اہم خبریں

اچھا آدمی کون؟ برا آدمی کون ؟

مولانا محمد سفیان القاسمی مدرسہ حسینیہ تجوید القرآن دگھی گڈا جھارکھنڈ

عموماً ایسا ہوتا ہے کہ جس کو ہم اچھا آدمی سمجھتے ہیں کوئی نہ کوئی اس کو برا سمجھنے والا بھی ہوتا ہے اور جس کو ہم انتہائی برا آدمی سمجھتے ہیں بہت سے لوگ اس کو اچھا سمجھتے ہیں. حالانکہ ہماری خواہش یہ ہوتی ہے کہ جس آدمی کو ہم اچھا سمجھیں کوئی اس کی برائی کرنے والا نہ ہو اور جس کو ہم برا سمجھیں کوئی اس کی تعریف کرنے والا نہ ہو لیکن دنیا کا یہ نظام ہماری اس خواہش کے خلاف ہی چلتا رہتا ہے. آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟

اصل میں ہر انسان کے اندر کچھ خوبیاں بھی ہوتی ہیں اور کچھ خامیاں بھی ہوتی ہیں. ایسا نہیں ہوتا کہ کسی کے اندر صرف خوبیاں ہی خوبیاں ہوں کوئی خامی نہ ہو مثلاً ایک آدمی علمی اعتبار سے اگر اعلی مقام رکھتا ہے تو ضروری نہیں کہ وہ اخلاقی اعتبار سے بھی ممتاز ہو یا حقوق اللہ اور حقوق العباد میں اس سے کوئی کوتاہی نہ ہوتی ہو چنانچہ جس آدمی کو کسی کی صرف خوبیوں کا علم ہوگا اس کی نظر میں وہ اچھا انسان ہوگا اور جس کو کسی کی صرف خامیوں کا علم ہوگا اس کی نظر میں وہ برا انسان ہوگا نیز کسی کی خوبیاں اور خامیاں دونوں ظاہر ہوتی ہیں ایسے میں جس کو یہ لگتا ہے کہ اس کی خوبیاں اس کی خامیوں پر غالب ہیں وہ بھی اس کی نظر میں محبوب و پسندیدہ ہوتا ہے اور جس کو یہ لگتا ہے کہ اس کی خامیاں اس کی خوبیوں سے زیادہ بڑھی ہوئی ہیں اس کی نظر میں وہ انسان مبغوض اور ناپسندیدہ ہوتا ہے. اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک آدمی جس بات کو لے کر کسی سے نفرت کا اظہار کرتا ہے سرے سے اس میں وہ بات موجود ہی نہیں ہوتی، یہ اس کی غلط فہمی کا نتیجہ ہوتا ہے یا پھر اس کے بارے میں کئے جانے والے غلط پروپیگنڈہ کی وجہ سے وہ غلط راءے قائم کر لیتا ہے.

بعض لوگوں نے نیکی اور بدی کے معیار کو اس طرح بھی بیان کیا ہے کہ جس آدمی سے کسی کو محبت ہوتی ہے اس کا ہر فعل اور اس کی ہر ادا بہتر اور پسندیدہ لگتی ہے خواہ شرعی و اخلاقی اعتبار سے وہ غلط ہی کیوں نہ ہو بلکہ وہ اس کی غلطی کو بھی درست ثابت کرنے کے لئے تاویل کرنے کی کوشش کرتا ہے . اسی طرح جس آدمی سے کسی کو نفرت ہوتی ہے، اس کا ہر فعل اور ہر کام اس کو غلط لگتا ہے خواہ وہ شرعی اور حقیقی اعتبار سے کتنا ہی درست اور بہتر کام ہو بلکہ اس کی کوشش ہوتی ہے کہ اس کے اچھے کام کو بھی غلط پس منظر میں پیش کرکے غلط ثابت کر دیا جائے. کسی شاعر نے نیکی اور بدی کے معیار کو ایک اور انداز سے بیان کیا ہے چنانچہ اس نے کہا کہ

جس کے آنگن میں امیری کا شجر لگتا ہے
اس کا ہر عیب زمانے کو ہنر لگتا ہے

بہر حال جہاں تک ہو سکے انسان کو کوشش کرنی چاہئے کہ اس سے کمی و کوتاہی کا صدور نہ ہو لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ انسان سے غلطی اور کمی و کوتاہی کا صدور ہی نہ ہو اور نہ ہی اس کے بارے میں کوئی غلط فہمی اور غلط پروپیگنڈہ ہو انسان اس پر قادر نہیں اور جب اس پر قادر نہیں تو وہ برا سمجھنے والوں کو روکنے پر بھی قادر نہیں. تاہم انسان کے اختیار میں یہ ہے کہ وہ اپنی ذات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے نفع رسانی کا ذریعہ بناءے. اور جب خوبی کا یہ پہلو غالب ہوگا تو لازمی طور پر کمی و کوتاہی کا پہلو مغلوب ہوگا اور اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ اس کو اچھا سمجھنے والے زیادہ اور برا سمجھنے والے کم ہوں گے. اس کے باوجود اگر اس کی کوئی برائی کرے تو اس سے بد دل نہیں ہونا چاہئے کیونکہ جب خیر البشر صلی اللہ علیہ وسلم یعنی سب سے اچھے انسان کی برائی کرنے والے اور اس سے نفرت کا اظہار کرنے والے دنیا میں موجود تھے اور ہیں تو اس کا امتی اس سے کیسے مستثنیٰ ہو سکتا ہے؟ ( لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ. القرآن )

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: