اہم خبریںمضامین

اپنے مخالفین کے ساتھ کیسا طرز عمل ہونا چاہئے؟

مفتی محمد سفیان القاسمی
مدرسہ حسینیہ تجوید القرآن دگھی، گڈا جھارکھنڈ

دار العلوم دیوبند کے شیخ الحدیث، مولانا مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری رحمۃ اللہ علیہ کا انتقال اسی سال رمضان کے آخری عشرہ میں 80 سال کی عمر میں ہوا، دار العلوم دیوبند میں وہ پچاس سال سے تدریسی خدمات انجام دے رہے تھے، ان کا درس طلبہ میں بے حد مقبول ہوتا تھا، ، وہ مختلف علوم و فنون میں زبردست ملکہ رکھتے تھے، جس کے ثبوت کے لئے ان کی تصنیف کردہ درجنوں کتابیں، ہزاروں شاگرد اور لاکھوں استفادہ کرنے والے حضرات ہیں.، ان کی عظیم خدمات کی ہر جگہ تعریفیں ہو رہی ہیں، ان کی حیات و خدمات پر پر خصوصی شمارے شائع ہو رہے ہیں اور ان پر ضخیم کتابیں بھی منظر عام پر آنے والی ہیں، ان مثبت پہلوؤں کو دیکھنے سے لگتا ہے کہ ان کے خلاف بولنے اور لکھنے والے لوگ نہیں ہوں گے لیکن ایسا نہیں ہے، خود ان کی زندگی میں ہی ان کے خلاف بولنے اور لکھنے والے تھے، مگر ایسے موقع پر ان کا جو طرز عمل ہوتا تھا وہ درحقیقت کسی بھی میدان میں خدمت انجام دینے والوں کے لئے سبق اور ایک گائیڈ لائن کی حیثیت رکھتا ہے، اس سلسلے میں حضرت الاستاد مفتی صاحب کا ایک طریقہء کار انھیں کے حوالے سے ماہنامہ،، ارمغان،، کے تازہ شمارہ میں نقل کیا گیا ہے، جو اس طرح ہے

،، فرمایا کہ میرے شیخ الحدیث بننے کے بعد جو کتابیں میرے خلاف لکھی گئیں، کچھ لوگ میرے خیر خواہ بھی میرے پاس لاتے تھے کہ آپ جواب لکھیں یا ہمیں اجازت دیں کہ ہم جواب لکھیں،ہم نے کوئی کتاب پڑھی بھی نہیں ،نہ جواب دیا، اور نہ جواب دینے کی کسی کو اجازت دی، لوگ تھک کر خود وہیں بیٹھ گئے،، ( ماہنامہ ارمغان، جون 2020 صفحہ نمبر 8 )

جو لوگ کسی بھی میدان میں کام کرتے ہیں تو جہاں ان کی تعریف کرنے والے لوگ ہوتے ہیں وہیں ان کے خلاف بولنے والے بھی ہوتے ہیں، ایسے موقع پر اگر آدمی اپنے خلاف بولنے والوں کو جواب دینے میں لگ جائے تو وہ جواب اور جواب الجواب میں ہی رہ جائے گا، اس کا وقت اسی لایعنی میں برباد ہو جائے گا اور جو اصل کام ہے وہ رہ جائے گا، اس طرح اس کے مخالفین تو اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے اور یہ ناکام ہو جائے گا اور اگر جواب نہ دیا جائے تو خلاف بولنے والے کچھ دنوں میں تھک ہار کر بیٹھ جائیں گے، اور جو لایعنی باتیں اڑائی گئی ہیں وہ بھی ختم ہو جائیں گی لہٰذا جواب دینے کے بجائے آدمی کو اپنا کام کرتے رہنا چاہئے،اگر اس کا کام لوگوں کے لئے نفع بخش ہوگا تو یقیناً آئندہ اس کی پذیرائی ہوگی، اور اگر کام کے بجائے جواب دینے میں مشغول رہے تو اس سے سراسر اپنا ہی نقصان ہوگا کیونکہ اس سے نہ تو اپنا ہی کام ہوا اور نہ لوگوں کی بھلائی کے لئے کوئی کام ہوا، اور بقا و دوام لوگوں کو نفع پہنچانے والی چیزوں کے لیے ہے نہ کہ لایعنی اور لوگوں کو نقصان پہنچانے والی چیزوں کے لئے . فاما الزبد فیذھب جفاء ،واما ما ینفع الناس فیمکث فی الارض( القرآن )

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: