اہم خبریں

اُردو زبان اور ہماری ذمہ داریاں

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

ہندوستان میں آزادی سے پہلے ایک ایسی زبان بولی جاتی تھی جسے ہندوستانی کہا جاتا تھا، اگر اس کو دیوناگری رسم الخط میں لکھا جاتا تو اس کا نام ہندی ہوتا اور اگر فارسی خط میں لکھا جاتا تو اس کا نام اُردو ہوتا؛ اسی لئے اُردو زبان میں عربی و فارسی کے الفاظ بھی شامل ہوتے ہیں اور ہندی میں سنسکرت کے؛ اسی لئے اس میں بہت سی اصطلاحات عربی و فارسی زبان کی بھی ہیں، جب ملک آزاد ہوا اور سرکاری زبان پر بحث ہوئی تو آدھے ارکان کی رائے تھی کہ ہندوستان کو سرکاری زبان بنائی جائے اور اسے دونوں رسم الخط میں لکھا جائے؛ لیکن غالباً ڈاکٹر راجندر پرشاد صدر جمہوریہ ہند کے تائیدی ووٹ کی بناء پر اُردو کو اس حیثیت سے مکمل طورپر محروم کردیا گیا؛ لیکن بعض اصطلاحات جو پہلے سے آرہی تھیں وہ بتدریج جاری ہیں؛ لیکن اب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اب ان اصطلاحات کا استعمال بھی نہیں کیا جائے گا، یہ ایک المیہ ہے کہ جو زبان ہندوستان میں پیدا ہوئی، اسی کو دیس سے نکال دیا جارہا ہے، اور اس کو مسلمانوں کی طرف منسوب کرکے نفرت کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ زبان کی حیثیت محض ایک ہتھیار اور ذریعہ کی ہے، وہ کسی خاص مذہب اور فکر کی ترجمان نہیں ہوتی بلکہ اظہار و تعبیر کا ایک ذریعہ ہوتی ہے، جس کے ذریعہ اچھی فکر کو بھی فروغ دیا جاسکتا ہے اور منفی اور نقصاندہ فکر کو بھی پروان چڑھایا جاسکتا ہے؛ اس لئے زبان کا اپنا کوئی مذہب نہیں ہوتا، ہاں بعض ایسی زبانیں ہیں جن میں کسی خاص مذہب کی بنیادی کتاب موجود ہے، اس پہلو سے اسے اس مذہب کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اور اس نسبت میں کوئی برائی نہیں، جیسے سنسکرت زبان ہندو مذہب کے لئے، فارسی پارسیوں کے لئے، عبرانی یہودیوں کے لئے اور عربی مسلمانوں کے لئے خصوصی اہمیت کی حامل ہیں، اردو زبان اس معنی میں کوئی مذہبی زبان نہیں، اس زبان کی تشکیل میں سب سے اہم کردار ہندی کا پھر فارسی کا ہے، زبان کی بنیاد اس کے گرامر اور قواعد پر ہوتی ہے، الفاظ اورتعبیرات تو ہمیشہ بدلتی رہتی ہیں، اردو قواعد اصل میں ہندی زبان سے ماخوذ ہیں، واحد و جمع، مذکر و مؤنث کے صیغے، جملوں کی ترتیب و غیرہ عام طور پر وہی ہیں جو ہندی کی ہیں، محاورے بھی زیادہ تر ہندی ہی کے اردو میں مستعمل ہیں، تشبیہات و استعارات میں غالباً فارسی نے زیادہ حصہ پایا ہے، ہندی کی سادگی اور فارسی کی مٹھاس کے ساتھ عربی الفاظ کی شمولیت نے اس کے شوکت و شکوہ میں اضافہ کیا ہے، اس کے علاوہ سنسکرت، انگریزی، پنجابی، دکنی اور سنسکرت زبانوں کے الفاظ کی آمیزش نے اس کو ایک گلدستہ سا بنا دیا ہے، جس میں ہر پھول کا رنگ جدا اور ہر غنچہ کی خوشبو ایک دوسرے سے سوا ہے، اس لئے اس کا نام ہی ”اُردو“ پڑ گیا؛ گویا یہ ایک زبان نہیں بلکہ زبانوں کا لشکر ہے، یہ گل نہیں بلکہ ہم رنگ پھولوں کا گلستاں ہے، اس حقیقت نے اس زبان کو بیک وقت مختلف زبانوں کی خوبیوں کا امین بنادیا ہے۔
اسی لئے ہمیں اردو زبان کی خدمات میں شروع ہی سے غیر مسلم حضرات کا نمایاں کردار نظر آتا ہے، کسی زبان کو معیاری زبان کا مقام اس وقت حاصل ہوتا ہے جب اس کے اپنے اصول و قواعد متعین ہوجائیں، گرامر کے بغیر زبان ایک عوامی بولی تو ہوتی ہے، ایسی زبان نہیں ہوتی جس میں معیاری اور ادبی، علمی اور تحقیقی لٹریچر تیار ہو سکے، اس کے قواعد مرتب کرنے والوں میں سب سے ابتدا میں جن لوگوں کا نام ملتا ہے، وہ بقول بابائے اردو مولوی عبد الحق کے تین شخص ہیں: جان جو شواکٹلر، مشنری شلز، ہیڈلے، (قواعد اردو، مقدمہ: ص: ۵۱) اور یہ بات اہل علم کے لئے محتاج اظہار نہیں کہ اٹھارویں صدی کے اواخر اور انیسویں صدی کے اوائل میں ’فورٹ و لیم کالج‘ اردو زبان میں تصنیف و تالیف اور نشر و اشاعت کا اہم مرکز تھا، یہ تو انگریزوں کا ذکر تھا، اردو زبان میں ہندو بھائیوں کی خدمات اتنی زیادہ ہیں کہ ان پر کئی ضخیم جلدیں تیار ہوسکتی ہیں، جناب چکبست نسیم، کرشن چندر، پریم چند، آنند نرائن ملا شعراء اور ادباء ہیں جن کے بغیر اردو زبان کی تاریخ نامکمل اور نا تمام رہے گی، اردو کتابوں کی طباعت میں ’منشی نول کشور‘ کی جو خدمات ہیں، شاید ہی کوئی بڑا سے بڑا مسلمان ناشر بھی اس باب میں ان کی ہمسری کر سکے، انھوں نے فوٹو آفسیٹ پریس کے دور سے پہلے جس خوب صورت، روشن اور بڑی حد تک کتابت کی غلطیوں سے پاک و صاف اردو، فارسی اور عربی لٹریچر پیش کیا وہ کام نہیں کار نامہ ہے، اسی طرح اسلام کے علاوہ دوسرے مذاہب کی ترویج اور ان کے افکار و نظریات کو پیش کرنے میں بھی اردو کا بہت ہی نمایاں حصہ رہا ہے، اس سلسلہ میں جناب محمد عزیر کی تالیف ”اسلام کے علاوہ مذاہب کی ترویج میں اردو کا حصہ“ (صفحات: ۴۲۳، ناشر انجمن ترقی اردو) خاص طور پر لائق مطالعہ ہے۔
تاہم یہ ضرور ہے کہ مسلمانوں نے بر صغیر میں اپنا مذہبی لٹریچر زیادہ تر اردو زبان میں پیش کیا، محض اس وجہ سے اردو زبان کو ایک گروہی زبان کی حیثیت دے دی گئی اور یہ تأثر دیا گیا کہ وہ صرف مسلمانوں کی زبان ہے؛ حالاں کہ اگر یہ صرف مسلمانوں کی زبان ہوتی تب بھی یہ ملک کی ایک ایسی اقلیت کی زبان قرار پاتی ہے جن کی تعداد سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چودہ فیصد کے قریب ہے اور جن کی حقیقی تعداد پندرہ تا بیس فیصد بتائی جاتی ہے، جو زبان ملک میں اتنے بڑے گروہ کے لئے ذریعہ اظہار ہو، کیا اس کی اہمیت سے انکار کیا جاسکتا ہے؟ اس کے لئے ضرورت ہے مخلصانہ جد و جہد، بے غرض کاوش اور اس تحریک کے لئے حکیمانہ قیادت کی، اکثر دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ اردو زبان کے حقوق کے لئے جد وجہد کا نعرہ لگاتے ہیں، وہ خود اس میں غیر مخلص ہوتے ہیں، وہ اسے ایک سیاسی ایشو کے طور پر استعمال کرتے ہیں، وہ خود اردو زبان سے ناواقف ہوتے ہیں، ان کے گھر میں اردو کے لئے کوئی جگہ نہیں ہوتی، وہ اس شور و ہنگامہ کو سیاسی مفادات کے حصول کا ذریعہ بناتے ہیں اور جہاں ان کی اقتدار اور پیسوں کی بھوک کم کرنے کے لئے ایک دو لقمے منہ میں ڈال دیئے جاتے ہیں زبان گنگ ہو جاتی ہے، سیاسی قائدین اردو کے دوسری سرکاری زبان ہونے کا اعلان تو کرتے ہیں، لیکن یہ سرکاری حکم فائلوں میں دفن رہتا ہے اور عملی طور پر اردو کو اس سے کوئی فائدہ نہیں پہونچتا۔
آزادی کے بعد اگر سرکاری سطح پر اردو کی ترقی کے لئے کوئی کام ہوا ہے تو وہ ’انجمن ترقی اردو بورڈ‘ کا قیام اور اس کے تحت فنی، سائنسی اورتحقیقی کتابوں کی اشاعت اور ’مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی‘ کا قیام ہے، ان دونوں اداروں نے علمی، تحقیقی اور تعلیمی اعتبار سے اردو کو بڑا فائدہ پہنچایا ہے، اور ایسے کاموں کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے، اردو ادب کو صرف لیلی مجنوں کی کہانیوں، شیریں و فرہاد کی داستانوں، اور جام وپیمانہ کی سرمستیوں سے ایک ایسی زبان نہیں بنایا جاسکتا جو علم و تحقیق کی ضرورت کو پورا کرتی ہو اور اپنے دور کے سماجی و معاشی مسائل اور اپنے عہد کے افکار و نظریات کی ترجمان بن سکتی ہو؛ اس لئے ہمیں چاہیے کہ ہم زبان کی ترقی و تعمیر کے ایسے اداروں کی حوصلہ افزائی کریں اور ان کا ایسا تعاون کریں کہ وہ ملک میں ایک با وقار ادارہ کی حیثیت سے جانے جائیں۔
اُردو زبان سے متعلق دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ اس زبان میں جتنا کثیر اسلامی لٹریچر ہے، عربی زبان کے بعد دنیا کی کسی اور زبان میں اتنا بڑا اسلامی سرمایہ موجود نہیں، اُردو زبان میں متعدد ایسی کتابیں لکھی گئی ہیں کہ انھیں عربی کا جامہ پہنایا جارہا ہے اور وہ عرب علماء و محققین سے بھی داد وتحسین وصول کررہی ہیں، اس وقت دنیا میں مسلم آبادی کا بہت بڑا حصہ اپنی بول چال کے لئے اُردو کا گرویدہ ہے، صرف برصغیر میں تقریباً چالیس کروڑ مسلمانوں اردو بولتے اور سمجھتے ہیں، یورپ اور افریقہ کے مختلف ملکوں نیز امریکہ و کناڈا و غیرہ میں برصغیر کے تارکین وطن کی وجہ سے اُردو وہاں کی زیادہ بولی اور سمجھی جانے والی زبانوں میں سے ایک ہوگئی ہے، میں جب برطانیہ گیا تو مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ وہاں سے پانچ اُردو روزنامے نکلتے ہیں، خلیجی ممالک سے دو کثیر الاشاعت اُردو روزنامے شائع ہو رہے ہیں، اس طرح اُردو ایک عالمی اور انٹرنیشنل زبان ہوگئی ہے۔
اس وقت دنیا کے اکثر آزاد دینی مدارس میں اردو ہی ذریعہ تعلیم ہے، ہندو پاک میں تو ایسا ہونا باعث تعجب نہیں، لیکن امریکہ، یورپ اورافریقی ملکوں میں بھی آزاد دینی مدارس میں تدریس کی زبان اردو ہے، اس لئے مسلمانوں کے حق میں یقینا اردو زبان کی اہمیت دو چند ہے، اُردو ان کے مذہبی اور تہذیبی ورثہ کی امین ہے، اُردو سے رشتہ کی استواری اپنی تاریخ، اپنے مذہب اور اپنی فکری اور تہذیبی روایات سے مربوط ہونا ہے، اردو زبان میں اسلامی اصطلاحات اور قرآنی تعبیرات ایسی رچ بس گئی ہیں جیسے گلاب میں اس کی سرخی اور موتیا میں اس کی خوشبو، یہاں تک کہ غیر مسلم ادباء بھی اپنی تحریروں میں بے تکلف ”ماشاء اللہ، سبحان اللہ، الحمد اللہ، نعوذ باللہ“ و غیرہ الفاظ لکھتے ہیں اور ایسی تشبیہات سے کام لیتے ہیں جن کے پیچھے اسلامی فکر کار فرما ہوتی ہے۔

اہل اُردو کو دینی مدارس کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ معاشی مواقع سے رشتہ ٹوٹ جانے کے باوجود انھوں نے اس زبان کو زندہ رکھا ہے، اگر کوئی قوم اپنی زبان کو باقی رکھنے کا فیصلہ کرلے اور اس کے لئے کسی قدر قربانی دینے کے لئے تیار ہو تو کوئی طاقت اس سے اس کی زبان نہیں چھین سکتی، ہندی اور سنسکرت ایک ایسی زبان ہے جو کئی صدیوں سے حکمرانی سے محروم تھی اور سرکاری زبان فارسی تھی؛ لیکن اس زبان کے بولنے والوں نے اسے زندہ رکھا، عبرانی زبان ہزاروں سال سے کسی حکومت کی زبان نہیں رہی، نہ عام بول چال میں اس کا رواج رہا، لیکن یہودیوں نے زبان کو باقی رکھا اور اسرائیل بننے کے بعد اسے سرکاری حیثیت حاصل ہوئی، کیا مسلمان اپنی اس زبان کو جو ان کی طرف منسوب کردی گئی ہے، اپنی کوششوں سے باقی نہیں رکھ سکتے؟ یقینا باقی رکھ سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ اس معاملے میں سنجیدہ اور مخلص ہوں، محض حکومتوں سے شکوہ اس مسئلہ کا حل نہیں ہو سکتا، جو قومیں زندہ، بالغ نظر، بیدار مغز اور حوصلہ مند ہوتی ہیں، وہ اپنے مسائل خود حل کرتی ہیں اور اپنے آپ کو بیساکھیوں کا محتاج نہیں ہونے دیتیں۔
اس پس منظر میں اردو زبان کے بقا اور تحفظ کے سلسلے میں عام لوگ جو حصہ ادا کرسکتے ہیں، اس سے متعلق چند تجاویز پیش کی جاتی ہیں :
٭ جو انگلش میڈیم اسکول مسلمانوں کے زیر انتظام ہیں، ان میں خاص طور پر اردو زبان کے لئے دسویں کلاس یا کم سے کم ساتویں کلاس تک مستقل ایک گھنٹی رکھی جائے اور پوری توجہ کے ساتھ تعلیم دی جائے؛ کیوں کہ اب اردو میڈیم اسکول یا تو قائم نہیں ہو رہے ہیں، یا قائم ہو رہے ہیں تو انھیں وہ مقبولیت حاصل نہیں ہو پارہی ہے جو ہونی چاہیے؛ اس لئے اب انگلش میڈیم اسکولوں میں ذریعہئ تعلیم کی حیثیت سے نہ سہی تو کم سے کم بحیثیت زبان ہی اردو پڑھانی ضروری ہے۔
٭ معیاری اردو میڈیم اسکول قائم کرنے کی کوشش کی جائے اور عام لوگوں کا ذہن بنایا جائے کہ وہ ایسے اسکولوں کی حوصلہ افزائی کریں اور ان میں اپنے بچوں کو داخل کریں، جیسا کہ مہاراشٹر اور بعض دوسرے صوبوں میں اردو میڈیم اسکولوں کی بہت اچھی کار کردگی سامنے آرہی ہے۔
٭ زیادہ سے زیادہ اخبارات و رسائل خرید کئے جائے، اس وقت ہندوستان میں اردو کا سب سے کثیر الاشاعت اخبار ”منصف“ ہے جس کی اشاعت ساٹھ ہزار ہے، حیدرآباد کے تمام اردو اخبارات کی مجموعی اشاعت ایک لاکھ سے کچھ ہی زیادہ ہوگی، حالاں کہ حیدرآباد شہر، تلنگانہ اور کرناٹک و مہارارشٹر کے وہ اضلاع جو دکن اسٹیٹ میں شامل تھے، میں اردو قارئین کی تعداد ایک کروڑ سے کم نہ ہوگی، صرف حیدرآباد میں مسلمانوں کی آبادی تیس لاکھ سے متجاوز ہے، اگر پانچ فیصد اردو خواں حضرات بھی اردو اخبارات خرید کر پڑھنے کا مزاج بنالیں تو کم سے کم صرف حیدرآباد اور اس کے اطراف میں چھپنے والے اردو اخبارات کی تعداد اشاعت پانچ لاکھ سے بڑھ جائے گی، یہ حال تو حیدرآباد کا ہے جہاں اخبار خرید کر پڑھنے کا ذوق نسبتاً بہتر ہے، ملک کے دوسرے علاقوں میں تو اس سے بھی زیادہ افسوسناک صورت حال ہے، اس لئے اردو قارئین کو چاہیے کہ وہ ایک مہم کے طور پر اردو اخبارات و رسائل کی ہمت افزائی کریں اور ہوٹل کی میز پر اخبار پڑھنے کے بجائے شخصی طور پر زیادہ سے زیادہ اخبارات خرید کریں، ایک اخبار کی قیمت چائے کی ایک پیالی سے بھی کم ہوتی ہے، اگر آپ نے دو تین اخبار خرید کئے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے آج دو تین پیالی چاے کم پی، لیکن اس سے آپ کی زبان کو جو تقویت پہونچے گی، آپ اس کا اندازہ نہیں کر سکتے۔
٭ اُردو کتابوں کی فروخت بھی بڑی مشکل سے ہوتی ہے، بعض کتابیں ایسی ہیں جو انگریزی یا عربی میں لاکھوں کی تعداد میں چھپتی ہیں، لیکن وہی جب اردو زبان کا پیکر اختیار کرتی ہیں، تو ایک تو ہزار، گیارہ سو نسخے چھپتے ہیں اور ان کے نکلنے میں بھی دس، گیارہ سال کا عرصہ لگ جاتا ہے، اس لئے ہمیں اپنے گھروں میں اردو کتابیں پڑھنے اور انھیں خرید نے کا مزاج بنانا چاہیے، اپنے دیوان خانوں کو مصنوعی پھولوں کے گلدستوں سے آراستہ کرنے کے بجائے کتابوں سے آراستہ کیجئے کہ یہ آپ کے اور آپ کی نسلوں کے لئے دل و دماغ کی غذا ہیں، نیز اپنی آمدنی کا ایک حصہ ہر ماہ کتابوں کے خرید کرنے کے لئے مخصوص کرلیجئے، اس طرح آپ اپنے ترکہ میں زر و زمین کے ساتھ ساتھ علم و دانش بھی چھوڑ کر جاسکیں گے۔
٭ اردو میں خط و کتابت اور نجی یاد داشتیں لکھنے کا مزاج بنائیے، گھر میں اپنے بال بچوں سے اردو ہی میں گفتگو کا اہتمام کیجئے اور خاص کر اتوار کے دن کو اپنے بچوں کو اردو زبان سکھانے کا دن بنائیے، گھر میں اردو زبان کا یہ ماحول اردو کے تحفظ اور اس کے بقا کے لئے بہت ہی مفید ثابت ہو گا۔
غرض کہ اردو زبان کے تحفظ میں ہمیں صرف سیاسی کوششوں پر قناعت نہیں کرنی چاہیے اور حکومتوں سے مطالبات کو کافی نہیں سمجھنا چاہیے؛ بلکہ خود اپنا حصہ بھی ادا کرنا چاہیے، خود بے عملی کا راستہ اختیار کر کے حکومت سے تحفظ کا مطالبہ کرناایسا ہی ہے کہ جیسے کوئی شخص دوسروں سے اپنے گھر کی حفاظت کی امید رکھے اور خود ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھا رہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close