اہم خبریں

اھل مدارس کے لئے جمعیتہ اوپن اسکول کا قیام خوش آئند اور وقت کی اھم ترین ضرورت ھے: مفتی محمد ارشد قاسمی

جمعیتہ علماء ھند نے اھل مدارس اور فارغین مدارس کے لئے NIOS ( نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوپن اسکولنگ) کے ذریعہ جمعیتہ اوپن اسکول کا آغاز فرمایا ھے،جس کا مقصدِ عظیم مدارس عربیہ سے ملحق طلبہ اور فارغین کو دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم سے آراستہ کرنا اور انھیں دسویں کلاس کا سرٹیفیکیٹ مھیا کرانا ھے؛ تاکہ اس کے بعد اعلی تعلیم کی راھیں بھی ھموار ھوجائیں اور عصری علوم میں بھی مھارت پیدا ھوجائے۔
ملک میں سرکاری ،امدادیافتہ ،آزاد اور پرائیویٹ مدارس کے نظام اور نصاب میں نام نہاد جدید کاری کے بارے میں یہ خدشہ ظاھر کیا جاتا ھے کہ اس سے دینی نصاب میں منفی تبدیلی یا سرکاری مداخلت کی راہ ھموار ھوگی ،جو دینی اور تعلیمی معیار کو خراب کرنے یا بنیادی مقصد سے توجہ ہٹانے یا اخلاقی تربیت میں خلل پیدا کرنے کا سبب ھوگی،امداد یافتہ مدارس میں حکومت کی بیجا مداخلت جگ ظاھر ھے،اسلئے اھل مدارس کے لئے ایک ایسا نظام تیار کرنے کی ضرورت تھی ،جس کے ذریعہ ھم مدارس کے موجودہ نظام میں مداخلت یا کسی طرح کی منفی تبدیلی کیے بغیر ،مدرسے کے طلبہ کو تسلیم شدہ ثانوی سطح (دسویں جماعت)کی تعلیم سے آراستہ کرسکیں ،
لھذا جمعیتہ علماء ھند نے جمعیتہ اوپن اسکول کی شکل میں ایسا نظام اور نصاب تعلیم مرتب کیا ھے ،جس میں دینی نصابِ تعلیم کی آزادی،سرکاری مداخلت سے آزادی،مالی وسائل کے اضافی بوجھ سے آزادی ،تنظیمی نظم و نسق،اساتذہ اور تنخواہوں میں مداخلت سے آزادی،تعلیمی معیار،اخلاقی،روحانی تربیت اور سماج کی مذھبی ضروریات کی تکمیل کی پیشہ وارانہ صلاحیت پیدا کرنے کی آزادی رکھی گئی ھے ،
مدارس کے طلبہ کے لئے بنیادی عصری تعلیم کی فراہمی اسلئے بھی ضروری ھے ،کیونکہ دسویں کا سرٹیفیکیٹ مستقبل میں ھر ایک کے لئے لازمی شناختی دستاویز ھوگا ،اسی طرح سرکاری ملازمت،پاسپورٹ اور اعلی تعلیم کے لئے بھی لازم ھوگا ،اسی طرح نئی تعلیمی پالیسی اور مستقبل کے خطرات کو دیکھتے ھوئے اس طرح کا نظام بنانا از حد ضروری تھا،جمعیتہ علماء ھند اور اس کے ذمہ داران شکریہ کے مستحق ھیں کہ انھوں نے اس طرف پیش قدمی دکھائی اور اھل مدارس نے آگے بڑھ کر ان کا استقبال کیا اور اپنے اپنے مدارس میں اس نظام کو شروع کیا،
جمعیتہ علماء ھند نے پورے ملک سے 90/اضلاع کو منتخب کیا ھے،جھاں ھر ضلع سے دس مدرسے اور ھر مدرسے سے 20/طلبہ کو منتخب کیا جائیگا ،اگلے پانچ سالوں میں 90/اضلاع کے 900/ مدارس کے 50000/پچاس ھزار طلبہ کو NIOS سے دسویں کی سند حاصل کرنے کے لائق بنایا جائیگا۔منتخب اضلاع میں سے ایک ضلع میرٹھ بھی ھے ،جس سے دس مدرسوں کو منتخب کیا گیا ھے ،3/مدرسے شھر کے ھیں جبکہ 7/مدرسے دیھات سے تعلق رکھتے ھیں ،
الحمد للّہ شھر میرٹھ کے سینٹروں میں سے ایک سینٹر مدرسہ حسینیہ ولایت الاسلام لھساڑی روڈ میرٹھ شھر بھی ھے ،یھاں کے طلبہ کی داخلہ امتحان کی کارروائی مکمل ھوچکی ھے،45/طلبہ نے امتحان داخلہ کی کارروائی مکمل کی اور امتحان دیا،
امتحان داخلہ صدر جمعیتہ علماء ضلع میرٹھ جناب قاری امیر اعظم صاحب اسعدی و جنرل سیکریٹری جناب حافظ شبیر احمد صاحب مھتمم مدرسہ کی موجودگی میں مکمل ھوا،
ضلعی کوآرڈینیٹر کی حیثیت سے محمد تنظیم اور مدرسہ کوآرڈینیٹر کے حیثیت سے محمد حذیفہ شریک رھے ،
مفتی محمد ارشد صاحب قاسمی کی زیر نگرانی تمام مراحل بحسن وخوبی اختتام پزیر ھوئے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close