اہم خبریں

این پی آر…… کرو تو بھی مرو، نہ کرو تو بھی مرو

محمد یاسین جہازی

راقم گذشتہ نصف نومبر 2019سے مادر ی ریاست کے دورے پر تھا، جہاں تقریبا نو سو سے زائد کلو میٹر کا سفر طے کرتے ہوئے زمینی سطح پر کئی عنوانات کا مشاہدہ کرنے کا ذاتی تجربہ ہوا۔ ان میں ایک عنوان یہ بھی تھا کہ کیا CAAکوہندو مسلم فرقہ وارانہ مدعی بناکر NRCکے لیے اکثریتی فرقہ کی رائے عامہ میں ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔ چنانچہ ذاتی تجربہ کی بنیاد پر اس کے جواب میں ’ہاں‘ کہنا خلاف حقیقت نہیں ہوگا۔ میرے والد محترم (جناب مظفر حسین صاحب) نے ایک دن بتایا کہ میں گھٹباری ٹولہ(جہاز قطعہ گڈا، جھارکھنڈکا گھٹبار غیر مسلم کا ایک محلہ) سے گذر رہا تھا تو گھٹبار کا ایک چھوٹا بچہ یہ کہہ رہا تھا کہ اب مسلمانوں کو یہاں سے بھگا دیا جائے گا تو ان کے سارے مکانات ہمارے ہوجائیں گے۔ذرا غور فرمائیے کہ اس معصوم کی زبان سے نکلا یہ جملہ کیا اس کے بڑوں کی ذہنیت کا پتہ نہیں دیتا ہے؟۔ اس سے صاف اندازہ یہی ہوتا ہے کہ اکثریتی فرقوں کے لوگوں میں بڑی رازداری اور چالاکی سے یہ بات پھیلادی گئی ہے کہ NRCدراصل مسلمانوں کو دیش نکالا دینے کے لیے کیا جارہا ہے اور اس پروسیس میں جو غیر مسلم پھنس جائیں گے، انھیں CAAکے ذریعہ کے شہریت دے دی جائے گی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اکثریتی فرقے میں جو ناخواندہ یا کم پڑھے لکھے لوگ ہیں، وہ NRCکی زبردست حمایت کر رہے ہیں۔ اور NPRاس پروسیس کا پہلا قدم ہے۔
ہوم منسٹر امت شاہ نے 24دسمبر 2019کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ NPRاور NRCدونوں الگ الگ ہیں اور ان کا آپس میں کوئی لین دین نہیں ہے۔ اس کے برخلاف ہوم منسٹر کے ویب سائٹ https://mha.gov.in/ پر موجود 2018-19کی رپورٹ کے صفحہ 262پر لکھا ہے کہ NPR is the first step towards creation of Natioanl Register of Indian Citizen (NRIC)
یعنی NPR، NRCکا پہلا قدم ہے۔ اس کے علاوہ وزیر مملکت برائے امور داخلہ کرن رجی جونے2014-16کے درمیان تقریبا سات بار یہ بات کہی ہے کہ NPR، NRCکی سمت میں پہلا قدم ہے، یہ بھارت میں رہنے والے سبھی لوگوں کی شہریت کی جانچ کرے گی۔ اسی طرح 21/ اپریل 2015کو وزیر مملکت ہری بھائی چودھری نے کہا تھا کہ سرکار نے طے کیا ہے کہ NPRپورا ہونا چاہیے اور اسے انجام پر لے جانا ہوگا۔ اس کے بعد NRCبنے گی۔
http://www.nrcassam.nic.in/ پر بھی یہی لکھا ہے کہ بھارت کے سبھی شہریوں کو NPR میں رجسٹر کرانا ضروری ہے۔
ان تمام رپورٹوں سے یہ ثابت ہوگیا کہ امت شاہ جھوٹ بول رہے ہیں اور NPR، NRCکو عملی جامہ پہنانے کے لیے پہلا زینہ ہے۔
NPRمیں درج ذیل پندرہ معلومات حاصل کی جائیں گی:
1۔ شخص کا نام۔
2۔گھر کے سربراہ کے ساتھ رشتہ۔
3۔باپ کا نام
4۔والدہ کا نام
5۔شوہر کا نام (اگر شادی شدہ ہے)
6۔ جنس
7۔تاریخ پیدائش
8۔پیدائش کی جگہ
9۔ ازدواجی حیثیت
10۔قومیت (اعلان کے مطابق)
11۔مشترک رہائش کا موجودہ پتہ
12۔موجودہ پتے پر قیام کی مدت
13۔مستقل رہائش کا پتہ
14۔کاروبار / سرگرمی
15۔تعلیمی قابلیت
معلومات کے مطابق، ملک میں 2011 کی مردم شماری کے اعداد و شمار دستیاب ہیں۔ مردم شماری کے پہلے مرحلے میں، یکم اپریل سے 30 ستمبر 2020 تک، مرکزی اور ریاستی ملازمین گھر گھر جاکر معلومات اکٹھا کریں گے۔اور شاید دوسرا مرحلہ 2021 میں 9 فروری اور 28 فروری کے درمیان مکمل ہوگا۔ اس کے بعد، نظرثانی کا عمل یکم مارچ سے 5 مارچ تک چلے گا۔
اس میں سات اور آٹھ نمبر کی معلومات کے بارے میں یہ کہا جارہا ہے 1987کے بعد پیدا ہونے والے شخص کو والدین میں سے کسی ایک کا پیدائشی سرٹیفکٹ دینا پڑے گا، اسی طرح 26جنوری 1950میں یا اس کے بعد پیدا ہونے والے کو بھی سر ٹیفکٹ پیش کرنا ہوگا۔
اس میں غور کرنے والی بات یہ ہے کہ جو 1950میں پیدا ہوئے ہیں، تو ان کی عمر ابھی تقریبا ستر سال ہوگی۔ اور مجموعی طور پر لوگوں میں سے ستر پرسینٹ لوگوں کے پاس ایسے سرٹیفکٹ نہیں ہیں، تو ستر سال کے شخص کا جو سرٹیفکٹ بنے گا، اس کے لیے دو ایسے شخص کی گواہی ضروری ہوگی، جواپنی بلوغت کی عمر میں اسے دیکھا ہو، جس کا مطلب یہ ہوا کہ ستر سالہ شخص کے پیدائش سرٹیفکٹ بنانے کے لیے کم از کم نوے سالہ دو شخصوں کی گواہی ضروری ہے۔ اور سماج میں اتنی عمر کے کتنے افراد با حیات ہیں، یہ بھی سوچنے کا اہم موضوع ہے۔
اسی طرح جو لوگ 26جنوری 1950سے پہلے پیدا ہوئے ہیں، یعنی جن کی عمر ابھی تقریبا ستر سال سے زائد ہے، تو اگر اس کے لیے برتھ سرٹیفکٹ ضروری نہیں بھی ہے، تو انھیں اپنی زائد عمر ثابت کرنے کے لیے تو آخر کچھ پیش کرنا ہی ہوگا۔ کل ملاکر NPRایک ایسا پروسیس ہے، جس میں اگرحصہ لیتے بھی ہیں، تو بھی بڑی دقتیں ہیں اور اگر نہیں لیتے ہیں، تو بھی دقتیں ہیں۔ ایسی صورت حال میں ایک عام شہری کو کیا رخ اختیار کرنا چاہیے، اس کے لیے ابھی کچھ اور انتظار کرنا پڑے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: