اہم خبریں

آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کی اصلاح معاشرہ کمیٹی کےزیر اہتمام اترپردیش میں ’’آسان ا ور مسنون نکاح مہم‘‘ کی سرگر میاں جاری

پریس ریلیز (یکم؍اپریل دیوبند) آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کی اصلاح معاشرہ کمیٹی کی جانب سےمورخہ ۲۷مارچ سے۶ ؍اپریل تک ملکی سطح پر چلائی جارہی’’ دس روزہ آسان اور مسنون نکاح ‘‘ کو اتر پردیش میں کامیاب بنانے کے لیے اصلاح معاشرہ کمیٹی اترپردیش کے اراکین سرگرم عمل ہیں، اس سلسلے میں اصلاح معاشرہ کمیٹی (اترپردیش) کے زیر اہتمام لکھنؤ،ہردوئی،شاہ جہاں پور،موانہ میرٹھ،فتح پور بارہ بنکی،دیوبند،سہارنپور،پھلت،کھتولی،مظفرنگر،غازی آباد سمیت صوبے کے مختلف اضلاع میں پروگرام منعقد کئے گئے،جن کی تفصیلات حسب ذیل ہیں:
مورخہ ۲۷مارچ بروز سنیچر مسجد دار العلوم فرنگی محل لکھنؤ میں ایک جلسہ منعقد ہوا، جس میں مولانا خالد رشید فرنگی محلی( امام عید گاہ لکھنؤ )نے خطاب فرمایا،انہوںنے اپنے خطاب میں مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ اسلامی شریعت کے احکام ، رسول اکرم ﷺ کی تعلیمات و ہدایات اور صحابہ کرام ؓکے طریقوں کے مطابق اپنی زندگی گزاریں ،اورغیر اسلامی رسم و رواج ترک کردیں، شادی سادگی سے کریں، جہیز کا مطالبہ ہرگز نہ کریں، اس لیے کہ یہ شرعی طور پر ناجائز ہے اور ملکی قانون کے لحاظ سے غیر قانونی اور قابل سزا جرم ہے ۔
مورخہ۲۷ مارچ بروز سنیچر بعد نماز عشاء محمد گنج فیروزآباد میں ’’آسان اورمسنون نکاح شریعت کی پہلی پسند‘‘ کے عنوان پر ایک پروگرام منعقد ہوا جس میں مولانا اعلم مصطفی یعقوبی نے خطاب کیا،اس پروگرام میںسو سے زائدنوجوانوں نے اقرار نامہ کے مطابق عہد کیاکہ وہ مسنون طریقے پر نکاح کریں گے ان شاء اللہ،اس پروگرام میں ڈھائی سو سے زائد لوگ شریک ہوئے۔
مورخہ ۲۷؍مارچ بروزسنیچربعد نماز عشاء میں محمود نگر مظفر نگر کی جامع مسجد میں آسان و مسنون نکاح کے عنوان پر جلسہ منعقد ہوا،جس میں کثیر تعداد میں لوگوںنے شرکت کی،اس جلسے میں مولانا مفتی عطاء الرحمن جمیل قاسمی نانکوی کا خطاب ہوا ۔انہوںنے اپنے خطاب کے اخیر میںسامعین سے آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کی اس مہم سے جڑنے کا وعدہ لیا ۔معروف بزرگ حافظ جمیل احمد نانکوی کی دعا پر اس جلسے کا اختتام ہوا۔
مورخہ ۲۸ مارچ۲۰۲۱ ءبروز اتواربعد نماز عشاء اسلام نگر غازی آباد کی جامع مکی مسجد میں پروگرام ہوا،جس میں بڑی تعداد میں لوگوںنے شرکت کی،اس علاقہ میں شادی میں رسوم کی انجام دہی کےعلاوہ بینڈ باجے کا بہت کثرت سے استعمال ہوتا ہے، مولانا ابوالحسن ارشد کاندھلوی نے اس پروگرام میں آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کی اصلاح معاشرہ کمیٹی کی جانب سے جاری ’’آسان و مسنون نکاح مہم‘‘سے حاضرین کو واقف کرایا اور آسان نکاح کی برکت کے عنوان پر خطاب کیا،تمام لوگوں نے اس مہم کی تحسین کی اور ساتھ ہی وعدہ بھی کیا کہ آئندہ بیجا رسوم ورواج سےاحتراز کریں گے۔
مورخہ ۲۷ مارچ ۲۰۲۱ بروز سنیچر مدرسہ انس ابن مالک قصبہ سانڈی ہردوئی میں اصلاح معاشرہ کے عنوان سے خصوصی میٹنگ منعقد ہوئی ،جس میں علماء کرام ، ائمہ کرام اور سماجی کارکنان نے شرکت کی، مفتی عبدالسمیع قاسمی اورمولانا عمر قاسمی نے حاضرین سے خطاب کیا اور ان کو آسان اور بے جا رسم ورواج سے پاک مسنون طریقے پر نکاح کرنے کی ترغیب دی، تمام شرکاء نے نکاح کو آسان بنانے کاعہد کیا، میٹنگ کے اختتام پر مولانا عبداللہ مظاہری نے اپیل کی کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کی’’ آسان نکاح مہم‘‘ کو گھر گھر پہونچائیں اور لوگوں کو اس مہم سے جوڑیں۔ اس میٹنگ میں شرکاء سے جہیز کی لعنت کو سماج سے ختم کرنے اور آسان و مسنون نکاح کو فروغ دینے کا عہد لیا گیا ۔
مورخہ ۲۸ مارچ ۲۰۲۱ بروز اتوارشبِ برات کے موقع پر کھتولیہ چوک موانہ میرٹھ میں اِصلاحِ معاشرہ کمیٹی کے زیرِ اہتمام حضرت مولانا ظفیر الاسلام ندوی صاحب کی صدارت میں ایک عظیم الشان پروگرام منعقد کیا گیا،جس میں متعدد علماء نے مختلف عنوانات پر خطاب فرمایا، آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کی اصلاح معاشرہ کمیٹی کی جانب سے جاری ملک گیر آسان اور مسنون نکاح مہم کے تحت مولانا نبیل احمد قاسمی صاحب (امام و خطیب مدینہ مسجد) نے خطاب فرمایا،انہوں نے آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کی اصلاح معاشرہ کمیٹی کی جانب سے شائع کردہ اقرار نامہ کی روشنی میں جہیز کی لعنت سے سماج کو پاک کرنے اور آسان و مسنون نکاح کے انعقاد کےسلسلے میںحاضرین سے عہد بھی لیا،اس موقع پر تمام مسالک کے علماء اور ملی وسماجی کارکنان شریک رہے۔
مورخہ۲۸ مارچ ۲۰۲۱ ءکو نظام پور مظفرنگر اور سکندر پور کی جامع مسجد میں دو پروگرام منعقد ہوئے جن میں مولانا ابوالحسن ارشد کاندھلوی نے ’’آسان و مسنون نکاح مہم‘‘کے تحت خطاب کیا اور مجمع عام سے اصلاح معاشرہ کمیٹی آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کے اقرار نامہ کے مطابق عہد لیا۔
مورخہ ۲۸ مارچ ۲۰۲۱بعد نماز عشاء پھلت کی قدیم تاریخی جامع مسجد میںایک جلسہ عام کا انعقاد کیا گیا جس میں سامعین کے جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مفتی محمد عاشق صدیقی ندوی نے اصلاح معاشرہ کمیٹی بورڈ کی آسان نکاح مہم کا تعارف کرایا اور تمام شرکاء سے عہد لیا کہ وہ نکاح مسجد میں کریں گے، اسراف اور ریا کاری سے پاک شادی کی تقریب منعقدکریں گے۔ اسی طرح مسجد شاہ صاحب میں بھی ایک جلسہ عام منعقد ہواجس میں مفتی جمشید علی ندوی نے اصلاح معاشرہ کے موضوع پر خطاب کیا اور سامعین کو آسان اور مسنون نکاح مہم سے آگاہ کیا۔انہوںنے تمام لوگوں سےجہیز کی لعنت کو سماج سے ختم کرنے اور آسان و مسنون نکاح کو فروغ دینے کا عہد لیا۔
مورخہ۲۹ مارچ ۲۰۲۱ءبروز اتوار بمنی مسجد موانہ میرٹھ میں اِصلاحِ معاشرہ کمیٹی (موانہ میرٹھ) کی جانب سے ایک اصلاحی نشست کا انعقاد کیا گیا، جس میںآل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کی اصلاح معاشرہ کمیٹی کی جانب سے جاری ملک گیر آسان اور مسنون نکاح مہم کے تحت مولانا محمد صہیب صاحب قاسمی صاحب( اُستادِ حدیث مدرسہ خادم العلوم باغوں والی )نے خطاب فرمایا،انہوں نے آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کی اصلاح معاشرہ کمیٹی کی جانب سے شائع کردہ اقرار نامہ کی روشنی میں جہیز کی لعنت سے سماج کو پاک کرنے اور آسان و مسنون نکاح کے سلسلے میں کثیر تعداد میں موجود نوجوانوں سے عہد بھی لیا۔
مورخہ ۲۹مارچ ۲۰۲۱ ءگرسیل فتح پور بارہ بنکی میں بعد نماز عشاء اصلاح معاشرہ کے عنوان سے ایک پروگرام منعقد کیا گیا جس میں مولانا ارشاد قاسمی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نکاح کی تقریب کو سادہ طریقے پرسنت کے مطابق انجام دیں، مولانا نے تمام حاضرین سے سنت کے مطابق نکاح کی تقریب منعقد کرنے کا عہد بھی لیا تمام ہی حاضرین نےیہ عہد کیا کہ وہ نکاح کو سنت کے مطابق کریں گے اور رسم رواج سے پرہیز کریں گے ، ان شاءاللہ !اس پرو گرام میں مفتی نجیب قاسمی نے اصلاح معاشرہ کمیٹی مسلم پرسنل لابورڈ کی آسان و مسنون نکاح مہم کے بارے میں تفصیل سے گفتگو کی اور حاضرین سے گزارش کی کہ وہ اس مہم کا حصہ بنیں۔
اسی دن بعد نماز مغرب ایک مینارہ مسجدشہر بارہ بنکی میںایک مختصر مجلس رکھی گئی جس میں مولانا محمد رفیع قاسمی ( امام وخطیب ایک مینارہ مسجدشہر بارہ بنکی )نے آسان نکاح کے موضوع پر نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت جہیز جیسی لعنت سے معاشرہ کو پاک کرنا انتہائی ضروری ہے، اس کی شروعات ہم لوگ خود کریں ۔انہوںنے اس سلسلے میں جاری آسان نکاح مہم پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور یہ بتایا کہ یہ مہم وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مورخہ ۲۹مارچ ۲۰۲۱کو مسجد دری والان وزیر باغ لکھنؤ میں اصلاح معاشرہ کمیٹی اترپردیش کے تحت جلسہ اصلاح معاشرہ منعقد کیا گیا جس میں مولانا محمد مشتاق ندوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے سماج میں جو فضول رسمیں داخل ہوگئی ہیں ان سے بچنا اور دوسروں کو بچانا ہم سب کا ایمانی فریضہ ہے ـ ،لہذا ہم سب ملک میں جاری دس روزہ آسان نکاح مہم کا حصہ بنیں اور اس کا پیغام دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کریں۔
مورخہ ۳۰مارچ ۲۰۲۱کو مسجد چاند والی تال کٹورا میں آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کی اصلاح معاشرہ کمیٹی یوپی کے زیرِ اہتمام ایک جلسہ رکھا گیا جس میں خطاب کرتے ہوئے مولانا سفیان نظامی نے عوام سے عہد لیا کہ وہ نکاح اور ولیمے میں سنت رسول کو اپنا آئیڈیل اور نمونہ بنائیں گے اس لیے کہ نکاح کسی رسم و رواج کا نام نہیں ہے بلکہ یہ عین سنت رسول اکرم ﷺہے اس لیے مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ نکاح اور ولیمے میں فضولیات اور بیجا رسم و رواج کو چھوڑ کر شریعت اور سنت کے مطابق تقریب نکاح انعقاد کریں۔
مولانا حکیم محمد عبداللہ مغیثی مدظلہ (رکن تاسیسی آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ و قومی صدر آل انڈیا ملی کونسل) کاعلاقہ گنگوہ کا دو روزہ دینی تعلیمی ، تبلیغی و اصلاحی دورہ ہوا جس میں انہوں نے آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کی تحریک اصلاح معاشرہ کے تحت عوام کو اسی بات کی تلقین کی کہ اپنی شادی بیاہ کی تقاریب میں فضول خرچی سے بچیںاور نکاح کو مسنون طریقہ پر سادہ ا ور آسان انداز میں کرنے کی کوشش کریں ، الحمدللہ لوگوں نے عہد کیا۔اس علاقے میں کئی جگہوںپر سادگی کے ساتھ اصلاحی مجالس میں نکاح کی تقریب منعقد کیے جانے کی اطلاع ملی۔مولانا عبد اللہ مغیثی صاحب علاقے کے مشہورعالم دین اور روحانی بزرگ ہیں،اور پورے علاقے پر ان کے گہرے اثرات ہیں،انہوںنے مہم کے سلسلے میں دلچسپی لی تو پورے علاقے میں لہر چل پڑی۔
مورخہ ۲۹مارچ ۲۰۲۱ بروز پیر بمقام قصبہ سانڈی ہردوئی میں اصلاح معاشرہ کے عنوان سے مستورات کی خصوصی نشست منعقد ہوئی،جس میں مفتی عبد السمیع صاحب (ناظم مدرسہ انس ابن مالک) کا خطاب ہوا، انہوںنےمستورات سے شادی کی تقریب کو سادہ طریقے پر سنت کے مطابق کرنے کا وعدہ لیا ، اس نشست میںکثیر تعداد میں شریک مستورات نے آسان نکاح مہم چلائے جانے پر خوشی کا اظہار کیا اور یہ عہد بھی کیا کہ وہ ان شاءاللہ نکاح کی تقریب کو سنت کے مطابق منعقد کریں گی اوررسم و رواج سے پرہیز کریں گی۔
شہر سہارنپور میں بھی معززین شہر کی موجودگی میں معاشرتی مسائل اور برائیوں کے حل کے سلسلے میں اہم میٹنگ منعقد کی گئی جس میں کثیر تعداد میں علماء،سیاسی و سماجی کارکنان شریک رہے، اور آسان و مسنون نکاح مہم کو فروغ دینے کے لیے سب نے مل جل کر محنت کرنے کا عہد کیا،میٹنگ میں مسعود اختر (رکن اسمبلی سہارنپور دیہات)مفتی قسیم،مفتی شاہ ویز مظاہری، محمد منیب سہارنپوری وغیرہ نے خطاب کیا۔
مورخہ ۳۰ مارچ ۲۰۲۱ کو خیرِ اُمت ٹریننگ کلاسز (موانہ میرٹھ) کی بچیوں کی محنت کے نتیجے میں آسان اور مسنون نکاح مہم کے تحت خواتین کے دو اہم پروگرام منعقد ہوئے،پہلا پروگرام صبح دس بجے ہوا جس میں پچاس سے زائد خواتین نے شرکت کی جس میںمولانا سیف الاسلام ندوی صاحب نے خطاب فرمایا۔ دوسرا پروگرام دوپہر میں ہوا جس میں قابل لحاظ تعداد میں خواتین نے شرکت کی یہاں مولانا مرغوب الرحمان طیب قاسمی نے خطاب کیا، دونوں پروگراموں میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے جاری اقرار نامے کی ہندی اور اردو کاپیاں تقسیم کی گئیں۔
مورخہ ۳۰مارچ ۲۰۲۱بعد نماز عشاء بہٹ سہارنپور کی جامع مسجد میں علماءاورمفتیان کرام، ائمہ مساجد و اساتذہ مدارس کی میٹنگ رکھی گئی جس میں آسان و مسنون نکاح مہم کو کامیاب بنانے کے سلسلے میںغور وخوص کیا گیا، اس مشاورتی نشست سے مولانا ڈاکٹر عبد المالک مغیثی نے خطاب کیا اور اصلاح معاشرہ کمیٹی کی کار گزاری پیش کی اور بورڈ کے ذمہ داران کی جانب سے جاری اقرار نامہ سے بھی حاضرین کو واقف کرایا۔
مورخہ ۳۰مارچ ۲۰۲۱کی شب دیوبند کے محلہ لہسواڑہ کی جامع مسجد میں اصلاح معاشرہ کا جلسہ منعقد ہوا، اس جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے دارالعلوم وقف دیوبند کے استاذ حدیث مولانا فرید الدین قاسمی نے کہا کہ جہیز کی لعنت سے سماج کو پاک کرنا ہر مسلمان کا فریضہ ہے اور نکاح کو سادہ و مسنون طریقے پر انجام دینے کے لیے دیگر جگہوں پر تقریب نکاح کا سلسلہ ختم کرکے مسجد میں نکاح کے انعقادکو فروغ دینا ہوگا،انہوں نے قرآن و سنت کی روشنی میں اسلام کے نظام نکاح پر تفصیلی روشنی ڈالی اور آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کی ’’آسان و مسنون نکاح مہم‘‘سے ہر فرد کو جڑنے کی تلقین کی، مولانا عباد اللہ عمیس قاسمی (استاذ حدیث جامعۃ الشیخ حسین احمد المدنی )نے بھی اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خوشگوار ازدواجی زندگی کے لئے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو طے کرنا ہوگا کہ وہ ڈی جے، باجہ،ناچ گانا،ہلدی،منڈھا جیسی رسوم و رواج اور فحاشی سے کلی اجتناب کرتے ہوئے اسوہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے مطابق نکاح کریں گے اور ولیمہ میں فضول خرچی سے بچیں گے نیز اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت پر پوری توجہ صرف کریں گے،مولانا مہدی حسن عینی قاسمی نے سامعین سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کی اصلاح معاشرہ کمیٹی پورے ملک میں گزشتہ دو مہینے سے کس طرح ’’آسان و مسنون نکاح مہم‘‘ کے ذریعے بیداری لانے کا کام کررہی ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اترپردیش کی اصلاح معاشرہ کمیٹی ۲۷مارچ سے جاری اس مہم میں ضلع وار پروگرام منعقد کررہی ہے تاکہ صوبے کے ہر گھر تک بورڈ کی یہ آواز پہونچے اور سماج سے نکاح کے نام پر ہونے والی خرافات و بدعات کا قلع قمع ہوسکے، اس موقع پر اصلاح معاشرہ کمیٹی آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کی جانب سے جاری اقرار نامہ کو پڑھ کر سبھی سامعین سے تمام نکات پر اقرار بھی کرایا گیا اور کثیر تعداد میں اقرارنامے کی کاپیاں تقسیم بھی کی گئیں، اس موقع پر پروگرام کے منتظم معروف سماجی کارکن عبدالواحد قریشی نے اس مہم کو گھر گھر پہونچانے کا عہد کیا۔
اسی دن بعد نماز عشاء دوسری نشست دیوبند دستک پر منعقد ہوئی جس میں ڈاکٹر مفتی اسجد قاسمی ندوی( مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ امدادیہ مرادآباد) نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اصلاح معاشرہ کی شروعات اپنی ذات سے کرنی ہوگی، ہمیں سب سے پہلے اپنے گھر کے افراد کا مزاج بنانا ہوگا تاکہ وہ برضا آسان و مسنون نکاح کے لئے خود بھی تیار ہوں اور دوسروں کو بھی تیار کریں، مولانا عباد اللہ عمیس قاسمی استاذ حدیث جامعۃ الشیخ حسین احمد المدنی نے قرآن و سنت کی روشنی میں میاں بیوی کے حقوق اور خوشگوار ازدواجی زندگی کے سنہرے اصول پر روشنی ڈالی، کلیدی خطاب کرتے ہوئے معروف خطیب مولانا انوار الحق قاسمی( استاذ حدیث دارالمبلغین) لکھنؤ نے کہا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کی یہ مہم وقت کی پکار اور ملت کی ضرورت ہے، انہوں نے نبوی دور اور صحابہ کرام کے زمانے کی شادیوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ قرون اولی میں جہیز اور دیگر خرافات کا کوئی تصور نہیں تھا،انہوں نے بتایا کہ صحابہ کرام کیسے آسان و مسنون نکاح کیا کرتے تھے،انہوں نے ناظرین سے کہا کہ ہر فرد مؤمن اپنے اپنے گھروں میں بورڈ کے اس پیغام کو پہنچائے اور کوشش کرے کہ جہیز کی نمائش کرنے والوں اور نکاح کے موقع پر گانا،ڈی جے باجہ بجانے والوں کا واضح طور پر بائیکاٹ کیا جائے، صدارتی خطاب کرتے ہوئے مولانا عبداللہ آزاد مظاہری نائب شہر قاضی کانپور نے کہا کہ ہمیں اپنی بچیوں اور خواتین کا مزاج بنانا ہوگا کہ وہ شادی بیاہ کے خرافات کا خود سے بائیکاٹ کریں اور اس مہم کا آغاز گھروں سے ہو تاکہ بچوں سے بوڑھوں تک صالح اسلامی معاشرے کی تشکیل ہوسکے. انہوں نے کہا کہ ہم اس مہم کے تحت اترپردیش میں کوشش کریں گے کہ زیادہ سے زیادہ افراد تک بورڈ کا پیغام پہونچ سکے. پروگرام کے کنوینر مولانامہدی حسن عینی قاسمی نے اخیر میں مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اعلان کیا کہ آسان و مسنون نکاح مہم کے تحت مساجد، مدارس اور کارنر میٹنگز کے علاوہ روز آن لائن اصلاح معاشرہ کی نشستیں بھی منعقد ہوا کریں گی تاکہ یہ پیغام دور تک پہونچ سکے. انہوں نے اترپردیش کے علماء و ائمہ،سماجی کارکنان اور دانشوروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ’’سادہ و مسنون نکاح مہم‘‘ کو اتر پردیش میں کامیاب بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔اس کانفرنس میں مفتی نجیب قاسمی فتح پور بارہ بنکی،مولانا قاری رحیم الدین قاسمی مہتمم جامعہ حکیم الاسلام دیوبند نے بھی شرکت کی۔ اخیر میں صدر مجلس کی دعا پر کانفرنس کا اختتام ہوا۔

منجانب:اصلاح معاشرہ کمیٹی آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: