اہم خبریں

اچھے بچے اپناوقت پڑھنے میں لگاتے ہیں:مفتی ثناء الہدی قاسمی

بزم مدنی جامعہ مدنیہ سبل پورکااختتامی اجلاس اختتام پذیر

(پریس ریلیز،مورخہ 31مارچ 2021)
اگرکوئی گالی دے تو جواب میں گالی نہیں دیناہے،اگر جواب دیاتو گویاآپ نے گالی کو قبول کرلیا،آپ یہ سمجھیں کہ آپ اچھے لوگ ہیں،اور سب سے اچھاآپ کررہے ہیں،بچو!یہ مدرسہ ہے،یہاں تم پڑھنے کےلئے آئے ہو،اور پڑھنے کا مطلب ہے اساتذہ کی مان کر چلنا،ان خیالات کا اظہارآج جامعہ مدنیہ سبل پورپٹنہ کی جانب سے قائم انجمن بزم مدنی کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امارت شرعیہ پھلواری شریف،پٹنہ کے نائب ناظم اور آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن،ادیب شہیر جناب مفتی ثناء الہدی صاحب قاسمی نے صدارتی خطاب میں کیا،واضح رہے کہ 1989میں حضرت مولانامحمدقاسم صاحبؒ نے جامعہ مدنیہ سبل پور،پٹنہ کو قائم کیا،اور 1990میں بھاگلپورکے فسادزدہ مظلومین کے چاربچوں سے تعلیم کا آغازکیا،بانی جامعہ،اساتذہ جامعہ کی محنت سے جامعہ نے تعلیمی،تحریکی ہر اعتبارسے ایک نمایاں مقام حاصل کیا،طلبہ کی تحریری،تقریری صلاحیتوں کو نکھارنے کے لئے انجمن بزم مدنی بھی قائم کیاگیا،اس کے بینرتلے طلبہ جامعہ ہر ہفتہ بروز جمعرات تقریری پروگرام میں حصہ لیتے ہیں،اور ماہانہ جداری پرچوں کے ذریعہ اپنی تحریری صلاحیت کو بہتر سے بہتربنانے کی کوشش کرتے ہیں،اور سال کے اخیرمیں انجمن بزم مدنی کی جانب سے اختتامی اجلاس کا انعقاد ہوتاہے،معمول کے مطابق آج جامعہ مدنیہ سبل پور،پٹنہ کی وسیع وعریض مسجدمیں اختتامی اجلاس کا انعقاد ہوا،جس میںمہتمم جامعہ جناب مولانا محمدحارث،معاون مہتمم جناب مولانامرغوب الرحمن صاحب، مدنی ایجوکیشنل ٹرسٹ کے سکریٹری جناب الحاج محمدبلال الدین صاحب، امارت شرعیہ پھلواری شریف،پٹنہ کے نائب ناظم جناب مفتی ثناء الہدی صاحب قاسمی،مدرسہ اسلامیہ شمس الہدی پٹنہ کے پرنسپل جناب مولانامشہوداحمد قادری، ندوی، مولانا شکیل احمد صاحب قاسمی ، پروفیسر اورینٹل کالج پٹنہ،محمودعالم صاحب ایڈوکیٹ پٹنہ ہائی کورٹ، جامعہ مدنیہ سبل پورپٹنہ کے اساتذہ میں سے مفتی عبدالاحد، مولانامنہاج الدین،مفتی سیف الدین،مولاناعبدالغنی، مولانا سہیل اخترمظفرپوری، مولانافیاض، مولانا محمد نورالزماں دریاپوری، مولانا عبدالرحمن،قاری عبدالحسیب،قاری محمدصالح، ،مفتی احمدعلی،قاری دستگیر عالم، مولانا امیرالہدی بانکوی،مفتی محمداکرم،قاری ایازاحمد، مولانا محمداکبر، مولانا عمرفاروق، ودیگرعمائدین شہر،اور محلہ سبل پورکے عوام وخواص شریک ہوئے،اجلاس کی صدارت جناب مفتی ثناء الہدی صاحب قاسمی نے فرمائی،قرآن کریم کی تلاوت سے پروگرام کا آغاز ہوا،جامعہ کے طلبہ نے بہترین اندازمیں ثقافتی پروگرام پیش کیا،تقریریں کیں،مکالمے پیش کئے،نعت نبی گنگنایا،جسے سن کر مہمانان نے انہیں سراہااور مزیدمحنت کرنے کی تلقین کی،افتتاحی خطاب جناب مولانامرغوب الرحمن معاون مہتمم وصدرمدرس جامعہ مدنیہ نے کیا،اپنے افتتاحی خطاب میں انہوں نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے ان سے گذارش کی کہ وہ اسی طرح باربارجامعہ مدنیہ تشریف لاتے رہیں،اور ہماری حوصلہ افزائی کرتے رہیں،پروفیسر شکیل احمدقاسمی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:آج مولانامحمدقاسمؒ صاحب بہت یادآرہے ہیں،جب چمن میں آدمی آتاہے تو چمن لگانے والے بھی یادآتے ہیں،انہوں نے ایک بڑاکام کیا،اب بعدکے لوگوں کو اس کو سنبھالناہے،اسی اندازسے فکرضروری ہے،جس طرح حضرت فکرکرتے تھے،انہوں نے کہا:حضرت مولانامحمدقاسم صاحبؒ نے اس چٹیل میدان کو آہ سحرگاہی سے آبادکیا،اس ادارے کو ترقی دینااس کی آبیاری کرناہی ان کو بہترین خراج عقیدت ہے،انہوں نے کہا:بانی جامعہ نے اپنی زندگی میں جو ٹیم تیارکی تھی وہ جواں سال بھی ہے،اور ان کو تجربے کی پختگی بھی ہے،اس ٹیم کو شفقت ومحبت سے لے کر چلاجائے تو یہ ادارہ بہت آگے بڑھے گا۔مدرسہ اسلامیہ شمس الہدی پٹنہ کے پرنسپل اور عیدین گاندھی میدان کے امام وخطیب جناب مولانامشہوداحمدقادری ندوی نے بھی اس موقع پر اہم خطاب فرمایا،انہوں نے کہا:میں پہلی مرتبہ اپنے والدماجد(شاہ عون احمدصاحبؒ )کے ساتھ اس مسجد میں آیاتھا،پہلی مرتبہ یہاں عصرکی نمازپڑھی تھی،اس وقت کی پوری کیفیت مجھے یادہے،نماز کے بعد رقت آمیز دعاء ہوئی تھی،اس وقت کسی نے سوچابھی نہیں ہوگا ،کہ یہاں سے بے شمار علمااور حفاظ تیارہوں گے،ان سب کے پیچھے جو چیز پوشیدہ ہے وہ اخلاص،للہیت،اور خدمت کا جذبہ ہے،مولانامحمدقاسم صاحبؒ بے سروسامانی کے عالم میںچلے تھے،پھر پوراقافلہ تیار ہوگیا،انہوں نے کہا:جب اکابرمیں سے کوئی گذرجائیں تو ان کے مشن کو چھوڑنانہیں ہے،ان کی کھینچی ہوئی لکیر پر چلناہے۔اجلاس کی صدارت کررہے جناب مفتی ثناء الہدی صاحب قاسمی نے بہت ہی جامع اندازمیں صدارتی خطاب فرمایا،انہوں نے کہا:یہ بات یادرکھوکہ خلوص وللہیت سے جو بھی کام ہوتاہے ،اس میں نصرت الہی ضرور ہوتی ہے،طلبہ کوتلاوت،نعت،تقریرکے اصول وضوابط سے بھی روشناش کرایا،انہوں نے کہا:نعت کا اپناایک طرز ہے،اسے مناجات نہ بننے دیں،اور گانے کی طرزپر نہ پڑھیں،مکالمہ کے معنی بات چیت،یعنی جس طرح ایک دوسرے سے بات چیت کرتے ہیں،مکالمہ کا اندازوہی ہوناچاہئے،تقریراہم چیزہے،دعوت اوراپنی بات دوسروں تک پہونچانے کے لئے تقریرکی عملی مشق ضروری ہے،تقریر کے لئے سب سے پہلے موضوع کا انتخاب کریں،پھر موادتیارکریں،مطالعہ کریں،بڑے مقرروں کو دیکھ کر پھر اندازسیکھیں،تقریرمختصر کرنایہ کمال ہے،جامعہ مدنیہ کے اساتذہ،طلبہ،اور باہرسے آئے ہوئے معززمہمامان کے بیچ انہوں نے آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ کا پیغام بھی پیش کیاکہ دس روزہ نکاح کو آسان بنانے کی مہم چلائی جائے،مجلسوں،محفلوں،اور اسٹیجوں میں اس پر خطابات کئے جائیں،موجود حاضرین نے اس آوازپر لبیک کہی،جامعہ مدنیہ سبل پور،پٹنہ کےجواں سال مہتمم مولانامحمدحارث بن مولانامحمدقاسم صاحبؒ نے اخیرمیں مختصر خطاب کرتے تمام مہمانان کا شکریہ اداکیا،معززمہمانان کے ہاتھوں بہترین مظاہرہ کرنے والے طلبہ کو انعامات سے نوازاگیا، خالدانورپورنوی نے نظامت کا فریضہ انجام دیا،صدراجلاس کی دعاء پر پروگرام اختتام پذیرہوا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: