اسلامیات

انجامِ گداگری

حضرت مولانا مناظر احسن صاحب گیلانیؒ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم
اسلام جواستغنا، توکل اور عالی ہمتی کا سب سے بڑا علم بردار ہے،پیغمبر
اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی کتنا چشم کشا ہے ، فرماتے
ہیں کہ : ’’من یستغنِ، یُغنِہِ اللہُ‘‘ (بخاری، کتاب الزکاۃ، باب :
الاستعفاف عن المسئلۃ) جس نے لوگوں کے سامنے اظہارِ حاجت سے اپنے آپ کو
بچایا، اللہ تعالیٰ اسے غنی کردیں گے۔ اسلام کی ان روشن تعلیمات کے
باوجود مسلمانوں ہی کے کچھ افراد نے انسانوں کے سامنے دستِ سوال دراز
کرنے کو اپنا محبوب مشغلہ اور پیشہ بنالیا ہے ۔ حضرت مولانا مناظر احسن
گیلانیؒ نے اپنے مخصوص انداز میں اسلام کی ان تعلیمات کو اپنے رسالہ
’’انجام گداگری‘‘ میں بڑی جامعیت اور وضاحت کے ساتھ پیش کیا ہے اور ایسے
لوگوں کی حرکتوں پر سخت تنبیہ کی ہے۔ یہ رسالہ عرصہ قبل جمعیۃ علماء ہند
کے شعبۂ مرکز دعوت اسلام سے شائع ہوا تھا ، لیکن اب ناپید ہوچکا تھا۔
صدر جمعیۃ علماء ہندحضرت مولانا سید قاری محمد عثمان صاحب مد ظلہ
العالی کے حکم اور جناب مولانا سید محمود اسعد مدنی صاحب مد ظلہ العالی
ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند کی خصوصی توجہ اور دل چسپی سے اسے دوبارہ
شائع کیا جارہاہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ مولانا محمد یاسین صاحب رفیق مرکز
دعوت اسلام نے اس طباعت کے موقع پر کتاب میں مذکور آیات کا حوالہ اور
احادیث شریفہ کی تخریج کردی ہے، جس سے کتاب کی افادیت مزید بڑھ گئی ہے۔
اللہ تعالیٰ کتاب کی مقبولیت اور افادیت کو عام فرمائے، آمین ۔
(حضرت مولاناو مفتی) محمّد راشد (صاحب اعظمی)
کنوینر مرکز دعوت اسلام جمعیۃ علماء ہند و استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

انجام گداگری

حوض کا جب ایک کنارہ ہلایا جاتا ہے، تو اس کی موجیں پھیلتی ہوئیں،
تقریباً پورے حوض کو جنبش میں لے آتی ہیں۔ دامن ہوا پر کسی طرح کی بوکا
ایک چھینٹا بھی پڑجاتا ہے، تو دُور دُور تک اجزائے ہوائیہ تموج پذیر
ہوجاتے ہیں۔
اور یہ وہ کلیہ ہے جس میں کسی کی بھی تخصیص نہیں، گلاب کی پنکھڑیاں اور
قارورات (پیشاب) کے قطرات کریہہ، اپنی اس ہمہ گیر تاثیر میں متساوی
الاقدام (برابر) ہیں۔ اور اسی حد تک نہیں، جسم میں جس درجہ لطافت بڑھتی
جاتی ہے، انفعالیات (اثر قبول کرنے) و تاثرات میں اس کا دائرہ اسی حد تک
کشادہ ہوتا جاتا ہے، اثر انگیزی کی قابلیت اس میں زیادہ تیز اور شدید
ہوجاتی ہے۔
پہاڑوں سے اُبلنے والے جھرنوں، اس کی چوٹیوں سے اُترنے والے سیلابوں کو
تم نے دیکھا ہوگا کہ کس طرح غرّاٹے بھرتے ہوئے، چٹانوں کی طرف بڑھتے ہیں۔
اور کس بے جگری کے ساتھ اپنے لطیف جسم کو پتھر کے کرخت (سخت) جرم (جسم)
پردے مارتے ہیں۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو، یا تو اس میں
جذب ہوجائیں، یا اپنی رَو (بہاؤ) سے اس میں تاثیر کا کرشمہ (نقشہ) چھوڑ
جائیں۔
لیکن بجز پاش پاش ہوجانے کے ان کی قسمت میں اور بھی کچھ دیکھا؟ اور اگر
ہزارہا سال میں کچھ کرسکے، تو دس بارہ اِنچ عمق آفرینی (گہرائی پیدا
کرنے) کے علاوہ ان سے کیا ہوسکتا ہے؟
اور پھر اسی پانی کو دیکھو! جو اپنی تمام اجتماعی قوتوں کے ساتھ ایک
معمولی چٹانوں کے اندر سرایت نہ کرسکا، وہی پانی وہاں سے جب پارہ پارہ
ہوکر، زمین کے اوپر گرتا ہے تو یا جذبہ ہوجاتا ہے، یا اس میں راستہ بناکر
بہہ جاتا ہے۔ اس لیے کہ زمین پتھر سے نرم اور لطیف ہے۔ پتھر کی سختی اور
کثافت جس اثر کے قبول کرنے سے اِبا (انکار) کرتی ہے، زمین کی لطافت اسے
چوس لیتی ہے، یا خود فنا ہوکر اس کے لیے گنجائش پیدا کردیتی ہے۔
تم دیکھتے ہو کہ پانی کی تموج پذیری کے لیے ایک ہلکا سا سنگریزہ (کنکر)
کافی سمجھا جاتا ہے، لیکن زمین کو ہلانے کے لیے ضرورت ہے کہ یا تو اس کی
پشت (پیٹھ) پر ہزاروں من سے لدی ہوئی گاڑیاں بزور اسٹیم بغایت سرعت
کھینچی جائیں، یا اس کے اندر صدسالہ مواد انجزات، اضطراب محض بن جائیں کہ
خاک و آب کی طبعی کثافتوں و لطافتوں کا یہی خاصہ ہے۔
اور پھر پانی میں رنگ کا ایک قطرہ چند ہاتھ مربع سے زیادہ پھیل نہیں
سکتا۔ لیکن مشک کا ایک دانہ ایک بہت بڑے کمرے کو عطر بیزی کے لیے تیار
کردیتا ہے، کہ ہوا کی لطافت پانی کی لطافت سے بدرجہا زیادہ ہے۔ اور تم کو
اپنی نظر موجودات کے انھیں سلسلوں تک محدود نہیں کرنی چاہیے، اور اوپر
چڑھو، زیادہ اونچے ہوکر دیکھو کہ ان سے اوپر بھی ایک لطف ترین کُرہ ارواح
و نفوس کا ہے، جہاں انفعال و تاثر کی حکومت فرمائیاں، ان تمام ہستیوں سے
زیادہ راسخ اور بہت قطعی ہیں۔
روحوں کی آبادیاں، قوموں اور امتوں کی صورت میں تھوڑے تھوڑے فاصلوں پر
بجنسہٖ اس طرح بسی ہوئی ہیں، جس طرح پانی کا کرہ حوضوں، ندیوں، دریاؤں،
سمندروں کی قسموں میں الگ الگ موجود ہے اور جس طرح ان میں بعض چھوٹے اور
بڑے ہیں، اسی طرح ان کی آبادیاں بھی، قلت و کثرت کی حدود میں منقسم ہیں۔
پھر جیسا کہ تم کو سمجھایا گیا کہ حوض کے کسی حصے میں پیدا ہونے والی
موج تمام حوض کو پیکر استہزاز(گردش) تصویر لرزش بنا دیتی ہے۔ یقین کرو
بعینہٖ اسی طرح روح زاروں میں حب کسی روح کے اندر کوئی خیال، کوئی جذبہ
ولولہ انگیز ہوتا ہے، تو اس کی لہریں آنا فاناً، ان تمام روحوں میں دوڑ
جاتی ہیں، جن کا تعلق قومی اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ گویا وہ ایک برقی رو ہوتی
ہے، جو دفعتاً ایک نفس سے نکلتی ہے اور تڑپتی ہوئی ان تمام نفسوں پر مسلط
ہوجاتی ہے، جو اس نفس کے ساتھ رشتۂ قومیت میں وابستہ تھی۔ الاماشاء اللہ
کہ وہاں کوئی بیرونی طاقت مانع ہوجائے، اور کوئی غیبی ہاتھ ظاہر ہوکر بیچ
میں آڑے آجائے۔
تم اگر مختلف قوموں، مختلف امتوں کے قومی رسوم ورواجات، خصائل و عادات
پر اگر ایک سرسری نظر بھی ڈالو گے، تو ان کی ہر ادا، ہر شان میں اس نظریہ
کی جلوہ آرایوں کا نظارہ بخوبی کرسکتے ہو۔
غور کرو کہ وہ صرف ایک ہی مارواڑی تھا، جس نے سب سے پہلے اپنے اُجڑے
ہوئے ملک کی جلی ہوئی کھیتیوں، پتھریلی زمینوں کی بگڑی ہوئی زراعتوں کو
دیکھ کر رائے قائم کی کہ تحصیل معاش کے لیے کاشتکاری پر بھروسہ کیے ہوئے
بیٹھے رہنا، راجپوتانہ اور مارواڑ کے ریگستانی اور کوہستانی باشندوں کے
لیے کبھی بھی کافی نہیں ہوسکتا، آخر وہ اٹھا، پھر تم دیکھتے ہوکہ آج
پشاور سے لے کر برہما تک اور نیپال سے کنیا کماری تک کپڑوں کی دوکانوں
میں مارواڑیوں کے علاوہ اور بھی کوئی نظر آتا ہے؟
وہ بنگالی محض اکیلا تھا، جب کہ سب سے پہلے اس نے انگریزی حروف تہجی سے
اپنی زبان آشنا کی، مگر اب بنگال کے شہروں کو قطع نظر کرکے گاؤں میں
پھرو۔ کیا اب بھی کوئی ایسا گاؤں ہے،جن کے گھاس کے چھپروں تلے، بی۔اے،
ایم۔ اے کی ڈگری نہیں۔
اور اسی طرح وہ صرف دیانند سرسوتی تھے، جنھوں نے متھرا کی مندروں میں
ہندو دھرم کی کمزوریوں پر ہندوؤں کی مذہبی سرد مہریوں کا احساس کیا اور
اس کی اصلاح، ترمیم(اور) طرف داری کے لیے آمادہ ہوئے، پھر اب تعلیم یافتہ
ہندوؤں میں کون رہ گیا ہے، جس میں دیانندجی کی روح نہیں بولتی۔ اور وہ
ایک ہی دماغ رام جی کا تھا، جس نے قدیم ہندوؤں کے علوم کی احیا، تعلیم،
تعلّم پر غور وپرداخت کا خیال اپنے اندر پیدا کیا۔ پھر اب باخبر روشن
خیال ہندوؤں میں کوئی متنفس (آدمی، انسان) بھی ایسا ہے، جس کی نگاہیں ہر
دوار کے گروکل کی طرف، محبت و الفت کے جھرمٹوں میں ناز و تبخر کرتی ہوئی
نہیں بڑھتیں۔ اور ان میں کون ہے، جو گنگا ماتا کے اس ہونہار سپوت پر اپنے
جان و مال نچھاور کرنے کے لیے تیار نہیں؟
وَفِیْ ذٰلِکَ ذِکْریٰ لِمَنْ کَانَ َلہُ قَلْبٌ اَوْاَلْقیٰ السَّمْعَ
وَھُوَ شَہِیْدٌ۔
(سورہ ق،پ ۲۶، آیت۳۷)
ترجمہ: اور اس میں بڑی نصیحت ہے ان کے لیے جو دل والے ہیں اور حضورِ دل
سے باتوں کو سنتے ہیں۔
اور آہ! کہ پھر وہ بھی ایک ہی بدقسمت مسلمان تھا، جسے دین قیم، شریعتِ
کاملہ، ملتِ بیضا کے احکام و معارف پر کمزوری و اضمحلال کا دھوکہ ہوا۔ وہ
اس وقت اکیلا تھا جب فلسفۂ جدید کے بھوتوں نے اپنے کھانے کے دانتوں سے
اسے کپکپادیا اور مخبوط ہوکر اس نے ان اکثر عقائد و احکام کے تسلیم
(کرنے) سے بیزاری ظاہر کی، جو نبی پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے
آسمانی بادشاہت نے دنیا کو سونپا تھا۔ پھر ائے برادرانِ عزیز! برا نہ
مانئے گا کہ جو کچھ بھی زبان قلم تک آرہا ہے، دِلی تراشوں سے بے چین
ہوہوکر آرہا ہے۔ آہ! جو تڑپ میں اپنے اندر پاتا ہوں، کاش! آپ بھی پاتے تو
مجھے معذور سمجھتے۔ آپ اپنے نفسوں میں ڈھونڈھیے، جانوں میں ٹٹولیے، کہ ان
سیاہ و نجس تھپیڑوں کی دست درازیوں نے ایقان و تسلیم کی چولوں کو کس درجہ
ڈھیلی کردیا، اور ایمان و اسلام کی عمارتوں میں ان سے کیسی کچھ رستخیزی
(قیامت) برپا ہوگئی ہے۔ اور اگر (خدا کرے کہ ایسا ہی ہو کہ) اس کے اثرات
سے اپنے کو بچاہواپاتے ہوں، تو شکر کیجیے کہ ملکوتی تائیدوں، قدوسی
نصرتوں نے آپ کی وقت پر خبرلی ہے۔ آپ کو کہنا چاہیے:
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ ھَدَانَا لِہٰذَا وَمَاکُنَّا لِنَہْتَدِیَ
لَوْلَا اَنْ ھَدَانَا اللّٰہُ۔
ترجمہ: تمام تعریفیں اس خدا کو ثابت ہیں جس نے ہمیں امرحق کی ہدایت کی؛
ورنہ ہم کبھی سچائی کی راہ نہیں پاتے اگر خدا اس راہ پر نہیں لگاتا۔
اخواننا فی الدنیا! (ہمارے دینی بھائیو!)آپ یقین کیجیے کہ وہ جو آپ کے
سامنے دوسروں کے خیالات ’’ہمارا خیال ایسا ہے‘‘ کے لفظوں میں ادا کررہا
ہے۔یہ محض الفاظ ہیں، اور ممکن ہے کہ وہ بھی کسی دوسرے کے ہوں، وہ خود
غافل ہے کہ اس کے اظہار پر کیوں مجبور ہوا؟ اس کا تمام دعاوی، دلائل،
الفاظ، حرف حرف دراصل اسی منبوعِ (چشمہ)ناپاک سے پھوٹ پھوٹ کر آئے ہیں،
جہاں سب سے پہلی دفعہ اس کا بروز و ظہور ہوا تھا۔
اور پھر وہ بھی کسی مسلمان گھرانے کا ایک ہی بدبخت بچّہ تھا، جس نے
یکایک اپنی جہل کی سرمستیوں میں مخمور ہوکر سلف کے علوم کی توہین و
تخریب، ابطال و تضعیف کے لیے، عربی تعلیم (حاصل کرکے) مذہبی علما کی
اہانت و تذلیل کو اپنا فریضۂ اوّلین قرار دیا۔
پھر اب اسلامی نونہالوں کے کتنے ہی ہونہار، ذکی الفطرت، سیال الطبع
روحیں ہیں، جن کی زبردست دماغی قوتوں سے اس قرن تاریک میں— جس میں ہر
چار سمت سے خبث و بطلان کی ٹڈی دل فوجیں، مختلف گھاٹیوں سے نکل نکل کے
فلسفی رویہ فریبوں اور منطقی مغالطوں کے ہتھیاروں سے مسلح ہوکر، حق و
صداقت کے فلک پیما، آہنی برجیوں پر یلغار کررہی ہیں— اسلام کی پاکیزہ
اور سادہ تعلیم کو بہت کچھ معاونت کی اُمید تھی، لیکن آہ! مغربی علوم و
کلیات و جوامع میں جاکر دیکھو! کہ جس دن سے ان خرمنہا نفوس میں اس بیہودہ
خیال کی بجلیاں آسودہ ہوئی ہیں، وہی ہاتھ، بجائے تقویت وتائید پہنچانے کے
محض خلاف توقع دامن ملّت کے تار پود بکھیرنے میں مصروف ہیں۔ اِنَّ
اللّٰہَ لَایُبْدِیْ کَیْدَالْخَائِنِیْنَ۔ لیکن یَا حَسْرَۃً عَلیَ
الْعِبَاد! کہ وہ تو ایسا ہی کررہے ہیں۔
اور جب کہ عالم نفوس و ارواح کا تاثر و انفعال میں یہ حال ہے، تو اس
یقین میں آپ میری شرکت کیجیے، کہ وہ بھی اسلامی دنیا کی ایک ہی حرام خورہ
کدہ تھی، جس نے اپنے کو انسانی پوستینوں میں چھپاکرکرگسی جذبات کا اظہار،
سوال و بھیک کے پیرایہ میں کیا کہ آج اس کی بدولت ممالک اسلامیہ کے کوچہ
و بازار، ان بے حیاؤں کے غول سے اَٹے پڑے ہیں۔
یقینا وہ بڑاہی مجرم شخص تھا، جس نے اسلام کی سخت تاکید اور انتہائی
تشدد کے بعد بھی ایسے ناپاک شرمناک جذبہ کی فعلیت پر اپنے کو آمادہ کرکے،
مسلمانوں کے ہزاروں ہی بھلے چنگے، چاق و چوبند جسموں کو ہمیشہ کے لیے حد
درجہ کا اپاہج و ناکارہ بنا دیا۔ اور ’وَالْعِلْمُ عِنَدْاللہ‘ (اللہ ہی
جانتا ہے) کہ کب تک بناتا رہے گا۔
اور اسی سلسلے میں بلاخوف لومۃ لائم، میں کبھی بھی اس علم و عرفان کے
مدعی سے اس وقت درگزر نہیں کرسکتا، جس نے اپنی خرسی خساستوں سے لبریز
کھوپڑی پرمشیخت وتذکیری، وعظ وپند کی دستارباندھ کر سب سے پہلا قدم ممبر
و محراب کی طرف دستِ سوال دراز کرنے کے لیے بڑھایا کہ صرف اس کی ایک
حرکتِ رذیلہ کی بدولت آہ! کتنے ہی وعاظ، قصاصین و متصوفہ غالین (جن کے
ہاتھوں میں بدقسمتی سے نادان قوم کی باگ ہے) سوال کے خرقوں اور بھیک کے
جبّوں میں، مساجد، خانقاہوں کے اندر متحرک نظر آرہے ہیں، دراہم ودنانیر
کی ایمان فرسا جھنکاروں پر جھوم جھوم کر امر بالمنکروالنہی عن المعروف کے
شنیع فعل پر جسارت فرمائیوں میں مجبور ہورہے ہیں۔ اے احبارِ یہود ورہبانِ
نصاریٰ کے بلوں میں گھسنے والو! آہ! کہ:
اَتَأمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّوَتَنْسَوْنَ اَنْفُسَکُمْ
وَاَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الَکِتَابَ اَفَلَاتَعْقِلُوْنَ۔ (بقرہ پ۱،
آیت۴۴)
ترجمہ: کیا تم لوگوں کو نیکیوں کا حکم دیتے ہو، اور اپنے کو بھول جاتے
ہو۔ حالاںکہ کتاب کے پڑھنے والے تم ہو، ارے کیوں نہیں سمجھتے (کہ اس طرز
سے تم کبھی بھی اعلانِ حق و برنہیں کرسکتے۔)
وہ جو اس دنأتِ خبیثہ (قبیح حرکت) کا بانی اوّل گذرا ہے، اور اسی طرح
وہ بھی جو ان کی ذریّات بن کر، اس مہلک مرض کو امتِ مرحومہ کی موجودہ
نسلوں، آنے والے طبقوں میں بایں ہمہ ذلّت، تحقیر، ملامۃ و طعن متعدی کرنے
میں مصروف ہیں، کاش اس ذلیل حرکت کے عواقب و انجام پر غور کرتے۔ خود اگر
جاہل و غبی تھے، تو دوسرے علمائے حق سے دریافت کرتے۔ اس وقت ان پر واضح
ہوجاتا کہ وہ کیا کررہے ہیں۔ از عرش تا فرش ان کی اس بری خصلت کے ہاتھوں
کیسے خطرناک مصائب و مہالک برپا ہوچکے، اور آئندہ ہوتے رہیں گے۔ لیکن وہ
تو خود غرضیوں کے متوالے ہیں۔ ان کا جواب ایک ہی ہے، جو ان سے پہلے یہودی
فقہا اور نصرانی صوفیا دنیا کے سب سے بڑے ہادی صلوات اللہ علیہ وسلم کے
آگے دے چکے ہیں۔ جیسا کہ وہ ہمیشہ نبویؐ تعلیمات، الٰہی توبیخات کے
مقابلہ میں قُلُوْبُنَا غُلْفٌ (ہمارے دلوں پر پردہ پڑا ہوا ہے) کہہ کر
بری الذمہ ہوتے تھے۔ اسی طرح یہ بھی تو یہی کہتے ہیں کہ:
’’ انبیا (صلوٰت اللہ علیہم اجمعین) اور صحابہ کا دل کہاں سے لائیں، ان
کی قناعت و توکل ہم میں کیوںکر آسکتی ہے، پس گویا قرآنی احکام، نبوی
ارشادات کے ہم مکلّف کب ہیں۔ ہمارے دِلوں میں دنیا کی اُلفت رچ گئی ہے۔
پردہ پڑگیا ہے۔‘‘
آہ! کہ مجھے شرم آتی ہے کہ میں ان تقدّس مآب لوگوں کے لیے بھی اس جواب
کودُہراؤں،جو ان سے پہلوں کو کہا گیا ہے۔ تاہم خدانے جو کچھ ان کو کہا
تھا، اس کو نقل کرنا ضروری ہے کہ وہ بھی اس سے خوب واقف ہیں۔ وہ جانتے
ہیں کہ خدانے احبار و رہبان کو اس کے جواب میں کہا تھا:
بَلْ لَّعَنَہُمْ اللّٰہُ بِکُفْرِھِمْ فَقَلِیْلًا مَّایُـؤْمِنُوْنَ۔
(سورة البقرہ، پ۱، آیت۸۸)
ترجمہ: خدا نے اپنی رحمتوں سے انھیں دور کردیا ہے ان کے انکار کے سبب پس
کم ہیں جو ایمان لائے ہیں۔
بہرکیف اگر انھوں نے خود سبقت نہیں کی، تو میں انھیں سناؤں گا۔ گو میں
جانتا ہوں وہ مجھ سے زیادہ واقف ہیں، تاہم اپنے فرض سے اگر وہ باز رہے،
تو میں کیوں چوکوں۔ مبلغ کانوں کے قحط سے زبان بند نہیں کرسکتا۔ نصیحت
سننے والوں کا کب تک انتظار کرسکتا ہے۔
بَلٰغٌ، فَہَلْ یُہْلَـکُ اِلَّاالْقَوْمُ الْفَاسِقُوْنَ(الاحقاف، پ۲۶، آیت۳۵)
ترجمہ: یہ پہنچادینا ہے ، اب وہی غارت ہوں گے جو نافرمان ہیں۔
بالکل صحیح ہے کہ جس وقت وہ عجیب الخلقت، عجیب اللباس، عجیب الاصوات
اجسام منوں چربیوں میں ڈوبے ہوئے، گلیوں اور بازاروں کو اپنی بے غیرت
صداؤں سے ناپاک کرتے ہیں۔
اور اسی طرح وہ جو پگڑیوں کے پیچوں اور جبّوں کی آستینوں میں، اپنی
جہالتوں وکم مائگوں کو چھپاتے ہوئے حروفِ حلقیہ(مترنم آوازوں) کے دامنوں
میں اپنی اصلی حقیقت علمیہ کا راز ڈھانکتے ہوئے کسی ممبر پر کھڑے ہوکر
فردوس و جناں کے نیلام کا اعلان کرتے ہوئے، چادر گدائی بچھاتے ہیں۔
اور پھر وہ جو اکابر صوفیہ رحمہم اللہ اجمعین کی تمام سوز و گداز، تسلیم
ورضا، سکرو صحو، وجود و شہود،عشق و سرمستی، اشاعت دین وتبلیغ سنن، اسرار
وحقائق، اتباع سنت، توحید واخلاص، مجاہدات و ریاضات، ذکر وشغل، الاخذ
بالعزائم و ترک الخلافیات، والاعراض عن البدعات، ان سب کو اپنی
کاکلوں(زلفوں) کی خمیدگیوں، دلقہائے صوف(گدڑی) کی شگافوں، تسبیح کے دانوں
میں مدفون کرکے جلوہ آرا اورننگ مشیخت وارادة ہوکر دریوزہ(بھیک) کا باب
کھول دیتے ہیں۔ میں کیا کہوں کہ یہ نادان اس وقت آپ کے نفسوں پر ہلاکتوں
اور بربادیوں کے کتنے بندھیاچل اور ہمالہ توڑ دیتے ہیں۔ دوسروں کو جو کچھ
ان سے نقصان پہنچتا ہے اس کا فسانہ تو آپ پھر سنیں گے؛ خودہی اپنے پیروں
پر جوہتھوڑے مارتے ہیں، آہ! وہ کس قدر افسوسناک و حیرت خیز ہے۔
بھیک کے دُنیاوی نتائج
(۱) سب سے پہلے تو وہ ہے جس کا نظارہ ہر ایک آنکھ کرتی ہے، کہ کن بے
دردیوں کے ساتھ یہ اپنے باوقار، آبرودار چہروں کو بھیک کے ذلیل پتھروں سے
کچل دیتے ہیں، سوال کی چھریوں سے اپنی ساری عزت و آبرو کے گوشت کی بوٹی
بوٹی بناکر اُڑا دیتے ہیں۔ آہ کہ گداگری کے شعلوں میں اپنی رونق و تمکنت
کو اس طرح جھلس دیتے ہیں کہ جس کے بعد نشوونما، شادابی، دل فریبی، رعنائی
اور تروتازگی یقینا ناممکن ہوجاتی ہے۔
کیا وہ جو آپ کی نگاہوں میں ایک نہایت ہی مؤقر و معزز انسان تھا۔ اس
وقت بھی آپ کے دل میں اس کی عزت قائم رہ سکتی ہے، جب کہ باوجود اپنی
استطاعت کے آپ کے سامنے ڈھیلے اور پیسے کے لیے، روٹیوں کے ٹکڑوں کے لیے
بھیک مانگنے پر آمادہ ہوا۔ لاوربی۔ (خدا کی قسم بالکل نہیں)
(۲) اس نے ایک نہایت ہی تجارۃ خاسرہ (نقصان دہ تجارت) کی بنیاد ڈالی جس
کی تلافی ممکن نہیں، اس نے قناعت و توکل کے ان بیش بہا جواہرات کو جن کے
لیے شریف ذاتیں اور اولوالعزم ہمتّیں تڑپتی رہتی ہیں، نہ صرف وہ؛بلکہ
قدوسیوں اور مرسلوں نے بھی اپنے لیے اسے نہایت ہی گراںمایہ کنگن خیال کیا
ہے، آہ کہ ان نادانوں نے اسے صرف چند سُرخ پیسوں اور خشک روٹیوں کے عوض
میں بیچ ڈالا۔
فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُہُمْ وَمَاکَانُوْا مُہْتَدِیْنَ۔(البقرہ، پ۱، آیت۱۶)
ترجمہ: ان کی تجارت نہ تو نفع بخش ہے اور نہ ہی وہ ہدایت پانے والے ہیں۔
(۳) اس نے اپنی حریت و آزادی، غنا، بے پروائی کے ان خرمنوں پر— جس کی
حفاظت و پاسبانی کے لیے قوموں نے گردنیں کٹوائیں، روپے لٹائے، غرض صرف اس
کی نگرانی میں ممکن سے ممکن کوششیں کرتے رہے اور کررہی ہیں؛ مگر آہ! کہ
اس نے کس بے جگری کے ساتھ— اس پر سوال کی بجلیاں برسائیں اور ہمیشہ کے
لیے بھسم کردیا۔
کیا وہ جس نے بھیک کے لیے اپنا دامن فقر پھیلادیا ہے، کسی شخص کے خلاف
ہوکر یہ کہہ سکتا ہے کہ فلاں حرکت اس کی خلاف شرع، خلاف تمدن، خلاف مصالح
معاشرت ہے، ہرگز نہیں۔ اس کی زبان امید گدیہ کی زنجیروں میں جکڑ جائے گی۔
اس کے خیالات اس کے قابو سے نکل کر سراسر بھیک تقسیم کرنے والے لوگوں کے
زیرنگیں ہوجاویںگے۔ وہ بولے گا تو ان کی زبان سے، سنے گا تو ان کے کانوں
سے، چلے گا تو ان کے قدموں پر، الغرض وہ محض ایک فنافی المسئول عنہ‘ شخص
ہوکر اپنے تمام آرا وادراکات سے مفلس ہوجائے گا۔ اور یہ وہ عذاب ہے، جس
سے زیادہ درد ناک مصیبت ممکن نہیں۔
(۴) کس قدر افسوسناک حرکت ہے کہ وہ انسان مکرم جس کی گردن صرف ایک ہی
خالق قدیر کے آگے جھکانے کے لیے بنائی گئی ہے، وہ ایک اور صرف ایک کے
علاوہ اور کسی کے آگے خم نہیں ہوسکتی، جس کی اعلیٰ حقیقت نے فرشتوں تک کی
پیشانیاں اپنے آگے رگڑوائی تھیں، آہ! کہ ہر ایک ذلیل سے ذلیل ہستی، ناپاک
سے ناپاک قطروں کے آگے، یوں بے عزت، حقیر بنا پھرتا ہے۔
(۵) اور اگر صرف اسی پر بس ہوجاتا تو غنیمت تھا کہ اس نے اگر اپنے
اوصافِ کمالیہ، اخلاقِ حسنہ کوبرباد کردیا، توبری خصلتوں سے تو رُکا رہا۔
اس نے گویا بھیک کے ایندھنوں سے حرص و ملمع کے الاؤ روشن کرلیے، جس قدر
وہ سوال کا دامن وسیع کرے گا، اسی قدر لالچ کے اندر ترقی ہوگی، اسی قدر
زیادہ وہ چھچھورا ہوگا۔ پھر اس کے بعد جو کچھ ہوتا ہے، اس کا افسانہ طویل
ہے۔
(۶) ان سب سے قطع نظر کرکے، اس لیے کہ ممکن ہے کہ وہ آبرو عزت، توکل و
قناعت، حریت و آزادی، شرافت و کرامت کی خوبیوں کو محض اعتباری چیز خیال
کرے اور حرص و طمع، لالچ، چھچھوراپن کی بُرائیوں کو جماعتوں کی اختراعی
چیزوں میں شمار کرے۔ پھر بھی، اس کو دنیاوی اعتبار سے اکثر آسائشوں اور
زینتوں سے محروم ہونا پڑے گا۔ وہ اچھے کپڑے نہیں پہن سکتا کہ شیوہ دریوزہ
گری پر دھبّہ پڑتا ہے۔ وہ آرام دہ عمدہ عمارتیں نہیں بنواسکتا کہ اس سے
فقیری کا بازار سرد پڑجاتا ہے۔ وہ اپنے گھر بار، بال بچّوں کو کبھی بھی
فارغ البال، رفاہیت میں نہیں رکھ سکتا کہ اس کے بعد گاہکوں میں بددلی
پھیل جاتی ہے۔ باوجود روپے رہنے کے اسے ضرورت ہے کہ اپنے افلاس و مسکنت
کا اعلان کرتا رہے۔ حتیٰ کہ ان تمام خرابیوں کے بعد اس کے خرقۂ فریب میں
جو کچھ جمع ہوئے تھے، ایک دن اسے چھوڑ کر وارثوں کے ہاتھ میں پڑجائیں گے
اور وہ بصد حسرت ویاس، کسی مٹّی کے نیچے دھنس جائے گا، جہاں اسے اپنی
تمام بیہودگیوں کے خمیازے بھگتنے پڑیں گے۔ تَتْبَعُہَا رَادِفَةٌ
(النازعات، پ۳۰، آیت۷)
ترجمہ: پھراس کے بعد ایک اور جھٹکا آئے گا۔
اس کلیہ سے بعض مشائخ، وعاظ ضرور مستثنیٰ ہیں کہ وہ کھاتے بھی خوب ہیں،
پہنتے بھی اچھا ہیں، رہتے بھی بنگلوں میں ہیں اور بھیک پر گزارا بھی ہے۔
اس میں شک نہیں کہ اور باتوں میں وہ گشتی فقرا کے ساتھ شریک ہیں۔ لیکن اس
میں انھیں امتیاز ہے۔ تاہم پھر بھی جس قسم کے جھوٹے تقویٰ ان کو کرنے
پڑتے ہیں۔ جسم پر اگر اثر مرتب نہیں ہوتا تو ان کے دِلوں میں وہ بہت ہی
گراں گزرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایسے علما و مشائخ کے سوال کی گاڑی یقینا ان
ریاکاروں سے بہت ہی پیچھے رہتی ہے، جنھوں نے تمام طیبات کو طلاق دے رکھی
ہے۔)
(۷) آخر وہ ذومرہ سویٰ(اس کا ٹھیٹ ترجمہ ہٹاکٹا، ہے جس میں گشتی فقرا،
قصہ گو واعظین اور صوفی سبھی داخل ہیں) سائل جو اپنے پاس دیکھنے والی
آنکھ، سننے والے کان، سوچنے والا دماغ، سیروں غلہ لادنے والی پیٹھ، میلوں
مسافت طے کرنے والی ٹانگ، تر لقمے اٹھانے والے ہاتھ، سونٹے گھمانے والے
بازو، جگر شگاف، خاراشکن، شرربار، آتش گیر تقریریں پیدا کرنے والی زبان،
روح فرسا، جان گسل نغمات نکالنے والے گلے، دقائق و اسرار، نکات وحقائق سے
معمور سینہ رکھتا ہے۔
آہ! کہ وہی جو اپنے عیارانہ افعال واسالیب، شاطرانہ اعمال و تراکیب سے
ہمیشہ ثبوت دیتا رہا ہے، اور آئے دن دیتا رہتا ہے کہ دنیا وی معاملات،
معاشی نکتہ سنجیوں کی ایک زبردست طاقت کا کامل نمونہ اس کے اندر پوشیدہ
ہے۔
میں نہیں سمجھتا اور نہ کبھی سمجھ سکتا ہوں کہ وہ دنیا کے تمام اسباب
رزق و معاش، ذرائع کسب وحرفت سے بالکل نپٹ اندھا بن کر، آخرکیوں اس بے
جگری کے ساتھ اپنے آپ کو ذلت واہانت کے کانٹوں میں گھسیٹتا ہے۔ خود بخود
طعن و شناعت کے چٹانوں سے ٹھوکریں خریدتا ہے۔
آہ! جب کہ یہ لوگ اپنے پاس خدا کا دیا سب کچھ رکھتے ہیں، ان کے دامن
وجود، جیب ہستی، صحت و تندرستی کے زروجواہر سے اَٹے پڑے ہیں، نہ صرف یہی
؛بلکہ بسا اوقات حقیقی مال و ثروت سے بھی ان کے کیسے (جھولے) کافی طور پر
پُر رہتے ہیں۔
تو وائے حسرت و ناکامی! کہ پھر یہ کیسی مصیبت و بدبختی ہے کہ بلا وجہ اس
جماعت نے رذیلوں، کمینوں، جہلا، سفیہوں کو موقعہ دیا کہ وہ بے دھڑک ان کے
جگر عزت، سینہ وقار و شرافت میں خدنگہائے نفریں، ملامت ڈال کر علم و
عرفان، مذہب و دین، شریعت و طریقت پر قہقہے لگائیں، ان کے ساتھ ناکردہ
گناہ علما وصوفیا کو بھی سان لیں۔
اَمْ تَاْمُرُھُمْ اَحْلَامُہُمْ بِہٰذَا اَمْ ھُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَ۔
(الطور، پ۲۷، آیت۲۳)
ترجمہ:آیا ان کی عقلیں اس کا حکم دیتی ہیں یا وہ سرکش قوم ہیں۔
آہ! کہ کیا وہ ان دردناک کڑیوں کو اس لیے نہایت استقلال کے ساتھ جھیل
رہے ہیں، کہ اس کے بعد انھیں امن و چین، رفاہیت وفارغ البالی کی لذتوں کو
لوٹنے کا موقعہ ملے گا؟ کیا وہ اپنی اس چھچھوری طبیعت، دربدر بھٹکنے والی
صداؤں میں طمانیت و جمعیت خاطر کو ڈھونڈھتے ہیں؟ کیا وہ اس کے بعد یقین
کرتے ہیں، کہ اپنے بال بچوں، اہل و عیال کو سکھ دینے میں کامیاب ہوں گے؟
کیا بھیک کے دیوتے نے ان سے جاہ و ثروت کا واقعی وعدہ کیا ہے؟حالاںکہ:
وَمَا یَعِدُھُمْ الشَّیْطَانُ اِلَّاغُرُوْراً۔ (النساء، پ۵، آیت۱۲۰)
ترجمہ:شیطان محض فریب کے وعدے کررہا ہے۔
آہ! کہ اگر انھیں ایسا سمجھایا گیا تو غلط سمجھایا گیا، ان کے شیطان نے
انھیں بُرے راستے پر ڈالا۔ جہاں:
کَسَرَابٍ بَقِیْعَۃٍ یَّحْسَبُہُ الظَّمْاَنُ مَاء اً۔ (النور، پ۱۸، آیت۳۹)
ترجمہ: مانندسراب کے جسے پیاسا پانی سمجھتا ہے کے علاوہ کچھ نہیں۔
کیا وہ نہیں جانتے، حالاںکہ ان میں بہتوں نے پڑھا ہے، اور جنھوں نے نہیں
پڑھا، تو ان کے تجربوں نے پڑھایا ہوگا، کہ:
وَلَا فَتَحَ عَبْدٌ بَابَ مَسْئَلَۃٍ اِلَّا فَتَحَ اللّٰہُ عَلَیْہِ
بَابَ فَقْرٍ۔
(سنن الترمذی، کتاب الزھد، باب مثل الدنیا مثل اربعۃ نفر)
ترجمہ: جس نے بھیک کا دروازہ کھولا اللہ تعالیٰ اس پر محتاجی کا دروازہ
کھول دیتا ہے۔
کیا اس دہن اطہر کے جملے نہیں، جس پر جھوٹ، احتمال کذب کا دروازہ یزدانی
ہاتھوں نے بند کردیا۔ جہاں غلطی کی ہوا بھی گزر نہیں پاتی کہ صدقہ کے
متعلق ارشاد ہوا:
مَنْ اَخَذَہُ بِاِشْرَافِ نَفْسِ لَمْ یُبَارَکْ لَہُ فِیْہِ،
کَالَّذِیْ یَاکُلُ وَلَایَشْبَعُ۔ (بخاری، کتاب الزکاة، باب الاستعفاف
عن المسئلة)
ترجمہ: جو اس پر ٹوٹ کر گرتا ہے اس میں برکت نہیں دی جاتی۔اس کی مثال
ایسی ہے کہ کھائے جاتا ہے مگر سیر نہیں ہوتا۔
اور نہ صرف یہی حدیث؛ بلکہ اس کے ہم معنی آثار، روایات کی کثرت مانع ہے،
کہ اس کا استیعاب کیا جائے۔ پھر اے اعضائے ملت مرحومہ!
سوال کے جال بچھانے میں آپ نے کیا فائدہ سوچا ہے؟ مٹھیوں میں آپ ہوا کس
طرح بند کریں گے؟ آخر کب تک بازار سراب پرستی کی گرمیاں قائم رہیں گی؟
عطل و بیکاری کا زمانہ کیا کبھی ختم نہ ہوگا؟
آہ! آپ کی سوئی قوتیں قسم کھاکر سوئی ہیں۔
اے میری مصیبت زدہ عقل سوختہ بھائیو! ہائے! کیا آپ واقعی کچھ نہیں سمجھتے۔
اَمْ عَلیٰ قُلُوْبٍ اَقْفَالُہَا۔ (محمد، پ۲۶، آیت۲۴)
ترجمہ:کیا ان کے دِلوں پر تالے پڑے ہیں؟
کیا شریروں کا یہ کہنا سچ ہے کہ آپ کے احساس شرافت کے حاسوں پر دراصل
تالے ڈال دیے گئے ہیں۔
اے! گرگ کسل، خرس کاہلی کے پنجوں میں پھڑپھڑانے والو! خدا کی دی ہوئی
نعمتوں کو یوں تو برباد نہ کرو؎
چوبرروئے زمیں باشی توانائی غنیمت دان
کہ دوراں ناتوانیہا بسے زیر زمیں دارد
(۸) آہ! کہ یہ کیسی دنائت و نکبت پروری ہے کہ تم تریاق خواص کا نظارہ
سنکھیا کے ذرّوں میں کررہے ہو، تمھیں تاریکی کی موجوں میں روشنی کی کرنیں
نظر آرہی ہیں، ورنہ یہ کیا ہے کہ خزائن السموات والارض کے مالک کا رسول
صلی اللہ علیہ وسلم تو یوں فرمائے:
مَنْ یَّسْتَغْنِ یُغْنِہِ اللّٰہُ۔
(بخاری، کتاب الزکاة،باب الاستعفاف عن المسئلة)
ترجمہ: جس نے بے پروائی کی (سوال کے لیے آمادہ نہ ہوا)خدا اسے غنی کرے گا۔
اور تم یوں سمجھتے ہو، کہ جس نے سوال کیا، وہی غنی ہوگا۔
عَزِیْزٌعَلَیْہِ مَاعَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ
رَؤفٌ رَحِیْمٌ۔(التوبہ، پ۱۱، آیت ۱۲۸)
جس کو تمھاری ہر تکلیف گراں معلوم ہوتی ہے، جسے تمھاری بھلائی کی دھن
لگی ہوئی ہے جو مومنوں کے لیے انتہائی شفیق نہایت مہربان ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو تمھارے اور ہمارے بہی خواہ تھے، نہ صرف
بہی خواہ تھے، بلکہ تمھیں معلوم ہے کہ اس سے بہترین بہی خواہ دین و دنیا
میں اب نہیں ہوسکتا، وہ تو استغنا کو سبب دولت قرار دیتے ہیں، اور تم
بالکل اس کے خلاف ہوکر، فقر و سوال، بھیک اور گداگری کو ثروت اندوزی کا
آلہ سمجھ رہے ہو۔
تم نے تو پڑھا ہوگا، کہ ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ کو جب ان کی
والدہ نے سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مانگنے کے لیے بھیجا،
تو آپ نے فرمایا تھا:
مَنِ اسْتَغْنٰی اَغْنَاہُ اللّٰہُ۔(النسائی، کتاب الزکاة، باب مَن المُلْحِفُ)
ترجمہ: جنھوں نے اپنے آپ کو بے پرواہ بنالیا، خدا انھیں غنی کرچکا۔
آہ! تمھیں تو حصول غنا کا بھی راز بتادیا گیا تھا پھر اس پر اگر نہیں
سمجھتے ہو، تو بجز اس کے اور کیا کہا جائے کہ
فَـطُبِـعَ عَلیٰ قُـلُـوْبِہِمْ فَہُمْ لَایَفْقَہُوْنَ۔(المنافقون، پ۲۸، آیت۳)
ترجمہ: مہرلگادی گئی ان کے دِلوں پر (کہ بربادی کا وقت آچکا) پس نہیں سمجھتے ہیں۔
ارے نادانو! کیا قیوم السّمٰوات والارض، ذوالجلال والاکرام، وہ جس کے
ہاتھوں میں آسمانوں، زمینوں کی کنجیاں ہیں، وہ جس کے قبضے میں بادشاہوں،
امیروں، فقیروں سبھی کے دل ہیں۔ جسے چاہے، سب کچھ دلادے، سب کچھ دے دے،
کیا اس کی کفالت، بغلیں جھانک کر، منہ کڑھاکر، بھیک دینے والے کے چند
سُرخ پیسوں سے بھی گئی گزری ہوئی، کیا اس کی حمایت ایسی ناچیز اور بے
قدری کے قابل ہے، کہ تیرے ہاتھ بجائے اس کے خشک روٹیوں کے چند ٹکڑوں کی
زیادہ عزّت کرتے ہیں۔
خداوند کریم کے ترجمان اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو صاف صاف کھلے کھلے
لفظوں میں اعلان فرمادیا تھا کہ
مَنِ اسْتَکْفیٰ کَفَاہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔
(النسائی، کتاب الزکاة، باب مَن المُلْحِفُ)
ترجمہ: جس نے (اپنی موجودہ قوتوں، خدا کی دی ہوئی تندرستیوں کو) کافی
سمجھا اور اس کے ذریعہ سے تحصیل رزق کی، خدا اس کے لیے کافی ہے۔ (بھیک کی
نوبت اسے نہیں آسکتی)
آہ! کہ تمھارے جسد و روح پرمسرّت وشادمانی کی روکیوں نہیں دوڑ جاتی؟
تمھارا جسم خوشی کی موجوں سے بیتاب ہوکر کیوںجھرجھری نہیں لیتا؟ آسمانی
آوازوں میں کیا کچھ کہہ دیا گیا کہکَفَاہُ اللّٰہُ (ترجمہ: اللہ کافی
ہوجاتا ہے)کی معنی خیزیاں جس گوہر گرامی کو تمھارے ہاتھوں سونپ رہی ہیں،
کیا اُس کے لینے کے لیے— حالاںکہ جب وہ مل گیا تو سب ہی کچھ مل
گیاتھا— تم ان ناپاک میلوں، پلید دھوونوں سے دست کش نہیں ہوسکتے؟ جس کی
حقیقت اس کے علاوہ اور کیا ہے کہ آپ نے تاجروں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا
تھا کہ
یَامَعْشَرَ التُّجَّارِ! اِنَّ الْبَیْعَ یَحْضُرہُ الْلَّغْوُ وَ
الْحَلْفُ شُوْبُوْہُ بِالصَّدَقَۃِ۔ ( ابوداؤد، کتاب البیوع،باب فی
التجارة یخالطہا الحلف واللغو)
ترجمہ:اے تاجر لوگو! تمھاری خرید و فروخت میں بیہودہ باتیں اور قسمیں
آملتی ہیں (اور نفس قسم کھانا بلا ضرورت یا فضول گوئی بُری بات ہے) اس
لیے اس کو صدقہ کے ساتھ ملادو (تاکہ قسم وسم جھوٹ وغیرہ سے جو کچھ گناہ
ہوا ہوگا صدقہ اسے پاک کردے گا۔)
لوگوں سے تجارت و کسب، زراعت و ملازمت، الغرض تمام پیشوں میں جو
کمزوریاں ہوتی رہتی ہیں۔ گناہوں کی خباثت ان مالوں میں اکٹھی ہوجاتی ہے،
صرف اس کے دور کرنے کے لیے فرمایا گیا:
خُذْ مِنْ اَمْوَالِہِمْ صَدَقَۃً تُطَہِّرْھُمْ وَ تُزَکِّیْہِمْ بِہَا۔
(توبہ، پ۱۱، آیت۱۰۳)
ترجمہ:لو ان کے مالوں سے صدقہ، تاکہ تم ان کو ایسے مالوں کے کھانے سے
اور استعمال کرنے سے— جس میں ہر طرح کی برائیاں واقع ہوجاتی ہیں—
پاک کرو۔ (اور اس میل کو نکال کر) انھیں ستھراکرو۔
کیا اسی کی شرح میں آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا:
اِنَّمَا ہِیَ اَوْسَاخُ النَّاسِ۔(موطا امام مالک، کتاب الجامع، باب
مایکرہ من الصدقة)
ترجمہ: صدقہ لوگوں کا میل کچیل ہے۔
دوسری روایت میں:
فَاِنَّمَا الصَّدَقَاتُ غُسَالَاتُ النَّاسِ۔(المعجم الکبیر للطبرانی،
حدیث ۱۲۸۰۶)
اس لیے کہ وہ لوگوں کا دھوون ہے۔
اگر اس میں گندگی نہیں، تو شاہزادۂ اسلام حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو اس
وقت جب کہ صدقہ کی کھجور کو اپنے بچپن کے زمانہ میں منہ میں ڈال دی تھی،
سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کیوں فرمایا:
کِخْ کِخْ اِرْمِ بِہَا۔(مسلم، کتاب الزکاة، باب تحریم الزکوٰة علی رسول اللہ)
تھو تھو، پھینکو۔
میں جانتا ہوں کہ اس کی نجاست جسمانی نہیں کہ کپڑے پر اگر صدقہ کی کوئی
چیز لگ جائے تو اس سے نماز ہوجاتی ہے۔لیکن باوجود ان تمام نصوصات کے یہ
کس طرح مان لیا جائے کہ اس میں نجاست باطنہ بھی نہیں۔
پھر کیا تم نجاست باطنیہ کو خفیف چیز سمجھ رہے ہو؟ آہ! کہ نجاست ظاہرہ
کا اثر تو شاید جسم ہی تک محدود ہوتا ہے، مگر یہ تو وہ ہلاہل (زہر قاتل)
روح گداز ہے کہ جس سے اقلیم جان میں برہمی پھیل جاتی ہے، کشور روح میں
زلزلہ پیدا ہوجاتا ہے، وہ چیز برباد و تباہ ہوتی ہے کہ جس کی بربادی ہر
چیز کی بربادی ہے۔
اِذَا فَسَدَ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہُ (بخاری، کتاب الایمان، باب فضل
من استبرأ لدینٍ)
(ترجمہ: جب دل بگڑ جائے، تو پورا جسم بگڑ جاتا ہے۔)
کس قدر حیرت ہے کہ سنکھیا اور بچھناک سے تو ہمیں احتراز ہے اور خیرات و
صدقہ کے خم کے خم لنڈھانے میں تم اس طرح بے باک ہو۔ حالاںکہ دونوں کی
تاثیر ایک ہی ہے۔ فرق ہے، تو صرف روح وجسم کا، پھر خود اندازہ کرلوکہ کس
کی حفاظت زیادہ ضروری ہے؟
وَمَنْ لَمْ یَجْعَلِ اللّٰہُ لَہُ نُوْراً فَمَالَہُ مِنْ
نُوْرٍ۔(النور، پ۱۸، آیت۴۰)
اور جس شخص کو اللہ ہی نور عطا نہ کرے، اس کے نصیب میںکوئی اور نور نہیں-
بھیک کے اخروی نتائج
اور جس شخص کواللہ ہی نور عطا نہ کرے، اس کے نصیب میں کوئی نور نہیں۔
اور اے ہوا وہوس کے نشہ میں جھومنے والو! تم سے کس نے کہا کہ ہمارے
الفاظ روحانی زیاں کاریوں کے متعلق محض شاعرانہ تخیلات اور خطیبانہ
دھمکیوں سے زیادہ وقیع نہیں۔ کیا اس لیے کہ روح جسم کے قید میں ہے، وہ
دیکھتی ہے تو جسمانی آنکھوں سے، سنتی ہے تو جسمانی کانوں سے۔ الغرض اس پر
جس قدر آثار مرتب ہوتے ہیں؛ وہ سب کے سب براہِ جسم آتے ہیں، اس لیے
روحانی اذیتوں کی کوئی حقیقت نہیں؛ حالاںکہ یہ تو جب کہا جاسکتا تھا کہ:
اِنْ ھِیَ اِلَّامَوْتَتُنَا الْاُوْلٰی وَمَا نَحْنُ بِمُنْشِرِیْنَ۔
(الدخان، پ۲۵، آیت۳۵)
ترجمہ: کچھ نہیں ہے لیکن صرف پہلی موت اور ہم دوبارہ نہ اٹھیں گے۔
مگر تم نے اور تمھاری گذشتہ نسلوں نے تو اس کا انکار کیا ہے۔ پھر آہ! جب کہ:
بَلٰی وَ رَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ۔(التغابن، پ۲۸، آیت۷)
ترجمہ: ہاں قسم ہے میرے پروردگار کی تم اٹھائے جاؤ گے۔
کا زبردست اعلان صحیح ہے، تو تم نے یہ کس طرح سمجھ لیا کہ جن چیزوں کو
میں روحانی زہروں کے ساتھ تعبیر کررہا ہوں، اس کے اثر کا ظہور اگر یہاں
نہ ہوا تو وہاں بھی نہ ہوگا۔ جس پر تمھارا اور تمھارے تمام باپ دادا
ایمان رکھتے ہیں، تمھاری عقلیں کس طرح قبول کرتی ہیں کہ جس نے سنکھیا
کھایا ہے، وہ نہیں مرے گا۔ جس نے اپنے جیب و دامان میں انگارے بھرے ہیں،
وہ نہیں جلے گا۔
پھر تم خود دیکھو! کہ اس عالم کی خبر دینے والوں نے بھیک کے متعلق کیا
فرمایا ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ مخبر صادق مصدوق علیہ السلام نے فرمایا:
مَنْ سَاَلَ النَّاسَ اَمْوَالَہُمْ تَکُثُّرَاً فَاِنَّمَا یَسْألُ
جَمْراً فَلْیَسْتَقِلَّ اَوْ لِیَسْتَکْثِرْ (مسلم، کتاب الزکاة، باب
کراھة المسئلة للناس)
ترجمہ: اپنی ثروت میں اضافہ کرنے کے لیے جو مانگتا ہے، وہ انگارے مانگتا
ہے، پھر چاہے کم طلب کرے یا زیادہ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَایَزَالُ الرَّجُلُ یَسْاَلُ النَّاسَ حَتّٰی َیاتِیَ یَوْمَ
الْقِیَامَۃِ لَیْسَ فی وَجْہِہٖ مُزْعَۃُ لَحْمٍ۔(بخاری، کتاب
الزکاة،باب من سئال الناس تکثراً)
ترجمہ:آدمی بھیک مانگتا رہے گا حتیٰ کہ قیامت میں بایں صورت آئے گا کہ
اس کے چہرے پر گوشت کا ایک ٹکڑا نہ ہوگا۔
پھر کیا ان احادیث صحیحہ، آثار دقیقہ کے ملاحظہ کے بعد بھی تم بھیک کی
روحانی مضرتوں کو محض و اعظانہ مبالغہ کہہ سکتے ہو۔ اور اگر اب بھی کہتے
ہو، تو اس کے علاوہ اور میں کیا کہوں:
فَسَیَعْلُمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ۔
(الشعراء، پ۱۹، آیت۲۲۷)
عنقریب حدود مقررہ سے تجاوز کرنے والے جان لیں گے کہ کس کروٹ پلٹتے ہیں-

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: