مضامین

ایک طرف اپنی قیادت کا سوال اور دوسری طر ف فرقہ پرستوں کی فتح عآپ اور مجلس گجرات میں کس کی راہ آسان کریں گی؟

عبدالغفار صدیقی 9897565066

ملکی سیاست میں مسلمانوں کی پوزیشن انتہائی نازک ہوگئی ہے۔ان کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کیا کریں اور کیا نہ کریں۔؟کیا اپنی قیادت کو ووٹ کریں،پھر اپنی قیادت کون سی ہو؟کیا اسے اپنی قیادت کہہ سکتے ہیں جس میں اپنی بات کہنے کا اختیار نہ ہو۔جو قیادت اپنے وابستگان کے دکھ درد میں شریک نہ ہو،جس میں ایک فرد واحد ہی سپریمو بن جائے اور باقی اس کے غلاموں کی طرح کام کریں۔بھارتی سیاست کا اگر آپ تجزیہ کریں گے تو بیشتر مسلم قیادت کا یہی حال پائیں گے خواہ وہ مذہبی ہوں،سماجی ہوں یا سیاسی۔ہماری سیاسی جماعتوں کے پاس کوئی واضح نصب العین نہیں،کوئی انتخابی منشور نہیں،ہوسکتا ہے رجسٹریشن کے وقت کوئی دستور جمع کیا گیاہو مگر عمل میں کوئی نہیں ہے۔مجھے ایک سال مجلس کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔میں نے دیکھا کہ منصوبہ بندی،پروگرامنگ اور احتساب وجائزے کا کوئی شیڈول ان کے پاس نہیں ہے۔ان کے پاس کوئی ہدف نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ بس ایک فرد واحد کے رحم و کرم پر سب کچھ ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا کسی منظم گروہ سے اس طرح مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔جواب آپ کے سامنے ہے۔دو چار سیٹیں جیت کر خوش ہولینا اور اسی کو بڑی کامیابی سمجھ لینا خواب خرگوش کے مترادف ہے۔پھر جو جیت جاتے ہیں وہ کیا کررہے ہیں؟انھیں کیا کرنا ہے؟یہ بھی غور کرنے کا مقام ہے۔بہار کا انجام ہمارے سامنے ہے۔ اتر پردیش کے ضلع پنچایت الیکشن میں یہ خبریں بھی آئیں کہ مجلس کے افراد نے بی جے پی کو ووٹ کیا۔مجلس کا کوئی کارکن بی جے پی کو ووٹ کرے،یہ بات سوچی بھی نہیں جانی چاہئے۔لیکن جب آپ مفاد پرستوں کو ساتھ لیں گے،جب آپ بھی ٹکٹ فروخت کریں گے۔جب آپ کے پاس کوئی تنظیمی شعور نہیں ہوگا تو ایسا ہی ہوگا۔
مجلس کے احباب کہتے ہیں کہ بی جے پی کو ہم سے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔قائد محترم بھی فرماتے ہیں کہ پچھلے 27سال سے گجرات میں بی جے پی ہے کیا وہ مجلس کی وجہ سے ہے؟ان کا جواب درست ہے۔ظاہر ہے کہ کہیں بھی براہ راست مجلس کی وجہ سے بی جے پی کی حکومت نہیں ہے۔لیکن کیا وہ اس سے انکار کرپائیں گے کہ ان کے لہجے کی گرمی فرقہ پرستی کے شعلوں کو بھڑکادیتی ہے۔جس طرح ایک ماں اپنے معصوم بچے کو’شیر آیا شیر آیا‘کہہ کر ڈراتی ہے،کیا اسی طرح ہمارے شیر آیا شیر آیا کہنے پر فرقہ پرستوں کو متحد ہونے اور اپنے معصوموں کو ڈرانے کا موقع نہیں ملتا۔کیا بہار کے ضمنی چناؤ میں اتحاد کا امیدوار مجلس کی وجہ سے نہیں ہار گیا؟صرف اعداد و شمار پیش کرکے یہ ثابت نہیں کیا جاسکتا کہ ہم سے بی جے پی کو فائدہ نہیں پہنچتا۔ہمارا مجموعی رویہ،ہماری تقریروں سے پیدا ہونے والا ماحول،ہمارے جملوں کا غلط استعمال،ہماری قوم کی جذباتیت یہ سب مل کر ایک ایسا ماحول پیدا کرتی ہیں کہ فاشسٹوں کو کامیابی مل جاتی ہے۔مجھے ان کی کامیابی سے بھی کوئی غرض نہ ہوتی اگر ہمارے فاتح امیدوار ہمارے ہی رہتے۔وہ جیت جانے کے بعد دوسروں کے ہوجاتے ہیں۔
گجرات میں مجلس انتخاب میں حصہ لے گی۔ہرکسی کو الیکشن میں حصہ لینے کا اختیاربھارتی آئین میں موجود ہے۔لیکن ایک ایسے وقت میں جب وہاں اپنی انتہائی خراب کارکردگی کی وجہ سے حکمراں جماعت کو تنقید کا سامنا ہے اور کانگریس ایک متبادل کی شکل میں موجود ہے،ہماری موجودگی بی جے پی کو تقویت نہ پہنچا ئے گی۔آپ فرمائیں گے کہ ہم تو صرف پندرہ یاسترہ سیٹوں پر لڑیں گے۔ہماری وجہ سے کسی حکومت کے گرنے یا بننے کا سوال نہیں اٹھتا۔لیکن کیا یہی سچائی ہے۔کیا واقعی آپ کی تقریروں کے اثرات انھیں حلقہ انتخاب میں اثر انداز ہوں گے۔کیا آپ پورے گجرات میں زیر بحث نہیں آجائیں گے۔اس لیے میں یہی کہوں گا کہ آپ کی موجودگی ملت کو کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گی۔اگر بالاتفاق آپ کو ایک دو سیٹیں مل بھی گئیں،(جس کے امکانات دور دور تک نہیں ہیں) تو آپ کا کیا کرلیں گے؟بہار جیسا حال نہیں ہوگا اس کی کیا ضمانت ہے؟اس لیے میری گزارش ہے کہ آپ اگر چاہتے ہیں کہ پوری مسلم ملت اور مظلوم و پسماندہ طبقات کی قیادت کریں تو اپنے سیاسی مقاصد و عزائم کو واضح کیجیے۔اپنی تنظیم کا دستور العمل سامنے لائیے۔اپنی سوشل خدمات کا دائرہ وسیع کیجیے۔ تلنگانہ سے باہر بھی لائیے۔اپنی ٹیم کو وسعت دیجیے۔اپنے کیڈر کی تربیت کیجیے۔مجھے آپ کے اخلاص پر کوئی شک نہیں ہے۔بے شک آپ مسلمانوں کی آواز ہیں۔لیکن آپ کے طرز سیاست پر ضرور لب کشائی کی جرأت کررہا ہوں۔آپ اس کو محسوس فرمائیے کہ آپ کا لہجہ آتش فشانی فرماتا ہے اور بقول شاعر:
آگ لہجے ہی کی لگاتی ہے
لفظ آتش فشاں نہیں ہوتا
گجرات الیکشن میں عام آدمی پارٹی بھی حصہ لے رہی ہے۔دہلی میں عآپ کے طرز حکومت نے یہ واضح کردیا ہے کہ اسے صرف کانگریس کو ختم کرنا ہے۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ وہی عآپ جس نے پنجاب میں کانگریس کو بے دخل کردیا،اتراکھنڈ اور اترپردیش میں اپنا کھاتا بھی نہیں کھول سکی۔اب گجرات میں بھی یہی رذلٹ آنے والا ہے۔میں یہ بات اپنے کئی کالم میں لکھ چکا ہوں کہ آر ایس ایس نے اپنا جو سیاسی جال بچھایا ہے اس کے مطابق بعض ریاستی پارٹیاں اسی کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں،انھیں ہر طرح کی فیڈنگ و فنڈنگ وہیں سے ہورہی ہے۔آر ایس ایس کیڈر بیسڈ آرگنائزیشن ہے۔اس کا تنظیمی ڈھانچہ بہت مضبوط ہے۔سو سال گزرگئے اس میں دراڑ بھی نہیں آئی ہے۔گجرات کے ساتھ ہی دہلی کے کارپوریشن انتخاب بھی ہورہے ہیں۔اس میں بھی مجلس کے امیدواران ہیں۔مجھے ان سے پوری ہمدردی ہے۔انھیں مکمل تیاری کے ساتھ انتخابی عمل میں حصہ لینا چاہئے اور جیتنا چاہئے۔البتہ جیتنے کے بعد انھیں مجلس کا دامن چھوڑ کر نہیں بھاگنا چاہئے بلکہ اپنے اپنے حلقوں میں پوری ایمانداری کے ساتھ کام کرنا چاہئے۔اگر انھوں نے یوپی اور بہار والا طرز عمل اختیار کیا تو قوم نہ ان پر اعتماد کرے گی اور نہ ان کی پارٹی پر۔
مسلمانوں کے سامنے پیچھے کنواں آگے کھائی والی حالت ہے۔اس کے باوجود انھیں فیصلہ کرنا ہے۔انتخابی عمل سے فرار موت کے مترادف ہے۔ظاہر ہے جہاں مسلم سیاسی جماعت کا امیدوار نہیں ہے وہاں ان کو(اھون البلیتین کے تحت) دو مصیبتوں میں سے ہلکی مصیبت کو منتخب کرنا ہے،جہاں ان کے سامنے اپنا امیدوار ہے اور وہ جیتنے کی پوزیشن میں بھی ہے تووہاں ان کو اسی کو حمایت دینا چاہئے تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ:
مجھے تو اپنوں نے لوٹا غیروں میں کہاں دم تھا
میری کشتی وہاں ڈوبی جہاں پانی کم تھا
گزشتہ دنوں کانگریس کے اندر بعض مثبت تبدیلیاں دیکھنے کو ملی ہیں۔اس میں کانگریس صدر کی حیثیت سے ملک ارجن کھڑگے کا انتخاب بھی ہے اور راہل گاندھی کی بھارت جوڑویاترا بھی ہے۔لیکن کانگریس کے ڈھانچے میں جس قدر دیمک لگ چکی ہے اور اس کے پائے ثبات میں جس قدر لرزہ آچکا ہے،اسے کھڑے ہونے میں وقت لگ سکتا ہے۔لیکن وہ اس سیکولر ملک کے لیے دیگر سیکولر جماعتوں سے قدرے بہتر ہے۔اگر غیر بی جے پی ووٹ متحد ہوکر کرے تو گجرات میں حکومت بدل سکتی ہے۔گجرات کی تبدیلی مرکز کی چولیں ہلانے کے لیے کافی ہوگی۔مجھے نہیں لگتا کہ میری یہ آرزو پوری ہوگی۔ہمارے ہم وطنوں کو نہ مہنگائی سے مطلب ہے،نہ بھک مری اور بے روزگاری سے انھیں تو صرف مذہبی جذبات کو برانگیختہ کرنے والے بھاشن ہی کافی ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: