اسلامیات

اپنی اصلاح کی فکر کیجئے

افادات :عارف باللہ حضرت مولانا محمد عرفان صاحب مظاہری دامت برکاتہم سابق ناظم اعلی جمعیۃ علماء سنتھال پرگنہ متحدہ بہار

اصلاح کہتے ہیں خرابیوں کے درست کرنے کو، اپنی اصلاح کا مطلب یہ ہوا کہ اپنے اندر جو خرابیاں اور کمیاں ہیں ان کو دور کیا جاءے، کیوں کہ جس طرح کسی مشین کے پرزے خراب ہوں تو وہ کام ہی نہیں کرے گی یا پھر اچھی طرح کام نہیں کر سکے گی اسی طر اگر انسان کے اندر کچھ کمیاں یا خرابیاں ہیں تو ان کے رہتے ہوءے انسان دیکھنے میں تو انسان نظر آءے گا لیکن وہ اپنی ذمہ داری صحیح طور پر انجام نہیں دے سکے گا، اور جب انسان اپنی ذمہ داری نہیں ادا کر سکے گا تو پھر وہ شرف پانے کا بھی حقدار نہیں ہوگا. پھر نہ اسے دنیا میں کوئی کامیابی حاصل ہوگی اور نہ آخرت میں. اسی کو قرآن میں اس طرح بتایا گیا ہے *(قد افلح من زکیھا و قد خاب من دسیھا( سورہ الشمس)*. وہ شخص کامیاب ہو گیا جس نے اپنے نفس کو سنوار لیا اور وہ شخص ناکام ہوا جس نے اس کو آلودہ کرلیا.

اب کس کے اندر کیا خرابی ہے یا خرابی نہیں ہے، ایمان والا اس کی جانچ خود سے کر کے دیکھ لے اس کے لئے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم نے جانچنے کا ایک معیار بتا دیا ہے، آپ نے فرمایا *( اذا سرتک حسنتک و ساءتک سیئتک فانت مؤمن( مشکوۃ شریف )* جب اچھی چیز اچھی لگے اور بری چیز بری لگے تب یہ سمجھو کہ تم ایمان والے ہو. اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر اچھی چیز بری لگے یا بری چیز اچھی لگے مثلاً نماز، روزہ، حج، اللہ کے راستے میں خرچ ، ذکر، تلاوت وغیرہ گراں گزرے. اور حسد، چغلی، غیبت، کینہ وغیرہ میں کوئی قباحت نہ لگے تو یہ سمجھو کہ تمھارے ایمان میں کمی ہے اور تمھارے اندر خرابی ہے .

یہ خرابیاں کبھی تو منہ سے ظاہر ہوتی ہیں کبھی آنکھ سے کبھی کان سے اور کبھی ہاتھ پیر وغیرہ سے لیکن ان سب کا کنٹرولر دل ہے، اس لئے ضرورت ہاتھ اور منہ کو درست کرنے کی نہیں بلکہ دل کو درست کرنے کی ہوتی ہے. سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا *(الا ان فی الجسد لمضغۃ اذا صلحت صلح الجسد کلہ و اذا فسدت فسد الجسد کلہ الا و ھی القلب(بخاری و مسلم )* "انسان کے جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے جب وہ صحیح ہوتا ہے تو پورا جسم صحیح ہوتا ہے اور جب وہ خراب ہوتا ہے تو پورا جسم خراب ہوتا ہے، اور وہ گوشت کا ٹکڑا دل ہے.” لہٰذا جو آدمی یہ چاہتا ہے کہ وہ عزت، سرخ روئی اور کامیابی حاصل کرے، وہ اللہ کی نظر میں بھی محبوب ہو اور مخلوق میں بھی مقبول ہو تو اس کو چاہیے کہ اپنے اندر پائی جانے والی خرابیوں کو دور کرنے کی کوشش کرے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ پہلے اپنے دل کو درست کرنے کے لئے محنت کرے ، اسی محنت کے طریقوں کا نام تصوف یا راہ سلوک ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: