مضامین

اے پی جے عبدالکلام

ایڈوکیٹ محمد بہاء الدین، ناندیڑ(مہاراشٹرا) Cell:9890245367

اکٹر ابوالفاخر زین العابدین عبدالکلام جنہیں اے پی جے کلام (اوول پاکیر جین الابدین، عبدالکلام) لکھتے ہیں۔ ٹاملناڈو کے ساحی گاؤں رامیشورم میں ان کی پیدائش 5 اکتوبر 1931ء کو ہوئی۔ ان کے والد کے پاس ایک کشتی تھی اور وہی ان کی آمدنی کا ذریعہ تھا۔ عبدالکلام کے بہنوئی شمش الدین ابتدائی دنوں میں رامیشورم میں تنہا اخباروں کے ہاکر تھے۔ یہی وجہہ رہی کہ کلام نے بھی اخبار بانٹ کر اپنی زندگی کی پہلی کمائی حاصل کی، جبکہ وہ تامل اخبار (دینا مانی)کی ترسیل کرتے تھے۔ رام ناتھ پورم اور تریچی میں ایم آئی ٹی مدراس میں داخلہ لیا۔ یہ ادارہ ٹیکنیکی تعلیم کے سر کے تاج کا ہیرا تسلیم کیا جاتا۔ انہوں نے اپنے کیریئر کے لیے انڈین ایئرفورس میں درخواست دی، لیکن انٹرویو میں فیل ہوگئے۔ جبکہ بعد میں انہوں نے ان تینوں افواج کے سپریم کمانڈر یعنی صدر جمہوریہ ہند کے عہدہ پر فائز ہوئے۔ انہیں اپنی محنت و لگن کی وجہہ سے انڈین کمیٹی فار اسپیس ریسرچ میں راکٹ انجینئر کے پوسٹ کی آفر ملی۔ انہوں نے ناسا میں بھی ٹریننگ حاصل کی۔ رفتہ رفتہ دُنیا نے ڈاکٹر کلام کو میزائل مین کے نام سے جانا جاتا ہے۔
میزائل ٹیکنالوجی کے متعلق ان کی کتاب سے اقتباس ہے کہ ”بیسویں صدی میں ہندوستانی راکٹ کے ارتقاء کو ٹیپو سلطان کے 18/ویں صدی کے خواب کی تعبیر کی جاسکتی ہے۔ جب ٹیپو سلطان شہید ہوئے تو انگریزوں نے تروکتھاہلی کی 1799ء کی جنگ میں 700سے زیادہ راکٹ او ر 900 سے زائد راکٹوں کے ذیلی نظام پر قبضہ کیا۔ ان کی فوج میں 27 بریگیڈ تھے جو مشہون کہلاتے تھے اور ہر بریگیڈ کے پاس راکٹ سواروں کی کمپنی کی تھی جسے جورک کہتے تھے۔ ولیم اینگریو نے اُنہیں انگلینڈ لے آئے اور وہاں تجربات کیے، جسے ریورس انجینئرنگ کہا جاتا ہے۔“
کلام اپنی پرائمری و ثانوی تعلیم مکمل کرنے کے بعد گریجویشن اعلیٰ تعلیم سینٹ جوزف کالج سے مدراس آئی ٹی ٹی جوائن کی۔ جس کے بعد وہ بحیثیت پروفیسر، مصنف اور سائنس داں کے طور پر اپنے کیریئر کا سفر طئے کیا۔ انّا یونیورسٹی میں بحیثیت پروفیسر اپنی تدریسی خدمات کا آغاز کیا۔ سینکڑوں ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں بطور گیسٹ لیکچر اور فیلو کی حیثیت سے کام بھی کیا۔ انہیں دُنیا بھر کی 30 سے زائد یونیورسٹیوں سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگریاں تفویض ہوئیں۔ ملک ہندوستان ہی نہیں بلکہ دُنیا بھر سے مختلف انعام و اعزاز سے نوازہ گیا۔ لیکن جن میں سب سے اہم 2000 ء میں راماجن ایوارڈ، 1997ء میں بھارت رتن، 1990ء میں پدماو بھوشن۔ ملک کی ترقی اور جدید ٹیکنالوجی کی فیلڈ میں کام کرتے ہوئے پوری زندگی لگادی۔ ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے ہر وقت اپنی صلاحیت و محنت سے کام کیا۔ اگر ان کی خدمات کی فہرست بنائی جائے جس میں ان کے زیر نگرانی کیا جانے والا پروجیکٹ ڈائریکٹر ملک کا اوّلین سیٹ لائٹ کامیابی کے لیے خلاء میں بھیجا گیا تھا۔ ہندوستان کا اعلیٰ دفاعی تحقیقی ادارے ڈی آر ڈی او میں بحیثیت چیف سائٹفک ایڈوائزر خدمات انجام دیں۔ حکومت ہند کے لیے بطور پرنسپال سائنٹفک ایڈوائزر، چیف پروجیکٹ کوآرڈنیٹر پورکھرن، نیوکلیئر پلانٹ اور چیف آفیسر ”اگنی“اور پرتھوی میزائل وغیرہ شامل ہیں۔ انہوں نے اپنے حوصلہ و لگن سے ایک تاریخ رقم کی۔ جس میں وہ پہلے صدر جمہوریہ ہند ہیں جس نے سکھوہی فائٹر جیٹ میں اُڑان بھری اور ہندوستان کی سب مرین پن ڈوبی میں غوطہ لگایا اور سب سے اونچی پہاڑی چوٹی سیاچین بارڈر کا دورہ کیا۔ بہت ساری کتابیں مختلف عنوانات پر مرتب کیں۔ جن میں ونگ آف فائر (Wing of Fire)نامی کتاب 13 /زبانوں میں لکھی گئی اور پوری زندگی سادگی سے گزاردی۔ اپنے لیے نہ کبھی کار، ٹی وی، اے سی اورآرائش کا سامان خریدے۔ ان کی زندگی کے اہم پہلو کے بارے میں اُن کے سیکریٹری مسٹر پی ایم نایئر نے جو انٹرویو ٹیلی کاسٹ کیا تھا اُس کے اقتباسات درج ذیل ہیں۔
جنہوں نے ایک کتاب بھی اُن کے بارے میں لکھی۔ جس کا نام Kalam-e-Effect ہے۔ نایئر کے مطابق ڈاکٹر کلام جب بھی کوئی تحفہ تحائف روایتی طور پر باہر کے ممالک سے وصول کرتے جو بہت قیمتی ہوتے۔ یہ مختلف قوموں کی روایت چلی آرہی ہے۔ اس طرح ان تحفوں کو قبول نہ کرنا ملک کے وقار کے لیے مناسب نہیں سمجھا جاتا۔ اس لیے کہ اسے جب وہ واپس ہورہے تھے تب انہوں نے کہا کہ ان تمام تحائف کی فوٹو نکالی جائے اور اس کا ایک کیٹلیگ تیار کیا جائے، جسے محکمہ آرکیوز کو بھیج دیاجائے اور ان تمام تحفہ و تحائف جو انہیں مختلف ممالک سے وصول ہوئے تھے وہ تمام کے تمام راشٹرپتی بھون میں چھوڑ دیا۔ یہاں تک کہ ایک پنسل بھی اُس میں سے نہیں لی۔
نایئر کے مطابق جب وہ 2002ء میں بحیثیت صدر جولائی، اگست میں جائزہ حاصل کیا اُن دنوں رمضان کا مہینہ تھا۔ جبکہ صدارتی محل کی یہ روایت چلی آرہی تھی کہ وہ افطار پارٹی کا اہتمام کرے۔ لیکن مسٹر کلام نے نایئر سے کہا کھاتے پیتے لوگوں کو افطار کے لیے کیوں بلایا جائے۔ اور ہر سال کی اس پارٹی پر کتنا خرچ ہوتا ہے۔ جس پر انہوں معلومات دی گئی کہ 22 لاکھ روپئے خرچ ہوتے ہیں۔ جس پر ڈاکٹر کلام نے کہا کہ یہ رقم یتیم خانوں میں اُن کی غذا، کپڑے اور بلینکٹس کے لیے دے دیئے جائیں۔ انہیں یتیم خانوں کے انتخاب کا مسئلہ بھی خود اپنے پاس نہیں رکھا۔ اور علاحدہ سے مسٹر نایئر کو بلاکر انہوں نے اپنی جانب سے ایک لاکھ روپئے کسی مخصوص یتیم خانے میں دینے کے لیے کہا۔ اور نایئر کو یہ بھی ہدایت کی تھی کہ وہ اس بات کی اطلاع کسی کو بھی نہ دیں۔ یہ رقم اُن کی شخصی بچت میں سے رکھی گئی تھی۔ جس پر نایئر نے اُن سے کہا تھا کہ سر میں یہ بات لوگوں کو اس لیے بتانا چاہتاہوں لوگ سرکاری خرچ ہی نہیں بلکہ اپنے ذاتی پیسے بھی غریبوں کو تقسیم کرتے ہیں۔ ہاں لیکن وہ پکے مسلمان تھے۔ لیکن جب تک وہ صدر کے عہدہ پر فائز رہے افطار پارٹی میں اُس مد کا پیسہ خرچ نہیں کیا۔
ایک مرتبہ چیف جسٹس آف انڈیا اُن کے ہاں تشریف لائے تھے اور ان دونوں کے درمیان کسی مسئلہ پر گفتگو ہوئی۔ جس پر ان کے نظریہ کے معاملہ میں مسٹر نایئر سے بھی سوال کیا کہ کیا میں اس سے اتفاق رکھتا ہوں۔ لیکن انہوں نے کہا ”سر مجھے آپ سے اتفاق نہیں ہے۔“ ہماری اس گفتگو کو سن کر چیف جسٹس حیرت و سکتہ میں آگئے بلکہ اُن کے کانوں کو یقین نہیں آرہا تھا کہ کس طرح ایک صدر اپنے سیکریٹری کی بھی رائے لیتا ہے۔ کہ ایک سول سرونٹ کس طرح صدر ہند سے اپنے اختلاف کھلے عام طور پر کرسکتا ہے۔ بعد میں انہوں نے مسٹر نائیر سے اس کی وجہہ پوچھی اور اختلاف کے منطق کو جاننے کے بعد اپنے ذہن کو بھی تبدیل کیا۔
ڈاکٹر کلام اپنے پچاس رشتہ داروں کو راشٹرپتی بھون بلایا کہ دلی کی سیر کرائیں۔ انہوں نے اس کے لیے بس کا انتظام کیا اور اس کے اخراجات خود برداشت کیے۔ نہ کسی سرکاری گاڑی کا استعمال کیا اور ان کے قیام و طعام کے اخراجات کا بل طلب کیا، جو دو لاکھ روپئے ہوا تھا۔ جس کی ادائیگی خود انہوں نے کردی۔ملک کی تاریخ میں ایسا کبھی بھی نہیں ہوا۔ انتہاء یہ کہ ڈاکٹر کلام کے بڑے بھائی ان کے روم میں ایک ہفتہ کے لیے قیام فرما تھے، اس لیے وہ چاہتے تھے کہ وہ ان کے ساتھ ہی رہیں۔ جب اُن کے بھائی واپس گئے تو کلام کا کہنا تھا اُن کا کرایہ بھی میں ادا کروں گا۔ غور کیجیے کیا کوئی صدرِ ہند جس کمرے میں خود رہتا ہے کیا اُس کا کرایہ بھی ادا کریں؟
جب صدر اے پی جے کلام کو اُن کے معیاد کے اختتام کے بعد راشٹرپتی بھون چھوڑنا تھا تو راشٹرپتی بھون کے تمام اسٹاف اُن کے عزت و احترام کے لیے جمع ہوا۔ جس میں مسٹر نایئر اکیلے پہنچے۔ اس لیے کہ اُن کی بیوی کے پیر میں فریکچر ہوگیا تھا۔ جس پرڈاکٹر کلام نے پوچھا کہ آپ کی اہلیہ کیوں نہیں آئی؟ میں نے کہا کہ وہ حادثہ کی وجہہ سے بستر پر ہے۔ جس پر ڈاکٹر کلام خود اُسے دیکھنے کے لیے میرے گھر پہنچے اور اس کے ساتھ چند ساعتیں گزار کر گپ شپ بھی کی۔ ہندوستان کا کوئی بھی صدر اپنے کسی سول سرونٹ کے گھر گیا ہو اور کسی معمولی بہانے پر ایسا ماضی میں کبھی نہیں ہوا تھا۔ ان کے چھوٹے بھائی ابھی بھی چھتری دُرست کرنے کی دکان چلاتے ہیں۔ جن سے مسٹر نایئر ڈاکٹر کلام کی آخری رسومات کے وقت ملاقات کی اور ان سے بات چیت کی۔ ان کے انتقال کے بعد اُن کی ملکیت میں صرف 6 پینٹ، 4 شرٹ، 300 سوٹس، 250 کتابیں، ایک فلیٹ، جسے بعد میں انہوں نے ڈونیٹ کردیا۔ ایک پدم شری ایوارڈ، ایک پدم بھوشن، ایک بھارت رتن، 16/ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں، ایک ویب سائٹ، ایک ٹوئٹر اکاؤنٹ اور ایک ای میل آئی ڈی۔ اُن کے پاس نہ ٹی وی، کار، اے سی، جیولری، مارکٹ شیئر، اراضی یا کوئی بینک بیلنس نہ تھا۔ اُنہوں نے اپنے وظیفہ کے آخری آٹھ مہینے کی رقم اپنے گاؤں کی ترقی کے لیے دے دی۔ وہ صحیح محب وطن اور سچے ہندوستانی تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: