اسلامیات

ایسارمضان! کبھی دیکھا؟

حافظ محمد ہاشم قادری

اے رحیم وکریم رب محمد ﷺ کاواسطہ،رمضان! کی رحمتیں،رونقیں ہمیں عنایت فر ما!!! *حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی جمشید پور*
*رحمت الٰہی بہانہ می جوید*۔ رب العالمین اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے،بڑے سے بڑے گنہگا روں کو رحیم وکریم رب چھوٹے چھوٹے بہانوں سے معاف فر دیتا ہے ،مغفرت کر دیتا ہے۔ کچھ گناہ ایسے ہیں کہ اُن کی معافی ومغفرت نہیں،جب تک اُن سے واپسی اور توبہ نہ ہو،جیسے’’ شرک‘‘ (توحید باری سے انکار) اللہ اس گناہ کو معاف نہیں فر ماتا،جب تک وہ کفر کے عقیدے وعمل سے باز نہ آئے۔
*رحمت حق بہانہ می جوید*: امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ ایک مرتبہ نہر پر وضو فر مارہے تھے اور ان سے قبل اُوپر کی جانب دوسرا شخص وضو کر رہا تھا،وہ ادبًا امام صاحب کے پاس جاکر دوسری جانب وضو کرنے لگا،کسی شخص نے مرنے کے بعد اسے خواب میں دیکھا،پوچھا کیا حال ہے؟ کہا اللہ تعالیٰ نے مغفرت فر مادی،کیونکہ ایک روز میں نہر پر وضو کر رہا تھا اور میرے پاس حضرت امام احمد بن حنبل علیہ الرحمہ وضو فر مانے لگے جس سے میرے وضو کا پانی ان کی جانب جارہا تھا،میں ادبًا وہاں سے ہٹ کر اُن کے قریب دوسری جانب وُضو کر نے لگا۔جب خدا تعالیٰ کے سامنے میری پیشی ہوئی تو حکم ہوا کہ جا ہم نے تجھ کو محض اس بات پر بخش دیا کہ تونے ہمارے ایک مقبول بندے کا احترام کیا۔حق تبارک وتعالیٰ کی رحمت تو بہانہ ڈھونڈ تی ہے،
رمضان المبارک جیسا با برکت مہینہ جس کا ہر ہر پل اللہ کی رحمتوں،بر کتوں سعادتوں سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔ کیا کبھی کسی نے سوچا تھا کہ زندگی میں ایسا بھی رمضان آئے گا؟ جس میں کئی عبادتوں کا حق ہم سے چھین لیا جائے گا۔اللہ توبہ، اللہ توبہ،اللہ توبہ،۔ مسجدوں میں قرآن مجید کی تلاوت،حافظِ قر آن سے سننا،افطار لوگوں کے ساتھ مل بیٹھ کر کر نا وغیرہ وغیرہ۔ ہماری کم نصیبی دیکھئے رب تبارک و تعالیٰ نے ہمیں یہ دن دیکھائے،وہ قدرت والا ہے،’’جو چاہے وہ کرے‘‘۔
*رمضان کی اُمنگیں پھیکی کیوں؟:*
رمضان کی آمد سے پہلے ہی رمضان کی خوشبو، رمضان کی اُمنگیں پروان چڑھ جاتی ہیںاحادیث طیبہ میں بھی اس کی کثیر فضیلتیں موجود ہیں۔اس ماہ کی ہر ساعت میں فیوض وبر کات کا اِتنا خزانہ پوشیدہ ہے کہ نفل اعمال کا ثواب فرض کے برابر،فرض کا ستر گنازیادہ اور وزنی ہو جاتا ہے۔(بیہقی) رمضان آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں نیکی کے راستوں پر چلنے کی توفیق عطا ہوجاتی ہے شیطان زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے اور برائی کے مواقع کم ہو جاتے ہیں ،وغیرہ وغیرہ۔ (مفہومِ حدیث،بخاری) اللہ اللہ کیا دن ہیں کہ رحمت،مغفرت اور جہنم سے آزادی کی بکری،فروخت،SALE لگی ہوئی ہے اور اس کے بندے نہال وخوش حال،بلے،بلے ہورہے ہیں۔آج پہلے روزہ کی سحری کا اعلان ہو رہا ہے،سحری کا وقت بتایا جارہا ہے،پھر سناٹا چھا گیا،فجر کی نماز میں مسجدیں نمازیوں سے بھر جاتی تھیں،-ارے یہ کیا ہوا؟- مسجد میں تالا لگا ہوا ہے،دل بیٹھ گیا جھانک کر دیکھا ،مسجد میں صرف4ہی نمازی ہیں واپسی دل پر شاق گزری،صبح سے ہی گھروں کی بیل بجنے لگتی تھیں،سوالی سوال کرتے اللہ کے نام پر دے دو ،طرح ،طرح کی میٹھی،میٹھی دعائیں اُن کے منھ سے سن کر ایک عجیب سی راحت وسکون ملتا تھا ۔سناٹا طاری ہے یہ سب کیا ہو گیا؟ *ہم سے کیا خطا ہوئی؟ کہ مسجدوں کے دروازے ہمارے لیے بند*:
،یا اللہ رحم فر ما!۔سوچیں خوب سوچیں اور اللہ کی بار گاہ میں توبہ کریں، خوب روئیں،گڑ گڑائیں ، اور اللہ سے مانگیں رحمن ورحیم رب پھر جلدی سے وہی دن واپس فر مادے،تو توقوت رکھتا ہے جیسے شیطان کو قید کر دیا ہے،اسی طرح تو اس موذی مرض وبا ’’کورونا ‘‘کو بھی دفن فر مادے۔ تاکہ اس نے جو زندوں سے لیکر مردوں تک ، تہلکہ مچا رکھا ہے سب کو سکون ملے اور عبادتوں کو صحیح طرح کرنے کی توفیق عطا فر ما،اپنی رحمتوں کے خزانوں سے ہمیں پھر مالامال فر ما،آمین۔ماہ رمضان کے بہانے تیری رحمتوں کے خزانے لٹائے جارہے ہیں اِ ن خزانوں میں سے کس کا کتنا حصہ ہے،یہ اپنے اپنے نصیبِ کی بات ہے۔ اگر آپ کا دل نرم ہے ، خدا کے خوف سے لبریز ہے، تو ضرور آپ کا دل و دماغ،سیراب ہو گا رب کی رحمتوں کے خزانوں سے آپ ،آپ کی فیملی مالامال ہوگی اوردل اگر خوفِ خدا سے خالی ہے تو پھر ارشاد الٰہی ہے۔
تر جمہ:پھر اس کے بعد(بھی) تمھارے دل سخت ہو گئے ہیں چنانچہ وہ(سختی میں) پتھروں جیسے (ہو گئے ہیں یا ان سے بھی زیادہ سخت( ہوچکے ہیں،اس لئے کہ) بیشک پتھروں میں(تو) بعض ایسے بھی ہیں جن سے نہریں پھوٹ نکلتی ہیں۔ اور یقینًا ان میں سے بعض وہ (پتھر) بھی ہیں جوپھٹ جاتے ہیںتوان سے پانی اُبل پڑتا ہے اور بیشک ان میں سے بعض ایسے بھی ہیںجو اللہ کے خوف سے گر پڑتے ہیں،( افسوس! تمھارے دلوں میں اس قدر نر می، خستگی اورشکستگی بھی نہیں رہی) اور اللہ تمھارے کاموں سے بے خبر نہیں۔(القرآن،سورہ البقرۃ:2آیت74)
*مسجدیں بند سہی-توبہ کے دروازے اب بھی کھلے ہیں*: دلوں کو خوفِ الٰہی سے لبریز رکھیں، اگر ہم مسجد نہیں جا پارہے ہیں تو اس محرومی پر رونے اور توبہ کر نے کی ضرورت ہے کہ کہیں ایسانہ ہو کہ ہماری بے حسی ہمیں سجدوں سے ہی محروم کردے؟
خانہ کعبہ اور دنیا کی دوسری مسجدوں کی تصویریں ہم سے کچھ کہہ رہی ہیں۔۔۔ اللہ نے ہمیں رمضان کا مبارک مہینہ ضرور عنایت فر مایا ہے۔۔ لیکن ہم رمضان کی رو نقوں سے محروم ہیں۔۔ کیوں؟؟ بس اس پر ہمیں غور کر نا ہے۔۔ اللہ کی رحمت کو آواز دینا ہے۔اور وہ ہے توبہ۔۔ توبہ۔۔توبہ۔۔ اپنا محا سبہ کر نا ہے اپنی غفلتوں اور کو تاہیوں کی معافی طلب کر ناہے۔۔ ہم گھروں میں ضرور قید ہیں۔۔۔ مسجدیں ضرور خالی ہیں۔۔۔لیکن آز مائش کی اس گھڑی میں ہم پوری فیملی کے ساتھ یہ دعا کریں کہ اللہ ہمیں رمضان کی رو نقیں بخش دے اور ہمیں پہلے کی طرح اپنی عبادت کی توفیق بخش دے اور ہماری دعائوں کو قبول فر ما۔ لوک ڈائون کا سختی سے پالن کریں خدارا دشمنوں کو موقع نہ دیں۔ اے اللہ رحم فر ما،رحم فر ما، رحم فر ما،آمین:-
،09279996221,hhmhashim786@gmail.com
حافظ محمد ہاشم قادری صدیقی مصباحی
خطیب و امام مسجد ہاجرہ رضویہ اسلام نگر، کپالی،پوسٹ:پارڈیہہ،مانگو،
جمشیدپور(جھارکھنڈ)-831020,

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: