مضامین

اپنے عہد کے سب سے بڑے سیلاب سے دوچار ہے مہاراشٹرا

اپنے عہد کے سب سے بڑے سیلاب سے دوچار ہے مہاراشٹرا

جمعیۃ علماء ہند کا ایک وفد مہاڈ کے تلئے ورچے واڈی گاؤں پہنچا جس کی مکمل ساکن آبادی ختم ہوگئی، صرف اس دن گاؤں سے باہر رہنے والے بچ پائے۔اس کے علاوہ کوکن میں ایک ہزار سے زائد گاؤں متاثر، ہر جگہ پہنچ رہے ہیں جمعیۃ کے کارکنان، ریلیف و بچاؤ کے عمل میں مہاڈ کے ایس ڈی ایم نے جمعیۃ سے لگائی گہار

نئی دہلی28 جولائی
جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی ہدایت پرجمعیۃ کی مرکزی و ریاستی یونٹیں لگاتار مہاراشٹرا سیلاب زدگان کی بچاؤ و راحت رسانی کے عمل میں مصروف ہیں۔ آج جمعیۃعلماء ہند کا وفد مہاڈ کے تلئے ورچے واڈی گاؤں میں پہنچا جس کا نام ونشان تک مٹ چکا ہے،مختصر آبادی والے اس گاؤں میں چالیس مکانات تھے۔ 22جولائی کی شام سیلاب اور پہاڑ کھسکنے کی وجہ سے 84افراد جاں بحق ہوگئے، 16خاندان بالکلیہ طور سے ختم ہو گیا، بقیہ 24خاندانو ں میں وہی لوگ بچے ہیں جو کسی کام سے باہر تھے۔ اس وقت اس گاؤں میں صرف 77 افراد زندہ ہیں اور دکھ کا پہاڑ اوڑھ کر کھلے آسمان میں اپنوں کی باقیات کو سمیٹ رہے ہیں۔
آج جمعیۃ علماء ہند کے وفد نے مولانا حکیم الدین قاسمی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ہند کی قیادت میں مذکورہ بستی کے متاثرہ افراد سے ملاقات کی،وفد میں مفتی رفیق محمد شفیع پورکر کنوینر جمعیۃ ریلیف کمیٹی،مولاناسرفراز،مولانا ظفر،حافظ شکیل،مولانا جمال قاسمی،مولانا شفیق احمدمالیگانوی بھی شامل تھے۔اس موقع پر مولانا حکیم الدین قاسمی نے کہا کہ اتنا درد ناک حادثہ انھوں نے اپنی زندگی میں پہلی بار دیکھا ہے، جب خاندان کا خاندان ہی ختم ہو گیا ہو اورمکانات کی جگہ ویرانی نے اختیار کرلیا ہو۔میں ان لوگوں کے درد کو بیان نہیں کرسکتا، میں 32سالوں سے جمعیۃ علماء ہند کے پلیٹ فارم سے ملک بھر میں قدرتی و انسانی آفات کے متاثرین سے ملاقات کرتا رہا ہوں، لیکن ایسا غم اور تکلیف کا سامنانہیں ہوا۔یہاں تو کوئی رونے والا بھی نہیں بچا ہے، جو بچے ہیں ان کے آنسو پوچھنے والا کوئی نہیں ۔

جمعیۃ ریلیف کمیٹی کے کنوینر مفتی رفیق محمد شفیع پورکر نے کہا کہ یہاں کھانے پینے کی اشیاء پہلے ہی پہنچادی گئی ہیں، لوگوں سے مل کر یہ معلوم ہوا کہ یہاں اس وقت برتن وغیرہ کی ضرورت ہے،، کل جمعیۃ علماء کے کارکنان ان کو کچن سیٹ پہنچادیں گے۔اسی طرح متاثرہ علاقوں میں بجلی فٹنگ، پانی فٹنگ، گاڑی کی مرمت، چھوٹے کاروباریوں کو روزگار سے جوڑنا اور باز آباد کاری کا ایک بڑا معاملہ ہے۔انھوں نے بتایا کہ پورے کوکن میں 1028گاؤں سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں بالخصوص مہاڈ میں 46گاؤں متاثر ہیں جن میں 16گاؤں کافی متاثر ہیں۔جمعیۃعلماء ایک ایک کرکے متاثرہ افراد تک پہنچ رہی ہے،ہم نے اس سلسلے میں ریلیف یہاں جنگی پیمانے پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔جمعیۃ علماء نے یہاں ریلیف کیمپ کا مرکزی مقام مدرسہ تحفظ القران انجمن دردمنداں تعلیم و ترقی مہا ڈ کو مقرر کیا ہے، جس کی دیکھ بھال مفتی مظفر صاحب کررہے ہیں۔جمعیۃ علماء کے وفود کا دورہ جمعیۃ علماء مہاراشٹر ا کے صدر مولانا ندیم صدیقی کی رہ نمائی میں ہو رہا ہے۔

اس موقع پر جمعیۃ علماء کے مذکورہ وفد نے مہاڈ کے ایس ڈی ایم سے ملاقات کی، ایس ڈی ایم نے جمعیۃ علماء ہند اور انجمن دردمندان تعلیم کوکن کے کام کے طریقے کی تعریف کی اور جمعیۃ علماء ہند اور انجمن سے لوگوں تک رسانی کے عمل میں مدد مانگی، اس سلسلے میں یہ طے ہو ا کہ ایس ڈی ایم کے یہاں روزانہ ایک میٹنگ ہوگی جس میں جمعیۃ کے کارکنان شریک ہو ں گے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: