مضامین

آہ مولانا ابوبکر صاحب

مفتی محمد قمرعالم قاسمی خادم التدریس والافتاء، مدرسہ حسينيه کڈرو رانچی

آہ مولانا ابوبکر صاحب
مفتی محمد قمرعالم قاسمی خادم التدریس والافتاء، مدرسہ حسينيه کڈرو رانچی
آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ تیرے گھر کی نگہبانی کرے
یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا
ایک ہی شخص تھا جہاں میں کیا
میرے دوست، میرے رفیق، میرے مخلص، میرے محسن و مربی، میرے ہم سفر، میر محفل، میر کارواں، خادم قرآن و تفسیر، حدیث وفقہ و اصول فقہ، نحو صرف، منطق و فلسفہ باشندگان جھارکھنڈ کے دلوں پر راج کرنے والے دینی ،سماجی، ملی، سیاسی؛ غرض ہر میدان میں رہنمائی کرنے والے جمعیت علمائے جھارکھنڈ کو اوج ثریا پر پہنچانے اور چار چاند لگانے والے، امت کے نزاعی مسائل کو حل کرنے والے، خطیب زماں حضرت علامہ الحاج مولانا محمد ابوبکر قاسمی رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ استاذ حدیث و تفسیر مدرسہ حسينيه کڈرو رانچی و جنرل سیکریٹری جمعیت علمائے جھارکھنڈ وجنرل سیکریٹری رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ جھارکھنڈ،قاضی محکمہ شرعیہ ہند جھارکھنڈ، خطیب بڑی مسجد مرکز ہندپیڑھی رانچی اور قاضی شہر ضلع رانچی ہم سب کو روتا بلکتا چھوڑ کر رب حقیقی سے جاملے ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون ۔ شاید ایسے ہی موقع کے لیے کیفی اعظمی نے کہا تھا کہ
رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئی
تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی
آپ بہار کے ضلع مدھوبنی بھروا بستی کے ایک دولتمند اورعلماء نوازی میں معروف ومشہور گھرانہ حاجی ہاشم مرحوم کے یہاں پیدا ہوئے ۔ آپ پیدائشی طور پر ذہین واقع ہوئے تھے، اس لیے ان کے والد حاجی ہاشم مرحوم نے بچپن میں ہی حضرت مولاناکاظم الحسینی رحمہ اللہ سابق ناظم مالیات مدرسہ حسينيه کڈرو رانچی کے ہمراہ دینی تعلیم و تربیت کے حصول کے لیے مدرسہ حسینیہ کڈرو رانچی بھیج دیا ۔حضرت مولانا ابوبکر صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ابتدائی تعلیم دینیات اور ناظرہ قرآن وغیرہ کی تکمیل کے بعد حفظ قرآن اور درجہ عربی ششم تک مدرسہ حسینیہ رانچی میں تعلیم حاصل کی۔ علیا درجات کی تکمیل مادر علمی دارالعلوم دیوبند سے کی۔ فراغت کے بعد مدرسہ حسینیہ کڈرو رانچی میں بحیثیت استاد عربی بحال ہوئے۔ اسی دوران مولانا مرحوم نے عصری تعلیم پر توجہ دی اور رانچی یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔ اور امتیازی نمبروں سے کامیاب ہوئے، جس پر انھیں یونیورسٹی کی طرف سے گول میڈل اور توصیفی سند بھی دی گئی۔ چالیس سال تک مدرسہ حسینیہ رانچی میں درجہ عربی و فارسی کے کامیاب استاد کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔ درجہ عربی ششم تک تقریبا تمام عربی وفارسی کتابیں انہیں پڑھانے کا شرف حاصل ہوا اور ہزاروں کی تعداد میں ان کے شاگرد حضرات ملک وبیرون ملک دین و شریعت، اور ملت و ملک کی خدمات مدارس و مساجد اور سیاسی وسماجی میدان میں انجام دے رہے ہیں۔
31 جنوری 2000 کو راقم کی تقرری حضرت الاستاد امیر الہند قاری سید محمد عثمان صاحب منصورپوری دامت برکاتہم العالیہ صدر جمعیت علمائے ہند کی سفارش پر مدرسہ حسینیہ کڈرو رانچی میں بحیثیت استاد درجہ عربی و فارسی میں ہوئی۔ اور خدمت تدریس میں مصروف عمل ہوگیا ۔
مجھے فطری طور پر یہ پسند ہے کہ اچھے اور محنتی حضرات کو اپنا ہم پیالہ و ہم نوالہ بناوں۔ یاران باصفا کی محفل سجاوں۔ چنانچہ دارالعلوم دیوبند کی طالب علمانہ زندگی میں بھی اچھے، محنتی اورخوش اخلاق طلبہ سے رشتہ مودت قائم کیا کرتا تھا ، جن میں مولانا مفتی اشتیاق صاحب، مفتی عمران اللہ قاسمی صاحب، مولانا ارشد معروفی اساتذہ دارالعلوم دیوبند، مفتی امتیاز عالم قاسمی استاذ المعہد پھلواری شریف پٹنہ، مفتی اعجازارشد مرحو، مفتی عالم گیر عالم، مفتی محمد اعظم، مولانا سلمان اساتذہ باغوں والی مظفرنگر، مولانا صغیر احمدپڑتابگڑھی ومولانا سلمان اساتذہ معہد انور دیوبند، مولانا انظار عالم صاحب قاضی شریعت مرکزی امارت شرعیۃ پھلواری شریف پٹنہ بہار، مولانا منت اللہ صاحب شیخ الحدیث دارالعلوم اسلامیہ پٹنہ،مفتی اعجاز احمد استاذ مطلع العلوم بنارس اور مولانا بدرالہدی صاحب حال مقیم دوحہ قطر خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
میرے ذوق عمل میں مدرسے کی تدریسی زندگی کے ساتھ ساتھ ملک و ملت کی فلاح بہبود اورقوم و انسانیت کی خدمت کرنے کا جذبہ شامل تھا ، جس کے لیے انھیں صفات کا حامل ہم سفر کی تلاش تھی۔ چنانچہ اپنے محسن دوست حضرت مولانا ابوبکر صاحب کوان خوبیوں کا حامل پایا۔ بس پھر کیا تھا میں آہستہ آہستہ ان سے قریب ہوتا گیا اور اتنا قریب ہوا کہ بس دو جسم یک دل کی طرح ہوگیا۔ وہ میرے ہر دکھ درد میں شریک ہوتے اور میرا یہی معاملہ ان کے ساتھ ہوتا ۔ خواہ گھریلو معاملہ ہو، یا مدرسے کا ،جمیعت کا معاملہ ہو یا سماجی و سیاسی یا علاقائی وشہری معاملہ؛مجھ سے ضرور مشورہ کیا کرتے ۔ایک قابل ذکر واقعہ ہے میں نے شہر رانچی میں مدرسہ کے قریب جب زمین کا ایک چھوٹا سا قطعہ لینے کا ارادہ کیا، تو انہوں نے ہی ایگریمنٹ پیپر اپنے قلم سے تیار کیا پھر دو لاکھ کی پیشگی رقم زمین والے کو ادا کی اور ایک لاکھ کی رقم حافظ فیروز نوری صاحب نے اداکی۔
اسی طرح 2019 میں استنبول ترکی کے سفر پر فقہ اکیڈمی انڈیا کے توسط سے جانا ہوا تھا، تو محلے میں بچوں کی لڑائی میں میرے بچوں پر پڑوسی نے ایف آئی آر درج کرادیا اور گرفتاری کے لیے پولیس آگئی۔ مولانا مرحوم نے ایف آئی آر رد کرانے اور گرفتاری کو رکوانے کے لیے جان کی بازی لگا دی۔ پورا تھانہ ایک طرف اور مولانا مرحوم اکیلے ایک طرف کھڑے تھے ۔ اللہ تعالی نے مولانا مرحوم کو کامیابی سے ہمکنار کیا ، میرے بچے گرفتاری اور کورٹ کے چکر میں پھنسنے سے بچ گئے فللہ الحمد۔
مجھ جیسے کم علم انسان کو پورے جھارکھنڈ خصوصاً شہر رانچی و مضافات میں متعارف کرانے میں انہوں نے بڑا کردار ادا کیا۔ میں مولانا مرحوم کو کبھی بھلا نہیں سکتا۔ کیوں کہ اچھے لوگ کبھی مرتے نہیں۔ وہ اپنی مادی جسمانی صورت سے تو آزاد ہو جاتے ہیں، لیکن ان کی یادیں دلوں میں گھر کئے رہتی ہیں۔ میر تقی میر کا شعر یاد آرہا ہے کہ
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
بہار سے جھارکھنڈ الگ ہونے کے بعد جمعیت علماء جھارکھنڈ کو ایک ایسے ملاح کی تلاش تھی، جو اس کی نیا کو منزل مقصود تک پہنچا سکے، صدر محترم جمعیت علمائے جھارکھنڈ ومہتمم مدرسه حسينيه کڈرو رانچی حضرت مولانا ازہر صاحب نوراللہ مرقدہ کی دور رس نگاہ انتخاب حضرت مولانا ابوبکر صاحب قاسمی پر پڑی۔اور انھیں پورے صوبہ کا جنرل سکریٹری بنایا۔ جمعیت علمائے جھارکھنڈ کی تشکیل کے کئی سالوں تک چند ناگزیر حالات کی بنا پر صرف اتنا ہی کام ہوپاتا تھا کہ جمعیت علمائے ہند کی طرف سے منعقد ہونے والے اجلاس وغیرہ میں شرکت ہوجایا کرتی تھی ؛ لیکن زمینی سطح پر کوئی کام نہیں ہوپاتا تھا۔ہم لوگ مولانا مرحوم سے گذاش کرتے کہ جھارکھنڈ میں بھی زمینی سطح پر کام ہونا چاہیے ۔ کبھی کبھار اس مطالبہ میں شدت بھی اختیار کرتے ؛ لیکن مولانا مرحوم کبھی برا نہیں مانتے تھے اور خاموشی کے ساتھ کام کرتے رہتے۔ ادھر حالیہ چار پانچ سالوں سے انھوں نے جمعیت علمائے جھارکھنڈ کے بینر تلے ایک مضبوط ٹیم بنائی تھی ، اس ٹیم میں حضرت مولانا اسرار الحق صاحب صدر جمعیت علماء جھارکھنڈ، حضرت مولانا نعمت اللہ صاحب نائب صدر جمعیت علمائے جھارکھنڈ، جناب شاہ عمیرصاحب خازن جمعیت علمائے جھارکھنڈ ،حضرت مولانا رضوان اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے دیوگھر، حضرت مولانا اسلام الحق صاحب سابق جنرل سکریٹری جمعیت علمائے دھنباد، جناب حافظ جلال الدین صاحب جنرل سکریٹری جمعیت علمائے جامتاڑا، حضرت مولانا اصغر مصباحی صاحب صدر جمعیت علمائے رانچی، حضرت مولانا عبدالقیوم صاحب قاسمی جنرل سکریٹری جمعیت علمائے رانچی، مولانا نورالحسن صاحب سرپرست جمعیت علمائے لوہردگا، مولانا احسن امام صاحب صدر جمعیت علمائےلوہردگا، مولانا عبدالحمید صاحب جنرل سکریٹری جمعیت علمائے لوہردگا، حضرت مولانا منہاج صاحب صدر جمعیت علمائے سمڈیگا، حضرت مولانا آصف اللہ صاحب جنرل سکریٹری جمعیت علمائے سمڈیگا، حضرت مولانا شاکر صاحب صدر جمعیت علمائے رامگڈھ، مولاناغلام سرور صاحب جنرل سکریٹری جمعیت علمائے رام گڑھ، مولانا عین الحق صاحب جنرل سکریٹری گریڈیہ اور راقم محمد قمر عالم قاسمی رکن جمعیت علمائےجھار کھنڈ وجنرل سیکریٹری دینی تعلیمی بورڈ جمعیت علماء جھارکھنڈ کے نام شامل ہیں ۔اس جماعت بندی کے علاوہ انھوں نے چند ضلعوں کو چھوڑ کر تقریبا پورے جھارکھنڈ کا دورہ کیا اور جگہ جگہ مقامی یونیٹٰں تشکیل دے کر جمعیت کے نیٹ ورک کو وسیع کرنے کی انتھک کوششیں کیں۔
ملت کے درد میں وہ ہمیشہ صف اول میں نظر آتے تھے چنانچہ علیم الدین انصاری شہید کی موبلیچنگ،لاتیہار کے مظلوم انصاری اوراس کے نوعمر ساتھی امتیاز خان شہیدان کی موبلنچنگ، تبریز انصاری شہید کی موبلنچنگ ہو،اور تبارک خان شہید کی موبلنچنگ میں علیٰ الفور متاثرہ شخص اور اس کے اہل خانہ سے جاکر ملاقات کی ، اور اکابر جمعیت کے حکم کے مطابق قانونی و مالی تعاون فراہم کرنے کی کوشش کی ۔ یہی نہیں بلکہ جمعیت علماء ہند کا جب بھی کوئی سرکلر جاری ہوتا، مولانا مرحوم اسے بروئے کار لانے اورپایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے بالکل بے چین ہو جاتے ،جب تک سرکلر کے مطابق کام نہیں ہوتا، مولانا مرحوم چین سے نہیں رہتے ؛خصوصا قائد ملت حضرت مولانا سید محمود اسعد مدنی دامت برکاتہم کے ہر ایک اشارے کو پورا کرنے کی کوشش کرتے۔ کاش چند سال اور زندہ رہتے تو ہم جیسے ناکاروں کو مکمل تربیت یافتہ بنا دیتے، تا کہ جمعیت کے مشن کو آگے بڑھانے میں ہم لوگوں کو آسانی ہوتی۔
مولانا مرحوم اکیلے ہزاروں کے مجمع میں ممتاز نظر آتے تھے۔ دینی محفل ہو یا سماجی و سیاسی؛ اپنوں کی مجلس ہو یا غیروں کی؛ سب میں منفرد شناخت رکھتے تھے ۔ ان میں ایک بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ اردو عربی فارسی ہندی اور انگریزی زبان پر عبور رکھتے تھے، اس لیے ہرطبقے کی مجلس میں رونق اسٹیج ہوتے، حالات اور ماحول کے لحاظ سے ہر زبان میں باآسانی گفتگو کر لیتے۔ مختصر یہ ہے کہ ان کے پاس زبان کا جادو تھا، جس سے ہر کسی کو مسحور کردیتے اور اپنا گرویدہ بنالیتے تھے۔
بہرحال ہر آنے والے کو ایک نہ ایک دن جانا ہے۔ جانے والے کو لوگ چند دنوں میں بھول بھی جاتے ہیں ؛لیکن کچھ شخصیتیں ایسی ہوتی ہیں کہ جن کے دینی و ملی سماجی و قومی کردار اور بلند اخلاق کی وجہ سے ان کے دنیا سے گزر جانے کے بعد بھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
ایک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا.
مولانا مرحوم نے صرف اپنی بیوی کو بیوہ اور بچوں کو ہی یتیم نہیں کیا؛بلکہ وہ جمعیت علمائے جھارکھنڈ کے سینکڑوں ہزاروں کارکنوں، ممبران اور دوست و احباب کو بھی یتیم کرکے چلے گئے۔ جھار کھنڈ میں جمعیت علماء سے محبت کرنے والوں کی ایک لمبی فہرست ہے ان میں جن سے فون پر میری گفتگو ہوئی ہے، وہ سب یہی محسوس کرتے ہیں کہ مولانا مرحوم ہمیں یتیم بناکرچلے گئے۔
جناب حاجی ظہیرالاسلام صاحب جناب حافظ خورشید صاحب جناب منصور صاحب یہ تینوں بھائی ہیں اور خاندانی جمعیتی ہیں اور جمعیت کے لیے جان نچھاور کرنے والے ہیں، جناب الحاج حافظ افروز صاحب سابق خازن جمعیت علمائے جھارکھنڈ، مولانا اصغر مصباحی ،حضرت مولانا ڈاکٹر عبید اللہ قاسمی صاحب خطیب اقرا مسجد مین روڈ رانچی وجنرل سکریٹری مرکزی مجلس علمائے جھارکھنڈ شاہ عمیر صاحب مولانا عبدالقیوم صاحب، مولانا وقاری احسان صاحب، مولانامنہاج صاحب، مولانا احسن امام صاحب، مولانا رضوان اللہ صاحب، مفتی شاہد صاحب، قاری اخلد حسینی صاحب ،قاری مشتاق صاحب اور خود راقم الحروف محمد قمرعالم قاسمی مولانا مرحوم کے چلے جانے سے غموں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ چاہنے کے باوجود ان کی یادیں ان کی ادائیں ان کی محبتیں ان کے بلند اخلاق بھلائے نہیں جاتے۔
حضرت مولانا کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ کبھی کسی مجمع میں ڈرتے اور سہمتے نہیں تھے خواہ مجمع جمعیت کے مخالفین کا ہی کیوں نہ ہو۔ وہ جمعیت اور اکابرین جمعیت کی بھرپور تائید و ترجمانی کرتے تھے ۔ بڑی حکمت کے ساتھ مخالفین کو بھی اپنا بنا لیتے تھے ۔شورش کاشمیری کا یہ شعر ہم جمعیت علمائے جھارکھنڈ کے متوسلین و محبین کے حق میں بالکل با موقع و مناسب ہے کہ
تیری جدائی سے مرنے والے وہ کون ہے جو حزیں نہیں ہے
مگر تیری مرگ ناگہانی کا اب تک مجھ کو یقین نہیں ہے
اللہ تعالیٰ مولانا مرحوم کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام بخشے آمین۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: