غزل

اک ستم گر سے پیار کرتا ہوں

*غزل*
*نتیجہ فکر افتخار حسین احسن*
*رابطہ 6202288565*

*اک ستم گر سے پیار کرتا ہوں*
*اپنی ہستی کو خوار کرتا ہوں*

*آج کل بیٹھ کر لب ساحل*
*آپ کا انتظار کرتا ہوں*

*ان کے پاس اب میں جا نہیں سکتا*
*صرف نینوں سے وار کرتا ہوں*

*جو مجھے رازداں بناتا ہے*
*کام اس کا ادھار کرتا ہوں*

*اپنے دشمن کی شیریں باتوں پر*
*آج بھی اعتبار کرتا ہوں*

*ہو اجازت تو بول دوں کھل کر*
*جان من تجھ سے پیار کرتا ہوں*

*وقت فرصت میں کیا کروں احسن*
*تتلیوں کا شکار کرتا ہوں*

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: