اسلامیات

اے اللہ! ہمیں شب قدر نصیب فرما

افادات :عارف باللہ حضرت مولانا محمد عرفان صاحب مظاہری دامت برکاتہم گڈا جھارکھنڈ
سلسلہ نمبر (16)

ایک مومن کے لئے اس سے بڑی خوشی اور کیا ہو سکتی ہے کہ وہ ایک رات کی عبادت کرے اور اس کے نامہ ء اعمال میں تراسی برس سے زیادہ زیادہ راتوں کی عبادت کا ثواب ملے. کسی مومن بندہ کو اگر ایک رات بھی ایسی نصیب ہو جاءے تو اس کی قسمت جاگ جاءے گی اور اگر زندگی میں دس بارہ مرتبہ ایسی رات میں عبادت کرنا نصیب ہو جاءے تو پھر کہنا ہی کیا، وہ سب سے بڑا خوش نصیب انسان ہوگا . اس رات کو شب قدر کہتے ہیں، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا *لیلۃ القدر خیر من الف شھر (سورۃ القدر)* شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے، اور ہزار مہینوں کے تراسی برس ہوتے ہیں. اس حساب سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس ایک رات کی عبادت تراسی برس عبادت کرنے سے بہتر ہے

شب قدر کی عبادت کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس سے پچھلے سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں. حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا *من قام لیلۃ القدر ایمانا و احتسابا غفر لہ ما تقدم من ذنبہ (بخاری، مسلم )* جس نے ایمان و یقین کے ساتھ اور ثواب سمجھتے ہوئے شب قدر میں عبادت کی اس کے پچھلے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں.

اس سے معلوم ہوا کہ شب قدر میں عبادت کرنے سے جہاں تراسی برس سے زیادہ عبادت کا ثواب ملے گا وہیں پچھلے سارے گناہ بھی معاف ہو جائیں گے. لہٰذا ہر ایمان والے بندے کو اپنے دل میں یہ تمنا رکھنی چاہیے اور ارادہ کرنا چاہئے کہ ہم شب قدر میں ضرور عبادت کریں گے.
لیکن شب قدر کس رات کو ہوتی ہے اس کے بارے میں حتمی طور پر یہ تو بتا دیا گیا ہے کہ رمضان المبارک کی راتوں میں سے کوئی ایک رات ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا کہ رمضان کے مہینے میں قرآن نازل کیا گیا( سورہ بقرہ) اور دوسری جگہ یہ فرمایا کہ ہم نے شب قدر میں قرآن کو نازل کیا(سورہ القدر) . ان دونوں باتوں کو ملانے سے معلوم ہوا کہ شب قدر رمضان ہی میں ہے لیکن کون سی رات ہے اس کو متعین طور نہیں بتلایا گیا، لہذا اگر کوئی آدمی رمضان المبارک کی تمام راتوں میں عبادت کرتا رہے تو ہم یقینی طور پر کہ سکتے ہیں کہ اس نے شب قدر کو پا لیا. اور اگر کوئی اتنا نہ کر سکتا ہو تو کم از کم عشرہ ءاخیرہ کی راتوں میں عبادت کا زیادہ اہتمام کرے کیونکہ عشرہ اخیرہ کی طاق راتوں میں شب قدر ہونے کی زیادہ امید ہے اور اتنا بھی نہ کر سکتا ہو تو کم از کم ستائیسویں رات کو عبادت کا زیادہ اہتمام کرے کیونکہ اس رات کو بھی شب قدر ہونے کی زیادہ امید ہے. تاہم یہاں پر یاد رہے کہ یہ امید اور زیادہ امکان کی بات ہے اور جہاں تک یقینی اور حتمی بات ہے وہ یہی ہے کہ پورے رمضان میں کوئی ایک رات شب قدر ہو سکتی ہے.

عشرہ ء اخیرہ میں شب قدر پانے کی زیادہ امید ہونے کی وجہ سے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم عشرہ ءاخیرہ میں عبادت کا زیادہ اہتمام کرتے تھے *کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم یجتھد فی العشر الاواخر مالا یجتھد فی غیرہ. (مسلم شریف)* رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم عشرہء اخیرہ میں جتنی زیادہ عبادت میں محنت کرتے تھے اتنی زیادہ اس کے علاوہ میں نہیں کرتے تھے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ عشرہ ءاخیرہ کی طاق راتوں میں خصوصی عبادت کا اہتمام کریں کیونکہ ہو سکتا ہے کہ ان میں سے کوئی رات شب قدر ہو. آپ نے فرمایا *تحروا لیلۃ القدر فی الوتر من العشر الاواخر من رمضان (بخاری شریف)* کہ شب قدر کو اخیر عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو یعنی ان راتوں میں عبادت کرو.

حدیث میں ہے کہ جب شب قدر ہوتی ہے تو حضرت جبرئیل علیہ السلام فرشتوں کی ایک جماعت کے ساتھ نزول فرماتے ہیں اور جو لوگ بھی کھڑے یا بیٹھ کر اللہ کو یاد کر رہے ہوتے ہیں ان پر اللہ کی جانب سے رحمت نازل فرماتے ہیں( بیھقی)

بہرحال جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ایک رات کی عبادت سے تراسی برس سے زیادہ کی عبادتوں کا ثواب ملے ، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دئیے جائیں اور ان پر اللہ کی رحمتوں کا نزول ہو تو پورے رمضان کی ہر رات میں ان سے جتنی زیادہ عبادت ہو سکے نماز، تلاوت اور ذکر و اذکار کی شکل میں کریں، نہیں تو کم از کم اخیر عشرہ میں یعنی بیسویں رمضان سے ہر رات میں زیادہ سے زیادہ عبادت کا اہتمام کریں. اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو اس کی توفیق مرحمت فرماءے آمین

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: