اسلامیات

اولاد کو ادب سکھانا صدقہ سے بہتر ہے

مولانا شوکت علی قاسمی بھاگلپوری

]۶۴[ (۱) عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ رَضِیَ اللہ ُ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللہ ِ ا:”لَاَنْ یُّؤَدِّبَ الرَّجُلُ وََلَدَہٗ خَیْرٌ لَہٗ مِنْ اَن یَّتَصَدَّقَ بِصَاعٍ“. رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَقَالَ ھٰذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ وَنَاصِحُ بْنُ عَلَآءٍ الْکُوْفِیُّ لَیْسَ بِالْقَوِیِّ۔
(ترمذی:۲/۷۱؛ رقم:۱۵۹۱،ترغیب:۳/۰۵،مشکوۃ:۳۲۴؛ رقم:۶۷۹۴)
ترجمہ: حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: حضور اقدس ا نے ارشاد فرمایاکہ: خداکی قسم آدمی کا اپنے بچو ں کو ادب سکھانا ایک صاع (غلہ) صدقہ کرنے سے بہتر ہے۔ (ترمذی)
سب سے بہتر عطیہ بچوں کو ادب سے آراستہ کرناہے
]۷۴[ (۲) عَنْ اَیُّوْبَ بْنِ مُوْسٰی بْنِ عَمْروِ بْنِ سَعِیْدِ بْنِ الْعَاصِ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ رَضِیَ اللہ ُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللہ ِ ا قَالَ:”مَا نَحَلَ وَالِدٌ وَلَداً مِنْ نَحْلٍ اَفْضَلَ مِنْ اَدَبٍ حَسَنٍ“.
(ترمذی مرسلاً:۲/۷۱؛ رقم:۲۵۹۱،ترغیب:۳/۰۵،شعب الایمان: ۶/۹۹۳؛ رقم: ۳۵۶۸،مشکوۃ:۳۲۴؛ رقم:۷۷۹۴)
ترجمہ:حضرت عمرو بن سعید صسے روایت ہے کہ: حضور اقدس ا نے ارشاد فرمایاکہ: کوئی باپ اپنے بچے کو اچھے ادب اور صحیح تربیت سے بہتر عطیہ نہیں دیتا۔(ترمذی)
ف:- مطلب یہ کہ باپ کی طرف سے اپنی اولاد کو جو دولت ملتی ہے اُن میں سب سے زیادہ قیمتی اور مفید دولت بچوں کی صحیح تعلیم و تربیت اور اُنھیں اچھے اخلاق سے آراستہ کرنا ہے۔ اس لئے والدین کو اولاد کی صحیح تعلیم وتربیت اور اُن کو اچھے اخلاق سکھانے کی پوری پوری فکر کرنی چاہئے۔
اولاد کواچھا ادب سکھانے کی ترغیب
]۸۴[ (۳) عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللہ ُ عَنْہُ عَنْ رَسُ وْلِ اللہ ِ ا قَالَ:”اَکْرِمُوْا اَوَلَادَکُمْ، وَاَحْسِنُوْا اَدَبَھُمْ“۔
(ابن ماجہ واللفظ لہ:۲/۹۶۲؛رقم:۱۷۶۳،ترغیب:۳/۱۵،شعب الایمان عن ابن سرین:۶/۳۰۴؛رقم:۲۷۶ ۸)
ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: حضور اقدس ا نے ارشاد فرمایاکہ: اپنی اولاد کی قدر کرو، انہیں اچھا ادب سکھا ؤ (اور اچھے اخلاق سے آراستہ کرو)۔ (ابن ماجہ)
ماں باپ پر اولاد کے حقوق
]۹۴[ (۴ ) عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ وَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہ ُ عَنْھُمَا قَالَا: قَالَ رَسُوْلُ اللہ ِ ا:”مَنْ وُلِدَ لَہٗ وَلَدٌ فَلْیُحْسِنْ اِسْمَہٗ واَدَبَہُ“ فَاِذَا بَلَغَ فَلْیُزَوِّجْہُ فَاِنْ بَلَغَ وَلَمْ یُزَوِّجْہُ فَاَصَابَ اِثْماً فَاِنَِّمَا اِثْمُہٗ عَلٰی اَبِیْہِ۔
(شُعْبُ الْاِیْمَان:۶/۱۰۴؛ رقم:۶۶۶۸،مشکوۃ:۱۷۲؛ رقم: ۸۳۱۳)
ترجمہ: حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ: حضور اقدس ا نے ارشاد فرمایا کہ: جس کے یہاں بچہ پیدا ہو اُس کو چاہئے کہ اُس کااچھا نام رکھے، اُس کو اچھا ادب سکھلائے، اور جب بالغ ہوجائے تو اُس کا نکاح کرادے کیونکہ بالغ ہونے کے بعد اگر اُس کا نکاح نہیں کیا اور اُس سے کوئی گناہ ہو گیا تو اُس کے باپ کو بھی اُس کاگناہ ہوگا۔ (شعب الایمان)
تین بیٹی یا بہن کی پرورش اور تربیت کی فضیلت
]۰۵[ (۵) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہ ُ عَنْھُمَا (فِیْ حَدِیْثٍ طَوِیْلٍ) قَالَ:قَالَ رَسُوْلُا:”مَنْ عَالَ ثَ لَاثَ بَنَاتٍ اَوْ مِثْلَھُنَّ مِنْ الْاَخَوَاتِ فَاَدَّبَھُنَّ وَرَحِمَھُنَّ حَتّٰی یُغْنِیَھُنَّ اللہ ُ اَوْجَبَ اللہ ُ لَہُ الْجَنَّۃَ،فَقَالَ رَجُلٌ:یَا رَسُوْلَ اللہ! اَوْ اِثْنَتَیْنِ قَالَ اَوْ اِثْنَتَیْنِ حَتّٰی لَوْ قَالُوْا اَوْ وَاحِدَۃً لَقَالَ وَاحِدَۃً۔رَوَاہُ فی شَرْحِ السُّنَّۃ۔
(مشکٰوۃ:۳۲۴؛ رقم:۵۷۹۴، وفی شعب الایمان عن جابر معناہ:۶/۷۰۴؛ رقم: ۵۸۶۸)
٭ وَفِیْ رِوَایَۃِ اَبِیْ دَاؤدَ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍص قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہ ِ ا: ”مَنْ عَالَ ثَلَاثَ بَنَاتٍ فَاَدَّبَھُنَّ وَزَوَّجَھُنَّ وَاَحْسَنَ اِلَیْھِنَّ فَلَہُ الْجَنَّۃُ“۔ (ابوداؤد:۲/۰۰۷؛رقم:۸۳۱۵باب فضل من عال یتَامٰی)
ترجمہ: حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ: حضوراقدس ا نے ارشاد فرمایا کہ:جس نے تین لڑکیوں کی یا اسی طرح تین بہنوں کی پرورش کی، اُن کو ادب سکھایا اور اُن کے ساتھ محبت وشفقت کا برتاؤ کیا یہاں تک کہ اللہ جل شانہٗ نے اُنہیں مستغنی کردیا (مال دیکر، شادی کرا کے، یا پھر وفات دیکر) تو حق تعالیٰ شانہٗ نے اُس شخص کو جنت کا مستحق بنادیا، یہ سن کر ایک صحابی نے عرض کیا کہ: کیا دو بیٹیوں اور بہنوں کی پرورش و تربیت پر بھی یہی اجر ملے گا؟ آپ ا نے فرمایا کہ: ہاں دو پر بھی یہی اجر ملے گا، راوی کہتے ہیں کہ اگر صحابہ ایک بیٹی یا بہن کے بارے میں بھی دریافت کرتے تو بھی آپ ا یہی جواب مرحمت فرماتے کہ: ہاں ایک پر بھی یہی اجر ملے گا۔ (ابو داؤد، شعب الایمان)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: