مضامین

اے نیا سَال بتا تجھ میں نیا پن کیا ہے.!

️:مولانا فیاض احمد صدیقی رحیمی : صدر مدرس: مدرسہ عربیہ ھدایت السلام انعام وہار سھبا پور دھلی این سی آر :

باطل کے خداؤں کی عبادت نہیں کرتے :
فرمانِ محمد سے بغاوت نہیں کرتے __:
کرتے ہیں محرّم سے نئے سال کا آغاز _ :
عیسائی کی ہم لوگ اطاعت نہیں کرتے:

محترم قارئین :
عیسوی سال {2020} ابھی چند ہی لمحوں میں اپنے تلخ تجربات، حسین یادیں ،اور غم والم کے واقعات چھوڑ کر رخصت ہونے کے قریب ہے،چراغ حیات کی ایک اور بتی جل کر خاک ہونےکو ہے، ملی ہوئی محدود زندگی کا ایک اور سال رخصت ہوناچاہتاہے، اور انسان
{2021} کے آمد پر اپنی مقررہ مدت زیست کی تکمیل کی طرف رواں دواں ہونےوالا ہے۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک دن یہ عمر بھی تمام ہوجائے گی اور ہم شہر خموشاں کی طرف کوچ کرکے ہمیشہ ہمیش کے لیے قصۂ پارینہ بن جائیں گے،لیکن اس وقت بھی دنیا کا ایک بڑاطبقہ نئے سال کے جشن میں ناچ، گانے، شراب و شباب، فحاشی، اور عریانیت میں ڈوب جاتا ہے، شیطانیت اپنے عروج کے نقطہ انتہا پر ہوتی ہے، عورتوں اور مردوں کا اختلاط ہوتا ہے، رقص وسرور کی محفلیں منعقد کی جاتی ہیں، شراب کے جام چھلکائے جاتے ہیں، نوجوان شراب وشباب میں مدہوش ہوجاتے ہیں، موسیقی کے سُر اور تَال پر خواتین کے تھرکتے ہوئے جسموں کی نمائش کی جاتی ہے، اور {31} دسمبر رات کے بارہ بجتے ہی کیک کاٹے جاتےہیں اور وہ سب کچھ ہوتا ہے جسکی اجازت کسی بھی مذہب اور ضابطہ اخلاق میں نہیں، نائٹ کلبس اور ہوٹلوں کے کمرے پہلے سے بک کروا لئے جاتے ہیں تاکہ نیو ایئر نائٹ منانے میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ہو، لیکن افسوس صد افسوس کہ مغربی تہذیب کے دلدادہ اور مغربیت کی اندھا دھند تقلید کے مارے کچھ مسلمان بھی اس دن کو بڑے جوش خروش سے منانے لگے ہیں ،جس میں وہ تمام اخلاقی اقدار کو پامال کرتے ہوئے آخری حدوں سے گزر جانے میں ذرا سا بھی تامل محسوس نہیں کرتے،
ہر کوئی مست ہے ذوق تن آسانی میں
تم مسلمان ہو؟ یہ انداز مسلمانی ہے؟
جن بیہودہ حرکات وسکنات کے لئے کبھی مسلمان اہلِ مغرب کو شرم وعار دلاتے تھے اب وہ خود اس بے حیائی کی دوڑ میں زیادہ سے زیادہ آگے بڑھنے کو مضطرب ہے، نہ اُس وقت قرآنی تعلیمات انہیں یاد رہتی ہےاور نہ نبی ﷺکی سیرت، نہ اسراف سے بچنے کی فکر ،اورنہ ضیاع وقت پر شرمندگی ، جب کہ وقت ایک قیمتی چیز ہے ،یہ ایک ایسی نعمت جو ایک مرتبہ گزر جائے تو اسے واپس لانا ممکن ہی نہیں، نیز گزرتے ہوئے ایام تو ہمیں غفلت کے بجائے اپنی غلطیوں کی اصلاح کا موقعہ فراہم کرتے ہیں، اسی لئے حضرت عبد اللہ ابن مسعود فرماتے ہیں کہ میں کسی چیز پر اتنا نادم اور شرمندہ نہیں ہوا جتنا کہ ایسے دن کے گزرنے پر جس کا سورج غروب ہوگیا جس میں میرا ایک دن کم ہوگیا اور اس میں میرے عمل میں اضافہ نہ ہوسکا۔ (قیمة الزمن عند العلماء، ص: ۲۷) حسن بصری فرماتے ہیں کہ: اے ابن آدم! تو ایام ہی کا مجموعہ ہے، جب ایک دن گزر گیا تو یوں سمجھ تیرا ایک حصہ بھی گزر گیا۔ (حوالہ بالا) حضرت علی فرماتے ہیں کہ یہ ایام تمہاری عمروں کے صحیفے ہیں، اچھے اعمال سے ان کو دوام بخشو۔لیکن مسلمانوں کی غفلت و بے پرواہی اور مغرب کی اندھا دھند تقلید کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ کہیں یہ وہی زمانہ تو نہیں جس کی خبر مخبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں دی تھی کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم اپنے سے پہلے والوں کے طریقوں کی بالشت دربالشت اور ہاتھ در ہاتھ پیروی کروگے، یہاں تک کہ وہ اگر گوہ کے بل میں داخل ہوئے ہوں تو تم بھی اس میں داخل ہوگے، اس پر صحابہ ؓنے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ پہلے والوں سے آپ کی مراد کیا ہے؟ یہود ونصاریٰ ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: توپھر اور کون۔” (بخاری، مسلم ، حاکم)۔ ابن عباد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کے اخیر میں یہ بھی ہے کہ یہاں تک کہ ان میں سے کسی نے اگر عورت سے شہوت پوری کی ہے راستوں پر تو تم بھی کروگے۔ ایک اور روایت میں یہ بھی ہے کہ اگر ان میں سے کسی نے اپنی ماں سے بدکاری کی ہے تو تم بھی کروگے۔ ایک حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا [مَن تشبہ بقومٍ فھو منہ] (جو قوم کسی کی مشابہت اختیار کرتی ہے تو اس کا شمار بھی انہی میں سے ہوگا ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ” [مِنْ حُسْنِ إسْلاِمِ الْمَرْءِ تَرْکُہ مَالاَیَعْنِیْہِ] “۔ (ترمذی ۲/۵۸ قدیمی) ترجمہ: آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ فضول چیزوں سے بچے۔ اورسنن بیہقی میں عبداللہ بن عمرو بن العاص کا فرمان ہے ۔’’ کہ جس نے نو روز مہر جان منایا اور ان کی مشابہت اختیار کی اور وہ توبہ کے بغیر اسی حالت میں مر گیا تو قیامت کے دن انہیں کے ساتھ اٹھایا جائے گا ۔‘” خاص کر اس موقع سے لوگ رقص و سرود کی محفلیں سجاتے ہیں، شراب وکباب جمع کئے جاتے ہیں، نئے سال کا آغاز ہوتے ہی نیو ایئر نائٹ کی محفلیں جمتی ہیں اور لوگ ہیپی نیو ایئر کی مبارک بادیاں پیش کرتے ہیں، ناچ گانے ہوتے ہیں، شراب نوشیاں ہوتی ہیں، بہر حال ہر کوئی اپنے اپنے انداز سے نئے سال کو خوش آمدید ضرور کہتا ہے، اس تیاری میں اربوں کی فضول خرچی ہوتی ہے،
اے نئے سال بتا تجھ میں نیاپن کیا ہے _:
ہر طرف خلق نے کیوں شور مچا رکھا ہے:
در حقیقت نئے سال میں نیا پن کچھ بھی نہیں بلکہ سب کچھ ویسا ہی ہے، دن، رات، زمین، آسمان، سورج اور چاند سب کچھ وہی ہے اور وقت کی کڑوی یادیں بھی اسی طرح ہمارے ساتھ ہیں. یہ دیکھا جاتا ہے کہ نئے سال کے آغاز کے موقع پر ہمارے بہت سارے مسلم اور غیر مسلم بھائی بالخصوص نوجوان خوشیاں مناتے وقت وہ ناجائز اور نامناسب ایسے کام کرتے ہیں، جنہیں ایک سلیم العقل انسان اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتا اور نہ ہی انسانی سماج کیلئے وہ کام کسی طرح مفید ہے بلکہ حد درجہ مضر ہے. مثال کے طور پر {31} دسمبر اور {1} جنوری کے بیچ کی رات میں نئے عیسوی سال کے آغاز کی خوشی مناتے ہوئے بڑی مقدار میں پٹاخے بجائے جاتے ہیں اور آتش بازیاں کی جاتی ہیں کیک کاٹے جاتے ہیں رقص ہوتا ہے اس کام پر بے تحاشہ پیسہ خرچ کیا جاتا ہے گویا ہم اپنے خون پسینے کی کمائی کو نذر آتش کررہے ہیں، میں نہیں سمجھتا کہ شراب نوشی کی کسی بھی مذہب میں کوئی بھی گنجائش ہوگی یہ انسانی عقل کو سلب کرکے آدمی کو بلکل ناکارہ بنادیتی ہے اور اس کے نشہ میں چور آدمی قتل وغارت گری، زنا کاری وبدکاری اور بہت ساری دوسری برائیوں کا بلا جھجھک ارتکاب کرتا ہے،
سال {2020} رخصت ہورہا ہے اس لئے ضروری ہے کہ آنے والے سال کے بارے میں تھوڑا وقت نکال کر اپنا محاسبہ کرے کہ میں نے اس سال کیا پایا اور کیا کھویا؟ مجھے اس سال کیا کرنا چاہیئے تھا اور کن چیزوں کو نہ کرنا میرے لئے بہتر تھا، میں نے کن لوگوں کا دل دکھایا؟ اور کس قدر مجھ سے گناہ ہوا؟ میں نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر کتنے فیصد عمل کیا؟ مجھ سے کتنے لوگوں کو فائدہ پہنچا، میں نے کن سے ہمدردی کی، کس قدر گناہ مجھ سے ہوئے اور میں نے کن گناہوں کی معافی تلافی کی؟ ان تمام چیزوں کا ہمیں محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے، میری زندگی کا ایک سال کم ہوگیا اور میں نیکیوں سے محروم رہ گیا میرا وقت بے جا ضائع اور صرف ہوگیا. اور ہر آنے والا سال امیدیں اور توقعات لے کر آتا ہے اور انسان کے عزم کو پھر سے جوان کرتا ہے کہ جو کام پچھلے سال ادھورے رہ گئے انہیں اس سال مکمل کر لینا ہے، افراد کی طرح اقوام کی زندگی میں بھی نیا سال ایک خاص اہمیت کا حامل ہوتا ہے، یہ قوموں کو موقع فراہم کرتا ہے کہ گذشتہ غلطیوں سے سبق سیکھ کر آنے والے سال میں اسکی بھرپائی کرنے کی کوشش کریں. ایک سال کا مکمل ہونا اور دوسرے سال کا آغاز اس بات کا کھلا پیغام ہے کہ ہماری زندگی میں سے ایک سال کم ہوگیا ہے اور ہم اپنی زندگی کے اختتام کے مزید قریب ہوگئے ہیں. لہذا ہماری فکر اور بڑھ جانی چاہیئے اور ہمیں بہت ہی زیادہ سنجیدگی کے ساتھ اپنی زندگی اور اپنے وقت کا محاسبہ کرنا چاہیئے کہ ہمارے اندر کیا کمی ہے کیا کمزوری ہے کونسی بری عادت وخصلت ہم میں پائی جاتی ہے اسکو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے، نیز اچھی عادتیں، عمدہ اخلاق وکردار کا وصف اپنے اندر پیدا کرنے کی مکمل کوشش کرنی چاہیئے…..
اب کے بار مل کے یوں سالِ نو منائیں گے :
رنجشیں بھلا کر ہم نفرتیں مٹائیں گے _:
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس نئے سال میں مسلمانوں کی عزت و آبرو جان و مال اور ایمان و اسلام کو رکھے ::::: آمين ثم آمین یا رب العالمین :::::::::::::::::::::::
Attachments area

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: