اہم خبریں

ایسی شہریت لے کر کیا کرو گے ۔۔۔؟

سیف ازہر

بہت سے لوگوں کو لگتا ہے کہ سی اے اے سے صرف مسلمانوں کی شہریت چھنے گی ۔۔۔ یہ صرف تب تک لگتا ہے جب تک این آرسی کو الگ کرکے دیکھتے ہیں ۔۔۔ ذرا دونوں کو ساتھ رکھ کر دیکھیے چودہوں طبق روشن ہوجائیں گے ۔۔۔ یہ سچ ہے مسلمانوں کی شہریت چھنے گی مگر کیا صرف مسلمانوں کی شہریت چھنے گی ۔۔۔؟
این آرسی بنیادی طور پر مانتا ہے کہ کوئی اس دیش کا شہری ہے ہی نہیں جب تک دستاویز سے ثابت نہیں کردیتا ۔۔۔ اگرایسا نہیں ہے تو شہریت ثابت کرنے کی ضرورت کیا ہے ۔۔۔؟
کہتے ہیں سی اے اے صرف مظلوم پناہ گزینوں کو وہ بھی جو افغانستان ، پاکستان اور بنگلہ دیش سے آئے ہیں انھیں شہریت دینے کےلئے لایا گیا ہے ، مگرکیا حکومت کے پاس ایسے لوگوں کا کوئی اعدادوشمار ہے ۔۔۔ حکومت نے کوئی ایسا سروے کرایا ہے۔۔۔؟ اگر کرایا ہے تو کس ایجنسی سے کرایا ہے ۔۔۔؟ کچھ پتا نہیں ۔۔۔ اگر ایسا سروے ہے تو حکومت پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیوں نہیں کرتی ۔۔۔؟ سچ بات یہ ہے کہ اعداد وشمار ہی نہیں ہے ۔۔۔ اگراعداد وشمار ہے ہی نہیں توحکومت کیسے معلوم کی کون مظلوم پناہ گزین ہے اور کون مجرم گھسپیٹھیا ۔۔۔؟ آخر کس بنیا د پر اور کتنے لوگوں کو شہریت دیں گے ۔۔۔؟
بنگال کی ریلی یاد کیجئے ۔۔۔ امت شاہ نے کہا تھا کہ کسی بھی ہندو کو بشمول بودھ ، جین ، سکھ ، عیسائی کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔ ہم سی اے بی لا رہے ہیں اس کے بعد این آرسی لائیں گے اورایک ایک گھس پیٹھِیے کو چن چن کر نکالیں گے۔
یہ الگ بات کی حکومت کے پاس ان پناہ گزینوں جن کو وہ شہریت دینا چاہتی ہے کوئی اعداد وشمار نہیں ہے ۔۔۔ اور ہو بھی کیسے ۔۔۔؟ اعداد وشمار تو تب پتا چلے گا جب این آر سی ہوجائے گا ۔۔۔ کسی بھی وجہ سے جو لوگ این آرسی سے باہر ہوجائیں گے انھیں کو پناہ گزین قرار دے کر شہری قرار دیا جائے گا ۔۔۔ اسی لیے ابھی حکومت کے پاس کوئی اعداوشمار نہیں ہے ۔
مان لیجئے این آر سی ہوگیا ۔۔۔ کسی کے پاس کم سے کم 1987 سے پہلے کا دستاویز نہیں ہوگا یا جس کے دستاویز میں غلطیاں ہونگی ، سب کے سب بلا تفریق ہندو مسلم باہر ہوجائیں گے ۔۔۔ ارون جیٹلی نے ایک بار پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ دیش میں 30 کروڑ لوگ ایسے ہیں جن کے پاس کوئی جائداد نہیں ہے ۔۔۔ جب جائداد ہی نہیں ہے تو دستاویز کہاں ہوگا۔۔۔؟ مطلب یہ تیس کروڑ این آرسی سے باہر۔۔۔ ڈھائی کروڑ ایسے ہیں جو سڑکوں پر سوتے ہیں ۔۔۔ ان کے پاس کونسے دستاویز ہونگے ۔۔۔ مطلب یہ ڈھائی کروڑ بھی باہر ۔۔۔ سرکار کے پاس آدی واسیوں کا کوئی اعداد وشمار نہیں مگر ان کی آبادی 104 ملین کے آس پاس بتائی جاتی ہے ۔۔۔سوچئے ان کے پاس کونسے دستاویز ہونگے۔۔۔ مطلب یہ بھی باہر۔۔۔ اسی طرح کروڑوں کی آبادی ایسی بھی ہے جن کے دستاویز میں دفتری غلطیاں ہیں ۔۔۔ مطلب یہ بھی این آرسی میں باہر ہوجائیں گے ۔
مسلمانوں کو خیر چھوڑ ہی دیجئے وہ جو باہر ہونگے وہ باہر ہی رہیں گے ۔۔۔ یہ سچ ہے کہ مسلمانوں کے علاوہ یہ مذکورہ بالا وہ لوگ ہیں جن کو این آرسی سے باہر ہونے بعد شہریت دی جائے گی ۔۔۔
مگر
مگر مگر۔۔۔۔ کیسے شہریت ملے گی کبھی سوچا ہے ۔۔۔ سی اے اے شہریت دے گا مگر پاکستانی ،افغانی یا بنگلہ دیشی پناہ گزین کا ٹھپہ لگا کر دے گا ۔۔۔ مسلمانوں کے علاوہ جتنے لوگ بھی این آر سی میں باہر ہونگے ، اس کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ انھیں فورا شہریت مل جائے گی یا کب اور کس وقت ہی ملے گی ۔۔۔؟ اس بیچ جب تک دوبارہ آپ کو شہریت ملے گی آپ کی نوکری ، جائیداد ، گھر سب کچھ چھن سکتا ہے کیونکہ جب آپ اس دیش کے شہری ہی نہیں ہونگے تو کوئی بھی چھیں سکتا ہے اور چھیننے یا قبضہ کرنے والوں پر کوئی کیس نہیں ہوگا کیونکہ اس وقت آپ دیش کے شہری ہی نہیں ہونگے ۔۔۔ ویسے بھی اگر سب کچھ نہ بھی لٹے تو ایسی شہریت جو اپنے ہی ملک میں آپ کو بنگلہ دیشی ، پاکستانی یا افغانی پناہ گزین بنا دے ۔۔۔ لے کر کیا کرو گے ۔۔۔؟

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: