زبان و ادب

آج واقعی بقرہ عید ہے:ڈاکٹرراحتؔ مظاہری،قاسمی

ادب اطفال
کہانی
آج واقعی بقرہ عیدہے:ڈاکٹرراحتؔ مظاہری،قاسمی
ذکی ویسے توابھی۹ یا۱۰ ہی برس کابچّہ تھامگراپنے گھریلو تعلیمی ماحول اوروالدماسٹر سلیمصاحب کے ایک اردواسکول میںٹیچرہونے کی وجہ سے اخباروںکی موٹی، موٹی، سرخیاںاورچھوٹی موٹی خبریںآسانی کے ساتھ پڑھنے لگاتھااس نے ایک صبح اخبارمیں موٹی سرخی کے ساتھ یہ خبرپڑھی
’’آج چاندکی پہلی تاریخ ہے اوربقرہ عید ۲۱جولائی کوبروزبدھ منائے جائی گی،،
ذکی نے یہ خبرپڑھ کراپنی سے کہا:امی!ہمارے یہاں پچھلے سال بھی قربانی نہیں ہوئی تھی،ابوسے کہناکہ و ہ قربانی کے لئے لال ،سفید رنگ کابربری نسل کابکرالائیں،بربری نسل کے بکرے بالکل ہرن کی طرح سے خوبصورت ہوتے اوربہت،تیزدوڑتے ،اچھلتے ہیں، مجھے دیسی نسل کے بکرے اچھے نہیں لگتے،،
چونکہ اس باربھی لاک ڈاؤن کی وجہ سے اس کے ابوماسٹر سلیم کی مالی حالت خستہ تھی، اس لئے ذکی کی امی اس کی ساری باتوںپرہاں،ہاں کرتی رہیں اوربیٹے کی دل جومیں کوئی صاف جواب نہ دےسکیں،آخرہوتے، ہوتے عیدالاضحی کی۹تاریخ ہوگئی اوراب عیدمیں صرف ایک ہی دن باقی رہ گیاتھا،ذکی نے اپنی امی کوپھریاددلایاکہ ابوسے جلدی بکرامنگائیے کہ پھربکرے ختم یابہت مہنگے ہوجائیں گے۔
ذکی کی امی ابھی اسی کشمکش میںتھیںکہ اپنے معصوم بیٹے کواپنی مجبوری کی بات کس طرح سمجھائیں؟ کہ اتنے ہی میں اس کے ابوماسٹرسلیم باہرسے آکرپوچھنے لگے
’’آج ماں، بیٹوںمیں کیاکھچڑی پک رہی ہے؟
ذکی کی امی کوتواپنے شوہرکی ہرایک مجبوری اوران کی غربت کاپورا علم تھامگرپھربھی انھوں نے اپنی غربت کے آنسوپیتے ہوئے ماسٹرصاحب کو بیٹے کی پوری دردبھری کہانی اورفرمائش بتائی ۔
ماسٹرصاحبنے بہت ہی بجھے دل سے کہا:بیٹا!ہمارے یہاں اس باربھی بکرانہیںآئے گا،کیونکہ ہمارے پاس بکراخریدنے لائق پیسے نہیں ہیں،،
ذکی اپنے ا بو کی یہ مایوسانہ بات سن کر معصومانہ اندازمیں کہنے لگا
ابو! توکیااس باربھی بقرہ عید پر ہم دال ،سبزی ہی کھائیںگے؟
اس کے ابونےبڑے اعتمادکے ساتھ سمجھاتے ہوئے کہا:ایسانہیں بیٹا!اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہونا،مایوسی بری عادت ہےایسابالکل مت سوچو کیونکہ محلہ میں ایک ہم ہی توغریب ہیں ،باقی تو ہمارے محلہ میں ایک سے ایک مالدار،سخی اورغریب پرورہیں وہ ہمارے بغیرکبھی بھی قربانی کاگوشت نہیں کھاسکتے،۔
آخرہوتے ،ہوتےعیدکادن بھی آگیا،ذکی نے اپنے ابوکے ساتھ عیدگاہ جاکرعیدکی نمازاداکی،محلہ میںقربانیاں شروع ہوگئیں، لوگوںکے گھروںکی نالیوںسے قربانی کے جانوروںکاخون بہنے لگا،گوشت کاانتظارکرتے کرتے ظہرکی نمازبھی ہوگئی مگراب تک ماسٹرصاحب کے گھرپرکہیںسے گوشت کی ایک بوٹی تک نہیں آئی۔
بچّے نے بے چین ہوکرپوچھا’’ ابوابھی تک کہیں سے گوشت نہیںآیاسامنے والے ڈاکٹرصاحب بھی ،شاید ہم کوبھول گئے، وہ تو آئے دن آ پ سےا پنے کئی کام بھی لیتے رہتے ہیں؟
ماسٹرصاحبنے کہا:بیٹا!’’کوئی بات نہیں بیٹا!چلومیں ہی ڈاکٹرصاحب کو عیدکاسلام کرنے کے بہانے جاتا ہوں، مجھے پوری امیدہے کہ وہ مجھے دیکھتے ہیںہم کوبھی اپنی قربانی کے گوشت سے ضرورنوازیںگے،،
ماسٹرصاحب نے ڈاکٹرصاحب کی بیل بجائی، توڈاکٹرصاحب نے خودآکرگھرکاگیٹ کھولتے ہوئے کہا
سنایئےماسٹرصاحب سلیم ! سب خیریت ہے نا!
ماسٹرسلیم نے ڈاکٹرصاحب کوبڑی لجاجت کے ساتھسلام کرتے ہوئے کہا: !عیدکادن ہے میں نے سوچاکہ ڈاکٹرصاحب کوعیدکاسلام ہی کرآؤں،،
ڈاکٹرصاحب نے ان کے سلام کاجواب دیتے ہوئے کہا:مجھے افسوس ہے کہ ہم گوشت بانٹتے وقت تمہاراگھرتو بالکل ہی بھول گئے اوراتفاق کی بات یہ ہے کہ اب گوشت بھی صرف ہمارے گھرہی کے لائق بچاہے۔
ماسٹرسلیم خالی ہاتھ اپنے بوجھل قدموںکے ساتھ ابھی اپنے دروازے تک بھی نہی آئے تھے کہ سامنے سے ان کے پرانے دوست ماسٹر رفیق جوکہ سبزی منڈی کے اسکول میں ان کے ہیدماسٹررہ چکے تھے اوران کاگھربھی تقریباََ دوکلومیٹرکے فاصلے پرتھا، دورہی سے سلام کرتے ہوئے کہا
’’سلیم بھائی معاف کرنامجھے یہاںتک آنے میں بہت دیرہوگئی ، تمہاری بھابی تو مجھ کوبارہ بجے ہی سے تقاضا کررہی تھیں کہ جلدی جایئے مگر مجھے گوشت کی تقسیم کی وجہ سے بہت تاخیرہوگئی۔
ماسٹرسلیم نےاپنے دوست ماسٹر رفیق کاشکریہ اداکرتے ہوئے ان کوچائے پی کرجانے کی پیش کش کی مگرچونکہ ماسٹر رفیق کوابھی دوسرے لوگوںکے یہاں بھی گوشت پہنچاناتھااس لئے وہ معذرت کرتے ہوئے دروازہ سے ہی واپس چلےگئے۔
جب ماسٹر سلیم گوشت لے کرگھرمیںداخل ہوئے توذکی کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھااوراس کو لگا کہ آج واقعی بقرہ عیدہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: