اسلامیات

ایک شخص دو جگہ تراویح کی نماز پڑھا سکتا ہے؟

مفتی امانت علی قاسمیؔ استاذومفتی دار العلوم وقف دیوبند

تراویح کی نماز سنت مؤکدہ ہے ، اورپورے رمضان تراویح کی نماز پڑھنا سنت ہے، جماعت سے نماز پڑھنا سنت کفایہ ہے بعض لوگ اگر مسجد میں جماعت سے نماز پڑھ لیں اور باقی لوگ تنہا تروایح کی نماز پڑھ لیں تو بھی درست ہے ۔
لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہر جگہ حافظ میسر نہیں ہے اس لیے سوال کیا جاتا ہے کہ کیا ایک حافظ دو جگہ تراویح کی امامت کر سکتا ہے؟ اس کی دو صورتیں ہیں ایک تو یہ کہ ایک حافظ چند دنوں میں ایک جگہ قرآن ختم کرکے دوسری جگہ قرآن پڑھائے تو یہ صورت درست ہے اس میں کوئی قباحت نہیں ہے ۔اسی طرح ایک حافظ ایک جگہ دس رکعت پڑھائے اور پھر دوسری جگہ دس رکعت پڑھائے اور باقی دس رکعت ان کو کوئی دوسرا شخص پڑھا دے تو یہ صورت بھی درست ہے ۔ لیکن ایک شخص مکمل بیس رکعت ایک جگہ پڑھائے پھر اسی رات میں دوسری جگہ جاکر بیس رکعت تراویح پڑھائے تو یہ صورت درست نہیں ہے اور جن لوگوں نے اس کے پیچھے دوسری مرتبہ میں اقتداء کی ہے ان کی نماز نہیں ہوئی ان کو پھر سے تراویح کی نماز پڑھنی ہوگی اس لیے کہ تراویح رات میں ایک ہی مرتبہ پڑھنا مسنون ہے جب حافظ صاحب نے ایک جگہ تراویح کی نماز پڑھادی تو اس کی سنت ادا ہوگئی اب جب وہ دوسری جگہ پڑھائے گا تو اس کی نماز نفل ہوگی اور اس کے پیچھے نماز پڑھنے والوں کی نماز سنت ہوگی گو سنت پر بھی نفل کا اطلاق کیا جاتا ہے لیکن دونوں میں فرق ہے اس لیے یہاں پر اقتداء القوی با لضعیف لازم آئے گا جو درست نہیں ہے ۔ البحر الرائق میں ہے : امام یصلی فی مسجدین علی وجہ الکمال لا یجوز لانہ لا یتکرر و لو اقتدی بالامام فی التراویح وہو قد صلی مرۃ لابأس بہ و یکون ہذا اقتداء التطوع بمن یصلی السنۃ و لوصلوا التراویح ثم اراد ان یصلوا ثانیا یصلوا فرادی فرادی ( البحر الرائق ۲ / ۱۲۰)
بدائع میں ہے : ولایصلی امام واحد فی مسجدین فی کل مسجد علی الکمال و لالہ فعل ولا یحست التالی من التراویح و علی القوم ان یعیدوا لان صلاۃ امامہم نافلۃ و صلاتہم سنۃ و السنۃ اقوی فلم یصح الاقتداء لان السنۃ لا تتکرر فی وقت واحد ( بدائع الصنائع : ۱/ ۲۸۹)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: