مضامین

امیرالاحرار حضرت مولانا حبیب الرحمٰن صاحب ثانی لدھیانویؒ:سوانحی نقوش‌

محمد عارف جیسلمیری مقیم لدھیانہ پنجاب

*امیرالاحرار حضرت مولانا حبیب الرحمٰن صاحب ثانی لدھیانویؒ:سوانحی نقوش‌*

*✍️محمد عارف جیسلمیری*
*مقیم لدھیانہ پنجاب*
*۱۰ ستمبر ۲۰۲۱ عیسوی*
*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

*اسم گرامی:* مولانا حبیب الرحمٰن ثانی بن مولانا مفتی محمد احمد رحمانی بن رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانویؒ

*ولادت‌:* ۸ مارچ ۱۹۵۸ عیسوی

*جائے ولادت:* شفاعت منزل نزد سی ایم سی ہسپتال لدھیانہ

*تعلیم و تربیت:* آپ نے لدھیانہ اور دہلی میں حضرت مولانا وحیدالزماں قاسمی کیرانویؒ،مولانا عبداللہ صاحب لدھیانویؒ اور اپنے والدماجد مفتی محمد احمد صاحب رحمانی لدھیانویؒ جیسے اساطینِ علم و فضل کے سامنے زانوے تلمذ تہہ کیے اور آٹھ نو سال کی مدت میں تعلیم و تربیت کے جملہ مراحل طے فرمائے۔

*شاہی امام پنجاب:* اس خاندان کے مورث اعلی حضرت مولانا عبدالقادر لدھیانویؒ ہیں،جن کا ۱۸۵۷ عیسوی کی انگریز مخالف جنگ میں اساسی کردار رہا تھا۔افغانستان کے والی شاہ زمان الملک ۱۸۰۵ عیسوی سے ۱۸۳۵ عیسوی تک لدھیانہ کے حاکم رہے تھے،انھی شاہ زمان الملک نے مولانا عبدالقادر لدھیانوی کے دستِ حق پرست پر بیعت کی تھی اور انھیں شاہی امام کے لقب سے نوازکر،خود ان کی شہر لدھیانہ کے موجپورہ بازار میں واقع دو منزلی مسجد کا مؤذن بنا تھا۔امیرالاحرار مولانا حبیب الرحمٰن ثانی لدھیانویؒ اس تاریخی خاندان کے چھٹے وہ خوش نصیب فرد تھے،جو ۱۹۸۰ عیسوی میں،حضرت مولانا محمد یحیٰ صاحب لدھیانویؒ،مولانا رشید احمد لدھیانویؒ،مولانا احمد سعید لدھیانوی،مولانا خلیل الرحمٰن لدھیانوی شاگرد علامہ انور شاہ کشمیریؒ،مولانا سعید الرحمٰن لدھیانوی سکریٹری حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند جیسے اکابرعلماء کی موجودگی میں،شاہی امام پنجاب کے اس عظیم منصب پر فائز کیے گئے اور اس یادگار موقع پر آپ کے والدماجد مولانا مفتی احمد رحمانی لدھیانویؒ کی زبان سے یہ تاریخی کلمات صادر ہوے تھے کہ:”آج میں نے اپنا مشن مضبوط ہاتھوں میں دے دیا ہے۔ان شاءاللہ میرا بیٹا حبیب الرحمٰن حبیب ثانی ثابت ہوگا۔

*دینی و علمی اور ملی و سماجی خدمات* آپ نے اپنے دادا مرحوم رئیس الاحرار حضرت مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانویؒ کے نام و کام اور اپنے خاندان کی روشن روایات کو بہت خوب صورتی و پختگی کے ساتھ آگے بڑھایا اور مسلمانانِ ہند کی ہر محاذ پر مثالی قیادت فرمائی۔مجلس احرار اسلامِ ہند کا ازسرِنو احیا،قادیانیوں اور دیگر شرپسندوں کی جانب سے کئی ایک قاتلانہ حملوں کے باوجود تحریکِ تحفظ ختمِ نبوت سے مضبوط وابستگی،صوبائی و ملکی حکومت کے سامنے احقاقِ حق و ابطالِ باطل کے فریضے کی انجام دہی،پنجاب بھر میں مساجد کی واگزاری،ایشیاء کی حد تک لدھیانہ سینٹرل جیل میں آپ کی کوششوں سے پہلی مسجد،مسجدختم نبوت کا قیام،ملک و بیرونِ ملک کے دینی و دعوتی اور ملی و سماجی اسفار،صد سالہ احرار کانفرنس لدھیانہ،بزدل قائدین سے آپ کی صاف صاف باتیں،علماء کو ان کے مخلصانہ مشورے،جہاد بالسیف کی بابت ان کا بے غبار اور اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ موقف،دارالعلوم دیوبند اور مظاہرعلوم سہارنپور سمیت ملک بھر کے مدارس و جامعات کے اکابر و مشائخ سے ان کا تعلق،ملی پارلیمنٹ میں ان کا ولولہ انگیز خطاب،کانشی رام اور سابق وزیرِاعلی پنجاب سردار بے انت سنگھ کو ان کی موجودگی میں دعوتِ اسلام،دینی و عصری تعلیم سے مسلمانانِ ہند کو مربوط کرنے کی مساعی جیسے کئی ایک آپ کی لائقِ رشک حیات کے پہلو ہیں۔

*اولاد و احفاد:* آپ کی ایک صاحب زادی اور دو صاحب زادے ہیں۔جن کا مختصر تعارف حسبِ ذیل ہے۔

*مولانا محمد عثمان رحمانی لدھیانوی:* یہ آپ کے سب سے بڑے صاحب زادے ہیں،جنھیں آپ کی حیات ہی میں نائب شاہی امام پنجاب و جنرل سکریٹری مجلس احرار اسلام ہند کی حیثیت سے ملک و بیرونِ ملک شہرت حاصل ہوئی۔مولانا عثمان رحمانی کا ملک کی مشہور علمی و دینی اور سیاسی و سماجی شخصیات میں شمار ہے۔آپ ایک کام یاب مصنف بھی ہیں،آپ نے دس کے قریب کتابیں لکھی ہیں۔

*نغمہ حبیب:* آپ کی یہ صاحب زادی جناب جمال حبیب صاحب پھگواڑہ سے منسوب ہیں اور اس وقت اپنے شوہر و بچوں کے ساتھ امریکہ میں رہائش پذیر ہیں۔نغمہ حبیب نے دینی تعلیم اپنے والدصاحبؒ سے پائی ہے۔

*طارق مجاھد:* یہ آپ کے سب سے چھوٹے صاحب زادے ہیں،ان کی دینی تعلیم لدھیانہ کے علاوہ بیت العلوم پپلی مزرعہ ہریانہ اور جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین ڈابھیل میں ہوئی تھی۔عصری تعلیم یافتہ ہیں اور کاروباری سلسلے سے وابستہ ہیں۔

*وفات‌،نمازجنازہ و تدفین:* آپ یوں تو پچھلے چار پانچ سال سے مختلف امراض میں مبتلا تھے؛لیکن ڈیڑھ مہینے سے آپ زیادہ بیمار تھے اور طویل و صبرآزما علالت کے بعد بہ تاریخ ۱۰ ستمبر ۲۰۲۱ عیسوی کو رات ساڑھے بارہ بجے کے قریب شہر لدھیانہ کے مشہور ہاسپیٹل "سی ایم سی” میں کلمۂ شہادت پڑھتے ہوے اپنے پروردگار کے حضور حاضر ہو گئے۔

آپ کی نماز آج ہی رات میں ساڑھے آٹھ بجے آپ کے علمی و روحانی جانشین حضرت مولانا محمد عثمان رحمانی صاحب کی اقتدا میں ادا کی جائے گی اور آپ کی تدفین آپ کے والدماجدمفتی محمد احمد صاحب رحمانیؒ کی قبر سے متصل جامع مسجد فیلڈ گنج کے احاطے میں عمل میں آئے گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: