مضامین

بقرہ عید کیا ہے؟

✒️ ڈاکٹر راحت

ہماری وردہ فلورا نے محلے میں بھینس،کٹروں اوربکروں کی آمد،ان کی چہل پہل اور محلے کے بچوں کو اپنے اپنے بکروں کے ساتھ گلی محلے میں گھومتے،پھرتے دیکھ اپنی مما سے پوچھا: اچھی مما ! آپ نے میٹھی عید کے موقع پر مجھے اورحمادبھاءی کویہ اچھی طرح سمجھادیا تھا کہ عید الفطر اللہ کی طرف سے مسلمانوں پر ماہ رمضان کے فرض روزوں کی ادائیگی کے شکرانے میں منائی جاتی ہے، جس میں ایک صاحب وسعت مسلمان اپنی اور اپنے بیوی بچوں کی خوشی کے ساتھ ساتھ اپنے غریب،مزدور‌،اوربے سہارا مسلم بھائی،بہنوں اورانکے بچوں کو اپنی خوشی میں شریک کرنے کے لئے صدقہ فطر اداکرتاھے۔ ہجس کو روزے کا کفارہ بھی کہا جاتاہے، جس کامطلب یہ ہے کہ اگرروز کےادب میں کوئی کمی یا بھول،چوک ہوگءی تھی تو وہ اس صدقہ اور ان غریبوں کی دعاؤں کی برکت سے ختم ہوجائے۔
مگر یہ بقرہ عید کیا ھے؟
اس کی اصل اور بنیاد بھی توبتاءیے؛کہ بقرہ عید کیوں مناءی جاتی ھے؟
وردہ کے اس فلسفیانہ سوال پر پہلے تو وہ سوچتی رہ گئیں‌مگرپھرخیال آیا کہ در اصل کایہ تجسس بھراسوال اس کے اسکول ٹیچر س کی اچھی تربیت،اس کے ڈیڈی کی نیک زندگی، اس کے دادی،دادا کی اور ہمارے گھر کے اسلامی اور اصلاحی طرزفکرکا نتیجہ ہے،جس پر انہوں نے وردہ فلورا کو شاباشی دینے کےساتھ ساتھ دل،دل میں خود بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا،ا ور پھراس کو بتاناشروع کیا: کہ بقرہ عید اصل میں اللہ کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس داستان محبت کی ایک عظیم یادگار ہے جو انہوں نے اپنے اکلوتے اور چہیتے بیٹے حضرت اسماعیل کواللہ کے نام پر قربان کرنے کے لئے کی تھی کہ جب اسماعیل علیہ السلام اچھی طرح گھومنے، پھرنے اور بولنےلگے تو ان کی محبت ماں باپ کے دل میں اپنے بیٹے کی نءی نءی اور دل لبھاؤنی باتوں کی وجہ سے زیادہ بڑھی اور ماں،باپ کے دل میں گھرکرنے لگی۔
چونکہ اللہ کو اپنے دوست دوست حضرت ابراہیم خلیل اللہ کا امتحان مقصود تھا اس لئے اس نے ایک رات حضرت ابراہیم کو خواب دکھایا کہ ایک شخص حضرت ابراہیم سے کہہ رہا ہے ” اپنی پیاری چیز اللہ کے راستے میں قربان کرو” تو آپ نے اس خواب کی تعمیل میں صبح ہوتے ہی ایک سو اونٹ اللہ کے راستے میں ذبح کردءیے-
مگر اگلے دن پھر وہی خواب دکھا ءیی دیا کہ وہی شخص آج بھی آپ سے مخاطب ہے اور کہہ رہا ہے ” اللہ کے راستے میں اپنی پیاری چیز قربان کرو”
پھر دوسرے دن بھی حضرت ابراہیم نے ایک سواونٹ قربان کردءیے،
مگرتیسرے دن بھی وہی شخص وہی بات کہتا پھرنظر آیا "اپنی پیاری چیز اللہ کے راستے میں قربان کرو” تو اس پر آپ نے آپ نے اپنے مال،اپنی جان، اپنی اولاد اورہرایک چیز پرغورکیا تودل میں اس کایہی جواب پایا کہ سب میں پیاری چیزتو اس وقت میرا اکلوتافرزند اسماعیل ہےجو میری بڑھاپے کی اولاد ہے،اس وقت یہی ہمارے مستقل کی بھی آس ھے،اس
لیے ہمارے لئےاس وقت کوئی دوسری چیز اس سے پیاری اور بڑی نہیں ہوسکتی۔لھذا میں اسماعیل کو ہی اللہ کے راستے میں قربان کروں تو شایدکہنے والے کی وہ منشاپوری ہو سکے۔جووہ مجھ‌ سے خواب میں کہتاہے۔
اس لیے انہوں نے اپنی بیوی اور حضرت اسماعیل کی والدہ حضرت ہاجرہ سے فرما یا:کل صبح اسماعیل کو اچھی طرح نہلانا،اچھے کپڑے پہنانا، میں اس کو اپنے ایک دوست کے یہاں دعوت میں لے کر جاؤں گا ۔صبح ہوتےہیں حضرت ہاجرہ نے اپنے چہیتے فرزندکوخوشی خوشی نہلا یا، اچھے کپڑے پہنا کراور تیار کرکے اس کے بابا کے ساتھ روانہ کردیا ۔
چلتے وقت حضرت ابراہیم نے اسماعیل کی والدہ کی چوری سے اپنے ساتھ میں ایک رسی،اورایک چھری بھی چھپا کر رکھلی تا کہ وہ دیکھ کر کچھ سوال نہ کرنے لگیں۔ حضرت اسماعیل بھی ابا کے ساتھ ساتھ خوشی خوشی چلدءیے،دونوں باپ،بیٹے راستہ چلےجا رہے تھے،حضرت اسماعیل بہت خوش تھے کہ آج بابا کےدوست کے یہاں دعوت ہے۔باپ،بیٹوں کے گھرسے رخصت ہو نےکے بعد ایک شخص آکرحضرت ہاجرہ سے پوچھنےلگا:آج آپ کے شوہر اپنے بیٹے کو کہا ں گءے ھیں ؟
حضرت ہاجرہ ‌نے بڑےھی اطمینان سے جواب دیا کہ ان کے دوست کے یہاں دعوت ہے۔اس میں گئے ہیں
وہ شخص بولا اف!تم کوکچھ بھی معلوم بھی نہیں ہے،
میں بتاؤں کہ دراصل بات یہ ہے کہ وہ اس کو ذبح کرنے لیے لے کرگئے ھیں۔
حضرت ہاجرہ بولیں،چپ ہو کیاایسابھی کوئی باپ ہے ،جواپنے بیٹے کو ذبح کرسکے؟
شیطان بولا:ہاں!
ان کے خیال کے مطابق یہی ان کے رب کا حکم ہے،کہ وہ اس کو اللہ کے نام پر قربان کریں۔
ہاجرہ بولیں:
اگررب کا حکم ہے توپھر اس میں گھبرانے کی کیا بات ہے؟
میں بھی اس پردل وجان سے راضی ہو ں۔اورفرمایا:بھاگ یہاں سے۔لگتاہے کہ تو شیطان ہے۔
جب شیطان کو یہاں سےمایوسی ہوئی تو پھر وہ ننھےاسماعیل کوبہکانے کے لئے ان کے پاس آکربولا: کچھ معلوم ھے کہ بڑے میاں تم کو کہاں لیکر جارھےھیں؟
بچہ اسماعیل نے جواب دیا کہ ہاں!ان کے دوست کے یہاں دعوت ھے۔
شیطان بولا: نہیں! تمہیں کچھ پتہ نہیں، بلکہ وہ تم کو ذبح کرنے کے لئے لیجارہے ہیں۔
اسماعیل نے جواب دیا: چل بھاگ یہاں سے۔
کوءی باپ اپنے بیٹے کو ذبح بھی کرتاھے کیا؟
شیطان بولا: ہاں ایسا ہی ہے کہ ان کے خیال کے مطابق یہ ان کے رب کاحکم ھے۔
شیطان کے منھ سےرب کے حکم کی بات سن کر اسماعیل علیہ السلام نے جواب دیا کہ اگررب کاحکم ہےتو پھراس میں خوف اور ڈرکی کیا بات ھے؟
شیطان کو یہاں بھی ذلت کاہی سامناکرناپڑتواب آخرمیں خود صاحب معاملہ
حضرت ابراہیم علیہ السلام کوبہکانے کے لئے آیا۔
ان سےپوچھا کہ: اے شیخ! بچے کو کہا ں لیکرجارے ہیں؟
حضرت ابراہیم نے فرمایا: کہ میرے دوست کے یہاں دعوت ہے اس میں لےجارہاہوں۔
تفسیر مظہری میں کعب احبار کے حوالے سے دوست کے یہاں دعوت کے بجائے قریب کی گھاٹی سے لکڑی لانے کاذکرھے۔بہرحال جو بھی ہو۔
اس نے کہا: بڑے میاں چھوڑ و،مجھے کیوں بہکا رہے ہو؟ مجھے سب معلوم ہے کہ تم اس کوذبح کرنے کے لئے لیجارہے ہو،اور مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ یہی تمہارے ط رب کاحکم ہے۔
اس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: جب تجھے معلوم ہے کہ رب کا حکم ہے توپھر اس میں تعجب کی کیا بات ہے؟
میں تو اس کوپوراکرکے رہوں گا۔
بھاگ یہاں سے توواقعی شیطان ھے۔۔۔۔۔۔
جب شیطان کو تینوں جگہ ہی مایوسی ہاتھ لگی توشرمندگی سےاپنے سرپرخاک الیچتاہواالٹےپاؤں بھاگا۔۔۔
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے فرزند کو لیکرمنی کے میدان میں پہنچے تو ذبح کرنےسے پہلے ننھے اسماعیل کی منشا لینے کے لیے ان سے پوچھا کہ :اے میرے بیٹے! میں ‌نے خواب دیکھا ہے کہ میں تمہیں اللہ کے نام پر ذبح کررہا ہوں،اس میں تمہاری کیا رائے ہے؟
نیک صالح اور فرماں بردار فرزند نے پیارے باپ کی لے میں اپنی لے ملا تے اور ان کے مبارک خیال کی تصدیق کرتے ہوئے تسلی و تشفی بخش جواب دیا:
اے میرے بابا!جب رب کا حکم ہے توایساہی کرگزرءیے جیسے بھی آپ کو حکم ہے،اس میں گھبرانے کی کوئی بات نہیں، آپ مجھے بھی صبر کرنے والوں میں ہی پاءینگے
انشاءاللہ۔
مگر ہاں!ایک کام ضرورکیجئے گا کہ آپ مجھے ذبح کرنے پہلے میرے ہاتھ،پاؤں ضرور باندھ لیں اور اپنی آنکھوں پر پٹی پرباندھ لیجئے گاتا کہ جب ذبح کی تکلیف سے میرے ہاتھ پاؤں تڑپیں یا حرکت کریں تو آپ کی شفقتیں پدری اس راستے میں رکاوٹ اور حائل نہ بن سکے۔
جب ابراہیم علیہ السلام نے نے ننھے اسماعیل کی یہ بات سنی تو آپ کو دلی خوشی ہوئی اور اپنے بیٹے کی ہدایت کے مطابق اس کے ہاتھ پاؤں باندھے،اپنی آنکھوں پر پٹی باندھی اور اللہ کا نام لے کر فرزند کے حلق پر چھری چلانا شروع کر دی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت اسماعیل کے حلق پر اگر ایک بار چھری چلاتے ہیں توچھری کو ستربار کو اللہ کاحکم ہوتا۔
اے چھری! ہمارے اسماعیل کا ایک بال بھی بھی نہ کٹ جائے ورنہ تیرا انجام۔۔۔۔۔اچھانہیں ہوگا۔
حضرت ابراہیم ‌نےآنکھوں پر پٹی باندھی، ذبح کرنے کے لئے اسماعیل کے شانے پراپناگھٹناٹیکا ابراہیم نے پوری طاقت لگاکرذبح بھی کردیا۔مگرجب
آنکھوں سے پٹی کھولی تو دیکھاکہ اسماعیل آرام سے ایک طرف کھڑے ہیں اور ایک جنتی مینڈھا نیچے ذبح شدہ پڑا ہے،جس کوحضرت جبراءیل جنت سے لیکرآءے تھے۔
اللہ نے فرمایا اے ابراہیم!تم نے اپنا خواب سچا یعنی پورا کردیا اور اور ہم نیک لوگوں کو ایساہی بہترین بدلہ دیتے ہیں۔
بچو!غورکرونیک بدلہ پر کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ایک بڑی آزمائش میں پورے اترے، بیٹے کی جان بچی ،ان کی قربانی قبول ہو ہوئ ، اور پھر آپ دیکھئے کہ قیامت تک ہر نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے آل، اولاد پربھی درود شریف پڑھا جاتا رہےگا
” اللھم صلی علی محمد وعلی آل محمد۔۔۔۔۔ کما صلیت علی ابراھیم وعلی ال ابراھیم۔۔۔ اللھم بارک علیٰ محمد وعلیٰ آل محمد کمابارکت علیٰ ابراہیم وعلیٰ آل ابراہیم۔۔۔۔
بچو! اس سے کچھ سمجھے؟
جب آپ بڑے ہونگے توآپ کوقربانی کی مزید تفصیل اوراس کا فلسفہ بڑی بڑی کتابوں میں پڑھنے کو.
ملےگا انشاءاللہ کہ قربانی کیوں کی جاتی ہے؟

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: