اہم خبریں

بحث شراب پینے کی عمر پر نہیں،شراب بندی پر ہونی چاہئے۔دہلی اے آئی ایم آئی ایم

شراب معاملے پر تمام پارٹیاں سیاست کررہی ہیں،بی جے پی کا اپواس دکھاوا ہے۔کلیم الحفیظ
نئی دہلی۔دہلی کی کیجریوال سرکار کی نئی اکسائز پالیسی نوجوانوں میں شراب کو بڑھاوادے گی اور ان کے مستقبل کو برباد کردے گی۔اس معاملے پر بی جے پی کی طرف سے اپواس صرف پاکھنڈ ہے۔بی جے پی کو خود اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے۔بی جے پی رہنماؤں کو اس ایشو پر منھ کھولنے کا کوئی حق نہیں ہے۔کیوں کہ ان کی ریاستوں میں اس طرح کے قوانین پہلے ہی بن چکے ہیں۔اترپردیش کی یوگی ریاست کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہی کیجریوال سرکار نے یہ قدم اٹھایا ہے۔اس سے یہ بات صاف ہوگئی ہے کہ دہلی اور یوپی میں ایک ہی سوچ اور وچار دھارا کی سرکار ہے۔دہلی میں ایک دوسرے کی مخالفت محض ایک دکھاوا ہے۔بی جے پی اپواس کا ڈرامہ کرکے عوام کا بے وقوف بنا رہی ہے۔یہ باتیں دہلی کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے صدر جناب کلیم الحفیظ نے پریس کو جاری ایک بیان میں کہیں۔انھوں نے کہا کہ جب بہار جیسی غریب ریاست میں شراب پر مکمل پابندی لگائی جاسکتی ہے تو دہلی میں کیوں نہیں۔انھوں نے کیجریوال کی انسانیت دوست پالیسی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف دہلی حکومت نوجوانوں کی تعلیم کے لیے نئے نئے پروگرام کی بات کرتی ہے اور دوسری طرف ان کے لیے شراب پینے کی عمر میں تخفیف کرکے انھیں شراب کا عادی بنانا چاہتی ہے۔دہلی حکومت کا منشا صرف اپنی تجوریاں بھرنا ہے،اسے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ شراب پینے سے کتنے گھر برباد ہوں گے۔کلیم الحفیظ نے بی جے پی کی دوغلی پالیسی کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ایک طرف گجرات اور بہار ہے جہاں بی جے پی کی حکومتیں ہیں وہاں شراب پر پابندی ہے اور دوسری طرف اترپردیش سمیت دوسری بی جے پی ریاستیں ہیں جہاں شراب کی نہ صرف کھلی چھوٹ ہے بلکہ نقلی شراب کے باعث روزانہ ہزاروں لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں تیسری طرف دہلی میں اپواس کا ڈرامہ ہے،آخر بی جے پی کی شراب پر کیا پالیسی ہے۔صدر موصوف نے سوال کیا کہ بی جے پی کی سرکار خواتین کی ہمدردی کا دعوا کرتی ہے لیکن خواتین کو سب سے زیادہ خطرہ شراب سے ہے۔اس لیے کہ جب مرد شراب پی کر گھر میں آتے ہیں تو اپنی خواتین کو مارتے پیٹتے ہیں،شراب کی خاطر گھر کا سامان ہی نہیں اپنی عورتوں تک کو بیچ دیتے ہیں۔کلیم الحفیظ نے کہا کہ بھارت کی پراچین سبھیتا اور نیتکتا کی بات کرنے والوں کو شراب پر مکمل پابندی کی بات کرنا چاہئے۔عام آدمی پارٹی جو کہ بی جے پی کی ہی ٹیم ہے اور اپنی کارکردگی کا ڈنکا سارے زمانے میں پیٹتی ہے اسے یہ کیوں نہیں دکھائی دیا کہ جب پڑھنے کی عمر والا نوجوان شراب پئے گا تو وہ تعلیم کب حاصل کرے گا۔انھوں نے مطالبہ کیا کہ پاپ کی جننی شراب پر پورے ملک میں پابندی لگنی چاہئے۔انھوں نے یہ بھی کہا کیجریوال سرکار مفت بجلی اور پانی کے نقصانات کی بھرپائی شراب سے کرنا چاہتی ہے۔انھوں نے کہا لوگوں کے گھروں کے چراغ بجھا کر مفت بجلی کا کیا فائدہ ہوگا۔اس لیے پہلی فرصت میں دہلی حکومت کو اکسائز پالیسی پر نظر ثانی کرنا چاہئے۔اس موقع پر انھوں نے دہلی کے طلبہ اور طالبات سے بھی مکمل شراب بندی کے لیے مہم چلانے کی اپیل کی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: