اہم خبریں

اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے!

فیاض احمد صدیقی رحیمی

شہری ترمیمی بل یہ ہندوستان کے قانون آئین اور دستور کے بالکل خلاف ہے اس سے جمہوریت کی روح مسخ ہوتی ہے ۔ سٹیزن امینڈ مینٹ اکٹ (شہریت کا بدلا ہوا قانون) اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کس کو نئے قانون کی رو سے بھارت کی شہریت یعنی ناگرکتا کا حق حاصل ہے اور کس کو نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
اس شہری ترمیمی اکٹ میں بنگلہ دیش افغانستان اور پاکستان سے آئے ہوئے تمام مذاہب اور دھرموں کے لوگوں کو شہریت دینے کی بات کہی گئی ہے اور مسلمانوں کو چھوڑ دیا گیا ہے جبکہ ہمارا ملک جمہوری اور سیکولر ہے اور یہاں کے گرہ منتری جی بار بار یہ بیان دے رہے ہیں کہ میں پورے ملک میں ۲۰۲۴ سے پہلے ہر حال میں این آر سی لاگو کردوں گا جس میں کئی پیڑھی اور پشت کے دستاویز اور ضروری کاغذات دکھانی پڑے گی ۔ جن غریب بھائیوں کے پاس ضروری کاغذات اور ثبوت نہیں پائے گئے انہیں ملک چھوڑنا پڑے گا ۔ اس طرح کے بیانات اب بھی آرہے ہیں جبکہ پورا ملک جل رہا سب چیخ اور چلا رہے ہیں برادران وطن کی بھی بڑی تعداد اس کی مخالفت میں اتر آئی ہے ۔ طلبہ پڑھے لکھے اور انٹیکچول طبقہ اس کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں ۔ این آر سی کا مطلب آسان لفظوں میں یہ ہے کہ ملک کے باشندوں کے متعلق ضروری معلومات کا لیکھا جوکھا جس میں نام درج کرانے کے لئے پرانے دستاویز اور کاغذات دینا ضروری ہے اور دستاویز میں اتنا اور اس قدر احتیاط ہے کہ ایک حرف کا بھی فرق ہوجائے اور اسپیلنگ کی غلطی ہوجائے تو وہ ثبوت اور دستاویز کالعدم سمجھا جائے گا اور اسے مانا نہیں جائے گا اگر کسی کے پاس ایسے ضروری کاغذات اور ثبوت نہیں پائے جاتے تو اسے ملک سے باہر جانا پڑے گا یا شرنارتھی کیمپوں میں رہنا پڑے گا جہاں کا نام سن کر اور وہاں زندگی معلوم کرکے آپ کی روح کانپ جائے گی ۔جہاں کی زندگی جہنم کی طرح بدتر ہوگی ۔ جو لوگ ثبوت اکھٹا نہیں کرسکیں گے ان سے ووٹ کا حق بھی چھین لیا جائے گا ۔ ہندوستان میں انہیں کسی جگہ بھی نہ اپنے نام سے اور نہ اپنے بال بچوں اور پریجنوں کے نام سے کوئ بھی زمین اور پراپرٹی بنانے کا حق ہوگا ۔ ایسے لوگ گورنمنٹ ملازمت سے محروم کر دئے جائیں گے ۔ ان کے گھر زمین و جائداد سب ضبط کر لی جائے گی، جس کا صاف اور واضح مطلب ہوگا کہ وہ بھارت کا رہنے والا نہیں ہے اور ان کی زبان اور اصطلاح میں وہ گھس پیٹھی ہے ۔
آپ اور ہم تصور کیجئے اگر ایسا ہوگیا اور وہ اپنے منصوبے میں کامیاب ہوگئے تو مسلمانوں کا اس ملک میں کیا حشر اور انجام ہوگا ۔ کیسی ذلت اور درگت ہوگی کیا رونگٹے کھڑے کرنے والے حالات ہوں گے ۔

اس* لئے اس بل اور ایکٹ کو ناکام بنانے اور کالعدم کرنے کے لئے ہمیں جو کچھ جمہوری انداز میں کرنا پڑے ہم ضرور کریں اور کسی طرح مطمئن ہوکر نہ بیٹھیں ورنہ آنے والی نسل ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی ۔
ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ایک حساس اور زندہ قوم وہی ہے جو اپنی آنے والی نسلوں کو ایک خوبصورت اور کامیاب مستقبل اور بھویش دےکر دنیا سے جائے ۔ جس طریقے سے ہمارے اسلاف اور پرکھوں نے ہمیں دیا ہے ۔ آج ہم فخر سے اور شان سے کہتے ہیں کہ یہ ہمارا ملک ہے ۔ہم نے اس کو آزادی دلائی ہے جتنا حق اس ملک میں برادران وطن کا ہے اتنا ہی حق ہمارا ہے ۔ ہمارے پرکھوں نے اس کے لئے اپنی جانوں کی قربانی پیش کی ۔ اسی طرح سے آنے والی نسلیں ہماری قربانیاں یاد کریں گی اگر ہم ان کے لئے اچھا مستقبل اور ماحول بنا کر جائیں گے ۔ کل وہ بھی فخر سے سر اٹھا کر جی سکیں گے اور یہ اسی وقت ممکن ہو گا جب ہم ان کے حق کی لڑائی لڑیں گے ۔اگر آج ہم چپ بیٹھ گئے ان کے حق کی لڑائی نہیں لڑے اپنے ملک کے دستور کو بدلنے سے نہیں بچائے تو یہ سمجھ لیں کہ آنے والے وقت میں ہمارے بچے غلامی کا طوق پہننے پر مجبور ہوجائیں گے اور ہمیں ہماری بزدلی پر آنے والی نسلیں لعن طعن کریں گی ۔
موجودہ حالات سے یہ صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ مذھب کی بنیاد پر سوتیلا پن کا سلوک کیا جارہا ہے اور ملک کی اکھنڈتا اور ایکتا کو توڑنے کی منصوبہ بند کوشش کی جا رہی ہے ۔ اس سے پہلے بھی مسلمانوں کے خلاف طرح طرح کی سازشیں کی گئیں۔ لو جہاد کا معاملہ اٹھایا ہم نے صبر و برداشت سے کام لیا ۔ تین طلاق کے معاملے میں ہم نے خاموشی اختیار کی، کشمیر کے معاملے بھی ہم نے کوئی آواز نہیں اٹھائی بابری مسجد کے معاملے میں بھی ہم نے صبر کیا ۔ اور ملک کی شانتی اور امن کو قائم رکھا کیوں کہ مسلمان امن و سلامتی کے داعی اور شانتی کے چاہنے والے ہیں ۔ ہمیں اپنے ملک سے بے پناہ محبت ہے، کیونکہ اس کی آزادی میں سب سے زیادہ ہماری جانیں گئی ہیں ۔ لیکن اب پانی سر سے اونچا ہوگیا اور صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ہمیں یہ منظور نہیں ہے کہ ہم ایسے ایکٹ اور قانون کو قبول کریں جس کے قبول کر لینے کے بعد ایک بڑی تعداد مسلمانوں کی اس ملک سے بےدخل کردی جائے گی ۔ ہمیں یہ بل اور ایکٹ اس لئے منظور نہیں ہے کہ اس سے ملک کے بہت سے شہری خاص طور پر غریب اور ناخواندہ طبقہ پریشان ہوں گے اور ان کو اپنے وجود کو ثابت کرنے میں پاپڑ بیلنے پڑ جائیں گے ۔ اور مسلمانوں کو کیمپ میں رہنے پر مجبور کر دیا جائے گا ۔ یہ بل جمہوریت کی روح کے خلاف ہے ۔یہاں کے آئین کے خلاف ہے دستور ہند کی دفعہ 14 ۔ 15- 19 کے مکمل خلاف ہے ۔ جس میں صاف طور پر کہا گیا ہے کہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے اور یہاں کے تمام لوگوں کو برابری کا حق حاصل ہے ۔ کسی کے ساتھ رنگ نسل ذات مذھب اور دھرم کے نام پر کوئی بھید بھاؤ اور دہرا رویہ اختیار نہیں کیا جاسکتا ہے ۔
اس* ایکٹ کی خطرناکی اور اس کے منفی اور بھیانک نتائج اور انجام سے برادران وطن بھی واقف ہو رہے ہیں اور اس جمہوری اور دستوری لڑائی میں میں وہ ہمارے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے ہو رہے ہیں ۔
لیکن اس وقت یہ ملک عجیب دو راہے پر کھڑا ہے ۔ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ ملک کدھر جارہا ہے اس کو کس کی نظر بد لگ گئی ہے ۔ کیوں حالات اس طرح بے قابو ہوتے جارہے ہیں، عجیب بے چینی کا ماحول اور سماں ہے*۔
*این آر سی اور سی اے اے کے مسئلہ پر اس وقت ایک بڑی* *تعداد سڑکوں پر جمع ہے، مذہب، ذات، پات اور تمام معاشرتی تفریق کو بالائے طاق رکھتے ہوئے یکمشت ہو کر انقلاب کا نغمہ گایا جارہا ہے، بیرون ملک بھی اس کی چیخیں پہونچیں اور ملک ملک سے مذمتی بیانات جاری ہوئے ہیں، ہندوازم کا مکروہ چہرا سامنے آیا ہے اور ہندو اکثریت کی جانب سے تشدد و ناانصافی کی ایک نئی عبارت لکھی گئی ہے، ایسے میں سرکار کی بوکھلاہٹ یقینی ہے، یہی وجہ ہے کہ دن کے اجالے سے زیادہ روشن جھوٹ بولے جارہے ہیں، امت شاہ اور ان کے *معاونین NRC اور ڈیٹینشن کیمپوں کی تصدیق کر رہے ہیں، تو دوسری طرف رام لیلا میدان دہلی سے عوام کو خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے سرے سے ہی ان کا انکار کردیا ہے، اسے سازش اور حکومت وقت کے ساتھ بے جا افواہ پھیلانے کی بات کہہ دی ہے_ بہر کیف یہ ان کی*جھجھک اور عوام کی طاقت کے سامنے کھسکتی کرسی کا خوف ہے، لیکن رعونت، انانیت اور ہٹ دھرمی کا عالم یہ ہے؛ کہ ابھی تک کئی اموات کے باوجود اور متعدد زخمی افراد کے خون سے سرزمین کی پیشانی آلود کرنے کے باوجود ان قوانین کو واپس لینے کا اعلان نہیں کیا گیا
وہ چاہتے ہیں کہ ملک جل جائے، ماحول یونہی آتش زدہ رہے، عوام کمزور ہو کر اور چیخ کر خود تھک جائیں، ٹھٹرتی سردی میں ان کا خون بھی سرد ہوجائے، چنانچہ نت نئے طریقے سے ان کی آزمائش کی جارہی ہے، بندوق کی گولیوں سے بھی استقبال ہورہا ہے، احتجاج کے بنیادی حق پر شب خوں مارا جارہا ہے، معموملی پتھراو پر بھی محکمہ پولس کا ظلم اور بر بریت کا چہرہ کھل کر سامنے آجاتا ہے، ساتھ ہی جھوٹ اور فریب کیلئے میڈیا اپنا زر خرید غلام بنا رکھا ہے_ اگر ان سب سے بھی کچھ ہوا تو پھر کوشش یہ کی جا رہی ہے کہ انہیں دوسرے اہم مدعا میں الجھا کر رکھ دیا جائے، جائز قانون کو ہی یوں پیچیدہ بنا دیا جائے کہ آسانی کے ساتھ کسی بھی آنکھ میں دھول جھونکی جا سکے، اور انہیں سوچنے پر مجبور کیا سکے، چنانچہ کل ہی (۲۴/۱۲/۲۰۱۹) بی جے پی کی کیبینیٹ نے NPR لاگو کرنے کی اجازت دی ہے، اور اس کیلئے اخراجات بھی طے کردئے ہیں، اس کا مطلب ہے National population register۔ اسے اردو میں مردم شماری کہتے ہیں، یہ عام بات ہے کہ سرکاریں ہر دس سال میں اسے انجام دیتی ہیں، گزشتہ مردم شماری ۲۰۱۰ میں ہوئی تھی، اب اسے ۲۰۲۰ میں ہونا ہے، یہ سنہ ۲۰۰۳ مردم شماری ایکٹ کے تحت جاری کیا گیا تھا، یہ بے حد سادہ اور صاف ستھرا عمل ہوتا ہے، جس میں عوام کو عموما کسی دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، ان کیلئے اتنا ہی کافی ہوتا تھا کہ اپنی معلومات فراہم کردیں۔*
*یہ بھی جان لینا چاہئے کہ NRC اور NPR میں کیا فرق تھا، NRC کا عمل ۱۹۵۵ کے ایکٹ کے مطابق ہوتا ہے، اس میں زمین کے کاغذات وغیرہ کا بتانا ضروری ہے؛ جبکہ NPR کا عمل ۲۰۰۳ ایکٹ کے مطابق ہے، اور اس میں زمینی کاغذات وغیرہ کی کوئی مانگ نہ تھی_ صحیح بات یہ ہے کہ NPR دراصل ایک حربہ ہے جو NRC کے بدلے کروایا جارہا ہے، چونکہ NRC پر عمل درآمد مشکل ہے، اسی لئے نئی راہ نکالی گئی ہے، اس بار امت شاہ نے اس میں تقریبا وہی شرائط رکھے ہیں، جو NRC کیلئے مانے جاتے تھے، جیسے ماں باپ کی تاریخ پیدائش سرٹیفیکیٹ_ ” غور کیجئے_ کہ جب خود کا برتھ سرٹیفیکیٹ مشکل سے بنا ہو تو اس زمانے میں جب ہندوستان میں صرف ۶۶ فیصد ناخواندگی کیونکر پیدائش سرٹیفیکیٹ بنوائے گئے ہوں گے_؟”۔ اسی طرح آپ کہاں رہتے ہیں اور اس سے پہلے کہاں رہتے تھے_ اگر آپ کہیں پر چھہ مہینے سے مقیم ہیں اور آئندہ چھہ ماہ رہنے کی امید ہے تو وہاں کے ثبوت/ اس شرط کے مطابق بیرون ممالک کے لوگ بھی شامل ہوں گے_ پین کارڈ_ آدھار کارڈ /مگر یہ لازم نہ ہوگا_ ووٹر آٹی کارڈ_ ڈرائیونگ لائسنس_ اور موبائل نمبر_ پاسپورٹ نمبر _ یہ وہ شرائط ہیں جو NRC میں رکھے گئے تھے، NPR میں گزشتہ دفعہ یہ شرطیں نہیں تھیں۔
*پچھلی دفعہ جب مردم شماری کی گئی تھی تو پندرہ نقاط پر تفصیلات مانگی گئی تھی، اس بار انہوں نے اکیس نقاط شامل کئے ہیں۔ یہ سرکار کی دوغلی پالیسی ہے، جسے بنگال اور کیرل سرکار نے سمجھ لیا ہے، چنانچہ انہوں نے اپنے صوبوں میں اس کا کام بند کروا دیا ہے، یہ کوئی پوشیدہ امر نہیں کہ اس طرح رواں حکومت اپنی انا کی تسکین اور ہندو راشٹر کی تکمیل کے ایجنڈے پر گامزن ہے، ظاہر ہے جب کوئی NPR میں اپنے مکمل ثبوت پیش نہ کرپایا تو وہ مشکوک قرار پائے گا، اور اس طرح اس کے خلاف کاروائی کرنے کا جواز ہوگا_ چنانچہ ملک کی نامور شخصیات نے اس پر اعتراض ظاہر کیا ہے، ارونودھتی رائے نے اسے NCR کیلئے زمین ہموار کرنے کا ایک آلہ بتایا ہے، اسد الدین اویسی نے بے باک بیان دیا ہے، کنہیا کمار اور فرحاخان نے بھی ٹویٹ کیا ہے_ وقت ہے کہ سیاست کی سب سے خطرناک چال کو سمجھئے_! CAA اور NRC کے ساتھ NPR کی بھی مخالفت کیجئے_ ورنہ حکومت کی ہٹلر نوازی کام آجائے گی، بھگوا رنگ چڑھ جائے گا اور سہ رنگ پھیکا پڑ جائے گا، جمہوریت کی بنیادیں ملبے میں تبدیل ہوجائیں گی اور آزاد ہندوستان کا خواب صحیح معنوں میں گرد آلود ہوجائے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: