اہم خبریں

انگریزی زبان سے نفرت کیوں؟ نقی احمد ندوی

انگریزی زبان سے نفرت کیوں؟ نقی احمد ندوی

ایک صدی گزرنے کے بعد کم ازکم اب ہمارے علماء دین اس بات پر متفق ہو گئے ہیں کہ انگریزی زبان حرام نہیں۔ یہ میرے اور آپ کے لیے خوشی کی بات ہے۔ مدارس کے طلباء اور مدارس کے فارغین کی علمی صلاحیت ولیاقت کے معیار کا مطالعہ اس بات کی مکمل یقین دہانی کراتا ہے کہ ان میں وہ تمام جوہر باتم موجود ہیں جو ان کو ایک روشن مستقبل کی ضمانت دیتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے فارغینِ مدرسہ دینیات میں علامہ، منطق وفلسفہ میں ارسطو اور اردو وعربی زبان کے اندر فرزدق اور متنبی سے کم نہیں ہوتے۔ بیشتر کی تاریخ، سماجیات، سیاسیات اور نفسیات کے علوم سے بھی اچھی شناسائی ہوتی ہے۔ صرف ایک چیز جو ان کو مدرسہ کی فراغت کے بعد علوم عصریہ کے طلباء کے مقابلہ میں احساس کمتری میں مبتلا کر دیتی ہے وہ ہے انگریزی زبان کی کمی، اور ریسرچ یہ بتاتا ہے کہ جن طلباء کی انگریزی زبان اچھی ہوتی ہے وہ مسجدوں میں چند ہزار روپے کے امام نہیں بنتے، بلکہ زندگی کے اچھے اچھے شعبوں میں داخل ہوتے ہیں، جو ان کی معاشی حالت کو نہ صرف بہتر بناتا ہے، بلکہ مدرسوں اور دینی اداروں کا بھی نام روشن کرتا ہے۔
دوسری طرف المیہ یہ ہے کہ مدارس خواہ وہ کسی بھی مسلک ومذہب کے ہوں، ابھی تک انگریزی زبان کو اپنے اپنے نصاب تعلیم میں بنیادی اہمیت اور اولیت دینے سے قاصر رہے ہیں، جس کا خمیازہ ہم فارغین مدرسہ کو ہمیشہ بھگتنا پڑتا ہے۔
مجھے اس بات کے اعتراف میں ذرہ برابر بھی مضائقہ نہیں کہ میں ہندوستان کے اس عظیم دانش گاہِ علم وفن کا پروڈکٹ رہا ہوں، جس کی بنیاد ہی اس بات پر ڈالی گئی تھی کہ وہ علم قدیمِ وجدید کا ایسا مرکز ہو گا جہاں کے فارغین نہ صرف یہ کہ علوم دینیہ کے ماہر ہوں گے، بلکہ علوم عصریہ میں بھی ان کو ویسی ہی مہارت ہو گی جو کسی عصری درس گاہ کے طلباء کے اندر ہوتی ہے۔ مگر اس عظیم مرکز علم ودانش نے بھی انگریزی زبان کی تعلیم صرف خانہ پُری کے طور پر دی جاتی ہے۔ اس تناظر میں یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ آپ کسی مدرسہ یا ادارہ میں زیرتعلیم ہوں، وہاں آپ کے اساتذہ اور ذمہ داران مدرسہ آپ کو اس مقصد کی تکمیل میں وہ تعاون دینے سے قاصر ہوں گے، جو آپ کو مطلوب اور درکار ہیں۔ لہٰذا آپ کو اپنی انگریزی زبان کو سدھارنے، اس میں مہارت پیدا کرنے اور اس خلاء کو پُر کرنے کے لیے خود ہی وہ تمام ذرائع ووسائل استعمال کرنے ہوں گے جو آپ کے اس مشن کو کامیاب بنا سکیں۔
ہمارے بعض سقراطی قسم کے طلباء کے ذہن میں یہ اشکال ضرور پیدا ہو گا کہ انگریزی زبان کی تعلیم پر اتنا زور کیوں؟ کیا عربی زبان دین وامت کی خدمت کے لیے کم ہے؟ امام غزالی، ابن الجوزی، شاہ ولی اللہ دہلوی، احمد رضا خان صاحب بریلوی، ناصر الدین البانی وغیرہ تو انگلش داں نہیں تھے۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ آپ امام غزالی اور ابن الجوزی نہیں ہیں اور نہ بن سکتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ آج کے دور میں اگر امام غزالی اور ابن الجوزی ہوتے تو وہ بھی انگریزی کے برناڈشاہ ہوتے۔
تیسری بات یہ ہے کہ آپ کے لیے انگریزی زبان نہ صرف جاننا بلکہ اس میں مہارت حاصل کرنا کیونکر ضروری ہے، اس کے میرے پاس دس وجوہات ہیں۔
(1) دنیا میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان انگلش ہے۔ ہر پانچ افراد میں ایک فرد اس کرۂ ارض پر یا تو انگلش بولتا ہے یا کم ازکم سمجھتا ہے۔
(2) انگلش 53/ ممالک کی سرکاری زبان ہے۔
(3) دنیا میں 400/ ملین لوگوں کی انگلش اپنی پہلی اور مادری زبان ہے۔
(4) انگلش، سائنس، Reactive، کمپیوٹر اور سیاحت کی زبان ہے۔
(5) انگلش دنیا میں میڈیا کی زبان ہے۔ اگر آپ انگلش سمجھ سکتے ہیں تو آپ کو ترجمہ
اور ترجمانی کی قطعاً ضرورت کہیں بھی نہیں ہو گی۔
(6) انگلش انٹرنیٹ کی زبان ہے۔ دنیا کی بیشتر ویب سائٹ انگریزی میں ہے، جن کو آپ پڑھ اور سمجھ سکتے ہیں۔
(7) مستشرقین اور اسلام مخالف گروپ انگریزی زبان میں دین حنیف کے خلاف زہر اگلتے ہیں۔ اسلام کی تصویر مسخ کرتے ہیں اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کا ہر حربہ استعمال کرتے ہیں، جن کا جواب صرف انگلش زبان میں ہی کارآمد ہو سکتا ہے۔
(8) انگریزی زبان میں اسلامی لٹریچر اور قرآن وسنت کے علوم کی انتہائی کمی ہے، جن کو پورا کرنے کے لیے سیکڑوں سال ناکافی ہیں۔
(9) دنیا میں جہاں تیزی سے اسلام پھیل رہا ہے، وہاں کی زبان انگریزی ہے اور انگریزی زبان میں داعیوں کی سخت کمی ہے۔
(10) جب آپ مدرسہ سے فارغ ہونے کے بعد ہندوستان کے کسی عصری ادارہ میں داخلہ لیں گے تو خواہ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہو یا جامعہ ملیہ اسلامیہ ہو جو خالص مسلم یونیورسٹیاں مانی جاتی ہیں وہاں بھی تعلیم انگلش زبان میں ہی ہوتی ہے۔ اور چاہے آپ تاریخ پڑھیں یا سیاست، نفسیات پڑھیں یا معاشیات، لٹریچر پڑھیں یا وکالت وصحافت۔ آپ کو بیشتر کتابیں صرف اور صرف انگلش میں ہی ملیں گی، جن کے بغیر آپ اچھی کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔
ایسی صورت میں اگر آپ مدرسہ کے طالب علم ہیں یا فارغ التحصیل عالم، انگریزی زبان میں مہارت فرض اولین ہے۔ اسی لیے میں کہتا ہوں کہ مدرسہ کے طلباء پہلے لِنگویج کی گاڑی خریدیں۔ جب زبان کی گاڑی آپ نے خرید لی تو اب آپ جہاں چاہیں سفر کریں اور جس منزل کو جانا چاہیں وہاں چلیں جائیں۔ زندگی کے جس شعبہ میں آپ قدم رکھیں گے، انگریزی زبان کی مہارت آپ کو اونچے سے اونچا پرواز کرنے کی طاقت بخشے گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
%d bloggers like this: