اہم خبریں

انقلاب

توقیر بدر آزاد

عزت مآب جسٹس مارکنڈے کاٹجو ملک عزیز کی عدالت عظمی کے سابق جج ہیں،ظاہر ہے ماضی میں انکا منصب ہی آج انکی قابلیت و دانشوری کا سند ہے.
انہوں نے بڑی دل لگتی بات اپنے پیج پر کہی ہے، اسے وہاں انگلش میں دیکھ سکتے ہیں کہ "حقیقی انقلاب (حالات کی درست سمت میں تبدیلی) ہمیشہ دانشورانہ انقلاب(حقائق پسند افراد میں معقول انداز سے مدلل گفتگو کرنے کا جذبہ پیدا ہونا،اپنی سوچ وفکر سے اپنے ارد گرد کو ہر ممکن متاثر کرنا) جگہ پاتا ہے.انہوں نے انقلاب فرانس و تاریخ فرانس سے اپنی اس بات کو مزید مدلل کیا ہے.
==========
راقم بھی یہی کہنا چاہتا ہے کہ ابھی ایک دوسرے کو کوسنے کا وقت نہیں ہے،بلکہ ہماری مضبوط صلاحیت سماج میں فکری انقلاب پر عوام کو آمادہ کرنے پر لگے،یہ نازک وقت اسکا متقاضی ہے.

ابھی ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ملی سطح پر سب سے پہلے قرآن و سنت اور تاریخ و قصص کے حوالے سے حوصلہ کن باتیں عام کریں!اسکے لیے اردو کے ساتھ ساتھ ہندی اور انگلش کو بھرپور کام میں لائیں! خدارا نونہالان امت کو اب تو سوشل میڈیا کے مثبت استعمال و فوائد سے ہم آگاہ کریں! انکی کاوئنسلنگ کریں!

آییے اب اپنے ملک کا جایزہ لیں!صدیوں سے ہر ایک دبے کچلے کو بنا تفریق مذہب و شناخت اپنے ساتھ لیں،اپنی صفوں سے نفاق پسندوں کو دور رکھیں.کس قوم کی کیا تعداد ہے، اس کا ڈیٹا سامنے رکھتے رہیں،کتنے لوگ کن کے ساتھ ہیں،یہ آینیہ دکھائیں!

بارہا مسلم سماج کو اقلیت کہا جاتا رہا ہے اور حوصلے پست کرنے کا یہ سامان ہمیشہ سبھی اقتدار پرستوں کے ہاتھ ایک آلہ کا کام کیا ہے،تو چاہیے کہ ہم دلت آدی واسی،لنگایت، سکھ وغیرہ کی تعداد کے بعد اقتدار پرستوں کی تعداد کیا بچتی ہے، وہ کھل کر بتائیں!

ابھی تقاضا اس کا ہے کہ جو کوی ہماری روش پر نگاہ رکھ کر ہماری بکھراو کی رپورٹ دے کر”سب ٹھیک ٹھاک” کا ریزلٹ اپنے اوپر والے کو دے رہا ہے،بنا تفریق مذہب و ملت آپسی قومی و ملی اتحاد سے اس ریزلٹ کو جلد از جلد اپنی مضبوط و متحد کارکردگی سے بدلوائیں!

ابھی شدت سے انتظار اسکا ہے کہ ہم سبھی اپنے اپنے الگ الگ بینر کو ایک "کلمہ گو”والے بینر میں بدل ڈالیں،کریڈٹ کے پست جذبے کو من جانب اللہ "اعلٰی اجر”میں تبدیل کریں!

اپنے اپنے دفاتر میں میٹنگ اور اپنے اپنے علاقے میں جلوس پر اصرار کے بجاے،سبھی مسالک کی مساجد کو ہی اپنا دفتر جانیں اور ملک میں جہاں کہیں بھی کویی جلوس نکل رہا ہے، ہم "یہ جلسہ ہمارا جلسہ” ثابت کریں!اپنے مضبوط کردار و اتحاد سے عوامی و سوشل میڈیا کے تھرو اسے بیک اپ دیں!اور اس طرح شرقا غربا شمالا جنوبا جہاں کہیں بھی کویی احتجاج ہورہا ہے،اسے بھی اپنا ہی احتجاج ثابت کریں،مکرر عرض ہے کہ سبھی دبے کچلے کو اپنے ساتھ لیں،انکی مستقل ذہن سازی کریں،ان سے مستقل رابطہ رکھیں! جیسا کہ ہمارے نبی کا فرمان ہے اور پھر ملی سطح پر ہر تمیز و الگ شناخت کو ایک "کلمہ گو” میں بدل ڈالیں،جب جب میں یہ کہتا ہوں تب تب مجھے وہ فلسفہ یاد آتا ہے کہ جس پانی نے فرعون کو ڈبویا تھا وہ قطرے قطرے مجتمع ہوکر ہی پانی والا سمندر بنا،ظاہر ہے کہ اس پانی کا اپنا نہ کوئی رنگ تھا نہ کویی مزہ نہ کویی بو!

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close