زبان و ادب

اولاد

زندگی کے تجربات پر مبنی احساس کو اپیل کرنے والی نظم

~ اولاد ~

یہ جو تمھاری اولاد ہے
یہ تمھارے بچے نہیں ہیں۔
یہ زندگی کی آرزوِحیات سے جنے
خود زندگی کی بیٹے اور بیٹیاں ہیں۔
یہ یہاں آتے تمُھارے ذریعے ہیں
لیکن یہ تم میں سے نہیں،
یہ تمھارے ساتھ تو ہیں مگر
ان کا تم سے کوئی واسطہ نہیں۔
تم انہیں اپنی مُحبت دے سکتے ہو
مگر اپنی سوچ نہیں دے سکتے
تم لاکھ جتن کرلو لیکن جان لو
کہ ان کی سوچ اپنی ہی ہوگی۔

تم ان کے جسموں کو
دیوار و چھت تو دے سکتے ہو
لیکن ان کی آزاد روحوں کو
کبھی قید نہیں کرسکتے،
کیونکہ ان کی روحوں کا
کل کے گھر میں بسیرا ہے
جہاں تم نہیں جاسکتے،
اپنے خوابوں میں بھی نہیں۔

ہاں ، تم جو چاہو تو
ان کے جیسے بن سکتے ہو،
لیکن لاکھ کوشش کرو تو
ان کو اپنے جیسا نہیں بنا سکتے
کیونکہ زندگی نے کبھی
پیچھے کی طرف سفر نہیں کیا
اور نہ ہی گُزرے کل میں
ٹھری ہے کبھی۔

کہ تم ہی تو وہ کمان ہو
تمھارے بچے جس سے
زندہ تیروں کی مانند
آگے کی طرف سفر کرنے کو
بھیجے جاتے ہیں۔
لامکاں کے رستے پہ تیرانداز
اپنی پسند کے نشاں دیکھ کر،
تمھاری ذات کو اپنی مرضی سے
پھر کُچھ ایسے جُھکائے جاتا ہے
کہ تُجھ کمان سے نکلا ہوا تیر جائے
بُہت تُندی سے ، بُہت دور تلک !

تمھاری یہ کوشش رہے
کہ تیر انداز کے ہاتھ سے
خود کے جھکاو کو ہمیشہ
خوشیوں کی جانب رکھنا؛

یاد رکھنا یہ ! اُسے وہی تیر پسند ہے
جو بڑی شان سے ہوا میں اڑتا رہے،
ویسے ہی اُس ذات یکتا کو عشق ہے
اُس کمان سے جو مضبوطی سے جما رہے۔

شاعر : خلیل جبران
کتاب : النبی (The Prophet)
ترجُمہ : نودخان

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: