مضامین

این پی آر، این آرسی اور سی اے اے سے متعلق چند حقائق کا خلاصہ

مولانا نیاز احمد فاروقی، ایڈوکیٹ سپریم کورٹ

(۱) این پی آر، این آرسی اور سی اے اے کے درمیان تعلق
٭ سرکار نے اعلان کیا ہے کہ این پی آر اپریل 2020 اور ستمبر 2020 کے درمیان کیا جائے گا، مردم شماری 2021 میں شروع ہوگی۔ این پی آر پر زمینی کام شروع ہوچکا ہے اور اب بھی متعدد ریاستوں میں اس پر کام جاری ہے۔
٭ سیکشن 14A این پی آر کی تیاری کے لئے قانونی بنیاد فراہم کرتا ہے اور اس کو مردم شماری اور این آر سی سے جوڑتا ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ ’رجسٹرار جنرل آف انڈیا‘قومی رجسٹریشن اتھارٹی اور شہری رجسٹریشن کے رجسٹرار جنرل کی حیثیت سے کام کریں گے۔ یہاں یہ قابل توجہ امر ہے کہ رجسٹرار جنرل آف انڈیا، مردم شماری کے کمشنر کی حیثیت سے بھی کام کرتے ہیں۔اس کا مطلب ہے کہ اگر حکومت چاہے تو کسی بھی وقت، این پی آر کے لئے جمع کردہ ڈیٹا کو قانونی طور پر این آر سی کے لئے استعمال کرسکتی ہے۔ این پی آر مردم شماری کی طرح ہی لگتا ہے، لیکن ایسا نہیں ہے۔ این پی آر شہریت ایکٹ 1955 اور شہریت (شہریوں کی رجسٹریشن اور قومی شناختی کارڈ کے اجراء) کے رولز 2003 کے تحت آتا ہے، جبکہ مردم شماری مردم شماری ایکٹ 1948 کے تحت کی جاتی ہے۔
٭ شہریت رولز 2003 کے ضابطہ 4 کے مطابق، این آرآئی سی کا پہلا قدم گھر گھر گھر معلومات جمع کرکے پاپولیشن رجسٹر تیار کرنا ہے۔ تمام مقامی رجسٹروں کو جوڑ کر سب ڈسٹرکٹ، پھر ضلع، پھر ریاست اور پھر قومی آبادی رجسٹر تشکیل دیا جائے گااور پھر یہ ڈیٹا این آرآئی سی کے لیے استعمال کیا جائے گا جیسا کہ رولز میں مصرح ہے۔
٭ ایک مرتبہ ڈیٹا جمع ہونے کے بعد ضابطہ 4(4) کے مطابق شہریوں پر مشکوک شہریت کا لبیل لگائے جانے کا اختیار دیا گیا ہے جو لوگوں کے لیے مشکلات کی راہیں کھول دے گا۔
٭ گرچہ سرکار یہ کہہ رہی ہے کہ این پی آر اور این آرسی اور سی اے اے کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ تینوں ایک دوسرے سے وابستہ ہیں، اس لیے اس بات کی ضرورت ہے کہ پوری قوت کے ساتھ ان کی مخالفت کی جائے۔
سہولت کے لیے ذیل میں چند نکات مختصرا پیش کیے جاتے ہیں:
(۳)ملک میں این پی آر اور این آر آئی سی کی کوئی ضرورت نہیں
٭ این پی آر کا مردم شماری سے کوئی تعلق نہیں ہے جو کہ ہر دس سال پر کی جاتی ہے۔
٭ این آر آئی سی پورے ملک کے لوگوں کے قومی رجسٹرتیار کرنے کا ہی حصہ ہے۔
٭ مقامی رجسٹرار بھارت کے شہریوں کے مقامی رجسٹر کا ڈرافٹ تیار کرے گا جس میں وہ ان لوگوں کو باہر کردے گا جو دستاویز کے ذریعہ اپنی شہریت کے دعوی کو ثابت نہ کرسکیں گے۔
٭ این پی آر 2020، این پی آر 2010کی طرح نہیں ہے، ا س بار نہ صرف یہ کہ والدین کے نام پوچھے گئے ہیں بلکہ ان کی پیدائش کی تاریخ اور جگہ بھی پوچھا گیا ہے، جو شخص یہ تفصیلات بتانے پر قادر نہیں ہوگا تو ممکن ہے کہ اس کے اوپر ’مشکوک شہری‘ کا لیبل لگا دیا جائے۔
٭ ہمیں تشویش ہے کہ کسی شخص کو نکالنے او رباہر کرنے کا اختیار جونئیر سطح کے افسران کو دیا گیا ہے جس کی وجہ سے اس بات کا شدید خطرہ ہے کہ وہ مانی اور عصبیت کا طریقہ اختیار کریں۔اس طرح وسیع پیمانہ پر بدعنوانی کی کالا بازاری کی راہ ہموار ہوگی۔
٭ ملک میں لوگوں کو نکالنے او رداخل کرنے میں خامیاں وسیع پیمانے پر پائی جاتی ہیں جیسا کہ مختلف سروے میں انکشاف ہو ا ہے
٭سی اے اے کا نفاذ اور اس پر گزشتہ کچھ سالوں میں سرکار کے اعلی ذمہ داروں کی طرف سے بے تکے اور پرجوش بیانات نے صورت حال کو مزید پیچیدہ کیا ہے۔
٭اضافی ڈیٹا کو جمع کرنے کا مقصد (جو آدھار سے بھی زیادہ ہو) بالکل غیر واضح ہے اور اس تشویش کومزید ہوادیتا ہے کہ حقیقی شہری، اس بیوکریٹک ورزش میں پھنس جائیں گے، اگر ان کی شہریت مشکوک قرار دی گئی۔
٭ اس سے لوگوں کی رازداری کے حق کو بھی خطرہ ہے کیوں کہ بہت ہی ساری معلومات بالخصوص آدھار نمبر، موبائل نمبر اور ووٹر آئی ڈی نمبر کا عام ہونانقصان دہ ہے۔ یہ سب چیزیں این پی آر میں طلب کی گئی ہیں۔
(۲) کیوں وسیع پیمانے پر فارنر ٹریبونل اور ڈیٹینشن سینٹر قائم کیے جارہے ہیں
٭ آسام میں فارنر ٹریبونل کا تجربہ بہت تکلیف دہ ہے،شہریت کے ثبوت کے لیے ضروری دستاویز جمع کرنے کے باوجود بڑی تعداد میں لوگوں کو مشکوک شہری بتادیا گیا،ایسی ٹریبونلز کا رویہ من مانا اور عصبیت پر مبنی رہا ہے۔
٭ میڈیا کے ذریعہ بہت ساری رپورٹیں آئی ہیں کہ سرکار نے تمام ریاستوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ڈیٹنشن کیمپ قائم کریں۔ اس رپورٹ کی سرکار نے تردید نہیں کی ہے۔
(۳) سی اے اے میں قانونی اور اخلاقی نقائص
٭ہمیں سی اے اے کے قانونی جواز پر تو اعتراض ہے، اس کے ساتھ اس کی اخلاقی حیثیت بھی ناقابل دفاع ہے۔اس قانو ن کے دائرسے مسلمانوں کو باہر کرنا جو کہ اس ملک کی دوسری سب سے بڑی آبادی ہے مزید تشویشناک ہے۔
٭موجود ہ فارمولا میں سی اے اے کے اندر لفظ”پرزیوکیوٹیڈ“(مظلوم) کا کہیں ذکر نہیں ہے۔
٭22دسمبر 2019کو دہلی کے رام لیلا میں وزیر اعظم کا بیان وزیر داخلہ کے بیان سے جدا ہے۔
اس لیے یہ مطالبہ ہے کہ
٭شہریت ایکٹ 1955کی فعہ 18(2) (ia)جو شہریوں کے رجسٹریشن اور قومی شناختی کارڈ کے اجراء رولز 2003سے جڑی ہوئی ہے، اسے مکمل طور سے ختم کیا جائے
٭فارنر(ٹریبونلز) ترمیمی آرڈر 2019کو واپس لیا جائے اور ڈیٹنشن سینٹر سے متعلق تمام ہدایات واپس لی جائیں
٭شہریت ترمیمی ایکٹ 2019کو منسوخ کیا جائے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: