مضامین

ایک ملک ـــــــــ۔۔۔ دو طریقۂ کار

مفتی محمد ثناء الہدی قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ

کشمیر میں دفعہ ۳۷۰؍ کی منسوخی کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے ۱۵؍ اگست کو لال قلعہ کی فصیل سے اپنی تقریر میں فخر سے کہا تھا کہ حکومت نے آخر کار’’ ایک ملک ،ایک آئین ‘‘کا خواب پورا کر دیا ہے ۔
دفعہ ۳۷۰؍ کے تحت کشمیریوں کو جو خصوصی اختیارات حاصل تھے ، وہ ۱۹۶۰ کے بعد سے محض علامتی رہ گئے تھے ، ان چیزوں میں ریاست کا ایک علاحدہ جھنڈااور ایک کاغذی دستورتھا، جس کی عملاً کوئی حیثیت باقی نہیں رہ گئی تھی ،۱۹۵۲میں آئین ساز اسمبلی نے سرخ رنگ کے کشمیری جھنڈے کی منظوری دی تھی، جس پر سفید رنگ میں تین عمودی لکیریں تھیں،اور درمیان میں سفید رنگ سے پہاڑ کی علامت بنائی گئی تھی، یہ تین عمودی لکیریں کشمیر کے تین علاقے ؛جموں ، کشمیر اور لداخ حلقوں کی نمائندگی کرتی تھیں، کاغذی دستور کے نام پر ریاست کے تعزیراتی دفعات بچ گئے تھے ، جو ۱۸۴۶ءسے کشمیر میں رائج تھے اور آرٹیکل35Aتھا، جس کے ذریعہ ریاست کے باہر کے لوگ کشمیر میں زمین کی خریداری نہیں کر سکتے تھے اورجس کے ذریعہ ریاست کے باشیوں کو ملازمت میں ترجیح کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، ان دونوں دفعات کو ختم کر کے حکومت ہند نے آر ایس ایس کے دیرینہ مطالبہ کو پورا کر دیا ،جو وہ ۱۹۵۰ءسے کرتی آئی تھی، مرکز کے زیر انتظام تین حصوں میں جموں و کشمیر کو تقسیم کرنے کا مطالبہ بھی اسی تنظیم کا تھا، مرکزی حکومت نے آر ایس ایس کے ایجنڈے کو رو بہ عمل لانے کا جو عزم کر رکھا ہے ،۳۷۰؍ کی منسوخی در اصل اسی کا حصہ ہے ۔
جن لوگوں کی ہندوستانی دستور و قوانین پر نظر ہے ، وہ خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ دستور کی دفعہ ۳۷۱؍ میں وہی کچھ موجود ہے جو ۳۷۰؍ میں ہے، ملک کی مختلف ریاستوں ؛ خاص کر ہماچل پردیش،اترا کھنڈ اور پنجاب کے ساتھ شمال مشرق کی سات ریاستوں؛آسام، اروناچل پردیش،میگھالیہ، میزورم ،منی پور، تری پورہ اور ناگالینڈ(جنہیں سیون سسٹرس اسٹیٹ آف نارتھیسٹ انڈیا یعنی’’ شمال مشرق کی سات بہنیں‘‘کے نام سے جانا جاتا ہے ) میں بھی زمین کی خریداری باہر کے لوگ نہیں کرسکتے ،خود جھارکھنڈ کا بڑا حصہ وہ ہے ، جہاں ریاست کے اندر کا بھی غیر آدی واسی باشند ہ آدی واسیوں کی زمین نہیں خرید سکتا ، آدی واسیوں کو رقم کی ضرورت ہو تی ہے تو وہ دان پتر یا لیز کے ذریعہ زمین منتقل کرتے ہیں ، اور اس کی شرطیں بھی انتہائی سخت ہیں۔ اس کے علاوہ دفعہ ۳۷۱؍ کے تحت مہاراشٹر ، گجرات ، کرناٹک ، آندھرا پردیش، تیلنگانہ ، آسام ، اروناچل پردیش اور سکم کو دفعہ ۳۷۱؍ کی مختلف شق کے ذریعہ خصوصی اختیارات دیے گئے ہیں ، سکم کے بارے میں ۳۷۱؍ الف میں یہاں تک کہا گیا ہے کہ’’ کسی بھی تنازعہ یا کسی دوسرے معاملہ میں جو سکم سے جڑے کسی سمجھوتے، انگیجمنٹ ، ٹریٹی یا ایسے کسی انسٹرومنٹ کے سبب پیدا ہو ا ہو ، اس میں نہ ہی سپریم کورٹ اور نہ ہی کسی اور کورٹ کا حلقۂ اختیار ہوگا۔‘‘ لیکن مرکزی حکومت ایک ملک ، ایک آئین کے تحت دفعہ ۳۷۱؍ ختم کرنے کی ہمت نہیں جٹا پارہی ، بلکہ اس نے بار بار اعلان کیا ہے کہ دفعہ۳۷۱؍ پر ہاتھ ڈالنے کا حکومت کا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔
شمال مشرقی ریاستوں میں سب سے اہم معاملہ ناگالینڈ کا ہے ، اس نے ہندوستانی حکومت کے خلاف اعلان بغاوت کر رکھا ہے ، وہ اپنا یوم آزادی ۱۴؍ اگست کو مناتا ہے ،انگریزی اخبار’دی ہندو‘ کی خبرکے مطابق ناگا اسٹوڈنٹس فیڈریشن نے ۱۴؍ اگست ۲۰۱۹ء کو میانمار کے ساتھ ناگا آبادی والے حلقے میں تہترواں ناگا یوم آزادی منایا اور نا گا پرچم لہرایا ۔اس کا کہنا ہے کہ نا گالینڈ پر ہندوستان نے ۱۹۴۷ء میں زبردستی قبضہ کر لیا تھا۔ نا گا باغی مسلسل ناگا لینڈ کے لیے الگ دستور، الگ پرچم ، الگ پاسپورٹ ، اقوام متحدہ میں آزادانہ نمائندگی اور ناگاؤں کی الگ کرنسی کے مطالبہ پر اڑے رہے ہیں ، ناگالینڈ کے الگ جھنڈے کی تصویریں سوشل میڈیا پر وائرل ہو تی رہی ہیں۔ ان تمام کے باوجود مرکزی حکومت نے ان کی بہت ساری مانگوں (مثلاً الگ جھنڈا اور انٹر اسٹیٹ پرمٹ وغیرہ) کو اندرون خانہ ایک معاہدہ کے تحت تسلیم کر لیا ہے، حالانکہ ابھی تک حکومت نے آفیشیل طور پر ایسے کسی معاہد ہ کی توثیق نہیں کی ہے۔ ناگاؤں کی تنظیم این ایس سی ایم آئی ایم کے نیتاؤں کے ساتھ ماضی میں وزیر اعظم نریندر مودی ،سابق وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ ،ملک کے سلامتی امور کے مشیر اجیت ڈوبھال ایک اسٹیج پر دیکھے گئے ، خبر یہ بھی آئی کہ جلد ہی ناگاؤں سے پکا سمجھوتہ کر لیا جائے گا ،ایسا ناگاؤں کے ساتھ امن سمجھوتے کی ثالثی کرنے والے سابق انٹلی جنس افسر آر این راوی کا کہنا ہے ۔
اس طرح دیکھا جا ئے تو وزیراعظم کا ایک ملک ، ایک قانون کے خواب کی تکمیل کا اعلان محض جملہ بازی ہے ، جب تک ۳۷۰؍ کے ساتھ ساتھ شمال مشرقی ریاستوں سے ۳۷۱؍ دفعہ ختم نہیں ہوتی یہ خواب پورا نہیں ہو سکتا ، ناگاؤں کے ساتھ الگ جھنڈے اور دوسری باتوں کو مان کرکوئی سمجھوتا ہو ا ہے یا آئندہ ہو تا ہے تو یہ ملک کے لیے نقصان دہ ہو گا ،اس سے علاحدگی پسندی کے جذبے کو فروغ ملے گا اور یہ سمجھا جائے گا کہ بی جے پی اور آرایس ایس کو ملک کی ایکتا اور اکھنڈتا کی فکر نہیں ہے بلکہ کشمیری مسلمانوں کو مل رہے خصوصی اختیارات ان کی آنکھوں میں چبھ رہے تھے ، اسی لیے دفعہ۷۳۰؍ اور ۳۵؍ اے کو ختم کیا گیا(بشکریہ نقیب)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: