مضامین

باتوں باتوں میں۔۔۔۔۔۔ میں اور آکاش: دہشت گرد کون؟

محمد شعیب رضا نظامی فیضی ایڈیٹر: ہماری آواز، گولابازار، گورکھپور

شام کے وقت چاے نوشی کرنے کے بعد ٹہلنے کے لیے گھر سے باہر نکلا، ابھی تھوڑی ہی دور چلا تھا کہ میرا ایک ہندو دوست (آکاش) بھاگتا بھاگتا میرے پاس آیا، وہ کچھ کہنا چاہتا تھا مگر سانس کی سرعت اسے بولنے نہ دے رہی تھی۔ میں نے اسے سڑک کے کنارے ایک بابا جی کی دوکان پر موجود کرسی پر بٹھاتے ہوئے کہا کہ پہلے سانس لے لو پھر کوئی بات ہو، اس نے دو ثانیے کے لیے سانس لی اور ہانپتے ہوئے بولا
آکاش: تم نے کوئی خبر نہیں سنی؟
میں: کیسی خبر؟
آکاش: ارے بھائی! پلوامہ میں حملہ ہوا ہے۔
میں: یہ پلوامہ کہاں ہے اور کس پہ حملہ ہوا ہے۔
آکاش: یار! پلوامہ، کشمیر میں اپنے ملک کے بارڈر کے قریب ہے۔ وہیں ہمارے ملک کی فوج پر حملہ ہوا ہے اور بہت سارے فوجی مارے گئے ہیں۔
میں: (بے ساختہ) انا للہ وانا الیہ راجعون۔ یہ کب اور کیسے ہوا؟
آکاش: یہ حملہ آج ہی اس وقت ہوا جب فوج کی دو بسیں محو سفر تھیں تو پلوامہ ضلع کے ایک گاؤں کے قریب ایک گاڑی نے ٹکر ماردی جس میں ایک شخص سوار تھا اور اس نے خود پر بم لگایا تھا، جس سے دونوں بسوں میں سوار انتالیس(۳۹) فوجی جوان شہید ہوگئے۔
میں: (دوبارہ) انا للہ وانا الیہ راجعون۔ بڑی تکلیف دہ خبر ہے یار! اللہ ان کے گھر والوں کو صبر دے۔
آکاش: ہاں، یار! خبر تو بہت تکلیف دہ ہے، ایک دو نہیں انتالیس فوجی مارے گئے ہیں۔ پر تیرا کیا؟؟؟ تو تو مست ومگن اپنی زندگی جی۔۔۔
اس کے اس جملے پہ میں چونک اٹھا؛ اس سے طنز کی بو آرہی تھی۔
میں: کیا مطلب؟ کہنا کیا چاہتا ہے؟ صاف بول!!!
آکاش: مطلب کیا ہوگا کہنے کا؟ وہی کہہ رہا ہوں جو حقیقت ہے۔
میں: کیا حقیقت ہے؟
آکاش: تمہارے ہی لوگوں نے خود کش حملہ کرایا ہے۔
اس کی اس بات پہ ارد گرد کھڑے درجن بھر لوگ قریب آگئے اور میں نے قدرے پریشان اور تھوڑا حیران ہوکر اس سے پوچھا : میرے لوگوں نے؟
آکاش: ہاں، تیرے لوگوں نے۔ مسلمانوں نے ہی حملہ کرایا ہے۔ جیسے کہ تجھے معلوم ہی نہ ہو۔
میں: اما یار! مجھے کیسے معلوم ہوگا کہ کس نے حملہ کرایا ہے۔ مگر مسلمانوں نے۔۔۔۔۔
آکاش: ہاں، مسلمانوں نے کرایا ہے۔
میں: ہوش میں تو ہے؟ بھلا مسلمانوں نے حملہ کیوں کرایا اور وہ بھی ان جوانوں پر جن کی وجہ سے ہم پڑوسی ممالک کے شرر وفتن سے محفوظ چین کی نیند سوتے ہیں۔
اس نے اپنی جیب سے موبائیل نکال کر ایک خبر دکھاتے ہوئے کہا: لو دیکھو! حملہ آور کا نام محمد عادل ہے۔
میں: ہاں تو کیا؟ محمد عادل حملہ آور ہے تو کیا مسلمانوں نے ہی حملہ کرایا ہے؟
آکاش: تو پھر کون کرائے گا؟
میں: کیوں بھائی؟ ایسا کیوں کہ حملہ صرف مسلمان کراسکتے ہیں کوئی دوسرا کیوں نہیں کراسکتا؟
آکاش: اس حملے کی ذمہ داری ایک مسلم تنظیم ’’جیش محمد‘‘ نے لی ہے۔
میں: تو اس کا مطلب، حملہ مسلمانوں نے کرایا ہے؟
آکاش: ہاں! تو پھر؟ محمد کس کا نام ہوگا ہم ہندوؤں کا؟
میں: نہیں، محمد تو مسلمان ہی اپنا نام رکھتے ہیں۔ مگر ’’جیش محمد‘‘ مسلم تنظیم نہیں، بلکہ علیحدہ پسند تنظیم ہے۔ جسے دھرم اور مذہب سے جوڑنا صحیح نہیں، اس کا مقصد کسی دین اور مذہب کی تبلیغ واشاعت نہیں ہے، ان کا مقصد صرف کشمیر کو ایک الگ اور مستقل ملک بنوانا ہے۔
آکاش: مگر وہ لوگ ہیں تو مسلمان۔
میں: تو کیا ہوا؟ کیا کبھی اپنے ملک میں کسی غیر مسلم مثلاً ہندو نے کوئی غلط کام نہیں کیا؟ تو کیا اس کے اس غلط حرکت کو پورے ہندوؤن کے سر مڑھنا درست ہے؟ کہ ہندوؤن نے ایسا کیا
آکاش: مطلب؟
میں: مطلب صاف ہے۔۔۔ گوڈسے نامی شخص کون تھا؟ مسلمان یا ہندو؟ اس نے گاندھی جی کا قتل کیا، تو کیا اب میں یہ کہوں کہ گاندھی جی کو ہندوؤں نے مارڈالا؟
آکاش: مگر ’’جیش محمد‘‘ پوری ایک تنظیم ہے۔جس میں سب کے سب مسلمان بھرے ہیں۔
میں: میرے یار! ہمارے ملک میں بھی ایک تنظیم ہے ’’گوڈسے‘‘ کے نظریات پر گامزن ہے، بلکہ اس کی پوجا بھی کرتی ہے۔ اور اس تنظیم میں سب کے سب ہندوں ہیں۔
مزید۔۔۔۔۔ اور تم نے جو یہ کہا کہ ’’تمہارے ہی لوگوں نے خود کش حملہ کرایا ہے‘‘ اس میں تم نے ’’جیش محمد‘‘ کو ہماری تنظیم بتا دی، جب کہ ہم ہندوستان میں تمہارے ساتھ رہتے سہتے ہیں۔ تمھیں شاید معلوم ہو یا نہ ہو ’’جیش محمد‘‘ نامی دہشت پسند تنظیم کا بانی اور قائد ’’مسعود اظہر‘‘ نامی ایک پاکستانی شخص ہے، جسے ہندوستان نے ۲۰۰۰؁ء میں قید سے رہا کردیا تھا۔ اگر فرصت ملے تو ویکی پیڈیا یا دوسری معلوماتی ویب سائٹ پر ان جیسی تنظیموں کی تفصیل اور ان کے مقاصد پڑھ لینا۔
مسعود اظہر، پیدا ہوا پاکستان میں، پلا بڑھا پاکستان میں، تعلیم حاصل کی پاکستان میں، دہشت گرد بنا پاکستان میں، اس کی شہریت ہے پاکستان کی، اس کی زبان ہے پاکستانی اردو۔ اور اس کی بنائی تنظیم ہم ہندوستانی مسلمانوں کی؟ صرف اور صرف اس لیے کہ اس کی تنظیم اور ساتھیوں کے نام ہماری طرح ہیں!!!
اور یہ بھی ذہن نشیں کرلو کہ ایسی تنظیموں کو نہ تو ہمارا مذہب کبھی پسند کرتا ہے اور نہ ہی کوئی عقل مند مسلمان اس کی حمایت کرتا ہے۔ مزے کی بات بتاؤں، جس جگہ یہ مسعود اظہر پیدا ہوا یعنی پاکستان وہاں کے بھی مذہبی رہ نما اسے نہیں پسند کرتے اور خود وہاں کی حکومت نے اسے قید کی سزا دے رکھی ہے، خود وہاں کے امن پسند لوگ ایسی تنظیموں کا بائیکاٹ کرتے ہیں جن کا نتیجہ بسااوقات انھیں اپنی جان ومال سے ہاتھ دھو کر ادا کرنی پڑتی ہے۔ ذرا اپنے جیب سے موبائیل نکاکر اس کے بارے میں سرچ کرو اور دیکھو ویکی پیڈیا ویب سائٹ اردو ورژن جس پر لکھنے والے مسلمان ہی ہیں چاہے ہندوستان کا ہو یا پاکستان کا مگر ہے تو مسلمان، اس نے اس مسعود اظہر کی خدمات میں ’’جموںو کشمیر میں بدامنی‘‘ پھیلانا لکھا ہے۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ لکھنے والا جو کہ مسلمان ہے اس کی نظر میں مسعود اظہر کوئی امن پسند نہیں بلکہ بدامن ہے۔ جس کی نہ تو ہمارا مذہب اجازت دیتا ہے اور نہ مسلمان اسے کبھی پسند کرتا ہے۔
آکاش: لیکن اس کے لوگ ہندوستان میں کیسے آجاتے ہیں؟
میں: میرے بھائی! اب سوال کا جواب تو حکومت اور فوج کو دینی چاہیے کہ ایسے لوگ جو دوسرے ملک کے باشندوں کی بنائی ہوئی دہشت پسند تنظیموں میں شامل ہیں وہ ہمارے ملک کی اس پاک باز سرزمین پر کیسے آجاتے ہیں؟
آکاش: ہاں یار! بات تو تمھاری صحیح ہے۔۔۔۔۔۔۔سوال تو حکومت اور انتظامیہ پر کھڑا ہی ہوتا ہے کہ ایسے لوگ ہمارے ملک کی سرحد کیسے عبور کر جاتے ہیں؟ ۔۔۔ تبھی تو میں کہوں کہ ان فوجیوں کی موت پر تم نے کلمہ (انا للہ وانا الیہ راجعون) کیوں پڑھا؟۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: