اہم خبریں

این پی آر کیا ہے……

سپریم کورٹ کے وکیل کی طرف سے مکمل قانونی معلومات

جوابات: مولانا نیاز احمد فاروقی وکیل سپریم کورٹ آف انڈیاو رکن مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند۔
سوالات: محمد یاسین جہازی
لاکھوں، کروڑوں افراد کے احتجاجوں کے باوجود بی جے پی سرکار نے 10 جنوری 2020 کو THe Gazette of Indiaمیں نوٹیفکشن جاری کرکے CAA2019 of 47 کو نافذ العمل کردیا۔ اور NPRاس کا پہلا قدم ہے، جو اپریل سے ستمبر 2020تک ہوگا۔ درج بالا دونوں نام اور جہازی میڈیا این پی آر، این آر سی اور سی اے اے کا نفرت کی حد تک مخالف ہے؛ لیکن چوں کہ سرکار نے اس کو نافذ العمل کر ہی دیا ہے تو درج ذیل سوالات و جوابات میں چند ضروری معلومات آپ تک پہنچا رہے ہیں، تاکہ آپ صحیح معلومات کی روشنی میں مفید قدم اٹھاسکیں۔
سوال: میڈیا میں یہ اعتراض سامنے آیا ہے کہ حکومت نے این پی آر کا جو مینول شائع کیا ہے، اس میں ہندو تہواروں اور چھٹیوں کی فہرست دی گئی ہے، لیکن مسلم تہواروں مثلا عید وغیرہ کو حذف کردیا گیا ہے، اس کی کیا حقیقت ہے؟ کیا یہ مسلمانوں کے خلاف امتیاز اور مذہبی تفریق نہیں ہے؟
جواب: ہم نے اس کی تحقیق تو پتہ چلا کہ مینول کے صفحہ 32پر منسلک فہرست نمبر 5دی گئی ہے، جس کا عنوان ہے انگلش/ جیورین کیلنڈر سے مطابق اہم تہوار۔ اس کے دو کالم ہیں، پہلے کالم میں تہوار کام اور دوسرے کالم میں انگریزی مہینے کا نام ہے۔ مثلا پہلے کالم میں ہے بسنت پنچمی اور دوسرے کالم میں جنوری/ فروری، یا پہلے کالم میں ویساکھی/ مہاویر جینتی وغیرہ اور دوسرے کالم میں ہے اپریل یا دیوالی اور اس کے سامنے اکتوبر/نومبر۔ ان تہواروں اور نیشنل ہولیڈیز میں مسلم تہوار نہیں ہے، کیوں کہ جتنے بھی مسلم تہوار ہیں ان کا وقوع انگریزی مہینوں کے اعتبار سے بدلتا رہتا ہے، کبھی عید جون میں ہے تو کبھی اکتوبر میں اور کبھی جنوری میں، جب کہ مذکورہ ہندو تہوار اور چھٹیوں کا انگریزی مہینہ نہیں بدلتا۔ اس کے علاوہ ہم نے یہ بھی سمجھنے کی کوشش کی کہ اس فہرست کا مقصد کیا ہے؟ تو اس کا مقصد مینول کے صفحہ 16پر سوال نمبر 5سی کے تحت دیا گیا ہے کہ اگر صرف پیدائش کا سال معلوم ہو اور مہینہ اور تاریخ معلوم نہ ہو تو اعدادو شمار جمع کرنے والا افسر کیا کرے، اس کے تحت ہدایت دی گئی ہے کہ وہ یہ سوال پوچھے کہ پیدائش برسات سے پہلے ہوئی تھی یا بعد میں۔ اگر پہلے ہوئی ہے تو برسات سے پہلے کے تہواروں کے حوالے سے اور اگر بعد میں ہوئی ہے تو بعد کے تہواروں کے حوالے سے پوچھے کہ نئے سال گروگوبند سنگھ جینتی، مکر سکرانتی، ہولی، دیوالی، بیساکھی کس تہوار کے آس پاس پیدا ئش ہوئی تھی۔ اس جانکاری اور مذکورہ فہرست کی مدد سے انگریزی کیلنڈر کے حساب سے مہینہ اور تاریخ کا اندراج کرے۔ چوں کہ مسلم تہواروں کے حوالے سے انگریزی مہینے کا علم نہیں ہوتا، اس لیے ان کا ذکر نہیں کیا گیا۔ البتہ منسلکہ فہرست نمبر 6میں انگریزی اور ہندو کیلنڈر کے بالمقابل اسلامی کیلنڈر دیا گیا ہے، جس کی مدد سے اگر ہجری کیلنڈر کا سال معلوم ہو تو اعدادو شمار جمع کرنے والا انگریزی کیلنڈر کے سال میں درج کرسکتا ہے۔ اس تحقیق کے بعد ہمیں مسلمانوں کے خلاف امتیاز یا مذہبی تفریق کی بات درست معلوم نہیں ہوتی ہے۔
سوال: یہ کہاجاتا ہے کہ این پی آر سروے کرنے والے صرف سوال کریں گے اور آپ کے ذریعہ فراہم معلومات کا اندراج کریں گے، ان کو کاغذات وغیرہ نہیں دینا ہے؟
جواب: جاری کردہ مینول کی دفعہ 2/1کی کلاز نمبر9میں اعدادو شمار جمع کرنے والوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ ”کسی شخص کی تاریخ پیدائش اور نام درج کرنے میں کچھ زیادہ کاوش کریں۔ اگر ضرورت ہو تو آدھار کارڈ، ووٹر آئی ڈی کارڈ ثبوت کے لیے طلب کریں“۔ اسی طرح دفعہ 4/9نام درج کرنے کے سلسلہ میں ہدایت دی گئی ہے کہ نام درست ہونا چاہیے اور اس کے لیے کوئی ثبوت راشن کارڈ، آدھار کارڈ، پین کارڈ، ووٹر آئی ڈی یا اسکول ریکارڈ طلب کرسکتے ہیں۔ نیز مینول کے سوال نمبر 5تاریخ پیدائش کے تحت کہا گیا ہے کہ ”این پی آر جمع کی جانے والی معلومات میں تاریخ پیدائش اہم معلومات میں سے ایک ہے۔ اس کی تصدیق ایسی شہادتوں جیسے پیدائش سرٹیفکٹ، اسکول سرٹیفکٹ یا آدھار، ووٹر آئی ڈی کارڈ، پین کارڈ، پاسپورٹ وغیرہ سے کریں“۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ایسی صورت میں جب کہ پاپولیشن رجسٹر میں درج نام یا تاریخ پیدائش غلط درج یا درج نہیں ہوئی تو آپ کو لازمی طور پر صحیح اندراج کرانے کے لیے مذکورہ ثبوت فراہم کرنے لازمی ہوں گے۔ ورنہ الگ سے ان ثبوتوں کو فراہم کرنا آپ کے لیے اختیاری ہوگا، نیز کسی نئے نام کو شامل کرانے کے لیے بھی ثبوت فراہم کرنا لازمی ہے۔
سوال: ماں باپ کی تاریخ پیدائش اور مقام پیدائش سے متعلق کافی شکوک و شبہات ہیں، ان کے بارے میں کیا ثبوت مانگا گیا ہے؟
جواب: مینول کے سوال نمبر 13کے تحت ماں باپ سے متعلق معلومات کا خاکہ دیا گیا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ما ں باپ اگر خاندان میں شامل ہیں اور باحیات ہیں تو ان کی تاریخ پیدائش اور مقام پیدائش پہلے سے ضرور مذکور ہوگا جیسے کہ خاندان کے دوسرے افراد کے بارے میں ہے۔ اور اگر ان کا انتقال ہوگیا ہے تو والدین کا نام ان کی تاریخ پیدائش اور مقام پیدائش درج کی جائے گی۔
سوال: سرکار کی طرف سے بارہا یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ این پی آر کا این آر سی سے کوئی تعلق نہیں ہے، آپ حوالے کے ساتھ بتائیں کہ کیا یہ دعویٰ صحیح ہے؟
جواب: این پی آر مینول کی دفعہ 1/4صفحہ نمبر 1میں صاف طور سے کہا گیا ہے کہ ”نیشنل پاپولیشن رجسٹریشن بنانے کی اسیکم پر سیٹیزن شپ ایکٹ 1955اور سیٹیزن شپ رولز 2003کے تحت عمل درآمد کیا جارہا ہے“۔ اور سیٹیزن شپ رولز کی دفعہ 3(5) میں کہا گیا ہے کہ ”انڈین سٹیزن کے مقامی رجسٹر (NRC) میں افراد کی جملہ تفصیلات پاپولیشن رجسٹریشن سے تصدیق کے بعد شامل کی جائیں گی۔ان دفعات کو پڑھنے کے بعد سرکار کے دعوے غلط ثابت ہوتے ہیں اور یہ بات بالکل صحیح ہے کہ این پی آر دراصل این آر سی کا پہلا اور لازمی زینہ ہے، ورنہ سنس کے اعداد و شمار کافی تھے۔
اس سلسلے میں‌مزید معلومات کے درج ذیل لنک پر کلک کرکے ویڈیو دیکھیں
این پی آر کیا ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: