غزل

ایسے تو قتل کو سنگین خطا کہتے ہیں

از قلم 🖋غفران عالم بانکوی
رابطہ نمبر📱9934968489

طرحی غزل

ایسے تو قتل کو سنگین خطا کہتے ہیں
جو تری آنکھ سے ہو اس کو روا کہتے ہیں

زندگی کو یوں بہت لوگ مزا کہتے ہیں
جینے والے تو گناہوں کی سزا کہتے ہیں

کیسا بادل ہے کبھی مجھ پہ تو برسا ہی نہیں
لوگ تو مفت ہی زلفوں کو گھٹا کہتے ہیں

زندگی اشکوں سے ہرآن بھگا کر رکھنا
بس اسی کو تو محبت کا صلا کہتے ہیں

محفل عشق میں ان کو نہیں آنے دینا
دل لگانے کو جو ہر آن برا کہتے ہیں

اے قمر دیکھ لے تو سارے زمانے والے
میرے محبوب کی صورت کو ضیا کہتے ہیں

میری خاطر یہی اعزاز بہت ہے یارب
کہ مجھے لوگ ترے در کا گدا کہتے ہیں

Related Articles

One Comment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: