مضامین

اگر ایک اور کورس ہو جائے !

دارالعلوم دیوبند , مظاہر علوم سہارنپور اور ان سے ملحق و غیر ملحق تمام مدارس اسلامیہ میں ناظرہ قران یا حفظ قران کے بعد درجہ فارسی سے دورہ حدیث تک ایک کورس ہے جسے مولویت یا عالمیت یا فضیلت کہتے ہیں , بلاشبہ اس کا نظام تعلیم بہت عمدہ اور فائدہ مند ہے , اس کورس کو حاصل کرنے والا ایک متبحر عالم , محقق , مدقق اور کامیاب مدرس بن سکتا ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ آج ہم دنیا بھر میں مفسر , محدث , فقیہ , اور جامع منقولات و معقولات دیکھ رہے ہیں .
قرآن مجید کی آیت پاک ” و ما كان المؤمنون لينفروا كافة – فلولا نفر من كل فرقة منهم طائفة يتفقهوا في الدين و لينذروا قومهم اذا رجعوا إليهم لعلهم يحذرون . ( سورۂ توبہ آیت 122 ).( اور مسلمانوں کو یہ نہ چاہیے کہ سب کے سب نکل کھڑے ہوں , ایسا کیوں نہ کیا جاوے کہ ان کی ہر بڑی جماعت میں سے ایک چھوٹی جماعت جایا کرے باقی ماندہ لوگ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرتے رہیں اور تاکہ یہ لوگ اپنی قوم کو جب وہ ان کے پاس آویں ڈراویں تا کہ وہ احتیاط رکھیں ) (بیان القرآن)
اس آیت پاک میں طائفۃ سے مراد یہی حضرات ہیں , اسی آیت پاک کی وجہ سے تعلیم و تعلمِ احکام جہاد جیسے اہم فریضہ میں مشغول ہونے کے وقت بھی واجب ہے کہ ایک چھوٹی جماعت جہاد میں نہ جائے بلکہ اس فریضہ کی انجام دہی کرے, قرآن کریم کی دوسری آیت پاک ” و لتكن منكم امة يدعون إلى الخير و يأمرون بالمعروف و ينهون عن المنكر ” ( تم میں سے ایک ایسی جماعت کا ہونا ضروری ہے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائے , بھلائی کا حکم کرے اور برائی سے روکتی رہے) کے مصداق بھی یہی حضرات ہیں , تو ایسے حضرات کو تیار کرنا اور پھر ان کا دین کی خدمت, دعوت اور اشاعت میں لگے رہنا فرض کفایہ ہے کہ ہر شہر و علاقہ میں ایسی شخصیات موجود ہوں جو لوگوں کی دینی ضروریات پوری کرتی رہیں تو وہاں کے مسلمان گناہ سے بچ جائیں گے ورنہ سب گناہ گار ہونگے ……………………. لیکن ہر مسلمان پر خواہ مرد ہو یا عورت بقدر ضرورت عقائد صحیحہ , نماز , روزہ کے احکام و مسائل اور معاملات و معاشرت کا علم , اسی طرح جس پر زکوٰۃ فرض ہو زکوٰۃ کے مسائل اور جس پر حج فرض ہو حج کے مسائل کا علم حاصل کرنا اور حلال و حرام جاننا فرض ہے .
چوں کہ سب کے لیے عالم مفتی قاضی بننا ضروری نہیں ہے اور ممکن بھی نہیں ہے ……………….. اس لیے اگر دو سالہ یا تین سالہ ایک اور کورس ہو جائے کہ جس میں ضروریات دین کی تعلیم دی جائے اور اس کورس میں ان طلبہ کا داخلہ لیا جائے جنہوں نے درجۂ حفظ یا ناظرہ مکمل کر لیا ہو تو اس کا فائدہ خاص طور پر ان طلبہ کو ہوگا جو عالمیت کا کورس کرنا نہیں چاہتے بلکہ ضروریات علم حاصل کرنے کے بعد کاروبار وغیرہ کرنا چاہتے ہیں اسی طرح ان طلبہ کو ہوگا جن کے پاس وقت نہیں ہے یا مالی گنجائش نہیں ہے اور وہ چھوٹے موٹے دینی کام کرنا چاہتے ہیں.
عبدالمنان قاسمی کٹیہاری

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: