پانے کے بعدان شاء اللہ تعالیٰ تمام صوبوں میں امیروں کا
انتخاب جلدازجلدعمل میں آجائےگا،اورجس طرح جمعیۃ علماء ہندبعدمیں قائم
ہوئی اوراسی طرح امیرالہندبھی آخرمیں نہایت آسانی کےساتھ منتخب ہوجائے
گا۔
امر دوم کا جواب یہ ہےکہ چونکہ یہ کام شرعی اورسیاسی نقطۂ نظرسےانجام دینا
ہے،اس لئے ہرپہلوکالحاظ ضروری ہےپس اس قحط الرجال کےزمانہ میں اغراض
و مقاصد شریعت کو مد نظررکھ کرمیرےنزدیک جن شرائط کےساتھ امیرکا
انتخاب ہوناچاہئے،وہ حسب ذیل ہیں،مجھےامیدہےکہ آپ بھی پسندکریں گے:
۱-عالم باعمل صاحب فتویٰ جس کاعلمی حیثیت سے زمرۂ علماء میں ایک حدتک
وقار و اثرہو،تاکہ علماء کرام اس کےاقتدارکوتسلیم کریں،اورصاحب بصیرت
ہوتاکہ نہایت تدبیر کےساتھ احکامات نافذکرے۔
۲-مشائخ طریقت میں بھی صاحب وجاہت ہو،اوراس کےحیطۂ اثرمیں اپنے
صوبہ کےمسلمانوں کی ایک معتدبہ جماعت اس حیثیت سےموجود ہوکہ عوام
و خواص اس کےاثرسے متأثرہوں،اورتنظیم شرعی واجتماعی قوت جلدسےجلد
پیداہوسکے۔
۳-حق گوئی و حق بینی میں نہایت بےباک ہواورکسی مادی طاقت سےمتأثرو
مرعوب ہونےکابظاہراندیشہ نہ ہو۔
۴-مسائل حاضرہ میں بھی ایک حدتک صاحب بصیرت ہواورتدبیرکےساتھ
کام کررہاہو،تاکہ ہماراکام بحسن وخوبی تیزی کےساتھ آگےبڑھے۔
۵-لاپروائی اورخودرائی کےمرض سے پاک ہو۔
میرے نزدیک اسی قدرشرائط موجودہ وقت میں مع لحاظ احکام شریعت بہت کافی
ہیں،بلکہ یہ وہ معیارہےجس کی بناپرشایدصوبۂ ہٰذامیں دوہی ایک آدمی مل سکتے
ہیں ،ورنہ آپ کومعلوم ہےکہ شرائط اجتہادعرصہ مدیدسےامام اورمفتی کے
لئے بھی (مجبوراً)غیرضروری قرارپاچکےہیں۔
٭اب رہااصول انتخاب توظاہرہے کہ یہ کام شرعاًارباب حل وعقدکاہے،جس
کے مصداق علماء کرام وذی علم مشائخ ہیں اوریہ حق شرعاًانہیں کوحاصل ہےاس
کے بعدعوام کافرض انقیادواتباع ہے۔اوریہ بھی ظاہرہےکہ تمام صوبہ کےہر
عالم اور ہرشیخ طریقت وکل ارباب حل وعقدکاوقت انتخاب موجودرہنایاکل کا
اتفاق کرنابھی ضروری نہیں ،خلیفۂ اول کاانتخاب آپ کےپیش نظرہے،کہ بغیر
موجودگی تمام ارباب حل وعقد انتخاب عمل میں آیااوراس کی صحت پراجماع
ہوا،بلکہ تمام اہل مدینہ وبلاداسلامیہ میں انتخاب کئےجانےکااعلان بھی نہیں ہوا
تھا۔ پس جمعیۃ کے اعلان عام ودعوت خاص کےبعدجس قدربھی علماءومشائخ
تاریخ مقررہ پرمجتمع ہوکرانتخاب فرمالیں گے،شرعاًوہ بالکل درست ہوگااوربقیہ
حضرات پرتسلیم وانقیادواجب۔
٭طریق کارامیرکایہ ہوگاکہ چندچیدہ چیدہ علماءکی ایک مجلس شوریٰ ہوگی،جن
سے مشاورت کے بعدباصول شریعت امیرفیصلہ کرےگا،اوراحکامات جاری
کرےگا،جن کی نظیریں قرون اولیٰ کےاندرموجودہیں۔
محترما! اب آخر میں مکررجناب سےگذارش ہےکہ ان جمیع معروضات کوغور
سے مطالعہ فرمائیے،اگرآپ کواس سے اتفاق ہوتواسی معیارکےمطابق ہمارے
صوبہ میں جن حضرات کوآپ اہل سمجھتے ہوں اوربہترسمجھتے ہوں،مہربانی فرماکر
ان سے بھی استمزاج کرکےآپ تشریف لائیں، اوراس کےمعیارکےعلاوہ اس
سے کوئی بہتر معیار نظربہ حالات حاضرہ باصول شریعت جناب کےخیال میں
آئے تو۱۴/شوال المعظم ۱۳۳۹؁ھ تک مجھ کومطلع فرمائیں۔وماتوفیقی الا
باللہ وعلیہ توکلت والیہ انیب فقط والسلام مع الاکرام ۔
الملتمس
خادمکم ابوالمحاسن محمدسجادکان اللہ لہ
ناظم جمعیۃ علماء بہار ” ۔
دعوت نامہ کااستقبال
حضرت مولانامحمدسجادؒکےاس مدلل مکتوب کےگہرےاثرات مرتب ہوئے، مولاناعبدالصمدرحمانی ؒکےالفاظ میں:
"مولاناؒ کایہ مکتوب صاعقۂ حق تھاکہ جس نےشبہات کےخرمن کو
جلادیا،اعلاء کلمۂ حق تھاجس نےخشیت رکھنےوالےدلوں کوکپکپادیا
،پیمبرانہ صدائے حق کےاسوۂ حسنہ کی اتباع تھی،جس میں صفائی
کےساتھ بلاخوف لومۃ لائم علماء اور صوفیاء اورتمام ذمہ داروں کو
متنبہ کردیاگیا”
ہر طرف سےاس دعوت نامہ کااستقبال کیاگیا اورعلماء ومشائخ نےاس کے مثبت جوابات دئیے، یہاں بطورنمونہ بہارکی تین(۳) مشہورشخصیات کےجوابات نقل کئے جاتے ہیں:
حضرت مولاناسیدشاہ محمدعلی مونگیریؒ کاجواب
٭اس دعوت نامہ کاسب سے پہلاجواب خانقاہ رحمانی مونگیراوردارالعلوم ندوۃ العلماءلکھنؤ کےبانی،قطب العالم حضرت مولاناسیدمحمدعلی مونگیریؒ (۱۸۴۶؁ء – ۱۹۲۷؁ء) کی جانب سے موصول ہوا،مولانا عبدالصمدرحمانی ؒ صاحب کابیان ہےکہ:
"مولاناکاخط جب مونگیرپہونچااورآپ کوپڑھ کرسنایاگیاتوآپ بے
تاب ہوگئے، اور فوراًاپنےنواسہ حضرت مولانامحمداسحاق صاحب
رحمانی کو طلب فرمایا اور جواب لکھوایا اوراپنےدست خاص سے
باوجودضعف ونقاہت کےدستخط فرمائے ، جو دفتر امارت شرعیہ
میں محفوظ ہے ۔
مکتوب گرامی کےالفاظ یہ ہیں:
” السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کامطبوعہ خط اوراشتہارپہونچاآپ کی جمعیت اسلامی اورعلوہمتی
اوردینی مستعدی سےنہایت مسرت ہوئی ،آپ کی باتیں توطبیعت کو
ایسا بھاتی ہیں کہ جس سےدل بےچین ہوگیا،مگرمیری حالت نےایسا
مجبورکررکھاہے،کہ اب میں کسی کام کانہیں ہوں ،ضعف کےسوا کچھ
حالت قلبی ایسی ہے،جس نے بالکل بیکار کردیا ہے ،جنون کی سی
کیفیت ہے،اب بہ جزاس کے کہ قلب میں اس حالت کودیکھ کر درد
ہواوربےقراری ہواورکچھ نہیں ہوسکتا،اللہ تعالیٰ آپ کو اپنےمقاصد
میں کامیاب فرمائے،آمین۔
ان شاء اللہ تعالیٰ جلسہ کے وقت اپنے نواسہ کوبھیج دوں گا اورتوکوئی
میرے پاس نہیں ہے،میرے ذہن میں کچھ باتیں آتی ہیں مگرقائم
نہیں رہتیں،نکل جاتی ہیں،اس لئےمیں اس وقت اس کےمتعلق کچھ
نہیں لکھتا،اگرآپ آجائیں تواس وقت زبانی گفتگوہوجائے۔ والسلام
محمدعلی
ازخانقاہ رحمانیہ مونگیر- ۱۱/شوال ۱۳۳۹؁ھ
حضرت مولاناشاہ بدرالدین پھلوارویؒ کاجواب
٭دوسرااہم ترین خط خانقاہ مجیبیہ کےسجادہ نشیں بدرالکاملین حضرت مولاناشاہ بدرالدین پھلوارویؒ کی طرف سے وصول ہوا ،گوکہ تاریخ ارقام کےلحاظ سے خانقاہ مجیبیہ کا جواب خانقاہ رحمانی سے پہلےلکھاگیا ہے،اس لئے کہ شاہ بدرالدین صاحب کےخط پر۱۰/شوال کی تاریخ درج ہے،لیکن مولاناعبدالصمدرحمانیؒ کےبیان سے اندازہ ہوتاہے کہ اس کےپہونچنے میں تاخیرہوئی،غالباًاجلاس سے ایک دن قبل وصول ہوا ، حضرت مولاناشاہ بدرالدین صاحب نےارقام فرمایا:

حامیٔ ملت جناب مولوی محمدسجادصاحب دام اکرامکم !
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
میں جمعیۃ علماء بہار کےاس جلسہ میں حاضرہونےسےمعذورہوں اور
اس تحریرکےذریعہ سےاپنی رائے ظاہرکردیتاہوں۔
محکمۂ شرعیہ کےامیرکےلئےمیری رائےمیں جوپانچ صفات ہونی بتائی
گئی ہیں،بہت مناسب ہیں،اس صوبۂ بہارمیں ان صفات سےموصوف
اس وقت جناب مولاناشاہ محمدعلی صاحب رحمانیؒ کےسوادوسرےکسی
کو میں نہیں پاتا۔اس لئے میری رائے ہےکہ اس منصب پروہی مقرر
کئےجائیں اگرعلالت مزاج کےعذرسےوہ تشریف نہ لائےہوں توان
کاموجودرہنااس جلسہ میں ضروری نہیں ان کےمنتخب ہوجانےکےبعد
کوئی شخص ان کی نیابت کرےاورحاضرین سےامربالمعروف اورنہی
عن المنکر میں ان کی اطاعت کااقرار لےلےاورتہذیب اخلاق کے
متعلق ان کے نصائح کوبہ قدروسعت مان لینےکااقرارلے،تویہ کافی
ہےاوراگرعلماء ومشائخ حاضرین مختلف کئی لوگوں کانام لیں تواختلاف
کی حالت میں جس کواکثرلوگ منتخب کریں میں اکثرکی رائےکو قبول
کروں گا۔ والسلام
محمدبدرالدین پھلواری
۱۰/شوال ،جمعہ ۱۳۳۹؁ھ
حضرت مولاناشاہ سلیمان پھلوارویؒ کی تائید
٭اس موقعہ پرپھلواری شریف کی شہرۂ آفاق شخصیت اورملک گیرخطیب حضرت مولاناشاہ سلیمان پھلواروی ؒکاذکربھی بطور خاص کیاجاناچاہئےکہ حضرت مولاناسجادؒکی تحریک امارت کی حمایت کرنےوالے اہم علماء ومشائخ کےہراول دستہ میں حضرت شاہ صاحبؒ کی شخصیت بھی تھی ،حضرت شاہ صاحب ؒ مولاناسجادؒکےقدیم سرپرستوں میں تھے،چندسال قبل (۱۹۱۷؁ء میں)جب مولاناؒ نے جمعیۃ علماء بہارکی تحریک شروع کی تھی اس وقت بھی سب سے پہلےشاہ صاحبؒ ہی نےمولاناسجادؒکےسرپربزرگانہ دست شفقت رکھاتھا،اوربہارشریف کے اجلاس جمعیۃ میں بنفس نفیس تشریف لاکراس تحریک کوتقویت بخشی تھی،نیزجمعیۃ کا دوسرا اجلاس بھی پھلواری شریف میں شاہ صاحبؒ کی راست سرپرستی میں انجام پایاتھا،تحریک امارت میں بھی شاہ صاحب ؒنے مولاناسجادؒکی پرزور تائیدفرمائی تھی ،لیکن بعدمیں(غالباًامیر شریعت ثانی حضرت مولاناشاہ محی الدین پھلواروی ؒ کےدورامارت میں ) بعض وجوہات کی بناپر وہ اس تحریک سےبلکہ خودحضرت مولاناسجادؒسےبھی علٰحدہ ہوگئےتھے، مولانا سجادؒ کے تلمیذ رشیدمولانااصغر حسین بہاری ؒ کابیان ہے:
"جب حضرت استاذ(مولاناابوالمحاسن محمدسجادؒ)نےامارت شرعیہ بہار
کی تمہید اٹھائی توحضرت شاہ صاحب مرحوم(حضرت مولاناشاہ سلیمان
پھلوارویؒ)نے اس کی تاسیس وتعمیرمیں ساتھ دیا،لیکن امارت کے
دوسرے دورکےبعدخیال نے پلٹاکھایاجس کےباعث دونوں ہستیوں
کےدرمیان مخالفت کی خلیج حائل ہوگئی”
ان کےعلاوہ بہارکےدیگرعلماء ومشائخ نےبھی مولاناسجادؒکی دعوت کاخیرمقدم کیا۔
حضرت مولانامحمداحمدصاحب ؒمہتمم دارالعلوم دیوبندکاجواب
حضرت مولاناسجادؒنےاس موقعہ پربہارسےباہربھی کئی اہم شخصیتوں کو بطورخاص
دعوت دی تھی،اورہرجگہ سےاس اقدام کی تحسین کی گئی،دارالعلوم دیوبندسے درج ذیل
جواب موصول ہوا:

باسمہ تعالیٰ
حامداًومصلیاًومسلماً
ازدارالعلوم دیوبند
مکرم بندہ جناب شاہ حبیب الحق وجناب مولوی سجادصاحب ! زادلطفکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
عنایت نامہ پہونچا،بےحدمسرت ہوئی،دعاہےکہ اللہ تعالیٰ جمعیۃ علماء بہار
کوغیرمعمولی کامیابی عنایت فرمائے،خداکرے کہ کوئی بزرگ متشرع
حسب شرائط انتخاب میں آجائیں اورعلماء کرام اورمشائخ عظام ان کی
اطاعت فرمائیں ،اوریہ فریضۂ شرعیہ اداہو۔
ہم لوگوں میں سے ایک دوشخص ضرور شریک جلسہ ہوتے مگر چونکہ
افتتاح تعلیم کا وقت ہے ،اور مہتمم و مدرسین اس میں مشغول ہیں ،
اس لئے حاضری سےمعذورہیں ،امید ہےکہ آپ بھی شرکت قلبی
کوکافی خیال فرمائیں گےفقط
احقرمحمداحمدمدرسہ دیوبند
تاسیس امارت کےلئےجمعیۃ علماء بہارکاخصوصی اجلاس
بہرحال اس دعوت نامہ کےمطابق ۱۸ ،۱۹/شوال المکرم ۱۳۳۹؁ھ روزشنبہ و یکشنبہ مطابق ۲۵ ،۲۶/جون ۱۹۲۱؁ء کوپتھرکی مسجدپٹنہ میں جمعیۃ علماء ہندکااجلاس خاص زیر صدارت حضرت مولاناابوالکلام آزادؔمنعقدہوا،جس میں صرف بہارکےنمائندہ علماء کی تعدادایک سو (۱۰۰)سےزائدتھی،یوں چارپانچ سو(۵۰۰)علماء شریک ہوئے،عام شرکاء اجلاس کی تعداد تقریباً چارہزار(۴۰۰۰)تھی ،بیرونی شخصیتوں میں مولاناآزادسبحانیؒ اورمولانا سبحان اللہ صاحبؒ مہمان خصوصی کی حیثیت سےتشریف لائے،تلاوت قرآن کریم سے مجلس کا آغاز ہوا،صدر استقبالیہ مولاناشاہ حبیب الحق صاحب نےاپناخطبۂ استقبالیہ پیش فرمایا” اورنہایت مؤثر اوردردبھرےالفاظ میں انگریزی دورحکومت کےاثرات قبیحہ کوبیان کرکےوقت کے اس اہم فریضہ کی طرف ان الفاظ میں رہنمائی فرمائی” :
خطبۂ استقبالیہ
"خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ یکایک رحمت خداموجزن ہوئی اوراپنے
گنہ گاربندوں کی طرف مخاطب ہوکر”لاتقنطوامن رحمۃ اللہ”کی
صدادی،سب سے پہلےاسی صوبہ کےعلماء چونکہ غفلت سے ہوشیارہوئے
اورجمعیۃ علماء کی بنیادڈالی،بکھرےہوئےشیرازہ کااستحکام شروع کیاہماری
اصلاح کی طرف مخاطب ہوئے،حالات موجودہ پرغورو فکر کی تدبیریں
نکالیں۔اسی طرح اب امیرشریعت کےلئےبھی سب سےپہلےیہی صوبہ
آگےقدم بڑھاتاہے،خدااسے کامیاب کرےاورساتھ ہی ساتھ تمام
صوبۂ ہندکےاس ارادہ پرقائم ہوکرپہلےامیرصوبہ بنائیں،اوریہ امراء مل
کرامیرالہندکاانتخاب کریں۔
حضرات !اس زمانۂ موجودہ میں جس وقت کہ تمامی اقتدارآپ کےملیامیٹ
ہوگئے، ہرجگہ سے نکالنے کی فکر ہے، بغدادلیا،نجف اشرف لیا،بیت
المقدس لیا،قسطنطنیہ کومحصور کیا، مکہ معظمہ کوتباہ کیا،مدینہ منورہ کوبرباد
کیا،انگورہ پرچڑھائی کاقصدہے، خلافت تنزل میں آگئی،تواب بتائیےکہ
ہم کیاکریں،اس زندگی سے توبدرجہاموت بہترہے۔
کیاوہ خداجس نےاصحاب فیل کوتباہ کیا،نمرود وفرعون کونارجہنم دکھایا،
ہم لوگوں کواس قعر مذلت سے نکال کر کرسی ٔاعزاز پر نہیں پہونچاسکتا
ہے؟ضرورپہونچاسکتاہے،یقینی پہونچا سکتا ہے، لاتہنواولاتحزنوا
انتم الاعلون ان کنتم مؤمنین۔
ایمان کومضبوط کرو ،اسلام کے فدائی بن جاؤ،جان ومال کی قربانیاں
کرنے کوتیار ہو جاؤ،واعتصموابحبل اللہ جمیعاًکےمصداق
بن جاؤ،بکھرےہوئےشیرازہ کوباندھ لو۔
دیکھو!یہ آیت جومیں نےابھی پڑھی ہے،اس پرنظرڈالو،اللہ تعالیٰ فرماتا
ہے،کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو،اوررسول کی اطاعت کرو،اورصاحب
امرکی اطاعت کرو ،صاحب امر سے کیامرادہے؟کیاصرف خلافت و
حکومت مرادہے؟نہیں ہرگزنہیں!
امام فخرالدین رازیؒ لکھتے ہیں کہ اس سے مراد علماء ہیں،بروایت حضرت
ابن عباس اورحسن اورضحاک ،انہیں کی اطاعت فرض ہے،آپ سب
لوگ ان کی اطاعت فرض جان کرکیجئے،ان کےاحکام کی بجاآوری پرتل
جائیے،اوران کےاحکام کواحکام رسول سمجھئے،جس طرح حدیث شریف
میں آیاہےعلماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل اوریہ حضرات
ہم لوگوں کی دشواریوں کو آسان کریں،تعصبات ونفسانیت سےعلٰحدگی
حاصل کریں،خلوص واتحادکےڈورے مضبوط کرڈالیں،رئیس القوم
خادمہم کواپنامعیاربنائیں۔
اےمیرےبزرگو!دین کےپیشواؤ ! وراثت ابنیاء کے مستحقو ! انما
العلماء ورثۃ الانبیاء”آپ کےلئےہے،انمایخشی اللہ من
عبادہ العلماء”آپ کی شان ہے ،فضل العالم علی العابد
کفضلی علیٰ ادناکم آپ کی صفت ہے ،قوم آپ کی محتاج ہے،
کشتیٔ اسلام کےآپ ناخداہیں،سینکڑوں برس ہوگئےامیرشریعت ندارد
ہوگیا،تعصبات ونفسانیت کازورہوگیا،ہرشخص کا تشخص الگ ہوگیا،
مسائل الگ ہوگئے،مسجدیں الگ ہوگئیں،جس کاجوجی چاہتاہےکرتا
ہے،نہ مسائل دینی ،نہ دارالقضاء ہے،نہ زکوٰۃ ہے،نہ خیرات ہے،نہ
بیت المال ہے ۔
کیاحضرت ابوبکرصدیق ؓنےزکوٰۃ نہ دینےوالےکوقتل کاحکم نہ فرمایا
تھا؟کیااحکام شریعت کےاجراء کی امیدغیراسلامی سلطنت سے کی
جاسکتی ہے؟نہیں ،ہرگزنہیں!
ذراخداکےلئےغورکیجئےاحادیث وفقہاءکےاقوال پر توجہ فرمائیے
،کیا امیر شریعت کی تقرری صرف حکومت وخلافت کےساتھ
مخصوص ہے،کہ جیسے حکومت گئی ،یہ فرض کفایہ بھی سرسےاترگیا؟
نہیں حاشاکلانہیں،امیرشریعت اورشۓ ہے ، سلطنت اورشۓ ہے
سلطنت ملک کاانتظام کرسکتی ہے،مگراسلامی مسائل کےلئےسلطنت
کوبھی امیرشریعت اورعلماء کی ضرورت ہے،بہتیرےفرائض اسلامی
ہیں،جن کی ادائیگی بلاامیرشریعت ناممکن ہے،اگر امیرشریعت ہوتا
ہرصوبہ کاایک امیرہوتا،اس کےماتحت ہرشہرمیں نائبین ہوتے،تمام
ہندکاایک امیرالہندہوتا،تو خلافت کےمعاملےمیں اتنی دقتیں اٹھانی
پڑتیں؟اس قدرانجمنیں،اس قدرتحریکیں پیش کرنی پڑتیں؟ایک امیر
الہندکی زبان آپ سب کی زبان ہوتی،جوحکم وہ دیتا آپ سب لوگ
اس کےمعمل ہوتے،اگرواقعی خلافت کے ساتھ ہمدردی ہے اور
اماکن مقدسہ کی محبت ہے،توپہلے اپنی جماعت درست کیجئے،شریعت
کےاصول پرچلئے،اپناایک سرداربنائیے،کوئی کام دنیاکابلاسردارکےنہ
ہواہےاورنہ ہوسکتاہےحیوان تک میں سردارہوتے ہیں،اورآپ اشرف
المخلوقات کےسردارنہیں؟کیاآپ کو یاد نہیں ہے کہ حضوراکرم
ﷺنےدس آدمی کی جماعت بھی بلا سردار (یعنی امیر) کےکہیں
نہیں بھیجی،اب آپ لوگ اپناسردارامیرشریعت مقررفرمائیے”
(اس کےبعدمولانانےامیرشریعت کےشرائط ومعیارکی طرف توجہ دلائی)
اس موقعہ پرداعی اجلاس حضرت مولاناسجادصاحبؒ اورصدراجلاس حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒنےجوخطبات پیش فرمائےتھےیقیناًان سےہندوستان میں ایک نئی ملی وسیاسی تاریخ کاآغازہوا،لیکن یہ خطبات تحریری نہ تھے اس لئے یہ خطبات محفوظ نہ رہ سکے، کاش وہ دستیاب ہوتےتو غیرمسلم ہندوستان کےلئے ہمیں مزیدروشنی مل سکتی تھی۔
مجلس شوریٰ وارباب حل وعقدکی خصوصی نشست
ساڑھےگیارہ بجےدن میں صدراجلاس حضرت مولاناابوالکلام آزادکاخطبۂ صدارت ختم ہوا،اس کےبعدمجلس شوریٰ کی تشکیل کی گئی اورنشست برخاست کردی گئی، پھر چاربجےبعدنمازعصرجناب ڈاکٹرسیدمحمودصاحب کےمکان(شیرستان)میں مجلس شوریٰ اور ارباب حل وعقدکی نشست زیرصدارت حضرت مولاناابوالکلام آزادبرائے انتخاب امیر شریعت منعقدہوئی،جس میں رودادکےمطابق ایک سو(۱۰۰)سےزائدعلماءو مشائخ نے شرکت کی،رودادمیں تمام کےنام اورپتے بھی درج ہیں،اس خصوصی اجلاس میں سب سےپہلے ناظم جمعیۃعلماء بہارحضرت مولاناابوالمحاسن سیدمحمدسجادؒنےاجلاس کےمقاصدپر روشنی ڈالی، پھرحضرت مولانامحمدعلی مونگیری ؒکامکتوب پیش فرمایاجس میں تعین امیرکےسلسلے میں انہوں نےایک تجویزپیش فرمائی تھی،اس دوران مسئلۂ امارت پرعلماء کےدرمیان کافی طویل بحثیں ہوئیں ،اوران کےشکوک وشبہات کاازالہ کیاگیا،پٹنہ کےایک اہل حدیث عالم مولاناکفایت حسین صاحب نےبھی اپنےبعض شبہات پیش کئے،ان کوبھی تشفی بخش جواب دیاگیا،بالآخر طویل بحث وکلام کےبعدیہ مجلس نو(۹)بجےشب میں اختتام پذیرہوئی،اورباتفاق حاضرین درج ذیل تجاویزمنظورکی گئیں:
تجاویزانتخاب امیرشریعت ونائب امیرشریعت
"۱-حضرت مولاناسیدشاہ بدرالدین صاحب سجادہ نشیں پھلواری شریف
ضلع پٹنہ مدظلہ العالی صوبۂ بہارکےلئےامیرشریعت ہوں۔
۲-جناب مولاناابوالمحاسن محمدسجادصاحب نائب امیرشریعت مقررہوں۔
۳-(حضرت)امیر(شریعت)کی مشاورت کےلئےعلماء بہارمیں سے اہل
شوریٰ متعین کردئیےجائیں،جن کی تعدادعلاوہ نائب امیرکےنو(۹)ہو،
اور ان کے انتخاب کاحق مولاناعبدالوہاب صاحب(دربھنگہ)،مولانا
صدیق صاحب اورمولاناابوالمحاسن محمدسجاد صاحب کودیاجائے۔
۴-حضرت مولانا جناب سید شاہ محمد بدرالدین صاحب قبلہ کےپاس
کل ۱۹/ شوال کواجلاس کےوقت سے پہلے تجویز انتخاب امیر،نائب
امیر ، اور نیز ارکان شوریٰ کے اسماء گرامی (مجوزہ اصحاب ثلاثۃ )
منظوری کے لئے بھیج دیئےجائیں،تاکہ واپسی کےبعداجلاس عام میں
اس کااعلان کردیاجائے ۔
چنانچہ حسب تجویزعلی الصباح (۱۹/شوال کو)تمام تجاویزکی نقل مع اسماء ارکان شوریٰ حضرت مولاناشاہ بدرالدین صاحب کی خدمت عالیہ میں بھیجی گئی اوران سے منصب امارت قبول کرنےکی درخواست کی گئی ،نیزنیابت اورارکان شوریٰ کے بارےمیں رائے عالی دریافت کی گئی۔

حضرت امیرشریعت اول کامکتوب منظوری
صبح آٹھ بجے تک حضرت امیرشریعت کی طرف سے منظوری آگئی،مکتوب منظوری دفترامارت میں محفوظ ہے،اس کےالفاظ یہ ہیں:

وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ سیدنامحمدوآلہ وصحبہ وسلم
جناب مکرم ادام اکرامکم ! السلام علیکم وعلیٰ من لدیکم
میں نےاس عہدہ کوقبول کرنےسےانکارکیاتھا،آپ کومعلوم ہے،اور
پرسوں جمعہ کےدن اپنی رائے تحریرکردیاتھاکہ جناب مولوی سیدشاہ
محمدعلی صاحب رحمانیؒ کو میں اس منصب کااہل جانتاہوں،آج معلوم
ہواکہ قرعۂ فال بنام من دیوانہ زدند ،جب بالاتفاق آپ لوگوں کی
یہی رائے ہےتواب قبول کرنےکےسوا کیا چارہ ہے ،اگراللہ تعالیٰ کی
مشیت یہی ہےتوافوض امری الی اللہ ان اللہ بصیر
بالعبادنیابت ومجلس شوریٰ کےلئے جن علماء کا انتخاب ہوااس سے
بھی آگاہی ہوئی،یہ سب لوگ مناسب منتخب ہوئےہیں۔
والسلام محمدبدرالدین پھلواریاصلح اللہ تعالیٰ حالہ
۱۹/شوال یکشنبہ ۱۳۳۹؁ھ
کاروائی آخری اجلاس عام
۱۹/شوال کو۹/بجےدوسرااجلاس شروع ہوا،تلاوت کلام اللہ ونعتیہ نظم کے بعد
تھوڑی دیرحضرت مولاناعبدالاحدصاحب نےتقریرفرمائی،اس کےبعدصدراجلاس حضرت مولاناابوالکلام آزادکاکامل دوگھنٹے تک طویل خطاب ہوا،مولاناآزادنےشوریٰ کی ساری کاروائی سے لوگوں کوآگاہ فرمایا،اس کےبعدحضرت مولاناسجادؒنے حضرت شاہ بدرالدین صاحبؒ کا مکتوب منظوری پیش کیاجس کوخودمولانا آزادنےبآوازبلندپڑھ کرسنایا،اورتمام علماء کرام و حاضرین سے درخواست کی کہ اگرآپ حضرات کواس سے اتفاق ہےتوکھڑے ہوکر نائب کےہاتھ پراطاعت فی المعروف کی بیعت کیجئے،تمام حاضرین نےکھڑےہوکرحضرت مولانا سجادؒکےہاتھ پرنیابتاًبیعت کی،پھرحضرت مولانا سجادؒنےدارالعلوم دیوبندکاوہ خط مجمع کوپڑھ کر سنایاجس میں اکابردارالعلوم نےامارت کی پرزورتائیدکی تھی بلکہ اجلاس میں اپنی شرکت کی خواہش بھی ظاہرکی تھی۔
بوقت ۸/بجےشب تیسرااجلاس عام شروع ہوااور لوگوں کوبلاٹکٹ شرکت کی اجازت عامہ دے دی گئی،اس کی وجہ سے مجمع اس قدرکثیرہواکہ ہال ناکافی پڑگیا،اکثرلوگوں کو کھڑے ہوکراجلاس کی ساری کاروائی سننی پڑی،جب کہ بہت سےلوگ اندربھی داخل نہ ہوسکےاورمایوس لوٹ گئے۔
تلاوت کلام پاک اورنعتیہ نظم کےبعدحکیم عبدالعزیزصاحب اورحکیم رکن الدین صاحب داناؔ نےتقریریں فرمائیں،اس کےبعدجناب مولاناعبدالقادر آزادؔسبحانی نےامارت شرعیہ کی تاریخ واہمیت کےموضوع پرانتہائی فصیح وبلیغ اورمؤثرومدلل تقریرکی ، جس سے مجمع بےحدمتأثرہوا۔
آخرمیں حضرت مولاناسجادؒکےشکریہ اورصدراجلاس کی دعاپراجلاس اختتام پذیر ہوا ۔
حضرت مولاناسجادؒکےہاتھ پرنیابۃًبیعت امارت
اس طرح اس اجلاس میں باتفاق رائےحضرت بدرالکاملین مولاناشاہ بدرالدین پھلواروی ؒ کوامیر شریعت اورمفکراسلام حضرت مولاناابوالمحاسن محمدسجادؒکونائب امیرشریعت منتخب کیاگیا،حضرت مولانامحمدسجادؒکسی عہدہ کےلئے راضی نہ تھے،لیکن شرکاء کےدباؤ میں آپ نےنائب امیرشریعت کاعہدہ قبول فرمایا۔
اورچونکہ امیرشریعت حضرت مولاناشاہ بدرالدین ؒ مجلس میں تشریف نہیں لائے تھے،اور(اپنی سجادگی کی بناپر)پہلےہی اس کی معذرت فرمادی تھی،اس لئےبحیثیت نائب حضرت مولاناسجادصاحبؒ نے حضرت امیرشریعت کی طرف سےشرکاء اجلاس سےبیعت سمع وطاعت لی،خانقاہ مجیبیہ کےترجمان حضرت مولاناحکیم سیدمحمدشعیب صاحب پھلوارویؒ تحریر فرماتے ہیں:
"۱۹/ شوال المکرم ۱۳۳۹؁ھ میں بانکی پورمحلہ پتھر کی مسجدمیں بہ غرض
انتخاب امیرالشریعۃ علماء کاعظیم الشان جلسہ منعقدہواااورعلماءکےاتفاق
سےہمارےپیرومرشدمولاناشاہ محمدبدرالدین صاحب نفعنااللہ والمسلمین
ببرکات روحہ وقدس سرہ امیر الشریعۃ منتخب ہوئے، حاضرین نےنیابۃً
مولوی محمدسجادصاحب مہتمم مدرسہ انوارالعلوم گیا کے ہاتھ پربیعت
امارت کی جن میں علماء کی کثیرتعداداس کارخیرمیں سبقت لےگئی”
خودحضرت مولاناسجادؒنےبھی اپنےمقالہ میں اس کاذکرفرمایاہے:
"چنانچہ بحمداللہ چندسالوں کی پیہم کوشش وتبادلۂ خیالات کےبعد۱۹/
شوال ۱۳۳۹؁ھ کو وہ مبارک ساعت آئی جس میں علماء کرام ومشائخ عظام
اور اعیان بہارکے علاوہ بعض بیرونی علماء کرام کی باہمی مشاورت سے
بمقام پٹنہ جمعیۃ علماء بہارکےاجلاس خصوصی میں امیرشریعت کامتفقہ
طورپرانتخاب ہوا، نیابۃً بیعت عامہ لی گئی،محکمۂ شرعیہ کےقیام کااعلان
ہوا،اس طرح پریہ نعمت عظمیٰ سب سے پہلےتمام ہندوستان کی سرزمین
میں صوبہ بہار کو ملی،جوشایدقسام ازل نے بلحاظ اولیت اسی کےلئے
ودیعت رکھی تھی”
پہلی مجلس شوریٰ
تجویزمیں مجلس شوریٰ کی تشکیل کااختیار سہ رکنی کمیٹی(مولاناعبدالوہاب صاحب
(دربھنگہ) ،مولانا صدیق صاحبؒ اورمولاناابوالمحاسن محمدسجادؒ)کودیاگیاتھا۔۔۔چنانچہ ان حضرات نےدرج ذیل نو(۹)اصحاب علم کےناموں کی سفارش کی اورحضرت امیرشریعت نے بحیثیت ارکان شوریٰ ان کومنظوری عنایت فرمائی:
٭حضرت مولاناشاہ محی الدین پھلوارویؒ(جوبعدمیں امیرشریعت ثانی ہوئے)
٭حضرت مولاناعبدالوہاب صاحب (دربھنگہ)
٭حضرت مولاناعلامہ سیدسلیمان ندویؒ
٭حضرت مولاناشاہ محمدنورالحسن پھلوارویؒ
٭حضرت مولاناعبدالاحدصاحبؒ
٭حضرت مولانافرخندعلی سہسرامیؒ
٭حضرت مولاناکفایت حسین صاحبؒ
٭حضرت مولانازین العابدین صاحب (ڈھاکہ،چمپارن)
٭حضرت مولانامحمدعثمان غنی صاحبؒ(دیورہ) جن کوبعدمیں مجلس شوریٰ نےپہلا ناظم امارت شرعیہ مقررکیا ۔
خانقاہ رحمانی مونگیرکی طرف سےاپنے متوسلین کوہدایات
انتخاب امیرشریعت کااجلاس انتہائی کامیابی کےساتھ اختتام پذیرہوا،تمام ہی معتبر اداروں اورمؤقرعلماء ومشائخ نےاس پراپنےاعتمادکااظہارکیا،اوراپنےاپنےحلقےکو امیر شریعت کی اطاعت کی تلقین کی ،اس موقعہ پرحضرت مولاناشاہ محمدعلی مونگیری ؒ (خانقاہ رحمانی)کی طرف سےجو ہدایت نامہ جاری ہوااس کایہ حصہ بے حداہم اورتاریخی ہے:
"امارت شرعیہ کاخاص مقصد یہی ہےکہ مسلمانوں کوشریعت اسلامیہ
سےآگاہ کریں ،اور اسلام کی عملی زندگی میں روح پھونکیں اس سے
میری دلی خواہش ہےکہ تمام مسلمان خصوصاًہمارے متوسلین "امارت
شرعیہ”کےمقاصد کی تکمیل میں مستعدی سے حصہ لیں،اوراس کو
کامیاب بنانےکی کوشش کریں ۔
اخیرمیں یہ فقیراپنےخاص محبین سےاتنااورکہتاہےکہ اس وقت جوامیر
شریعت ہیں،انہوں نےمیرےکہنےسے اس امارت کو قبول کیا ہے،
اب تمام محبین سےبہ اصرارمنت کہتاہوں ،کہ اس میں کسی قسم کا
اختلاف نہ کریں،بلکہ اسلام میں اتفاق کی بنیادقائم کریں، تاکہ صوبہ
بہارکااتفاق تمام ہندوستان کےلئےنظیرہوجائے، اور اس نازک وقت
میں سب مل کرپوری سعی اور توجہ کے ساتھ مخالفین اسلام آریہ
وغیرہ جواسلام کےمٹانےمیں نہایت سرگرم ہیں ،پوری مستعدی کے
ساتھ تحریری اورتقریری ہرممکن صورت سےان کامقابلہ کریں”
دفترامارت شرعیہ کاقیام
۹/ذی قعدہ ۱۳۳۹؁ھ (۱۵/جولائی ۱۹۲۱؁ء)خانقاہ مجیبیہ پھلواری شریف کے احاطہ میں دفترامارت شرعیہ کاقیام عمل میں آیا،اورحضرت مولاناسجادؒکی تحریک پرمجلس شوری نے مولانامحمدعثمان غنی ؒ کوپہلاناظم امارت شرعیہ مقررکیا۔
جمعیۃ علماء بہارنےکچھ ماہ قبل اپنی ایک تجویزکےذریعہ بیت المال اوردارالقضاء قائم کیاتھا قیام امارت کےبعدمجلس شوری ٰ نےبیت المال اوردارالقضاء کوحضرت امیرشریعت کی نگرانی میں لےلیا،حضرت مولاناشاہ محمدنورالحسن پھلوارویؒ کوامارت شرعیہ کاپہلاناظم بیت المال اورقاضی شریعت مقرر کیاگیا۔
دفترامارت شرعیہ اوربیت المال کےقیام کےبعدمحررین ،مبلغین،عمال اور محتسب مقرر کئےگئے ۔
حضرت امیرشریعت اول مولاناشاہ بدرالدین پھلوارویؒ کازمانۂ امارت گوبہت مختصر (دوسال چارماہ)رہااور۱۶/صفر۱۳۴۳؁ھ مطابق ۱۶/ستمبر۱۹۲۴؁ء کوآپ کاانتقال ہوگیا،لیکن یہ زمانہ امارت کے تعارف واستحکام کےحق میں بہت بابرکت ثابت ہوا، حضرت مولاناسجادؒنے امیر شریعت کی طرف سے پورے صوبہ کادورہ فرمایا،اورتمام مسلمانوں سےنیابۃً بیعت لی۔
حضرت امیرشریعت اول کاپہلافرمان
حضرت امیرشریعت اول نےانتخاب کےبعد درج ذیل پہلافرمان جاری کیا:
"خدا کا شکر ہےکہ صوبۂ بہار واڑیسہ کےعلماءومشائخ امارت شرعیہ
جیسے اہم مذہبی فریضہ کی ادائیگی کے لئے آمادہ ہوگئے اور بحمداللہ
نہایت جوش و عزم راسخ کے ساتھ بحسن و خوبی اس امر کو متفقہ
طورپرانجام دیااورتمام ہندستان کےلئے ایک مہتم بالشان نظیر قائم
کردی۔ مگر اس امارت کا بار گراں مجھ ضعیف و ناتواں کے کاندھے
پر ڈالا گیا جس کے لئے میں تیار نہ تھا لیکن اب جب کہ حضرات
علماء و مشائخ نے اس اہم منصب کے لئے متفقہ طور پر مجھ کو منتخب
کیاہےاوراطاعت وفرماں برداری کی بیعت کرلی اورنیزعوام کی ایک
کثیر جماعت نے بھی بیعت کرلی تو اب میں نہایت عزم و استقلال
کےساتھ اس اہم منصب کےفرائض کی ادائیگی کےلئےاپنےدل میں
خاص جوش پاتا ہوں اور اللہ تعالی کی توفیق پراعتماد کرکے ہر طرح
تیار ہوں لہذا آج میں عام اعلان کرتا ہوں،تمام خاص وعام کو متنبہ
ہونا چاہیے کہ اس دورپر فتن اورشورش کےزمانہ میں سب سےبڑی
سعادت جو تم کو ملی ہے وہ یہی قیام امارت شرعیہ ہےاگر تم نےاس
کی قدرکی اوراس کی منزلت کو پہچانا اور اپنے عہد و میثاق پرقائم رہے
تو پھر انشاء اللہ تمام مصائب خس و خاشاک کی طرح اڑجائیں گے۔۔
صرف ایمان،خوف خدااورحزم واحتیاط کےساتھ استقلال کی ضرورت
ہے،مسلمانوں کو سمجھ لیناچاہیےکہ اس امارت کامقصدکیاہے،خدمت
و حفاظت، بقائے عزت و ناموس دین، اجرائے احکام شرعیہ جو بجز
اجتماعی قوت کےممکن نہیں ہے،اوراسی لئےمقاصدومصالح شرعیہ کو
پیش نظر رکھ کرمیں اسی نوع کےاحکام جاری کروں گاجس سےحیات
اجتماعی کو تعلق ہو اور وہ ایسے احکام ہوں گے جو مسلمانوں کی کسی
جماعت کے خلاف نہ ہوں،ہمارا فرض ہوگا کہ کسی مسلمان کو کسی
قسم کی تکلیف نہیں پہنچے، چونکہ یہ بیعت ہر شخص کے لئے نہایت
ضروری ہے اس لئےقریب کے لوگوں کو یہاں آکر بیعت کرلینی
چاہئے اور دوسرے اضلاع کے لئے میں اپنے نائب کو ایک وفد
کے ساتھ بیعت لینے اور تشریح احکام کےلئےعنقریب روانہ کروں
گا۔
محمدبدرالدین ۲۰/شوال المکرم ۱۳۳۹؁ھ” ۔
مولاناعبدالحکیم اوگانویؒ تحریرفرماتےہیں:
"اس کےبعدبہارکےمختلف شہروں میں مولاناسیدشاہ محی الدین
اورمولانامرحوم کی سرکردگی میں امارت کاوفدگشت لگاتارہا،اور
مسلمانوں سےشرعی اوراسلامی زندگی بسرکرنےکاعہدوپیمان اور
قول وقرارلیتارہا،اوردیکھاگیاکہ مسلمانوں نےپوری عقیدت اور
خلوص کےساتھ وفدکاخیرمقدم کیا،اوراطاعت وفرمانبرداری کا
یقین دلایا”
حضرت امیرشریعت اول کی آخری ہدایت
حضرت امیرشریعت اول نےاپنی وفات سےقبل اپنےدوسرےصاحبزادے حضرت مولاناشاہ قمرالدین پھلوارویؒ کے ہاتھ سے درج ذیل تحریراملاکرائی جس کوہم ملت کےنام حضرت کی وصیت کہہ سکتےہیں:
"شارع علیہ الصلوٰۃ والسلام نےہم لوگوں کوجوصورت تنظیم تعلیم
فرمائی ہے اس سے بہتر کوئی دوسری صورت نہیں ہوسکتی،وہ یہ کہ
ہرموقعۂ انتظام میں زمام نظم کسی ایک شخص کےاختیارمیں دے دیا
جائے،اورسب لوگ اس کی اعانت کریں ،حدیث شریف میں ہے”
اذاخرج ثلٰثۃفی سفرفلیؤمرواحدھم (تین شخص بھی
اگرسفرمیں نکلیں توچاہئے کہ وہ لوگ ایک شخص کوامیربنالیں(جامع
صغیربسند حسن بحوالہ ابن ماجہ) ”

"مسئلہ انتخاب امیرشریعت "(ثانی)
حضرت امیرشریعت اول کےوصال کےبعدکسی ممکنہ اندیشہ سےبچنےکےلئے بلا تاخیر”مسئلہ انتخاب امیرشریعت” کےعنوان سے حضرت مولاناسجادؒنےایک پمفلٹ شائع فرمایا،جس کا مضمون یہ تھا:
"حضرت مولاناسیدشاہ حاجی محمدبدرالدین صاحب امیرشریعت قدس
سرہ العزیزکی وفات سےجہاں اورقسم کی پریشانیاں مسلمانوں کولاحق
ہوئی ہیں۔
وہاں بہت سےمسلمانوں کوتشویش ہوگی،اور فکرمند ہونگے کہ اب
امارت شرعیہ کےمتعلق کیاہوگا،کیونکہ یہ توظاہرہےکہ امارت کاوجود
نہ کوئی مخفی سیاسی چیزہے،اورنہ وقتی شۓ،بلکہ یہ خالص مذہبی اصول و
شرعی حکم کےماتحت مسلمانوں کی حیات وزندگی کےلئےلازمی چیزہے
،اورتمام اہل علم واکثرارباب حل وعقدنےمناسب غوروخوض کےبعد
اس چیزکی بناڈالی،اورہندوستان کےہرصوبہ کےلئےایک بہترین نمونہ
پیش کیا۔
اگرچہ ابھی وہ تمام مقاصد جوپیش نظرہیں اورمنتہائےامورجوامارت کے
ماتحت انجام پاناچاہئےاورمسلمانوں کوجس طرح پرقرون اولیٰ کی طرح
متحدہوکرایک طاقتورہستی بن جاناچاہئے،ابھی تک یہ سب نہیں ہوا،اور
شایدابھی ایک مدت تک انتظارکرناہوگا۔
اس وقت مجھے یہ عرض کرناہےکہ عام مسلمانوں کومطمئن رہناچاہئےکہ
جن مقاصدکےلحاظ سےامارت شرعیہ قائم ہوئی ہے،اس کی تکمیل کے
لئےامارت شرعیہ ان شاء اللہ برابرقائم رہےگی، اس کے قیام وبقاکی
حیثیت سے کوئی تشویش کی وجہ نہیں ۔
ہاں ایک مسئلہ جدیدانتخاب کاہےاس کےلئے ایک تاریخ معین ہوگی
،تمام ارباب حل وعقدکودعوت دی جائے گی، اور بہت جلد نہایت
آزادی کےساتھ انتخاب عمل میں آئے گا، چنانچہ تاریخ انتخاب معین
کرنےکےپہلےجمعیۃ علماء بہارکےارکان منتظمہ ودیگر معزز علماء وارکان
شوریٰ امارت کو۱۹/صفر۱۳۴۳؁ھ کوطلب کیاگیاہےجوتاریخ اجلاس جمعیۃ
علماء بہاروطریق انتخاب امیرشریعت باہمی مشورہ سے طے کریں گے،
ان شاء اللہ تعالیٰ دوہفتہ کےاندرانتخاب عمل میں آئےگا،۔۔۔لیکن
اس سے پہلےامارت کاکام جس طرح تھا بدستور جاری رہے گا، اور
جتنےعہدہ دارو ارکان تھے وہ سب کے سب بدستوررہیں گے،اور
نائب نیابتاً تمام خدمات کو انجام دیتارہےگا،یہی مسئلۂ شرعی ہےاور
یہی اصول ہے۔
خداکی ذات سے امید ہے کہ علماء بہار وعقلاء بہارکواللہ پاک نے
جس طرح پہلے توفیق دی تھی،کہ تمام نفسانیت وخودرائی وخودپسندی
چھوڑ کر دین قویم کےاصول واحیاء کےلئےایک ذات پرمتفق ہوکر
بیعت اطاعت کرلی تھی،اب بھی ایساہی کریں گے،اوربھولےہوئے
سبق کو یاد کرنے کےبعداب کبھی نہ بھولیں گے،اوراصل مقصد پر
نگاہ کرکےجس طرح تمام اختلافات سےعلٰحدہ ہوکرایک شخص کواپنا
امیربنایاتھاویساہی اب بھی کریں گے”
جمعیۃ علماء بہار کی مجلس منتظمہ کااجلاس
۱۹/صفر۱۳۴۳؁ھ (۱۹/ستمبر۱۹۲۴؁ء)بروزجمعہ بوقت ۳/بجےدن حضرت مولانا قاضی سیدنورالحسن صاحب کےمکان پرجمعیۃ علماء بہارکی مجلس منتظمہ کا مشترکہ اجلاس انتخاب امیرکےمسئلہ پرغوروخوض کےلئےمنعقد ہوا،جس میں درج ذیل حضرات نےشرکت کی:
٭مولانامحمدیوسف صاحب رمضان پور
٭مولاناعبدالشکورصاحب بہارشریف
٭مولاناسیدشاہ محمداسمعیل صاحب
٭مولاناابوالخیرات صاحب سیوان
٭مولاناریاض احمدصاحب بتیا
٭مولاناخیرالدین صاحب گیا
٭مولاناعبداللطیف صاحب گیا
٭مولانامحمدطٰہ صاحب بہارشریف
٭مولاناعبدالکریم صاحب گیا
٭مولاناعبدالحکیم صاحب گیا
٭مولاناعبدالحمیدصاحب دربھنگہ
٭مولاناعبدالعزیزصاحب دربھنگہ
٭مولاناعبدالوہاب صاحب دربھنگہ
٭مولانامحمدیسین صاحب آرہ
٭مولاناسیدشاہ نورالحسن صاحب قاضی پھلواری شریف
٭مولاناسیدمحمداسحاق صاحب نبیرۂ حضرت مولاناسیدمحمدعلی صاحب مونگیر
٭مولانافرخندعلی صاحب سہسرام
٭مولاناابوالمحاسن محمدسجادصاحب نائب امیرشریعت
٭مولانامحمدعثمان غنی صاحب ناظم امارت شرعیہ
٭مولانامقبول احمدصاحب دربھنگہ
٭مولانادیانت حسین صاحب دربھنگہ
٭مولاناقمرالدین صاحب دربھنگہ
٭ مولاناعبدالغفورصاحب آرہ
٭قاضی احمدحسین صاحب گیا
٭مولاناحسن آرزوصاحب پھلواری شریف
٭مولاناعبدالہادی صاحب پھلواری شریف
٭مولاناعبیداللہ صاحب امجھر شریف گیا
٭مولاناعبدالصمدرحمانی صاحب مونگیر
٭مولانااحمداللہ صاحب گیا
٭مولاناسیدمحمدصاحب گیا
اس اجلاس میں علاوہ دوسری تجویزوں کےحضرت امیرشریعت اول کی وفات کے لئےتجویزتعزیت منظورکی گئی ،اورانتخاب امیر کےلئے۸ ،۹ /ربیع الاول ۱۳۴۳؁ھ (۷، ۸/ اکتوبر ۱۹۲۴؁ء)کی تاریخ بمقام پھلواری شریف طےکی گئی،جس میں اراکین جمعیۃ علماء بہارکے علاوہ دیگراہل الرائے کوبھی مدعوکیاجانامنظورہوا،اوراجلاس کی صدارت کےلئےحضرت مولاناسید شاہ محمدعلی مونگیری ؒ کااسم گرامی تجویزکیاگیا،مجلس استقبالیہ کےصدرحضرت مولانا قمرالدین پھلوارویؒ مقرر ہوئے،مجلس استقبالیہ نےفوراًتمام علماء کرام واعیان بہارکےنام دعوتی خطوط روانہ کئے،اخبارات میں بھی اعلانات شائع کرائےگئے،حضرت مولاناسجادؒ کا پمفلٹ”مسئلہ انتخاب امیر شریعت "کی دوبارہ اشاعت کی گئی،اوربالآخرحسب تجویزمجلس منتظمہ جمعیۃ علماء بہار۸،۹/ربیع الاول ۱۳۴۳؁ھ مطابق۷، ۸/ اکتوبر۱۹۲۴؁ء کو پھلواری شریف میں امیرشریعت ثانی کے انتخاب کےلئے عظیم الشان اجلاس منعقدہوا،جس کی صدارت حضرت مولاناسیدشاہ محمدعلی مونگیری (خانقاہ رحمانی)نے منظورفرمائی تھی،لیکن آپ علالت کی وجہ سے تشریف نہ لاسکے اور آپ کی جگہ پر آپ کےبڑےصاحبزادے حضرت مولاناسیدشاہ لطف اللہ ؒنے مسند صدارت کوزینت بخشی ،تلاوت ونعت کےبعدمجلس استقبالیہ کےصدر حضرت مولاناسیدشاہ قمرالدین پھلوارویؒ نےانتہائی قیمتی خطبۂ استقبالیہ پیش فرمایا،جوبہت قیمتی معلومات پرمشتمل تھا،اوربےحدپسندکیاگیا،پھرصدراجلاس حضرت مولاناسیدشاہ لطف اللہ صاحبؒ نےحضرت مولاناسیدشاہ محمدعلی مونگیریؒ کاخطبۂ صدارت پڑھ کرسنایا،جس میں انتہائی مدلل اورعلمی اندازمیں مسئلۂ امارت پرتفصیلی بحث کی گئی تھی،اس سے پہلےاس مسئلہ پراتنی مفصل علمی تحریر نہیں آئی تھی۔
اس کےبعدحضرت مولاناسجادؒنےملک سے آئے ہوئے مختلف پیغامات کی خواندگی فرمائی ،مثلاًحضرت مولاناحبیب الرحمن عثمانیؒ (اس وقت کےنائب مہتمم دارالعلوم دیوبند) حضرت مولاناحافظ احمدسعیدصاحب ناظم جمعیۃ علماء ہندوغیرہ ،اس اجلاس میں شیخ الاسلام حضرت مولاناسیدحسین احمدمدنیؒ بھی تشریف لانےوالےتھے،لیکن ریلوے لائن کے خراب ہوجانےکی وجہ سے شریک نہ ہوسکے،اس کی طلاع بھی مجمع کوحضرت مولاناسجاد صاحبؒ نےدی ،جوتارکی صورت میں دیوبندسے آیاتھا۔
اس کےبعد انتخاب امیرکاعمل شروع ہوگیااورکافی دیرتک بحث وتمحیص کےبعد امیرشریعت ثانی کی حیثیت سےباتفاق رائے حضرت مولاناسیدشاہ محی الدین پھلوارویؒ کا انتخاب عمل میں آیا اورحضرت مولاناابوالمحاسن محمدسجادؒبدستورنائب امیرشریعت کے منصب پرفائز رہے۔
دوسرےدن (۹/ربیع الاول)کو۱۱/بجےدن میں اندرون خانقاہ مجیبیہ ایک اجلاس عام منعقد ہوا،جس میں سب سے پہلےحضرت مولانامحمدسجادصاحب ؒنےیہ اعلان فرمایاکہ:
"کل کی مجلس جس کوانتخاب امیرشریعت کاحق دیاگیاتھااس نےمولاناشاہ محمدمحی
الدین صاحب کوباتفاق امیرشریعت منتخب کیا،اوراطاعت فی المعروف کاعہدواثق کیا”
اس اعلان کوسن کرجملہ حاضرین کےچہروں پربشاشت پھیل گئی ،اس اجلاس میں قریب چارہزار(۴۰۰۰)آدمی شریک تھے،اخیرمیں نومنتخب امیر شریعت نےانتہائی پرسوزاور پراثر خطاب فرمایااورحاضرین سے سمع وطاعت کاعہدلیا۔
اس اجلاس میں سحبان الہندحضرت مولانااحمدسعیددہلویؒ اورمولاناحافظ عبدالحلیم صدیقی بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں ان دونوں بزرگوں کی بھی پرجوش اورمؤثرتقریریں ہوئیں،پھردعاپرجلسہ کےاختتام کااعلان کیاگیا ۔
حضرت امیرشریعت ثانی کےعہدمیں امارت شرعیہ کی توسیع وترقی
حضرت امیرشریعت ثانی کازمانۂ امارت کافی طویل(۳۳سال سےزائد)رہا،اوراس دوران امارت کوکافی وسعت وترقی حاصل ہوئی،حضرت مولاناسجادؒکوبھی آپ کےساتھ کام کرنے کی طویل مدت میسرہوئی،آپ کے زمانۂ امارت میں حضرت مولاناؒتقریباً۱۵، ۱۶/ سال
باحیات رہے ،اورامارت شرعیہ کوبام عروج تک پہونچادیا۔
امارت شرعیہ کی پالیسی کااعلان
٭حضرت امیرشریعت ثانیؒ کے زمانےمیں امارت شرعیہ کی آوازبہار کےگاؤں گاؤں تک پہونچانےکےلئےقاضی احمدحسین صاحب کی تحریک اور حضرت مولاناسجادؒکی تائید سے دستخطی مہم شروع کی گئی ،جس میں امارت شرعیہ کی تائیدمیں ایک تفصیلی مضمون مرتب کرکےاس پرمختلف مسلک ومشرب کے بیالیس (۴۲) ممتازعلماء سے دستخط کرائے گئے،اور مختصررسالہ (۱۶صفحات)کی شکل میں اس کوبڑےپیمانے پرشائع کیاگیا،اس سے امارت شرعیہ کے تعارف اوراس کے نظام کی توسیع واشاعت میں کافی مدد ملی،اورعوام وخواص کااعتمادمضبوط ہوا ۔
اس رسالہ کاایک اقتباس (جس سےامارت شرعیہ کی پالیسی ظاہرہوتی ہے)ملاحظہ فرمائیں:
"ان تمام باتوں کےساتھ ساتھ یہ امرنہایت قابل افسوس ہےکہ بعض
حضرات توابتداہی سےاس معاملہ میں مترددرہےمگریہ امرچنداں قابل
تعجب نہیں ہےجیساکہ اوپرذکرکیاگیاکہ ایک عرصہ درازکی متروک العمل
شے کےدوبارہ اجرامیں اس قسم کاتخیل ہوناکوئی مستبعدامرنہیں ہے،لیکن
اس سےزیادہ افسوسناک یہ ہےکچھ لوگ "امارت شرعیہ ” کووہابیت کی نشر
واشاعت کااوربعض حضرات بدعات کی ترویج کاذریعہ سمجھتےہیں،لیکن یہ
دونوں باتیں قطعاً غلط ہیں،اوریہ غلطی امارت شرعیہ کے طریقۂ کارسے
ناواقفیت کی بنیادپرہوئی ہے،مختلف فیہ مسائل میں جن کی ضرورت اجتماعی
زندگی اوراسلامی تمدن میں نہیں ہے،امیرشریعت بحیثیت امیرشریعت نفیاً
یااثباتاًکوئی حکم جاری نہیں فرمائیں گے،ان مختلف فیہ مسائل میں ہرمسلمان
آزادہےاپنی تحقیق یااپنےاساتذہ وشیوخ کی تحقیق کی بناپرجس مسلک کوچاہے
اختیارکرے، اس قسم کی آزادی جس طرح مامورین اورتمام مسلمانان بہار
کےلئےہے،اسی طرح خودامیرشریعت اورکارکنان امارت کےلئےبھی ہے”
نظارت امورشرعیہ
امیرشریعت ثانی ہی کےعہدمیں حضرت مولانامحمدسجادؒنےامارت شرعیہ کے استحکام وتوسیع کی غرض سے”مسودۂ نظارت امورشرعیہ "مرتب فرمایا،جس کےمطالعہ سے معلوم ہوتاہے،کہ حضرت مولاناؒ اسلام کےمکمل اجتماعی نظام کےقیام کی جدوجہدکوجہاں ضروری سمجھتے تھے،وہاں دوسری طرف کم سےکم جوچیزمل سکتی ہو،اسےزیادہ سےزیادہ کی تمنا میں چھوڑنےکوبھی تیارنہ تھے،مسودہ مذکورہ حضرت مولاناؒ کےاس خط کےساتھ ذیل میں درج کیاجاتاہے،جومولاناؒنےاستصواب رائے کےلئےذمہ داران کےپاس بھیجاتھا:
دفترامارت شرعیہ ،صوبہ بہارواڑیسہ
پھلواری شریف پٹنہ ۲۵/صفر۱۳۵۷؁ھ
مکرمی ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
منسلکہ خط مطبوعہ آپ کی خدمت میں ارسال ہے،یہ خط مختلف صوبوں کے
مسلمان وزراء کےنام بھیجناچاہتاہوں،اس مسودہ میں جس کمی بیشی کی ضرورت
ہوکرکےبھیج دیں ،تاکہ دوبارہ آپ کی رائے کی روشنی میں خط مرتب کرکے
بھیج دوں ،اس سلسلہ میں اوربھی مفیدباتیں ذہن میں آئیں تومطلع فرماکرمشکور
فرمائیں۔
میری آنکھ کی روشنی میں مرض کی وجہ سےکمی آگئی ہے ،اس وجہ سےایک
حدتک خودلکھنےپڑھنےسےمجبورہوں ۔
والسلام
(مولانا)ابوالمحاسن محمدسجاد
(نائب امیرشریعت صوبہ بہارواڑیسہ)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دفترامارت شرعیہ صوبہ بہارواڑیسہ
پھلواری شریف پٹنہ
مسودہ
مکرمی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک ضروری امرکےلئےیہ عریضہ بھیج رہاہوں امیدہےکہ آپ اس پر
خاص توجہ فرمائیں گے۔
آپ کےعلم میں ہےکہ ہندوستان میں علماء اورمسلمانوں کایہ مطالبہ رہاہے
کہ یہاں کےنظام حکومت میں مسلمانوں کی تعلیم ،تربیت ،معاشرت ،اور
قوانین مذہبی کےتحفظ کےلئےایک مخصوص ادارہ قائم کیاجائے،لیکن ان
بارسوخ حضرات کی وجہ سےجن کی نظرمیں اس کی اہمیت نہ تھی،یہ مطالبہ
وہ قوت حاصل نہ کرسکا،جس کایہ مستحق تھا،اور انگریزوں کی اس کھلی روش
کےبعدجوانہوں نےسو(۱۰۰)برس کےعرصہ میں ہندوستان سےاسلامی
تمدن کےمٹانےمیں اختیارکی ہے،یہ توقع رکھناکہ اس مطالبہ کووہ آسانی
سےقبول کرلیں گے،عبث تھا،لیکن اس مقصد کے حصول کی کوشش حتی
الوسع ہم لوگوں نےجاری رکھی ہے۔
اب جب کہ موجودہ اصلاحات کےنفاذ نےہندوستان میں ناقص ،لیکن قومی
حکومت کی بنیاد رکھ دی ہے، اوربعض اموراب ایک حد تک نمائندگان
جمہورکےہاتھ میں آگئےہیں،ان مقاصد کے حصول کی ایک راہ نکل آئی
ہے۔
مسلمانوں کاکم ازکم مطالبہ یہ تھا،ایک بااختیارحاکم امورشرعیہ کی انجام دہی
کےلئے مقررکیاجائےجوقاضی کاتقررکرےاورمسلمانوں کےتمام امور
مذہبی (جن کاتعلق صرف مسلمانوں سےہو)کانگراں رہے،اورخصوصیت
سےمسلمانوں کی مذہبی تعلیم وتربیت کامحافظ ہو،اس مقصد کےحصول کے
لئے سب سےبہترراہ تویہ تھی کہ اعلان بنیادی حقوق ۔۔۔۔
(Fundamentle Rights )کےسلسلہ میں ہندوستان کےنظام اساسی
میں یہ چیزیں موجودہوتیں ،لیکن افسوس کہ یہ نہ ہوسکا۔
اب موجودہ حالات میں یہ مناسب ہے کہ نظام شرعی کا ایک ایساخاکہ
پیش کیاجائے،جوموجودہ اصلاحات کےذریعہ بآسانی چل سکے،اس سےاصلی
مطالبہ توپورانہ ہوگالیکن یہ ہوگاکہ ایک ناقص نقش تیارہوجائےگا،اورکسی
حدتک مسلمانوں کی بعض شکایات ومشکلات کاکچھ ازالہ ہوجائےگا۔
اسکیم یہ ہے:
۱-ہرحکومت میں "ناظراموراسلامیہ” کا ایک عہدہ رکھاجائے(جومختلف
محکموں کےڈائرکٹرکےمثل ایک عہدہ ہواور یہ عہدہ دارکسی مسلمان وزیر
کے ماتحت ہو)اوراس کےمتعلق حسب ذیل امورہوں:
(الف)مسلم اوقاف
(ب)تقررقضاۃ یاتفویض اختیارات قاضی ،یا جیوری کےتعین میں مشورہ
دینا۔
(ج)ہندوستانی بین الاقوامی معاملات کےمتعلق اسلامی بین الاقوامی اصول
کےماتحت حکومت کومشورہ دینا(اس کی رائےکاان معاملات میں ایکسپرٹ
(ماہر)کی رائےکی حیثیت سےلحاظ رکھاجائے۔
(د)تعلیم کےہرصیغہ اوردرجہ میں مذہبی تعلیم کانظم یانگرانی (جیسی صورت
حال اورضرورت ہو)اس کےتحت ہو۔
(ہ)مسلمانوں کےپرسنل لاء کےمتعلق قانون سازی کی نگرانی اور اس کے
متعلق اگرکوئی غلطی ہورہی ہویاکسی ذریعہ سےہوگئی ہوتوحکومت کواصلاح کا
مشورہ دینا۔
(۲)ناظراموراسلامیہ”کےساتھ ایک مختصرمجلس مشورہ لائق مسلمانوں
کی ہو۔
(۳)تمام تقرریاں اورانتخاب مؤقت ہوں۔
(۴-الف)متذکرہ محکمہ کےساتھ ساتھ حکومت ایک قانون "فسخ نکاح
"طلاق وتفریق ،،وخلع وغیرہ کےلئےاسلامی اصول کےماتحت پاس کرائے
،جس سےوہ مشکلات دورہوجائیں،جوموجودہ عہدمیں شرعاً قاضی مجتہدکے
فقدان سےلاحق ہیں اورہوں گی۔
(ب)تقررقاضی کےلئےفی الحال یہ صورت اختیار کی جائےکہ مسلمان
منصف اورجج کےتقررکےمعیارمیں اس کا لحاظ رکھاجائے،کہ فقہ اسلامی
کی براہ راست معلومات ان کوہوں ، یا اقل درجہ اس خاص صنف میں
ہندوستانی (اردو) میں ضروری تالیفات مہیا کردی جائیں ،( اور اس کا
ڈیپارٹمنٹل امتحان بھی لےلیاجائے)اورتفویض اختیارات کےوقت ہائی
کورٹ یاجوڈیشنل محکمہ جس کےبھی حدودہوں،ان ہی حکام کونکاح ،طلاق
اورتفریق وغیرہ کےمقدمات کی سماعت کے اختیارات دئیےجائیں ۔
(ج)ان مقدمات کی سماعت کاضابطہ اسلامی آداب قضا کےمطابق
اردومیں تیارکردیاجائے،اس طرح تقررقضاۃ کامسئلہ بغیرکسی مزیدمالی
بار کےکسی حد تک حل ہوجائےگا۔
"ناظراموراسلامیہ”مسلم اوقاف کےساتھ دوسرے امورحکومت
انجام دےگا،توکوئی مزیدمالی بار بھی حکومت پرایسانہ پڑےگا،جوغیر
معمولی ہو۔
ایک اورضروری امرمسلمانوں کی فوری توجہ کا محتاج ہے ، یہ ظاہر
ہےکہ مسلمانوں کی تمام ترتہذیب و تمدن اورمعاشرت کی بنامذہب
پرہے،اب تک انگریزوں نےمسلمانوں کےتمدن کومٹانےکےلئے
طرح طرح کےنظرئیےپیداکئےان میں ایک یہ بھی تھاکہ”حکومت
مذہبی تعلیم کی ذمہ دارنہیں ہوسکتی”اب جب کہ نئی اصلاحات نے
صوبوں میں قومی حکومت کی ایک شکل پیدا کردی ہے، یہ حکومتیں
جیسی کچھ بھی ہوں ،بہرحال قومی حکومت ہیں ،تو ان کومسلمانوں کے
اس جائزواجبی مطالبہ سےکہ تعلیم کےہردرجہ میں مذہبی تعلیم کانظم کیا
جائے،بےاعتنائی نہ برتنی چاہئے،مسلمانوں کےلئےیہ مسئلہ وقت کے
تمام مسائل سےاہم ہے،اس لئےحکومت اورقوم کو اس طرف فوراً
توجہ کرنی چاہئے،کیونکہ مسلمانوں کےہراجتماعی اور انفرادی اخلاق کی
کمزوری کی بناان کی مذہبی معلومات اورتربیت کی کمی ہی ہے ، اوراس
ایک اصلاح سےان کی بہت سی کمزوریوں کی اصلاح بیک وقت ہوجائے
گی،جوحکومت وقت اورملک سب کےلئےیکساںمفیدہوگی۔
(مولانا)ابوالمحاسن محمدسجاد(نائب امیرشریعت بہارواڑیسہ)
پھلواری شریف پٹنہ
اس پرحضرت مولانامفتی محمد ظفیرالدین صاحبؒ نےبجاطوپرلکھاہےکہ:
"اگرمولانا(سجادصاحب ؒ)کی فکراورامارت شرعیہ کےنظام کومختلف صوبے
قبول کرلیتے اورامیرالہندکاانتخاب ہوجاتا،اورمسلمانوں کےاس اجتماعی نظام
کوہندوستان کے دستوراساسی میں منوالیاجاتاتویقیناًآج کےحالات کچھ اور
ہوتے ، اورباربارپرسنل لاء میں ترمیم اوردین میں مداخلت کاسوال کھڑانہ
ہوتا”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: