اسلامیات

اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام امتی بن کر تشریف لائیں گے، نبی بن کر نہیں

مولانا ثمیر الدین قاسمی چئیرمین ہلال کمیٹی لندن

مرزا صاحب کی دوسری دلیل کا جواب یہ ہے
مرزا صاحب نے اپنی کتاب مسئلہ ختم نبوت اور جماعت احمدیہ صفحہ ۶ پر اہل سنت پر یہ الزام لگایا ہے کہ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسی ؑ آخیر میں مستقل نبی بن کر آئیں گے
اس کی عبارت یہ ہے
کیا یہ تعجب کا مقام نہیں ہے کہ ایک طرف تو ہمارے غیر احمدی بھائی یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا، اور دوسری طرف ایک مستقل نبی (حضرت عیسی علیہ السلام) کی آمد کے قائل ہیں جن کی نبوت حضور کے وسیلے سے نہیں بلکہ براہ راست تھی (مسئلہ ختم نبوت، اور جماعت احمدیہ صفحہ ۶)
اس عبارت میں مرزا صاحب نے یہ الزام لگایا ہے کہ ہم اہل سنت اس بات کے قائل ہیں کہ حضرت عیسی ؑ آخیر میں مستقل نبی بن کر آئیں گے
ہم یہ وضاحت کر دینا چاہتے ہیں کہ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت عیسی ؑ دجال کو قتل کرنے کے لئے ضرور تشریف لائیں گے، لیکن وہ حضور کی امتی بن کر آئیں گے، نبی بن کر ہر گز نہیں آئیں گے، ہاں وہ اپنی ذات کے اعتبار سے نبی ہیں، سابق میں وہ نبی رہے ہیں کیونکہ حضور کے بعد کسی بھی قسم کی نبوت کا دروازہ بند ہو گیا ہے، اس لئے مرزا صاحب کا الزام بھی غلط ہے، اور حضرت عیسی ؑ کی آمد سے اپنی ظلی نبوت کے لئے استدلال کرنا بھی غلط ہے
حضرت عیسیؑ فجر کی پہلی نماز حضور کی امتی کی
اقتداء میں پڑھیں گے
حضرت عیسیؑ نبی بن کر نہیں آئیں گے بلکہ حضور کی امتی بن کر آئیں گے، اور سب سے پہلی نماز جو فجر کی نماز ہو گی، حضرت مہدی علیہ السلام کی اقتداء میں پڑھیں گے، جو حضور کی امتی ہیں اس لئے اہل سنت کا عقیدہ یہ نہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام نبی بن کر آئیں گے، بلکہ وہ امتی بن کر آئیں گے ہاں وہ ذات کے اعتبار سے نبی ہیں
اس لئے مرزا صاحب کا یہ کہنا کہ اہل سنت کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسی نبی بن کر آئیں گے، یہ الزام غلط ہے
احادیث یہ ہیں
7۔عن ابی امامۃ الباہلی قال خطبنا رسول اللہ ﷺ فکان اکثر خطبتہ حدیثا حدثناہ عن الدجال۔۔۔و امامھم رجل صالح فبینما امامھم قد تقدم یصلی بھم الصبح اذ نزل علیم عیسی ابن مریم الصبح فرجع ذالک الامام ینکص یمشی القہقری لیتقدم عیسی یصلی بالناس فیضع عیسی یدہ بین کتفیہ ثم یقول لہ، تقدم فصل فانھا لک أقیمت، فیصلی بھم امامھم،۔ (ابن ماجۃ شریف، کتاب الفتن، باب فتنۃ الدجال و خروج عیسی ابن مریم، ص ۲۹۵، نمبر ۷۷۰۴)
ترجمہ: حضرت ابو امامۃ باہلی ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کم لوگوں کو خطبہ دیتے تھے، اور زیادہ ترخطبہ دجال کے بارے میں ہوتا تھا۔۔۔۔حضرت عیسی ؑ ک سامنے ایک نیک آدمی ہو گا(یہ حضرت مہدی ؑ ہوں گے)، اور صورت حال یہ ہو گی کہ وہ آگ بڑھ کر فجر کی نماز پڑھانے کی تیاری کر رہے ہوں گے، اس صبح کے وقت حضرت عیسی ابن مریم آسمان سے نیچے اتریں گے، یہ امام پیچھے ہٹنے کی کوشش کریں گے تاکہ حضرت عیسی ؑ آگے بڑھ کر لوگوں کو نمازپڑھائیں، حضرت عیسی ؑ اس امام کے کندھے پر ہاتھ رکھیں گے اور ان سے کہیں گے، آپ آگے بڑھئے اور نماز پڑھائے، اس لئے کہ اس نماز کی اقامت آپ کے لئے کہی گئی ہے، اس وقت حضرت عیسی ؑ کو اور تمام لوگوں کو یہی امام نماز پڑھائیں گے (یعنی حضرت عیسی علیہ السلام بھی یہ پہلی نماز حضرت مہدی علیہ السلام کی اقتداء میں ادا کریں گے)
8۔عن ابی ہریرہ قال قال رسول اللہ ﷺ کیف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم، و امامکم منکم۔ (صحیح ابن حبان، باب ذکر الخبر علی ان الدجا ل، جلد ۵۱، ص ۳۱۲، نمبر ۲۰۸۶)
ترجمہ: حضور ﷺ نے فرمایا کہ تمہارا کیا حال ہو گا جب عیسی ابن مریم اتریں گے، اور امام تم میں سے ہو گا
اس حدیث میں بھی ہے کہ حضرت عیسی ؑ ایک امتی بن کر آئیں گے، اور حضور ﷺ کی ایک امتی (حضرت مہدی ؑ کی اقتدا میں) پہلی نماز ادا کریں گے، اس لئے مرزا صاحب کا استدلال کرنا حضرت عیسی ؑ نبی بن کر آئیں گے، جس سے معلوم ہوا کہ ظلی نبی ہونے کا دروازہ کھلا ہوا ہے، یہ استدلال صحیح نہیں ہے، کیونکہ حضرت عیسی ؑ نبی بن کر نہیں بلکہ حضور ﷺ کی امتی بن کر تشریف لائیں گے

حضرت عیسی علیہ السلام حاکم اور امام بن کر اتریں گے،
نبی بن کر نہیں
نیچے والی حدیثوں میں حضرت عیسی علیہ السلام کی پانچ صفات بیان کی گئی ہیں
۱۔۔(حکما مقسطا) ۲۔۔ (حکما عدلا) ۳۔۔(اماما عدلا)
۴۔۔(و اماما مقسطا) ۵۔۔(فیکون عیسی ابن مریم علیہ السلام فی امتی)
ان حدیثوں میں ہے کہ حضرت عیسی ؑ حضور کی امتی بن کر اتریں گے۔وہ ذات کے اعتبار سے نبی ہیں کیونکہ وہ بنی اسرائیل کے نبی مکرم تھے۔ لیکن وہ نبی بن کر نہیں اتریں گے، بلکہ امتی بن کر اتریں گے، اور اس وقت کے انصاف والے حاکم، اور انصاف والے امام ہوں گے، مقسط کا معنی ہے انصاف کرنا
اس لئے مرزا صاحب کا ان احادیث سے یہ استدلال کرنا کہ حضرت عیسی ؑ نبی بن کر آسکتے ہیں، تو اس کا معنی یہ ہوا کہ نبی آنے کا دروازہ کھلا ہوا ہے، اس لئے میں بھی ظلی نبی ہوں، یہ استدلال صحیح نہیں ہے، کیونکہ حضرت عیسی ؑنبی کر آئیں گے ہی نہیں، وہ تو حضور ؐ کا امتی بن کرآئیں گے، بلکہ اپنے امتی بننے پر فخر کریں گے
اس کے لئے احادیث یہ ہیں
9۔عن ابن المسیب انہ سمع ابا ھریرۃ ؓیقول قال رسول اللہ ﷺ و الذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکما مقسطا۔ (بخاری شریف، کتاب البیوع، باب قتل الخنزیر، ص ۴۵۳، نمبر ۲۲۲۲/ ترمذی شریف، کتاب الفتن، باب ما جاء فی نزول عیسی ابن مریم علیہ السلام، ص ۲۱۵، نمبر ۳۳۲۲)
ترجمہ : عبد اللہ بن مسیب نے حضرت ابو ہریرہ ؓ کو کہتے ہوئے سنا ہے، کہ حضور ؐ نے فرمایا کہ جن کے قبضے میں میری جان اس اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں تمہارے پاس حضرت عیسی ابن مریم اتر کرآئیں گے، وہ انصاف کرنے والا حاکم ہوں گے۔

10۔عن ابی امامۃ الباہلی قال خطبنا رسول اللہ ﷺ فکان اکثر خطبتہ حدیثا حدثناہ عن الدجال۔۔۔قال رسول اللہ ﷺ فیکون عیسی ابن مریم علیہ السلام فی امتی حکما عدلا، و اماما مقسطا۔ (ابن ماجۃ شریف، کتاب الفتن، باب فتنۃ الدجال و خروج عیسی ابن مریم، ص۳۹۵، نمبر ۷۷۰۴)
ترجمہ: حضرت ابو امامۃ باہلی ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کا زیادہ ترخطبہ دجال کے بارے میں ہوتا تھا۔۔۔حضور ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں عیسی بن مریم ؓ ہوں گے، اور وہ انصاف کرنے والے حاکم ہوں گے، اور انصاف کرنے والے امام ہوں گے
11۔عن ابی ھریرۃ عن النبی ﷺ قال لا تقوم الساعۃ حتی ینزل عیسی ابن مریم حکما مقسطا، و اماما عدلا۔ (ابن ماجۃ شریف، کتاب الفتن، باب فتنۃ الدجال و خروج عیسی ابن مریم، ص۳۹۵، نمبر ۸۷۰۴)
ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ ؓ حضور ؐ سے روایت کرتے ہیں کہ، حضور ؐ نے فرمایا کہ جب تک حضرت عیسی بن مریم نہیں اتریں گے تب تک قیامت قائم نہیں ہو گی۔ وہ انصاف کرنے والے حاکم ہوں گے، اور انصاف کرنے والے امام ہوں گے
ان تمام احادیث میں اس کی وضاحت ہے کہ حضرت عیسی ؑ حضور ﷺ کے امتی بن کر آئیں گے، نبی بن کر نہیں آئیں گے۔ ہاں وہ انصاف ور حاکم اور انصاف ور امام ہوں گے۔
اس لئے مرزا صاحب کا ان احادیث سے یہ استدلال کرنا کہ نبی آنے کا دروازہ کھلا ہوا ہے، اس لئے میں بھی ظلی نبی ہوں صحیح نہیں ہے۔

ان حادیث میں چار مرتبہ،نبی اللہ عیسی ؑ، کہا ہے
اس میں ذات کے اعتبار سے نبی ہیں،
لیکن عہدے کے اعتبار سے امتی ہوں گے نبی نہیں
نیچے والی حدیث میں چار مرتبہ یہ کہا ہے کہ نبی اللہ عیسی دجال کو قتل کرنے آئیں گے
مرزا صاحب نے اس سے استدلال کیا ہے کہ حضرت عیسی نبی بن کر آسکتے ہیں تو میں بھی ظلی نبی بن سکتا ہوں۔۔
پھر اس نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ اہل سنت اس بات کا قائل ہے کہ حضرت عیسی نبی بن کر آئیں گے
لیکن اہل سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ اس حدیث میں جو نبی اللہ عیسی، کہا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ذات کے اعتبار سے نبی ہیں، یا وہ اپنے زمانے میں نبی تھے، اسی وجہ سے ان کو اس حدیث میں چار مرتبہ نبی اللہ عیسی، کہا ہے، لیکن جب آئیں گے تو وہ حضور ﷺ کا امتی بن کر آئیں گے نبی بن کر ہر گز نہیں آئیں گے،، اس لئے اس حدیث سے مرزا صاحب کا استدلال کرنا غلط ہے
حدیث یہ ہے
12۔عن النواس بن سمعان قال ذکر رسول اللہ ﷺ الدجال ذات غدات۔۔۔اذ بعث اللہ المسیح ابن مریم۔علیہ السلام۔۔۔۔ فیطلبہ حتی یدرکہ بباب لد فیقتلہ۔۔۔و یحصر نبی اللہ عیسی و اصحابہ۔۔۔ فیرغب نبی اللہ عیسی و اصحابہ۔۔۔ثم یھبط نبی اللہ عیسی و اصحابہ۔۔۔ فیرغب نبی اللہ عیسی و اصحابہ ۔ (مسلم شریف، کتاب الفتن، باب ذکر الدجال، ص ۲۷۲۱، نمبر ۷۳۹۲/ ۳۷۳۷/ ابن ماجۃ شریف، کتاب الفتن، باب فتنۃ الدجال و خروج عیسی ابن مریم، ص ۱۹۵نمبر ۵۷۰۴)
اس حدیث میں حضرت عیسی علیہ السلام کو چار مرتبہ،نبی اللہ عیسی، کہا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسی ذات کے اعتبار سے نبی ہیں، لیکن اس وقت جو دنیا میں تشریف لائے ہیں وہ نبی بنکر نہیں آئیں گے، بلکہ حضور کی امتی بن کر تشریف لائیں گے، اور اس وقت یہ، حکما مقسطا، اماما عدلا، اماما مقسطا، بنکر تشریف لائیں گے، اس لئے اس حدیث سے یہ استدال کرنا کہ حضو ر ﷺ کے بعد کوئی دوسرا آدمی نبی بن کر اب دنیا میں آسکتا ہے، یہ غلط ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: